شوگر کا بڑھتا ہوا مرض اور اس کے اسباب

حکیم محمد عمران مغل

تقریباً تمام انسانی امراض کا تعلق کام ودہن سے ہے، لیکن شوگر کے مرض کا تعلق خاص طور پر خور ونوش کی عادات اور معدہ سے ہے، اس کے علاوہ کسی جسمانی عضو سے نہیں۔ کوئی چیز معدہ میں پھنس گئی اور آپ نے ازالہ کے لیے پھکی، چورن یا ہاضمے کی گولی کھا لی۔ معدہ کی کیفیت کا ازالہ ہو گیا۔ پھر کبھی یہی تکلیف محسوس ہوئی تو آپ نے پھر یہی کام کیا۔ اسی طرح آپ کو ہاضمہ کی خرابی دور کرنے کے لیے بار بار کوئی چیز استعمال کرنا پڑی تو سمجھ لیں کہ رفتہ رفتہ شوگر کا مرض آپ کے جسم میں جگہ بنا رہا ہے، کیونکہ جو کچھ آپ نے کھایا پیا ہے، وہ انسانی صحت کے اصول کے مطابق ازخود ہضم ہونا چاہیے۔ اس ہاضمے کے لیے آپ بار بار متبادل ادویہ کھائیں گے تو معدہ اس کا عادی ہو کر اپنا اصل عمل چھوڑ دے گا۔ یاد رکھیں، یہی شوگر کے مرض کی ابتدا ہے۔ جو کام معدے کے ذمے تھا، وہ آپ نے ہاضمہ کی ادویہ سے لینا شروع کر دیا۔

ایک نکتہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانی گردہ ایک دن برف کی طرح ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ جس دن یہ ٹھنڈک آپ کے گردے میں برابر آ گئی تو اللہ کی ذات کے سوار کوئی طاقت آپ کو شوگر کے مرض سے نہیں بچا سکتی۔ کوکا کولا یا دیگر بند بوتلوں کا پانی بھی کچھ عرصے کے بعد آپ کو خون کے آنسو رلائے گا۔ ہم نے ایسے مریض بھی دیکھے ہیں جو کھانے کے ایک آدھ گھنٹے کے بعد پاخانہ کر دیا کرتے تھے۔ پوچھنے پر بتایا کہ یہ اس تیزابی پانی کا نتیجہ ہے جو ہم بوتلوں میں پیتے تھے۔

تمام مشروبات، میدہ کے بنی ہوئی مصنوعات، پکے پکائے کھانے، ہر قسم کے جام، اچار، مربے، چٹنیاں، ان میں ایسے کیمیکل ملائے جاتے ہیں جن سے انتڑیوں کا اَستر اتر جاتا ہے۔ پھر یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ کھانے کے بعد فوراً بیت الخلا جانا پڑتا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر اپنے مطبخ میں میدہ رکھنا گوارا نہ کرتے تھے۔ 

تانبہ کے برتن میں قلعی کروا کر استعمال کریں، یہ کئی ادویہ کا ملغوبہ ہے۔ مٹی کے برتنوں سے بھی شوگر کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کھانے کے بعد ایک چٹکی کالی زیری پانی کے ساتھ کھا لیں، معدہ واش ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ

امراض و علاج