اک چراغ اور بجھا: مولانا سید نظام الدینؒ

مولانا عبد المتین منیری

۱۷  اکتوبر کی شام کو خبر آئی کی حضر ت مولانا سید نظام الدین صاحب بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انتقال کے وقت مولانا ملت اسلامیہ ہندیہ سے وابستہ اہم اور باوقار ذمہ داریوں اور امیر شریعت امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ اور جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسے کئی ایک معزز عہدوں پر فائز تھے ۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر ۸۸ سال تھی۔ آپ کی ولادت با سعادت مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۲۷ء محلہ پرانی جیل، گیا بہار میں ہوئی تھی۔ مولانا کی رحلت کے ساتھ امت مسلمہ ہندیہ ایک سلجھے ہوئے، پرہیزگار، بردبار اور امانت دار قائد سے اس وقت محروم ہوگئی جب کہ آپ جیسی قیادت کی ملت کو پہلے سے زیادہ ضرورت تھی ۔

مولانا کے والد ماجد قاضی سید حسین صاحب ایک جید عالم دین اور علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں میں تھے۔ آپ کی والدہ کی وفات ۱۹۳۰ء میں اس وقت ہوئی جب آپ نے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا۔ ابھی آپ کی عمر دودھ پینے کی تھی ۔ چار سال کی عمر ہوئی تو ۱۹۳۱ء میں بسم اللہ خوانی سے آپ کی تعلیم کا آغاز ہوا اور گھریلو تعلیم ختم کرنے کے بعد ۱۹۴۱ء میں بہار کی مشہور دینی درسگاہ مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں آپ کا داخلہ ہوا ۔ ابھی عمر پندرھویں سال میں تھی کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کے ایک سال بعد ۱۹۴۲ء میں آپ نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، مولا نا اصغر حسین وغیرہ اساطین علم سے کسب فیض کیا۔ جون ۱۹۴۲ء میں آپ کو حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے شرف ملاقات حاصل ہوا ۔ ۱۹۴۶ء میں آپ کی فراغت ہوئی اور آپ نے شیخ الادب مولانا اعزاز علی کے زیر سایہ ۱۹۴۶ء میں تخصص فی الادب کی تکمیل کی ۔ فراغت کے بعد آپ ریاض العلوم ساٹھی ، چمپارن میں تدریس سے وابستہ ہوگئے جہاں آپ نے ۱۹۴۸ء سے ۱۹۶۲ء تک بحیثیت صدر مدرس خدمات انجام دیں ۔۳۱ مارچ ۱۹۵۰ء کو آپ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے۔

امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کے تیسرے امیر مولانا ابو المحاسن سجاد صاحب کے انتقال کے بعد جب امارت جمو د اور انتشار سے دوچار ہوگئی تھی تو حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ اور دیگر اکابر کے اصرار پر مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒ نے امیر شریعت کا منصب قبول کیا جس کے بعد آپ نے ۱۹۵۷ء میں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کو قاضی شریعت کے جلیل القدر عہدے پر فائز کیا۔ قاضی صاحب اس وقت نئے نئے دیوبند سے فارغ ہوکر آئے تھے اور عمر کے پچیسویں سال میں ابھی داخل نہیں ہوئے تھے۔ ۱۹۵۸ء میں مولانا سید نظام الدین صاحب کی امیر شریعت مولانا رحمانی صاحب کے قائم کردہ ادارے میں آمد ہوئی اور یہیں پہلی مرتبہ حضرت امیر شریعت اور مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ ۱۹۶۰ء میں جامعہ رحمانیہ میں آپ کی دوبارہآمد ہوئی او ر ۱۹۶۳ء ۔ ۱۹۶۴ء میں آپ نے مدرسہ رشید العلوم چترا میں صدر مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ اس دوران قاضی صاحب سے آپ کا ربط و ضبط بڑھا جو ۴ ؍ اپریل ۲۰۰۲ ء کو قاضی صاحب کی رحلت تک اس طرح قائم رہا جیسے دو جان ایک قالب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی رفاقت میں امت اسلامیہ ہندیہ کے بڑے بڑے کا م لیے۔

۱۹۶۵ء میں قاضی صاحب کے مسلسل اصرار پر آپ نے ناظم امارت شرعیہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ۱۹ مارچ ۱۹۹۱ء کو امیر شریعت مولانا رحمانی کی رحلت کے بعد جب مولانا عبد الرحمن صاحب امیر شریعت بنے تو آپ کا بحیثیت نائب امیر شریعت انتخاب عمل میں آیا جن کی رحلت کے بعد آپ کو امیر شریعت بہار و اڑیسہ منتخب کیا گیا ۔ امارت شرعیہ سے یہ تعلق آخری دم تک قائم رہا ۔

قاضی اور ناظم کی جوڑی نے امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب کی زیر سرپرستی امارت شرعیہ کو اعتبار بخشنے اور اسے اوپر اٹھانے کی ان تھک کوششیں کیں۔ ان حضرات کی قربانیوں سے یہ ادارہ ایک کمرہ سے اٹھ کر ملک کا معتبر ترین ادارہ بن گیا۔ اس کی عالیشان عمارت کھڑی ہوئی اور اس کے ماتحت کئی ایک ادارے قائم ہوئے جنھوں نے مسلمانان بہار کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔ مولانا سید نظام الدین صاحب مرنجاں مرنج بزرگ تھے۔ انہیں سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر آتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ نہایت ہی امانت دار اور دیانت دار تھے۔ جب تک رہے، امارت کی مالیات کا نظام اپنے ہاتھ میں رکھا جس کی وجہ سے چالیس سال پر محیط طویل عرصہ میں مالیات کے کسی تنازعہ نے امارت شرعیہ کو میلا ہونے نہیں دیا۔ قاضی و ناظم میں افہام و تفہیم کی روح کارفرما تھی، لہٰذا ان کے تعلقات میں انا کی خلیج کبھی آڑے نہیں آئی۔ انہوں نے ملت کے مفاد کو ہمیشہ ہر مفاد سے بلند رکھا اور جس ادارے کی بارآوری کے لیے انہوں نے اپنا خون خشک کیاتھا، اس پر آنچ نہ آنے دی۔ ایسی رفاقت کی مثال شاذ و نادر ہی ملے گی ۔

اس کی بات کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے آپ لگا سکتے ہیں کہ مولانا سید نظام الدین صاحب کو امارت شرعیہ میں لانے والے قاضی صاحب تھے۔ آپ بھی معاملہ فہمی اور ماہرانہ صلاحیت میں اپنی مثال آپ تھے۔ جب تک زندہ رہے، فقہی گتھیاں سلجھانے میں کم ہی لوگ ان کی برابری کرسکے۔ ایک بڑا حلقہ مولانا منت اللہ رحمانی صاحب کی رحلت کے بعد آپ کو امیر شریعت کے منصب کا سب سے زیادہ حقدار سمجھتا تھا ، لیکن کسی تنازعہ سے بچتے ہوئے ایک بہ نسبت غیر معروف شخصیت کا انتخاب بحیثیت امیر شریعت عمل میں آیا اور مولانا سید نظا م الدین صاحب کو نائب امیر شریعت منتخب کیا گیا۔ اس انتخاب سے ان حضرات کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ امارت شرعیہ کے امور بھی حسب سابق چلتے رہے ، کیونکہ عملاً انہی دو حضرات کے ہاتھوں میں امارت شرعیہ کی باگ ڈور تھی۔ پھریکم نومبر ۱۹۹۸ء کوامیر شریعت پنجم کی رحلت کے بعد آپ کو نیا امیر شریعت منتخب کیا گیا اور قاضی صاحب آپ کے نائب بن گئے ۔

۲۸ ؍ ڈسمبر ۱۹۷۲ء کو ممبئی میں کل ہند مسلم پرسنل لا کنونشن منعقد ہوا ۔ کنونشن کی تحریک پر ۸ ؍ اپریل ۱۹۷۳ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ ا س کے اولین صدر منتخب ہوئے ا ور امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ اس کے جنرل سکریٹری۔ بورڈ کے روز اول سے آپ نے قاضی صاحب کے ساتھ امیر شریعت کا سایہ بن کر خدمات انجام دیں اور بورڈ کے مقاصد کے حصول اور اسے کامیاب کرنے کے لیے امکان بھر اپنی بھر پور صلاحیتیں صرف کیں۔ لہٰذا امیر شریعت مولانا رحمانی کے انتقال کے بعد آپ کا مئی ۱۹۹۱ء میں بورڈ کا جنرل سکریٹری کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا۔ ان چوبیس سالوں کے دوران جو بحران اٹھے ، جن مسائل و مشکلات سے امت اسلامیہ ہندیہ دوچار ہوئی، بورڈ کو توڑنے اور کمزور کرنے کی جتنی سازشیں ہوئیں، مولانا نے کمال حکمت اور دانائی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور بورڈ کی لڑی کو پروئے رکھنے کی کامیاب کوششیں کیں ۔ 

مولانا نے کبھی عہدوں کا پیچھا نہیں کیا، عہدے ان کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ ۳۱ ڈسمبر ۲۰۰۰ء کو مفکراسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی صاحب کی رحلت کے بعد جب مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ بورڈ کے صدر منتخب ہوئے تو ایک موقع ایسا آیا جب کہ بورڈ کے صدر اور جنرل سکریٹری دونوں کلیدی عہدوں پر امارت شرعیہ کے عہدیدار ، امیر شریعت اور نائب امیر منتخب ہوئے۔ چونکہ بورڈ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے ، لہٰذا آپ کو احساس ہوا کہ ایک ہی حلقے سے کلیدی عہدیداران کا انتخاب بورڈ کی روح کے منافی ہے، لیکن قاضی صاحب کے اصرار اور ممبران کی خواہش پر مولانا اپنے فرائض منصبی انجام دیتے رہے۔ ۴ ؍ اپریل ۲۰۰۲ء میں قاضی صاحب کی رحلت تک چند سال صورت حال یہ رہی کہ امارت شرعیہ میں مولانا امیر شریعت تھے تو قاضی صاحب نائب امیر، اور پرسنل لا بورڈ میں قاضی صاحب صدر تھے تو مولانا جنرل سکریٹری۔ ا س طرح معاملات میں شخصیت کے ساتھ منصب کا احترام دوسری جگہ مشکل سے نظر آئے گا۔

مولانا نے قاضی صاحب کے رفاقت میں جن اداروں کے قیام میں حصہ لیا، ان میں نومبر ۱۹۸۸ء میں سجاد اسپتال کا قیام، اپریل ۱۹۸۹ء میں اسلامی فقہ اکیڈمی کا قیام، مئی ۱۹۹۶ء میں وفاق المدارس کا قیام، اور ۱۹۹۸ء میں المعہد العالی للتدریب فی القضاء و الافتاء کی تاسیس بہت اہم ہے۔آپ ۱۹۹۶ء سے دارا لعلوم ندوۃ العلماء لکھنو ، اور ۱۹۹۷ء سے دارا لعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ مولانا نے جن شخصیات کے ساتھ کام کیا، انہیں اپنا گرویدہ بنایا۔ بورڈ کے موجود ہ صدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کے ساتھ بھی آپ کی خوب جمی۔ ان دونوں کے رجحانات اور فکری انداز اور تحمل اور براشت کی قوت نے امت کو بہت سہارا دیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ مولانا کا داغ مفارقت مولانا سید محمد رابع صاحب کے لیے بھی کتنا بڑا ذاتی نقصان ہے ۔ 

مولانا نے عمر طبعی پائی ۔ باوجود اس کے آپ کا جدا ہونا ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی مشکل ہی سے ہوسکے گی ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولانا نے اپنی زندگی میں اپنے اخلاق، مروت، صلاحیت، للہیت اور قربانی کے جو چراغ جلائے تھے، ان کی لو کبھی نہ بجھے۔ چراغ سے چراغ جلتے رہیں، اسی میں امت کی بھلائی ہے ۔ یہی ان کے درجات بلند سے بلند کرنے کا ذریعہ بھی ہے ، اللھم اغفرلہ وارحمہ۔

اخبار و آثار