مولانا حکیم محمد یاسین کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا حکیم محمد یاسین صاحبؒ ہمارے پرانے اور بزرگ ساتھی تھے، طویل عرصہ سے جماعتی رفاقت چلی آرہی تھی اور مختلف دینی تحریکات میں ساتھ رہا، ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔جھنگ صدر کے محلہ مومن پورہ کی مسجد اشرفیہ نہ صرف ان کی مسلکی، دینی اور تحریکی سرگرمیوں کا مرکز تھی بلکہ اسے جھنگ کے اہم تحریکی اور جماعتی مرکز کا مقام حاصل تھا۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے معتمد شاگرد تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے حضرت مفتی صاحبؒ کے دور سے ہی ممبر تھے۔ مجھے طالب علمی کے زمانے میں ان کے مرکز میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت والد مکرم رحمہ اللہ تعالیٰ نے وہاں جلسہ میں تقریر کا وعدہ کر رکھا تھا لیکن علالت کی وجہ سے سفر کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں ان دنوں چھچھ کے مولانا حافظ محمد دلبر صاحب زیر تعلیم تھے۔ اچھے مقرر تھے، تلاوت بھی خوب کرتے تھے اور نعت و نظم کا بھی بھرپور ذوق رکھتے تھے۔ وہ اور میں دونوں مختلف دیہات میں جایا کرتے تھے اور دینی مجالس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ہماری دونوں کی ٹولی اس دور میں بہت مشہور تھی۔ حضرت والد محترمؒ نے جھنگ کے اس جلسہ کے لیے اپنی جگہ ہم دونوں کو بھجوایا اور ہم نے اس جلسہ میں جا کر خطاب کیا۔ حضرت مولانا حکیم محمد یاسینؒ کے ساتھ میری وہ پہلی ملاقات تھی اور اس کے بعد ملاقاتوں کا وہ سلسلہ چلا کہ میں ان کی تعداد اندازے سے بھی نہیں بتا سکتا۔ اپنے اسفار کے دوران موقع ملنے پر میں جھنگ میں ضرور رکا کرتا تھا اور حضرت مولانا مفتی عبد الحلیم پانی پتیؒ کی بزرگانہ شفقتوں کے ساتھ ساتھ مولانا حکیم محمد یاسینؒ کی میزبانی سے مستفید ہوتا۔ وہ اکثر میری حاضری پر علماء کرام اور کارکنوں کی کوئی نہ کوئی نشست رکھ لیتے تھے اور کسی تازہ مسئلہ پر اظہار خیال کا موقع مل جاتا تھا۔

وہ اچھے طبیب تھے اور مسجد کے ساتھ ان کی حکمت کی دوکان تھی جو اب ان کے بیٹے چلا رہے ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام کے اجلاسوں، کانفرنسوں اور دیگر پروگراموں میں مختلف مقامات پر ان سے ملاقات ہوتی تھی اور اکثر مسائل پر ہمارے درمیان ذہنی ہم آہنگی رہتی تھی۔ اصابت رائے اورا پنے موقف پر استقامت کی صفات سے بہرہ ور تھے اور جمعیۃ علماء اسلام (س) کے اہم راہ نماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ زندگی کا اکثر حصہ انہوں نے دینی جدوجہد اور مسلکی تگ و تاز میں بسر کیا اور جھنگ کے علاقہ میں جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے اور ساتھیوں کو بیدار رکھنے کے لیے ہر وقت متحرک رہتے تھے۔ حتیٰ کہ علالت کے دور میں بھی ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی کہ جماعتی سرگرمیوں کا تسلسل قائم رہے۔

ان کی وفات سے ہم ایک مخلص دوست، متحرک جماعتی راہ نما اور مسلکی حمیت سے متصف بزرگ ساتھی سے محروم ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائیں اور سیئات سے درگزر کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے گھر پر چھاپہ

گزشتہ دنوں خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے فرزند مولانا حافظ احمد اللہ گورمانی کے گھر میں دروازے توڑ کر گھس جانے کے بعد خوف و ہراس کی فضا قائم کی اور مفتی صاحب محترم کے داماد مولانا حافظ محمد آصف کو اٹھا کر لے گئے۔ ان سطور کے تحریر کیے جانے تک مسلسل رابطوں کے باوجود ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو رہا کہ انہیں کس ادارے نے اٹھایا ہے، وہ کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں؟ حافظ محمد آصف مفتی محمد عیسیٰ خان صاحب کے داماد ہیں اور لاہور کے ایک دینی مدرسہ میں خدمات سر انجام دیتے ہیں۔وہ اکابر اور اسلاف کی یادگاریں اور نوادرات جمع کرنے کا ذوق رکھتے ہیں جس کے لیے انہوں نے اپنے گھر میں چھوٹی سی گیلری بنا رکھی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں مختلف شکلوں میں سنبھالی ہوئی ہیں، کسی کی کوئی تحریر، کسی کی دستار کا ٹکڑا، کسی بزرگ کی قمیص، کسی کی لاٹھی اور کسی کی کوئی اور استعمال شدہ چیز بڑے سلیقے سے رکھی ہوئی ہے۔

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے گھر میں خفیہ اداروں کی اس کارروائی نے شہر کے دینی حلقوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے اور ہر شخص پریشانی اور اضطراب کا شکار ہے۔ اس سے قبل شہر میں دارالعلوم جلیل ٹاؤن، مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد اور مدرسہ مظاہر العلوم چمڑا منڈی میں اسی قسم کی کاروائیاں ہو چکی ہیں اور سب لوگ حیرت میں ہیں کہ اگر پولیس یا کسی ادارے کو حافظ محمد آصف کی کسی معاملہ میں ضرورت تھی تو اس کے لیے نارمل ذرائع اختیار کیے جا سکتے تھے اور گوجرانوالہ کے اداروں اور علماء کرام نے ایسے معاملات میں ہمیشہ سرکاری اداروں سے تعاون کیا ہے۔ لیکن اب یہ خیال عام ہو رہا ہے کہ شاید اسی تعاون کی یہ سزا دی جا رہی ہے کہ گوجرانوالہ کے بڑے دینی مدارس اور شخصیات کو نشانے پر رکھ لیا گیا ہے اور وقفے وقفے کے بعد انہیں اس قسم کی کارروائیوں کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔

ملک بھر کے احباب اور دینی راہ نماؤں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں آواز اٹھائیں اور اپنے اپنے ذرائع سے حکومت پر زور دیں کہ وہ اس قسم کی کاروائیوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرے اور حافظ محمد آصف سمیت ان تمام افراد کو بازیاب کرایا جائے جنہیں ایسی کاروائیوں کے ذریعے غائب کر دیا گیا ہے۔

اخبار و آثار

(مئی ۲۰۱۴ء)

Flag Counter