زبور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پیش گوئی

ریحان احمد یوسفی

قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے متعدد دلائل بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل جو بار بار دہرائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ پچھلے صحیفوں میں آپ کی آمد کی متعدد پیش گوئیاں بیان ہوئی ہیں اور بلاشبہ آپ ان صحیفوں میں بیان کردہ انبیا علیہم السلام کی پیش گوئیوں کا واحد مصداق ہیں۔

حضرت داؤد اور حج بیت اللہ 

مسلمان اہل علم پچھلی کتابوں کا مطالعہ کرکے ان پیش گوئیوں کی تفصیل بیان کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پیش گوئی اس طرح بیان کی جاتی ہے جو انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ میں کتاب متی ( باب 44-42:21) میں اس طرح بیان ہوتی ہے۔

جس پتھر کو معماروں نے رد کیا

وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا

یہ خداوند کی طرف سے ہوا

اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔

اس پیش گوئی کا پورا مطلب ہم مضمون کے آخر میں بیان کریں گے ۔سردست یہ بات سمجھ لیں کہ یہ پیش گوئی اصل میں حضرت عیسیٰ کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ پہلے ہی سے یہود کی کتب میں لکھی ہوئی موجود تھی۔ چنانچہ ا س پیش گوئی سے پہلے سیدنا مسیح یہودی علماء اور سرداروں سے فرماتے ہیں:

’’کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا۔۔۔‘‘

ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ پیش گوئی کتاب مقدس میں حضرت عیسیٰ کے آنے سے پہلے ہی کردی گئی تھی اور اس کی اہمیت کی بنا پر حضرت عیسیٰ نے اس کو نہ صرف دہرایا بلکہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس میں اضافہ بھی کیا۔یعنی اصل میں یہ آنجناب کی پیش گوئی نہیں بلکہ کسی اور ہستی کے الفاظ ہیں جنھیں آپ نے دہرایا اور مزید وضاحت کی ہے۔

قدیم صحف سماوی پر گہری نظر رکھنے والے یہ بات جانتے ہیں کہ یہ پیش گوئی دراصل حضرت داؤد علیہ السلام کی ہے اور یہ زبور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کی جانے والی اہم ترین پیش گوئی ہے۔ تاہم اس پیش گوئی کو جب انجیل سے لیا جاتا ہے تو اس میں استعمال ہونے والی تشبیہ و تمثیل یعنی پتھر اور کونے کا پتھر کی اصل معنویت کسی کو سمجھ میں نہیں آسکتیں جب تک کہ یہ حقیقت معلوم نہ ہو کہ یہ پیش گوئی حضرت داؤد نے حج ادا کرتے ہوئے حرم پاک کے سامنے کی تھی۔

حضرت داؤد کے حالات زندگی 

قارئین کو شاید یہ بات کچھ عجیب لگے کہ حضرت داؤد نے حج کب ادا کیا لیکن ان کی اپنی کتاب تورات میں اللہ کی حمد کے جو مزمور(گیت) انھو ں نے گائے ہیں نیز دیگر تاریخی حقائق بھی یہ واضح کرتے ہیں کہ حضرت دادؤ نے نہ صرف یہ سعادت حاصل کی تھی بلکہ اپنی یہ مشہور پیش گوئی بھی اسی وقت کی تھی ۔ یہ پیش گوئی یہودیوں میں اتنی معرو ف تھی کہ سیدنا مسیح نے بغیر کسی خاص حوالے کے بے تکلف اسے ان کے سامنے بیان کردیا۔

حضرت داؤد کے متعلق تاریخی طور پر مسلمانوں کو بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ حالانکہ وہ سلسلہ نبوت و رسالت کے اہم ترین لوگوں میں سے ایک ہیں ، زبور جیسی مشہور آسمانی کتاب ان پر اتری اور قرآن کریم میں جابجا ان کا ذکر آیا ہے۔اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس پیش گوئی پر کچھ بات کرنے سے قبل کچھ حضرت دادؤکا ذکر کردیا جائے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کے حالات زندگی کو سمجھے بغیر یہ پیش گوئی سمجھ میں بھی نہیں آسکتی ۔

سیدنا داؤد کا زمانہ ہزار قبل مسیح کا بیان کیا جاتا ہے۔یعنی حضرت ابراہیم کے ایک ہزار برس بعد اور مسیح سے ہزار برس پہلے کا زمانہ ۔حضرت داؤد سے تقریباً پانچ سو برس (بعض محققین کے مطابق دو ڈھائی سو برس )قبل حضرت موسیٰ کی زیر قیادت بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات مل گئی تھی۔آپ کے بعد بنی اسرائیل نے اپنے جانشین یوشع بن نو ن کی زیر قیادت فلسطین کو فتح کرلیا ۔ مگر اس کے بعدانھوں نے ایک منظم ریاست قائم نہیں کی ۔بنی اسرائیل مختلف ٹولیوں میں بٹ کراس مفتوحہ علاقے میں بکھر گئے ۔اس کے بعد آنے والی صدیو ں میں بنی اسرائیل اردگرد موجود مشرک قبائل کا اثر قبول کرکے مختلف انحرافات اور گمراہیوں کا شکار ہوتے چلے گئے۔جس کے نتیجے میں بطور سزا اردگرد کی مشرک اقوام کو ان پر غلبہ دے دیا گیا ۔ان کا مقدس تابوت جسے تابوت سکینہ کہا جاتا تھااور جو ا ن کے مذہبی اعمال کی ادائیگی میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا وہ بھی ان سے چھین لیا گیا۔

یہی وہ زمانہ تھا جس میں حضرت داؤد کی پیدائش ہوئی ۔ ایسے میں یہود نے اپنے پیغمبرشیموئل ( سیموئل )سے درخواست کی کہ وہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ان کی قوم کے لیے ایک بادشاہ مقرر کردے تاکہ اس کے تحت جنگ کرکے وہ مشرکین کے خلاف فتح حاصل کریں اور اپنا مقدس تابوت اور مفتوحہ علاقے واپس لے سکیں۔ قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو بیان کیا ہے کہ بنی اسرائیل کے اصرار پر طالوت (ساؤل)کو ان کا بادشاہ بنایا گیا۔اور ان کی تقرری من جانب اللہ ہونے کی نشانی یہ مقرر کی گئی کہ ان کے دور میں تابوتِ سکینہ یہود کو واپس مل گیا۔پھران کی زیر قیادت یہود نے جالوت کی مشرک فوج کو شکست دے کر فلسطین پر مکمل قبضہ کرلیا۔ اس جنگ میں حضرت داؤد نے جالوت کو قتل کیا اوربادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی ان سے کردی۔

تاہم بعد میں ان کی مقبولیت اور بحیثیت ایک فوجی جرنل ان کی کامیابیوں سے بادشاہ ان سے خائف ہوگیا اور ان کی جان کے درپے ہوگیا۔ چنانچہ وہ جان بچانے کے لیے محل سے نکل گئے۔اس کے بعد بادشاہ کے ہرکارے ان کے تعاقب میں رہے اور وہ جان بچانے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں کی جانے والی مناجات اور حمدیہ گیتوں سے زبور کا آغاز ہوتا ہے۔ساؤل یعنی طالوت کی وفات کے بعد آپ فلسطین کے بادشاہ بنے اور آخر کار پورے فلسطین کو فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔

حضرت داؤد کا سفر حجاز

جس زمانے میں حضرت داؤد ساؤل بادشاہ سے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے تھے، ان کے سرپرست سیموئیل نبی کا انتقال ہوگیا۔اس کے بعد فلسطین ان کے لیے بالکل غیر محفوظ ہوگیا۔چنانچہ یہی وہ دور ہے جس میں وہ فلسطین سے ہجرت کرکے دشت فاران تشریف لے گئے ،(کتاب سموئل25:1)۔فاران کے نام سے بائبل میں دو علاقوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک مصر کے صحرائے سینا کا وہ علاقہ جس میں حضرت موسیٰ کی قوم فرعون کی غرقابی کے بعد پہنچی تھی۔ دوسرے سرزمین عرب کا شہر مکہ جہاں خود بائبل کے مطابق حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو آباد کیا تھا،(کتاب پیدائش21-17:21)۔ حضرت داؤد چونکہ فلسطین کے بادشاہ اور وہاں کی دیگر مشرک اقوام کی پہنچ سے دور نکلنا چاہتے تھے، اس لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ فلسطین کے علاقے صحرائے سینا گئے ہوں۔ بلکہ قرین قیاس یہی ہے کہ وہ مکہ ہی تشریف لائے ہوں گے جو صحرا کے دور دراز سفر کی وجہ سے اہل فلسطین کی پہنچ سے دور ایک محفوظ پناہ گا ہ تھی۔

یہی وہ وقت ہے جب آپ نے حج بیت اللہ ادا کیا ۔ اس روح پرور قیام کی یاد تازیست آ پ کو اس طرح ستاتی رہی کہ بعد میں پورے فلسطین کا بادشاہ بننے کے بعد بھی آپ اسے یاد کرتے رہے اور زبور کا ایک پورا مزمور (زبور :84)اسی سفر حج کی یادوں پر ہے جس میں وہ مکہ کا ذکر اس کے قدیم نام ’’بکہ ‘‘ سے کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ قرآن مجید میں بھی یہود سے مکالمہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے مکہ کو بکہ کے نام ہی سے بیان کیا ہے،(آل عمران96:3)۔ اس مزمور میں وہ یہ خواہش کرتے ہیں کہ وہ بادشاہ کے بجائے اللہ کے گھر کے دربان ہوتے ۔یہ پوری تحقیق تمام تر تفصیلی دلائل کے ساتھ ،جناب عبدالستار غوری کی کتاب ’’اکلوتافرزند ذبیح اسحاق یا اسماعیل‘‘ میں پڑھی جا سکتی ہے۔

زبور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی

تاہم جس پیش گوئی کا میں نے ذکر کیا ہے وہ زبور کے ایک دوسرے مزمور (زبور :118) میںآئی ہے۔جہاں تک میں سمجھا ہوں یہ مزمور عین حالت حج میں کہا گیا ہے۔قارئین کی سہولت کے لیے اس مزمور کو پورا نقل کررہا ہوں۔ کیونکہ اس سے نہ صرف پوری بات سمجھ میں آئے گی بلکہ یہ واضح کرنے میں بھی سہولت رہے گی کہ یہود و نصاریٰ اس پیش گوئی کا رخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موڑ کر کس طرح دوسروں کی طرف کردیتے ہیں۔ پھر اس سے یہ فائدہ بھی ہے کہ یہ مزمور ریکارڈ پر آجائے گاکیوں کہ یہود و نصاریٰ کا دستور ہے کہ وہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ کسی مسلمان نے ان کی کتاب سے نبی عربی کی صداقت کا کوئی ثبوت پیش کردیا ہے تو وہ فوراً اس ترجمے کو متروک قرار دے کر ایک ایسا نیا ترجمہ کرتے ہیں جس میں اصل بات غائب کردی جاتی ہے۔

یہ مزمور نقل کرنے سے قبل یہ بھی واضح کردوں کہ دیگرالہامی کتب کی طرح زبور بھی ترجمہ در ترجمہ کے عمل سے گزری ہے۔ اس کے نتیجے میں اس میں اب وہ تاثیر محسوس نہیں ہوگی جو قرآن مجید نے بیان کی ہے کہ پہاڑ اور پرندے بھی حضرت داؤد کے ساتھ حمد و تسبیح کرتے تھے۔مگر بہرحال وہ معنویت موجود ہے جس کی بنا پر قرآن مجید نے بار بار ان کتابوں کا حوالہ دے کر یہ کہا تھا کہ ہمارے نبی کا تذکرہ تم ان کتابو ں میں لکھا ہوا پاتے ہو،(اعراف157:7)۔

حضرت داؤد کا مزمور

اس مزمور کے کئی حصے ہیں۔میں ذیل میں مزمور نقل کررہا ہوں اور ساتھ ساتھ اہم باتوں کی وضاحت بھی کرتا جاؤں گا۔ 

خداوند کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے

اور اس کی شفقت ابدی ہے

اسرائیل اب کہے

اس کی شفقت ابدی ہے

ہارون کا گھرانہ اب کہے

اس کی شفقت ابدی ہے

خداوند سے ڈرنے والے اب کہیں

اس کی شفقت ابدی ہے

یہ ابتدائی آیات یعنی 1تا4اللہ کی حمد پر مشتمل ہیں۔جبکہ آخری آیت یعنی 29میں بھی یہی حمدیہ مضمون دہرایا گیا ہے۔یہی حمد یہ انداززبور کی وجہ شہرت بھی ہے۔ پھرآیت 5سے 18تک وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ان کے دشمنوں نے ان کو گھیرلیا تھا اور فلسطین کی تمام قومیں ان کے خلاف ہوگئی تھیں مگر انھوں نے اللہ سے مدد مانگی اور اسی پر بھروسہ رکھا تو اللہ نے انھیں ان دشمنوں سے نجات عطا فرمادی۔ پھر وہ اپنے لیے اس مزمور میں ایک عظیم پیش گوئی کرتے ہیں کہ وہ اپنے تمام دشمنوں کو شکست دیں گے اور ان کو مارنے والوں کی تمام تر کوششوں کے برخلاف وہ زندہ رہیں گے اور اللہ کی حمد کرتے رہیں گے۔ کس طرح وہ ایک سخت آزمائش سے تو گزرے مگر آخر کار اللہ نے انھیں بچالیا۔فرماتے ہیں:

میں نے مصیبت میں خداوند سے دعا کی

خداوند نے مجھے جواب دیا اور کشادگی بخشی

خداوند میری طرف ہے میں ڈرنے کا نہیں

انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟

خداوند میری طرف میرے مددگاروں میں ہے 

اس لیے میں اپنے عداوت رکھنے والوں کو دیکھ لوں گا

خداوند پر توکل رکھنا

انسان پر بھروسا رکھنے سے بہتر ہے

خداوند پر توکل رکھنا

امراء پر بھروسا رکھنے سے بہتر ہے

سب قوموں نے مجھے گھیر لیا

میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا

انہوں نے مجھے گھیر لیا۔ بیشک گھیر لیا

میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا

انہوں نے شہد کی مکھیوں کی طرح مجھے گھیر لیا

وہ کانٹوں کی آگ کی طرح بجھ گئے 

میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا

تو نے مجھے زور سے دھکیل دیا کہ گر پڑوں

لیکن خداوند نے میری مدد کی

خداوند میری قوت اور میرا گیت ہے

وہی میری نجات ہوا

صادقوں کے خیموں میں شادمانی اور نجات کی راگنی ہے

خداوند کا داہنا ہاتھ دلاوری کرتا ہے

خداوند کا داہنا ہاتھ بلند ہوا ہے

خداوند کا داہنا ہاتھ دلاوری کرتا ہے

میں مروں گا نہیں بلکہ جیتا رہوں گا

اور خداوند کے کاموں کو بیان کروں گا

خداوند نے مجھے سخت تنبیہ تو کی ہے

لیکن موت کے حوالہ نہیں کیا

آیت 19سے وہ سلسلہ کلام ہے جس میں وہ حرم میں داخل ہوتے ہوئے وہ مشہور پیش گوئی کرتے ہیں جس کا شروع میں ذکر ہوا ۔انداز سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے قبل کی آیات وہ راستے میں پڑھ رہے تھے، مگر اب وہ حرم میں داخل ہورہے ہیں اور حرم کو سامنے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو براہ راست مخاطب ہوکر گفتگو کررہے ہیں۔فرماتے ہیں:

صداقت کے پھاٹکوں کو میرے لیے کھول دو

میں ان سے داخل ہو کر خداوند کا شکر کروں گا

خداوند کا پھاٹک یہی ہے

صادق اس سے داخل ہوں گے

میں تیرا شکر کروں گا کیونکہ تو نے مجھے جواب دیا

اور خود میری نجات بنا ہے

اب اس کے بعد حرم کے سامنے کھڑے ہوکر حجر اسود کو دیکھ کر فرماتے ہیں۔ یہ وہی پیش گوئی ہے جس کا ذکر سیدنا مسیح نے کیا ہے۔

جس پتھر کو معماروں نے رد کیا

وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا

یہ خداوند کی طرف سے ہوا

اور ہماری نظر میں عجیب ہے

یہ وہی دن ہے جسے خداوند نے مقرر کیا

ہم اس میں شادمان ہوں گے اور خوشی منائیں گے

آہ! اے خداوند! بچا لے

آہ! اے خداوند! خوشحالی بخش

اس کے بعد سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیش گوئی اس طرح کرتے ہیں:

مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے

ہم نے تم کو خداوند کے گھر سے دعا دی ہے

یہووا ہی خدا ہے اور اسی نے ہم کو نور بخشا ہے

قربانی کو مذبح کے سینگوں سے رسیوں سے باندھو

تو میرا خدا ہے۔ میں تیرا شکر کروں گا

تو میرا خدا ہے۔ میں تیری تمجید کروں گا

خداوند کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے

اور اس کی شفقت ابدی ہے

اوپر لکھے ہوئے الفاظ پر پھر غور کیجیے۔

مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے،(آیت 26)۔

ہر قرینہ اس بات کا گواہ ہے کہ آنے والی ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی ہے۔ اور یہ الفاظ حرم مکہ میں ادا کیے جارہے ہیں۔ اس کا سب سے بنیادی قرینہ یہ ہے کہ حضرت دادؤ کے زمانے میں ابھی ہیکل سلیمانی کی تعمیر نہیں ہوئی تھی ۔یہود کی کوئی مرکزی عبادت گاہ نہیں تھی۔ مگر دیکھیے کہ اس مزمورمیں خداوند کا پھاٹک یہی ہے(آیت 20) اور ہم نے تم کوخداوند کے گھر سے دعا دی ہے،(آیت 26)کے الفاظ آتے ہیں۔ خداوند کا گھر دراصل بیت اللہ کا ترجمہ ہے۔ حضرت دادؤ کے زمانے میں بیت اللہ کہلانے والی عمارت دنیا کے نقشے پر ایک ہی تھی اور و ہ حرم کعبہ تھا۔ مزید اس مزمور میں وہ قربانی اور قربان گاہ یعنی مذبح کا ذکر کرتے ہیں،(آیت27)۔ کیا یہ بات مسلمانوں کو بتانے کی کوئی ضرورت ہے کہ حج کے موقع پر حرم مکہ میں قربان گاہ اور قربانی کازیارت سے کیا تعلق ہوتا ہے؟

پھر جو پیش گوئی کونے کے پتھر کے تعلق سے بیان ہوئی ہے وہ واضح رہے کہ بنی اسماعیل کے حوالے سے ہے ۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ آج اِس قوم کو دنیا نے فراموش اور رد کررکھا ہے مگر کل یہ حرم پاک کے کونے کے پتھر یعنی حجر اسود کی طرح مقدس اور محترم ہوجائے گی ۔ ہمیں یہ بات آج عجیب لگتی ہے، مگر یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ بنی اسماعیل کو عافیت اور خوشحالی کی دعا ددیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تم کو خداوند کے گھر سے دعا دی ہے۔ 

تحریف و تاویل 

یہود و نصاریٰ نے بڑی کوششیں کی ہیں کسی طرح اس پیش گوئی کا مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ قرار پائیں۔ چنانچہ یہو د نے اس معاملے میں یہ کام کیا کہ اس مزمور پر سے حضرت داؤد کا نام ہٹادیا(خیال رہے کہ موجودہ زبور میں بعض مزامیر بعد میں آنے والوں کے بھی ہیں)۔غالباً ان کا خیال تھا کہ نہ رہے گا بانس اورنہ بجے گی بانسری کے بمصداق جب حضرت داؤد کی نسبت ہی نہیں رہی تو یہ پیش گوئی اپنی اہمیت کھوبیٹھے گی۔مگر ا س پیش گوئی کو حضرت عیسیٰ نے انجیل میں دہراکر اس کی اہمیت کو اتنا نمایاں کردیا کہ ایسی کوئی کوشش اب موثر نہیں ہوسکتی۔

ایک دوسری تاویل یہ کی جاتی ہے کہ یہ حضرت داؤد کا کلام اس لیے نہیں ہوسکتا کہ اس میں بیت اللہ یا خداوند کے گھر اور قربانی اور قربان گاہ کا ذکر آیا ہے۔ جیسا کہ پیچھے بیان ہوا کہ ہیکل سلیمانی تو حضرت داؤد کے بعد حضرت سلیمان نے بنوایا تھا۔چنانچہ ان لوگوں کے نزدیک یہ بات بالکل واضح ہے کہ ’’خداوند کے گھر ‘‘ جیسے کسی الفاظ کا کوئی مسمیٰ حضرت داؤد کے زمانے میں موجود ہی نہیں تھا، اس نے ان آیات کی یہ تاویل کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ مزمور حضرت داؤد کا ہے ہی نہیں بلکہ اس زمانے کا ہے جب یہود بابل کی اسیری سے واپس یروشلم لوٹ رہے تھے۔ یعنی بخت نصر یروشلم کو تباہ کرکے انھیں ساتھ بابل لے گیا تھا تو کم و بیش ایک صدی کی غلامی کے بعد سائرس یا ذوالقرنین نے انھیں اس غلامی سے نجات دلاکر دوبارہ یروشلم لوٹنے کی اجازت دی تھی۔ ایسے میں کسی نامعلوم شخص نے یروشلم میں داخل ہوتے وقت ہیکل سلیمانی کو دیکھ کر یہ مزمور پڑھا تھا۔

تاہم اس مزمور کا ابتدائی حصہ اس تاویل کی مکمل طور پر نفی کردیتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا کہ حضرت داؤد بادشاہ وقت کے مسلسل عتاب کا نشانہ بنے رہے اور مستقل اپنی جان بچانے کی جدو جہد کرتے رہے اور آخرکار اپنے تمام دشمنوں پر اللہ کی مدد سے غالب آئے ۔ا س کی پوری داستان بائبل میں موجود ہے۔ اس مزمور میںیہی داستان بہت اختصار سے بیان ہوئی ہے۔اس داستان کا بابل سے لوٹنے والے لوگوں سے بالکل کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو خود مغلوب ہوکر عراقیوں کی قید میں تھے جبکہ یہاں داؤد علیہ السلام یہ کھلی ہوئی پیش گوئی کررہے ہیں :

’’سب قوموں نے مجھے گھیر لیا۔ میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا۔انہوں نے مجھے گھیر لیا۔ بیشک گھیر لیا۔ میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا۔انہوں نے شہد کی مکھیوں کی طرح مجھے گھیر لیا۔وہ کانٹوں کی آگ کی طرح بجھ گئے ۔ میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا۔‘‘،(آیت 12-10)

یہ دشمنوں میں گھرے ہوئے شخص کی للکار ہے کہ آج میں بہت مشکل میں ہوں لیکن کل میں کس طرح ان دشمنوں کا صفایا کردوں گا۔ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ میں کوئی دوسری شخصیت نہیں ہے جس کے خلاف اس طرح ساری قومیں اور قبائل اٹھ کھڑے ہوئے ہوں اور وہ تنہا اللہ کی مدد سے غالب آگیا ہو۔اس لیے یہ مزمور پڑھنے والی شخصیت سوائے حضرت دادؤ کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔

مسیحی حضرات کی تاویل

مسیحی حضرات اس کی وہی تاویل کرتے ہیں جو آسمانی صحائف میں موجود نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر پیش گوئیوں کی کرتے ہیں۔ یعنی ا ن کا مصداق حضرت عیسیٰ ہیں ، نہ کہ نبی آخر الزماں۔لیکن اول تو یہی بات کہ یہ پیش گوئی حرم مکہ میں کی گئی ہے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ جس آنے والے کاذکر ہے وہ نبی عربی کے علاوہ کوئی اور ہو۔ مگر اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انجیل میں اس پیش گوئی کو نقل کرنے کے بعد ا س کی جو شرح خود مسیح نے کی ہے اس کے مطابق ان کی اپنی زندگی اور ان کی قوم کسی طور پر اس پیش گوئی کا مصداق نہیں بن سکتیں۔ مسیحی حضرات کہتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا مصداق مسیح ہیں۔ جبکہ اکا دکا وہ مسلمان اہل علم جنھوں نے اس پیش گوئی کو موضوع بنایا ہے یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہمارے نبی ہیں۔ راقم یہ نقطہ نظر پیش کررہا ہے کہ ’’کونے کے پتھر‘‘ کامصداق کوئی فرد نہیں بلکہ قوم ہے۔ یہی بات حضرت داؤد نے زبور میں بیان کی تھی اور یہی چیز انجیل میں سیدنا مسیح نے بالکل کھول کر رکھ دی ہے۔تاہم اس کے لیے انجیل کے بیان کو سمجھنا ہوگا۔

انجیل کی کتاب متی باب 21کی آیت 23 سے یہ واقعہ بیان ہونا شروع ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہیکل سلیمانی میں کھڑے ہوکر دعوت دے رہے تھے کہ یہود سردار اور کاہن ان کے اردگرد جمع ہوگئے اور ان پر اعتراض کرنے لگے کہ تم یہ کام کس اختیار کے تحت کررہے ہو۔ اس پر حضرت عیسیٰ نے پہلے ان کے کفر پر ان کو تنبیہ کی اور پھر ایک تمثیل کی زبان میں انھیں بتایا کہ اللہ کا عذاب ان پر آیا چاہتا ہے اور اب انھیں فارغ کرکے ایک دوسری قوم کو یہ منصب دے دیا جائے گا۔ ا س کے بعد انھوں نے حضرت دادؤ کی زیر بحث پیش گوئی بیان کی اور ساتھ میں خود اس کی شرح اس طرح کرتے ہوئے فرمایا:

’’اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی۔اور جو اس پتھر پر گرے گاٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔اور جب سردار کاہنوں اور فریسیوں نے ا س کی تمثیلیں سنیں تو سمجھ گئے کہ ہمارے حق میں کہتا ہے۔ اور وہ اسے پکڑنے کی کوشش میں تھے لیکن لوگوں سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ اسے نبی جانتے تھے۔‘‘ (متی 46-43:21 )۔

حضرت عیسیٰ نے صاف واضح کردیا ہے کہ یہاں ایک قوم زیر بحث ہے کوئی فرد نہیں۔یعنی بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ عذاب دے کر جب منصب امامت سے فارغ کردیں گے تو وہ پتھر یعنی بنی اسماعیل جنھیں یہود بے وقعت سمجھتے تھے، کونے کے سرے کا پتھر ہوجائے گا۔ اب اگر یہ بات ذہن میں رہے کہ پیش گوئی کرنے والے نبی داؤد علیہ السلام حر م میں کھڑے ہوئے ہیں تو پھر کونے کے پتھر سے مراد حجر اسود ہی ہوسکتا ہے جو حرم کے ایک کونے کے سرے پر نصب اس کا اہم ترین حصہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بنی اسماعیل کی قوم جو ایک عام پتھر کی طر ح غیر اہم تھی وہ عنقریب حجر اسود کی طرح دنیا میں سب سے زیادہ اہم ہوجائے گی۔ اور پھر مسیح اس کی شرح کرتے ہیں کہ اس قوم کو وہ غلبہ و قوت اور اقتدار ملے گا کہ یہ دنیا کی جس قوم سے ٹکرائے گی اسے پاش پاش کرڈالے گی۔

کون نہیں جانتا کہ داؤد اور مسیح علیہما السلام کی یہ پیش گوئیاں کس طرح حرف بحرف درست ثابت ہوئی ہیں۔ وہ عرب جنھیں یہود حقارت سے اُمی کہتے تھے اور ساری دنیا جنھیں غیر متمدن سمجھتی تھی، جب ایمان لے آئے تو انہوں نے کس طرح بقول حضرت دادؤ کے ،عجیب طریقے پر دنیا کی سپر پاور کے پرخچے اڑادیے اور جو قوم ان سے ٹکرائی ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گئی۔اس کے برعکس حضرت عیسیٰ کے اپنے پیروکاروں کا معاملہ یہ تھا کہ ابتدائی کئی صدیوں میں ان کے پیروکاروں پر بدترین ظلم و ستم ہوتے رہے۔ وہ کسی قوم کو کیا پیستے ،دوسری قومیں انھیں پیستی رہیں۔چنانچہ حضرت عیسیٰ یا ان کی قوم سرے سے اس پیش گوئی کا مصداق ہوہی نہیں سکتے۔ مسیحی حضرات لاکھ زور لگالیں، خود سیدنا مسیح اس پیش گوئی کی جو شرح کرکے گئے ہیں وہ ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بلاشبہ اس پیش گوئی کا مصداق اگر کوئی ہے تو سرکار دوعالم کی ہستی ہے اور آپ کی قوم یعنی صحابہ کرام ہیں ۔ اللہ ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلائے۔ آمین۔

سیرت و تاریخ

(جون ۲۰۱۵ء)

Flag Counter