غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور جناب زاہد صدیق مغل کا نقد (۱)

احمد بلال

محمد زاہد صدیق مغل صاحب دین اسلام پر تدبر کی نگاہ رکھنے والے ایک بالغ نظر دانشور ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور مدرِّس ہیں اور ان دنوں NUST  اسلام آباد کے شعبہ معاشیات میں معاون پروفیسر ہیں۔ انہوں نے غامدی صاحب کے جوابی بیانیہ کے کچھ نکات پر اپنے مفصل اعتراضات و سوالات دو اقساط میں اسی مجلہ میں شائع کیے ہیں، جس کی پہلی قسط اپریل کے شمارہ میں چھپی تھی اور دوسری مئی کے شمارے میں۔ میرے نزدیک ان جیسے ذہین لوگوں کی اس بیانیے کی بحث میں شرکت خوش آئند اور عقدہ کشائی کو سود مند ہو گی۔

میں اگرچہ نہ تو معروف معنی میں غامدی صاحب کا شاگرد ہوں اور نہ ہی المورِد سے میرا کوئی تعلق ہے، مگر چونکہ ایک فکر مند مسلمان ہوں اور غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کو درست ہی نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو درپیش سب نہیں تو اکثر امراض کے لیے اکسیرِ اعظم سمجھتا ہوں، اس لیے جتنی تنقیدات بھی سامنے آ رہی ہیں، ان کے جوابات دینے میں غایت درجہ دلچسپی رکھتا ہوں۔ یہ جوابات میں اس لیے دے رہا ہوں کہ اگرچہ میں نے غامدی صاحب کے اٹھائے گئے تمام نکات کی حقانیت پر چھان پھٹک کے بعد تسلی حاصل کر لی ہے، مگر میں اس امکان کو ہمیشہ قرین قیاس سمجھتا ہوں کہ علما اور دانشوروں کی جانب سے کوئی ایسا وقیع استدلال سامنے آ جائے گا جو شاید کسی غلطی کی نشاندہی کر دے اور پس اس مشق سے جوابی بیانیے کو نِک سْک درست کر نے کا موقع مل جائے گا۔ میں اپنے پروردگار سے امید رکھتا ہوں کہ حق کی اس تلاش میں وہ مجھے ضرور کامیاب کریں گے۔

زاہد صاحب کے نقد سے میرا عمومی احساس یہ ہے کہ زیادہ تر سوال جو انہوں نے اٹھائے ہیں، وہ سوءِ فہم کے عکاس ہیں۔ یعنی وہ غامدی صاحب کے مؤقف کو ٹھیک نہ سمجھ سکنے کا نتیجہ ہیں۔ نیز، کچھ ایسے نکات کو بھی انہوں نے موضوعِ بحث بنایا ہے جو غامدی صاحب نے نہیں بلکہ اور لوگوں نے اٹھائے ہیں۔ چنانچہ اس مضمون میں زاہد صاحب کے وہ اعتراضات موضوعِ بحث ہیں جو دینی و علمی ہیں اور غامدی صاحب کے کسی استدلال کو ہدف بناتے ہیں۔ 

زاہد صاحب کے ان مضامین پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے ہی سے قاری کو بلا تامل اس حقیقت کا احساس ہو جاتا ہے کہ ان کے زیادہ تر اعتراضات عالمی سیاسی و تمدنی حالات یا فلسفہ سیاست کے تناظر میں ہیں نہ کہ شرعی نصوص کے، جو انہوں نے شاذ ہی کہیں پیش فرمائے ہیں۔ مجھے غامدی صاحب کی طرف سے اکثر یہ تلقین رہتی ہے کہ ناقدین کے صرف شرعی نکات پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ مگر میں نے اس جوابی مضمون میں ان کے تقریباً سارے ہی اعتراضات کے جوابات لکھ دیے ہیں۔ یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ میرا تجربہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو کوئی بات سمجھ میں نہ آنے کی اصل وجہ اکثر اس بات کی کوئی خلقی نامعقولیت نہیں ہوتی، بلکہ کوئی ایسی "گرہ" ہوتی ہے جو کہیں اور لگی ہوتی ہے، اور اگر اسے کھول دیا جائے تو کہیں اور ادراک میں تسہیل ہو جاتی ہے۔ اسی امید پر میں نے یہ کاوش کی ہے۔ ورنہ یہ حقیقت ہے کہ غامدی صاحب کے تمام نکات خالص شرعی نوعیت کے تھے ،جن کا ابطال سوائے شرعی نصوص کے کسی خارجی دلیل سے ممکن نہیں۔

آئیے زاہد صاحب کی قابل قدر کاوش کے جوابات فرداً فرداً ملاحظہ کرتے ہیں۔

تنقیدات و جوابات: 

i۔خلاصہ تنقید: شق نمبر 1 کے مطابق (جہاں تک میں سمجھا ہوں) غامدی صاحب مسلمانوں کو یونانی طرز کی ’’براہ راست‘‘ جمہوریت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یعنی لوگوں کی جو بھی اجتماعی رائے ہو، وہ اسے اختیار کرنے میں آزاد ہوں۔ فلسفہ سیاست کی زبان میں دراصل وہ یہ بات کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ معاشرے کے اندر کوئی بھی ’’جنرل ول‘‘ (General Will) نہیں ہونی چاہیے کہ جس کی پابندی بطور قانون لازمی سمجھی جائے۔ نیز ول آف آل (Will of All)بھی جس کی پابند ہو، بلکہ معاشرے میں جو بھی ہو، وہ ’’ول آف آل‘‘ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر اس بارے میں غامدی صاحب کا مؤقف صحیح سمجھا گیا ہے تو اس پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

جواب: بصد احترام ، مؤقف کو صحیح نہیں سمجھا گیا۔ نہ غامدی صاحب نے کہیں یونانی طرز کی جمہوریت کے رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے اور نہ ہی جنرل ول (General Will) کی کہیں نفی کی ہے۔ جمہوریت کی کسی خاص شکل کی بحث یا اس کی تائید و تنکیر کرنا تو سرے سے ان کے پیش نظر ہی نہیں۔ وہ تو بس جو صورت اس وقت پاکستان اور دیگر قومی ریاستوں میں حاضر و موجود ہے اور تسلیم شدہ ہے، اسی پر کلام کر رہے ہیں۔ ان کے کلام کا مدعا یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کی جو بھی موجودہ نوعیت ہے، اس کے حساب سے کون سی وہ اصولی آئینی شقیں ہیں جو عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی یا شرعی اعتبار سے بھی غیر ضروری ہیں۔ یہ بات تو واضح ہے کہ غامدی صاحب نے ان مبینہ باتوں کا دعوی بالصراحت کہیں نہیں کیا۔ پس یقیناًیہ مغالطہ صاحبِ مضمون کو کسی عبارت کی ناقص تفہیم سے لگا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق شاید جہاں غامدی صاحب موجودہ دور کی قومی ریاستوں کو مذہبی تشخص دینے کے لیے منظور کی گئی آئینی دستاویزات پر تنقید کر رہے ہیں، وہاں جناب زاہد صاحب نے یہ سمجھا ہے کہ ’’General Will‘‘ کی ہی نفی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ وہ فقط یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’کچھ‘‘ اقدامات اصولاً غلط ہیں، چاہے انہیں اکثریت کی تائید ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ کوئی ریاست General Will سے چلے یا Will of Allسے، غامدی صاحب کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ نتیجتاً، اس کے بعد کچھ سوال جو صاحب مضمون نے اس مفروضے کو درست مان کر اٹھائے ہیں، وہ تو ظاہر ہے بے بنیاد ہو جاتے ہیں۔ تاہم، وہ سوال جو اس مفروضے کے بغیر بھی قائم رہ سکتے ہیں، انہیں میں نے شامل گفتگو ہی رکھا ہے۔

ii۔ خلاصہ تنقید: غامدی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کا کوئی بھی مؤقف (سیکولر، سوشلسٹ، ہندومت، اسلام وغیرہ) نہیں ہونا چاہیے، اسے ’’نیوٹرل‘‘ (معلوم نہیں یہ کس بلا کا نام ہے)ہونا چاہیے۔

جواب: اگرچہ صاحبِ مضمون کا یہ دعوی کہ ’’ معلوم نہیں یہ کس بلا کا نام ہے ‘‘ ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے، کیونکہ جانبداری ایک محتاجِ بیان شے ہوتی ہے نہ کہ غیر جانبداری، کہ وہ تو بالکل بدیہی ہوتی ہے، مگر یہ امکان بھی بہر حال موجود ہے کہ انہیں واقعتا یہ تصور سمجھ میں نہ آسکا ہو۔ اس لیے میں یہاں ایک سعی اس مقصد کی خاطر کیے دیتا ہوں۔ تاہم، اس سے پہلے یہ وضاحت قارئین کے سامنے رہنی چاہیے کہ غامدی صاحب نے نیوٹرل کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ ان کا مؤقف تو یہ ہے کہ خالص جمہوری ریاست کے لیے اس طرح کے تعینات "غیر متعلق" ہو جاتے ہیں۔ بہر حال غیر جانبداری کے تصور کو میں صاحب مضمون کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں: ریاست کے مذہب سے تعلق کا ایک زاویہ یہ ہے کہ کیا قرآن نے ریاست کو بھی مشرف بہ اسلام کرنے کا کوئی حکم صادر کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن افراد کو مخاطب کرتا ہے اور انہیں ہی ان کی مختلف حیثیتوں میں دین کا پابند بناتا ہے۔ وہ نہ تو یہ تجویز کرتا ہے اور نہ ہی اس کا حکم دیتا ہے کہ اپنے تمام جوارح، اداروں اور مکانات و مقامات کو بھی اس طرح کے تعینات دیے جائیں کہ وہ مسلم ہیں کہ نہیں۔ یہ وہ زاویہ ہے جس سے شرعی اعتبار سے یہ تعین غیر ضروری ہو جا تا ہے۔ دوسرا زاویہ اہم تر ہے۔ وہ یہ کہ چونکہ موجودہ دور کی ریاستوں میں کوئی حاکم و محکوم نہیں بلکہ سب برابر کے شہری ہیں، اس لیے ریاست کے مذہبی تشخص کے بارے میں کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کو یک طرفہ فیصلے کا کوئی حق نہیں (صرف تشخص کی بات ہو رہی ہے، اس لیے لادینیت سے ملتبس نہ کرنا چاہیے)۔ وہ چاہے غالب اکثریت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں، ریاست کے تشخص جیسے جزوِ لا ینفک اور سب کی مشترک میراث کے بارے میں سب مذاہب کے ماننے والوں کے اتفاقِ کلی کے محتاج ہیں۔ بصورتِ دیگر، وہ حق تلفی کے مرتکب ہوں گے۔ پھر اس تعین کے نتیجے میں انہیں دوسرے درجے کا شہری بھی آپ سے آپ بنا ڈالا گیا ہے، درآنحالیکہ وہ برابر کے شہری تھے۔ یہ ہیں وہ دو زاویے جن کے تحت موجودہ دور کی ریاستیں تشخص کے اعتبار سے غیر جانبدار ہی رہنی چاہئیں اور اس پر شریعت کو کوئی اعتراض بھی نہیں۔ تاہم، کسی تعین میں اس آخری زاویے کو منہا کر کے اگر ریاست کے تشخص کا اظہار کر بھی دیا جائے تو اس پر عدمِ ضرورت کے علاوہ کوئی فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔ ہاں، دوسرا زاویہ اسے نا انصافی کے زمرے میں لے آئے گا۔ محترم زاہد صاحب سے گزارش ہے کہ ماضی اور دورِ حاضر کی ریاستوں میں جو فرق ہے، اسے سمجھنے کے لیے اور ریاست اور حکومت میں جو تقسیم ہے، اسے بھی مد نظر رکھنے کے لیے، غامدی صاحب کا توضیحی مضمون "ریاست اور حکومت" ضرور دیکھ لیجیے تا کہ دیگر ناقدین کی طرح خلط مبحث میں مبتلا نہ ہوں۔

iii۔ خلاصہ تنقید: غامدی صاحب آئین میں چند اسلامی شقیں شامل کر دینے میں اگر یہ مسئلہ دیکھتے ہیں کہ ’’چاہے پاکستان کے لوگوں کا اجتماعی ارادہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، اس طرح تو گویا ریاست ابدالآباد تک کے لیے مسلمان ہو جائے گی‘‘ (اور انہیں دراصل یہی علمی خدشہ لاحق ہے)، تو ان کا یہ استدلال خود ان کی اپنی منطق پر پورا نہیں اترتا۔ اگر کل کو پاکستان کی غالب اکثریت غیر مسلم ہو جائے تو وہ آئین میں تبدیلی کر کے ان شقوں کو نکال باہر کرے (اور ہمارے لبرل طبقے کیا اس کوشش میں مصروف نہیں؟) اس سب میں ان کے اپنے اصول کے مطابق مسئلہ کیا اور کہاں ہے؟ 

جواب: یہ نکتہ بھی صحیح نہیں سمجھا گیا۔ نہ غامدی صاحب کو ایسا کوئی علمی ’’خدشہ‘‘ لاحق ہے اور نہ ہی اسے خدشہ کہنا مناسب ہے۔ غامدی صاحب نے اپنے پہلے ہی مقالے میں ذمہ داریوں کی ایک پوری فہرست مرتب کر دی ہے جو شریعت نے حکمرانوں پر عائد کی ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ناقدین اس فہرست کو شامل عناصر کیوں نہیں کرتے۔ خیر، عوامی نمائندگان ان ذمہ داریوں میں سے جتنی کو آئینی شقوں میں تبدیل کر کے قانوناً بھی اپنے اوپر لازم کرنا چاہیں تو اس میں کیا حرج ہو سکتا ہے۔ مگر یہ نہیں ہو سکتا، اور جو ہمارے آئین میں کر دیا گیا ہے، کہ ہم اپنے مذہبی تصورات کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بھی لازمی کر دیں۔ اس دور کی قومی ریاستیں جس طرح وجود پذیر ہوئی ہیں اور ان کی جو اصولی نوعیت ہے، اس کے تحت چونکہ نہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے ہمارے غلام، نہ ہی ذمی اور نہ ہی معاہد ہیں، اس لیے ہم ان کو اپنے دینی تصورات کا پابند نہیں کر سکتے۔ علم و عقل کا یہی فتویٰ ہے اور ہمارا دین بھی ہمیں جس عدل و انصاف کا پابند کرتا ہے ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے۔ اس کے مقابل میں یا تو یہ دلیل پیش کی جائے کہ ہمارے دین کا مؤقف یہ نہیں یا یہ کہا جائے کہ موجودہ دور کی ریاستوں کی یہ نوعیت نہیں۔ ان دو شاہراہوں کے علاوہ کوئی پگڈنڈی ایسی نہیں جس سے غامدی صاحب کی دکھائی گئی منزل سے اجتناب کیا جا سکے۔

iv۔ خلاصہ تنقید: اگر کہا جائے کہ ’’امرھم شوریٰ بینھم‘‘ کا اصول از روئے قرآن مسلمانوں پر لازم ہے تو یہ کہنا خود ریاست کو ایک مذہبی بنیاد پر ہی استوار کرنا ہوا۔ آخر ایک ’’اصولاً نیوٹرل‘‘ اسٹیٹ سٹرکچر کو ایک مذہبی استدلال کا پابند کیونکر بنانا درست ہے؟ اس نیوٹرل سٹیٹ سے قرآن کی آیت کی بنیاد پر یہ مطالبہ چہ معنی دارد؟

جواب: ’’امرھم شوریٰ بینھم‘‘ کا اصول ’’اسٹیٹ سٹرکچر‘‘ پر نہیں، ’’مسلمانوں‘‘ پر لازم ہے۔ اور یہ لزوم قانونی نہیں، دینی و اخلاقی ہے۔ یہ اسی طرح کا شرعی لزوم ہے جس طرح کہ مثال کے طور پر روزہ، حج، صداقت گوئی، پاسداریِ معاہدات، عدل و انصاف وغیرہ کا۔ یعنی اگر مسلمان اس کی پابندی نہیں کریں گے تو وہ اللہ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔ اس لیے ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ ریاست کے نظام کو اسی اصول کے تحت چلانے کے علم بردار بنیں۔

v۔ خلاصہ تنقید: کیا کلمہ پڑھنے کا عمل ’’بذاتِ خود‘‘ ایک فرد کے لیے یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ ’’اصولاً‘‘ یہ اقرار کرنے کا پابند ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اس پر لازم ہے؟ اگر کلمہ پڑھنے کے بعد وہ یہ ’’اصولی‘‘ رائے رکھے کہ خدا کی بات ماننا مجھ پر تب لازم ہے جب میرا دل کرے گا ورنہ نہیں، تو کیا وہ ’’واقعی‘‘ مسلمان ہے؟ تو اگر ایک کلمہ گو فرد کے لیے اس اصولی اقرار کا اظہار لازم ہے تو آخر ان کروڑوں کلمہ گو مسلمانوں کی ’’مجموعی رائے‘‘ کے لیے یہ اقرار کیوں لازم نہیں؟ تو اِن کلمہ گو انسانوں نے جس خطے میں اپنی اجتماعی رائے کا اظہار کرنا ہو، اگر وہاں وہ اپنے لیے اس لازمی اصولی اقرار کا اقرار کریں تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا اس معاملے میں وہ کوئی دوسری چوائس بھی محفوظ رکھتے ہیں؟

جواب: اوپر بیان کی گئی توضیح کے بعد اس نکتے کے علیحدہ جواب کی چنداں حاجت نہیں، کیونکہ جس طرح شریعت کے واجبات فرد پر ہیں، اسی طرح حکمرانوں پہ بھی ہیں۔ وہ اگر ان اقراروں کو کسی قانونی دستاویز میں درج کرنا چاہیں تو شوق سے کریں، بس اس تخصیص کے ساتھ کہ ایسے تمام اقرار یا ان کے نتائج مسلمانوں تک ہی محدود رہیں۔ غیر مسلموں پر انہیں لاگو کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ مگر یہ باتیں تو اوپر کی بحث سے ہی واضح تھیں۔ میں نے اس نکتے کو اور وجہ سے نقل کیا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس طرح کے اقرار فرد پر یا مسلمانوں کی ’’مجموعی رائے‘‘ پر قانون کی طاقت سے لازم کیے جا سکتے ہیں ،یا لازم کر دینا ضروری ہیں، یا ان کا مطالبہ ہی درست ہے۔ نہ کسی فرد کو یہ اقرار کرنے کا پابند کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جماعت کو۔ یہ معاملات دعوت و نصیحت سے متعلق ہیں اور ان کی جوابدہی اللہ ہی کریں گے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ صاحبِ مضمون نے اس اقرار کی بنیاد پر یہ جو تفریق مسلمان اور ’’واقعی‘‘ مسلمان میں کی ہے، اور پھر اس کے نتیجے میں اسے ’’کافر‘‘ تک جا پہنچایا ہے، یہ لائق اصلاح ہے۔ نہ تو مسلمانوں سے شہادت، نماز اور زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ایجابی مطالبہ قانون کی طاقت سے کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس عالمِ واقعہ میں کسی اور اقرار کا انہیں پابند۔ یہ مسلمان اور ’’واقعی‘‘ مسلمان کی تفریق ہی وہ عقیدہ ہے جس کو بنیاد بنا کر تکفیری جماعتیں مسلمانوں کو ’’واقعی‘‘ مسلمان نہ گردانتے ہوئے قتل کرنے کے لیے دلیل پکڑتی ہیں۔ درانحالیکہ، مسلمان اور واقعی مسلمان میں فرق اس دنیا کی چیز ہی نہیں؛ اگلی دنیا کی چیز ہے۔ اس لیے محترم زاہد صاحب سے گزارش ہے کہ صاحبانِ علم کو، خصوصاً اس دور میں، اپنے الفاظ کے چناؤ میں بہت محتاط ہونا چاہیے۔

vi۔ خلاصہ تنقید: یہ تو بالکل بدیہی بات ہے کہ ’’قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے‘‘ کا قانون دراصل ’’امرھم شوریٰ بینھم‘‘ کے استدلال سے مقدم ہے۔ ’’بنیاد‘‘ کے لکھے جانے پر تو اعتراض (کہ اس سے تو ریاست مسلمان ہو گئی) مگر اس بنیاد سے نکلنے والے جزئیے پر خود ہی اصرار! آخر یہ اصرار کس بنیاد پر؟ 

جواب: اعتراض اس فعل پہ نہیں کہ بنیاد آئین میں لکھ دی گئی، بلکہ اس پہ ہے کہ اسے غیر مسلموں پر بھی نافذ کر دیا گیا۔ ویسے ایسی بنیادیں آئین میں درج کر دینا بس ایک علامتی حیثیت ہی کی حامل ہوتی ہیں۔ اگر اس سے کوئی قانونی اطلاقات مراد لینے ہوں تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کہیں اس کے نتیجے میں پارلیمان کے علاوہ کسی اور کو بالا دستی تو حاصل نہ ہو جائے گی؟ کیونکہ کہنے کو تو یہ اللہ اور رسول کی بالا دستی نظر آتی ہے، مگر بالفعل طبقہ علما کی بالا دستی سے عبارت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ان دساتیر کے بعد یہ مطالبہ علما کی جانب سے کئی مرتبہ سامنے آ چکا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات نہیں بلکہ احکامات دینے کی مجاز ہونی چاہیے۔

vii۔ خلاصہ تنقید: پھر دیکھنا یہ بھی ہے کہ خود اللہ کے رسول نیز ان کے جانشینوں نے بھی کیا یونانی طرز کی براہ راست جمہوریت قائم کی تھی؟ وہ جو اس رسول کے جانشین بنے کیا ان کا پہلا خطبہ اسی قسم کی جمہوریت کا پالیسی ڈاکومنٹ ہے؟ سنیے وہ کیا کہتے ہیں: ’’لوگو میری اطاعت کرو، جب تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کروں۔‘‘ یہ کیا یونانی جمہوریت کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا؟ کیا انہوں نے یہ کہا کہ ’’لوگو میں تو بس ازروئے قرآن کرنے کا پابند ہوں جو تم سب کی اجتماعی خواہش ہو گی، چاہے وہ جو بھی ہو‘‘؟

جواب: (’’یونانی طرز کی براہ راست ‘‘ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کہ یہ تو غامدی صاحب نے کہا نہیں) اللہ کے رسول دنیا پر اللہ کی حجت تمام کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ارض و سما سے یا ان کے ماننے والوں کے ہاتھوں سے منکرین پر عذاب آتا ہے۔ وہ اپنے تمام اہم سیاسی معاملات میں براہ راست خدا کی جانب سے ہدایات پا رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی حکومتی ذمہ داریوں کے لیے اللہ کی ہدایات کے سوا کسی چیز کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ اکیلے ہی ہادی، حاکم، قاضی اور سپہ سالار وغیرہ ہوتے ہیں۔ اور اگر ان حیثیتوں میں سے کسی میں ادنی درجے میں بھی لغزش کرتے یا اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں تو براہ راست خدا کی طرف سے ٹوک دیے جاتے ہیں۔ ان کے طرزِ حکومت میں اور عام انسانوں کے طرزِ حکومت میں یہ جوہری فرق ہوتا ہے۔ تاہم، اس فرق کے باوجود، چند معاملات جن میں وحی نے براہ راست فیصلہ کر دیا، اللہ کے رسول نے ہمیشہ جمہوری اقدار کی پاسداری کی اور لوگوں سے متعلق تمام معاملات انہی کے نمائندوں کے مشوروں سے چلائے۔ رہی بات ان کے جانشینوں یعنی خلفاءِ راشدین کی، تو ان کی حکومتیں قائم بھی جمہوری طریقوں سے ہوئیں اور انہیں چلایا بھی جمہوری طریقوں سے گیا۔ رہا وہ اقتباس جو محترم زاہد صاحب نے خلفاءِ راشدین کے خطبوں سے نقل فرمایا ہے، تو وہ تو حرف بہ حرف قرآن کے حکم (4:59) کا عکاس ہے۔ مسلم حکمرانوں کی اطاعت اسی سے مشروط ہے اور یہی غامدی صاحب کا صریح مؤقف بھی ہے۔ مگر میں سمجھ نہیں سکا کہ اس کو نظامِ جمہوریت کی نفی کے لیے کیسے استعمال کر لیا گیا ہے۔ نظامِ جمہوریت تو خود قرآن سے ثابت ہے۔ میری محترم زاہد صاحب سے التماس ہے کہ اگر اس اقتباس سے کسی طرح جمہوریت کی نفی ہو رہی ہے تو براہِ مہربانی اپنے استشہاد کو واضح فرمائیے۔

viii۔ خلاصہ تنقید: یہاں اقلیتوں کے ساتھ دھوکے کا استدلال سمجھ سے بالا تر ہے۔ کیا ہم نے بارہا اپنے جلسوں اور نعروں میں یہ بات بالکل واضح نہ کر دی تھی کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الّا اللہ‘‘؟ کیا اقلیتوں کو اس سے معلوم نہ ہوا تھا کہ پاکستان میں کیا ہو گا؟ تو ان سے دھوکا کس بات کا؟

جواب: ’’دھوکے‘‘ کا لفظ غامدی صاحب نے تو استعمال نہیں کیا۔ ہاں انہوں نے اسے تحکم اور استبداد کہا ہے، جس پر ظاہر ہے کہ پہلے سے پتہ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نا انصافی، ناانصافی ہی رہتی ہے۔ رہی یہ بات کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعروں سے انہیں سمجھ جانا چاہیے تھا تو یہ استدلال بھی حد درجہ کمزور ہے۔ اول تو اس لیے کہ ایسے نازک معاملات میں قائدین سے بالمشافہ سرکاری ملاقاتوں میں طے پانے والے سمجھوتے اور یقین دہانیاں فیصلہ کن ہوتی ہیں، نہ کہ سیاسی نعروں سے استنباط۔ اور قائد اعظم کی تقریر کا حوالہ اور ان کے وعدے تو غامدی صاحب بیان کر ہی چکے ہیں۔ دوم اس لیے کہ اس نعرے سے تو عین ممکن ہے کہ غیر مسلم یہ سمجھے ہوں کہ چونکہ مسلمان اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا عزم باندھ رہے ہیں اور ان کا دین انہیں عدل و انصاف کا پابند کرتا ہے اس لیے یہ یقیناًعدل کریں گے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ اکثریت کے جس تحکم سے بچنے کے لیے وہ علیحدہ وطن مانگ رہے ہیں، اسی استبداد کا مظاہرہ آزادی کے بعد خود دوسروں کے حق میں کر دیں گے۔

ix۔ خلاصہ تنقید: عالمی معاہدوں کی دلیل پر قراردادِ مقاصد کو معاہدہ شکنی پر محمول کر کے اسے خلاف اسلام قرار دینا (کہ اسلام معاہدہ شکنی کی ممانعت کرتا ہے) بھی ایک کمزور استدلال ہے۔ ان حضرات سے سوال ہے کہ اس عالمی معاہدے کی وہ کونسی ’’قطعی الدّلالت‘‘ شق ہے جس کی صریح دلالت کے مطابق پاکستانیوں کو قراردادِ مقاصد پاس کرانے کا حق نہیں تھا؟

جواب: یہ دلیل بھی غامدی صاحب کی نہیں۔ یہاں نقل کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ قارئین مطلع رہیں کہ یہ ان کا مؤقف نہیں۔

x۔ خلاصہ تنقید: ان حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کی آئینی شقوں سے مذہبی اقلیتوں پر ظلم کا معاشرتی دروازہ کھلتا ہے۔ مگر یہ سمجھنا درست نہیں کہ ہمارے ملک میں اگر مذہبی اقلیت کے ساتھ کہیں کوئی ناروا سلوک روا رکھ لیا جاتا ہے تو اس کی وجہ آئین میں انہیں اقلیت ڈکلیئر کر دیا جانا ہے۔ اس آئین کی رو سے زیادہ سے زیادہ ان مذہبی اقلیتوں کو صدر یا وزیر اعظم بن سکنے کا حق نہیں، مگر پاکستان کی آبادی میں ان مذہبی اقلیتوں کا تناسب سامنے رکھتے ہوئے یہ بات با آسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ انہیں یہ حق نہ دیا جانا کوئی ایسا حق نہیں ہے جو عملاً ممکن تو ہو، مگر صرف آئین میں اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی غیر مسلم صدر یا وزیر اعظم نہیں بن پا رہا۔

جواب: صاحب مضمون نے کچھ الفاظ کے فرق سے غامدی صاحب کا مؤقف تو شاید ٹھیک ہی بیان کر دیا ہے، مگر نہ جانے جواب ایک مختلف فرضی سوال کا کیوں دے دیا ہے۔ وہ سوال غالباً یہ ہے کہ ’’کیا غیر مسلم اقلیتوں پر ہونے والے سب مظالم کی وجہ آئین میں ان کا اقلیت ڈکلیئر کیا جانا ہے؟‘‘ ظاہر ہے یہ تو سرے سے سوال ہی نہیں تھا۔ رہی یہ بات کہ چونکہ اقلیتوں کا صدر اور وزیر اعظم بننا بالفعل ممکن نہیں، اس لیے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ آئین میں ان سے یہ حق چھین لیا جائے، تو یہ بھی لائقِ تصحیح خیال ہے۔ موجودہ دور کی ریاستوں میں رنگ، نسل، زبان یا مذہب وغیرہ کی بنیاد پر اس طرح کی قانون سازی اصولاً غلط ہے، اور انسانوں کا مجموعی شعور اس کے خلاف فیصلہ دے چکا ہے۔ تاہم، یہ دعویٰ کہ آئین میں درجہ دوم کی شہریت بس صدر اور وزیر اعظم بننے سے روکتی ہے، کمال سادگی کا مظہر ہے۔ میرے خیال سے اس دعوے کی حقیقت قارئین خود ہی جانتے ہیں، کچھ محتاجِ بیان نہیں۔

xi۔ خلاصہ تنقید: متبادل بیانیے کو سپورٹ کرنے والے بعض اہل علم کا یہ استدلال بھی ہے کہ میثاقِ مدینہ میں شامل مسلمانوں سمیت تمام گروہوں کو ’’ایک امت یا ایک قوم‘‘ قرار دے کر مساوی حقوق عطا کیے گئے تھے؛ جبکہ آئینِ پاکستان میں اسلامی شقوں کی رو سے غیر مسلمین منطقی طور پر اقلیت قرار پاتے ہیں جو کہ میثاقِ مدینہ کی حکمت کے خلاف ہے۔ یہ استدلال بوجوہ (متعددہ) غلط ہے۔

جواب: یہ اعتراض بھی غالباً غامدی صاحب کے کسی استدلال پر نہیں، مگر ہے بہت دلچسپ۔ صاحب مضمون ان لوگوں کا جنہوں نے یہ استدلال پیش کیا ہے، ابطال کرتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس میثاق کے تحت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اور فلاں شرعی مطالبات یہود سے بھی منوا لیے تھے۔ پس اس سے کم درجے کی اسلامی شقیں اگر ہم نے آئین میں اقلیتوں کے لیے مقرر کر دیں تو کیا ہوا۔ بصد احترام، زاہد صاحب سے یہ سوال ہے کہ آپ نے میثاق کے متن پر تو یقیناًغور کیا ہے، مگر کیا اس کی نوعیت پر بھی غور کیا؟ یہ ایک معاہدہ تھا، معاہدہ! جس میں فریقین کو پورا اختیار حاصل تھا کہ چاہیں تو کسی شق سے اتفاق کریں یا اختلاف۔ ہم نے جو اقلیتوں کے ساتھ کیا ہے، کسی معاہدے اور میثاق کے تحت کیا ہے؟ کسی سے کوئی معاہدہ کر کے اس سے تھوڑی نہیں ساری شریعت پر اتفاق اگر کوئی کرا لے تو اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ ان اقلیتوں کی درجہ دوم میں تنزلی ہم نے یکطرفہ طور پر طے کر لی ہے اور اپنے مذہبی تصورات ان کی مخالفت کے باوجود ان پر مسلط کر دیے ہیں۔

(جاری)

آراء و افکار