الشریعہ اکادمی میں بیتے دن

محمد عثمان فاروق

(دورۂ تفسیر قرآن ومحاضرات قرآنی سے متعلق مشاہدات وتاثرات)

۱۷ جون تا ۲۵ جولائی ۲۰۱۳ء، الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام علوم قرآنیہ کے شائقین کے لیے قرآن مجید کے ترجمہ وتفسیر اور توسیعی محاضرات کا اہتمام کیا گیا۔ ملک کے طول وعرض سے چالیس کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ جن دینی مدارس وجامعات سے طلبہ نے شرکت کی، ان میں جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ دار العلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ کراچی، جامعہ فریدیہ اسلام آباد، جامعہ معارف القرآن اسلام آباد اور مدرسہ اشاعت الاسلام مانسہرہ قابل ذکر ہیں۔

دورہ کے نصاب میں بنیادی طور پر قرآن مجید کا مکمل ترجمہ اور تفسیری مباحث شامل تھے۔ جن اساتذہ نے تدریس کی ذمہ داری انجام دی، ان کے نام حسب ذیل ہیں:

۱۔ مولانا زاہد الراشدی (سورۂ فاتحہ تا التوبہ)

۲۔ مولانافضل الہادی (سورۂ یونس تا بنی اسرائیل، سورۃ الانبیاء تا النور)

۳۔ مولانا ظفر فیاض صاحب (سورۃ الکہف تا الانبیاء، سورۃ الفرقان تا فاطر)

۴۔ مولانا محمد یوسف صاحب (سورۂ یس تا الحجرات)

۵۔ مولانا محمد وقار صاحب (سورۂ ق تا القمر)

۶۔ مولانا حافظ محمد رشید صاحب (سورۃ الرحمن تا التحریم)

۷۔ مولانا عمار خان ناصر صاحب (سورۃ الملک تا الناس)

یہ کورس کل وقتی تھا او رطلبہ کے قیام وطعام کا انتظام اکادمی میں ہی تھا، اس لیے وقتاً فوقتاً علوم قرآنی سے متعلق مختلف عنوانات پر محاضرات بھی رکھے گئے جن کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:

۱۔ استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے احکام القرآن اور معاصر وضعی قوانین پر ۲۰ خطبات دیے جن میں انسانی حقوق کا عالمی منشور، اسلام اور مغربی قوانین کا تقابلی مطالعہ، پاکستان کے تین دساتیر (۵۶ء، ۶۲ء اور ۷۳ء) کا اجمالی تعارف، حدود آرڈیننس، تحفظ حقوق نسواں بل، پاکستان میں نفاذ شریعت کی کوششوں کی تاریخ اور علماء کے مرتب کردہ ۲۲ دستوری نکات جیسے اہم مباحث پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

۲۔ گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے شعبہ سیاسیات کے استاذ میاں انعام الرحمن صاحب نے جدید معاشی وسیاسی تصورات اور تحریکوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ میاں صاحب نے طلبہ کو مروجہ افکار ونظریات سے واقفیت حاصل کرنے کی خاص طور پر ترغیب دی۔ وہ دوران گفتگو اکثر قدرے مسکراتے ہوئے کہتے تھے کہ ’’بھائی! معاصر افکار کو پڑھ لیا کریں۔ اس سے آپ کے ایمان ویقین پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ پڑھ لیا کریں، فائدہ ہی ہوگا۔‘‘ میاں صاحب یہ بات مدارس کے طلبہ کو جگانے کے لیے کرتے تھے جو عام طور پر ضرورت سے زیادہ ذہنی تحفظات کا شکار اور نامعلوم خوف کے احساس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ 

۳۔ حافظ محمد سلیمان اسدی صاحب نے قدیم اور جدید تفاسیر کا تعارف کروایا اور مفسرین کے اسالیب ومناہج پر روشنی ڈالی جس سے طلبہ کو سلف وخلف کی اہم تفسیری کاوشوں سے شناسائی ہوئی۔ یہ گفتگو اس لحاظ سے بھی دلچسپ تھی کہ کم وقت میں اسدی صاحب نے طویل موضوع کو سمیٹ لیا۔

۴۔ سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فیروز شاہ کھگہ صاحب نے، جو جامعہ اشرفیہ لاہور سے فارغ التحصیل ہیں، تحریک استشراق اور قرآن مجید پر مستشرقین کے اعتراضات کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ ڈاکٹر صاحب کی تقریر بہت فکر انگیز، لبہ ولہجہ بے حد شستہ اور اسلوب دل نشین تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے اسی موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اثنائے گفتگو میں عربی مدارس کے نصاب اور طریقہ تدریس کے کمزور پہلوؤں کی طرف نہایت دردمندی اور خلوص کے ساتھ توجہ دلائی اور کہاکہ دور حاضر میں اسلام کو مختلف چیلنج درپیش ہیں جن میں الحاد، اباحیت پسندی، اسلام اور پیغمبر اسلام کے متعلق مستشرقین کے پھیلائے ہوئے شبہات وغیرہ شامل ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ مسلکی اور فقہی وفروعی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں اور مسلم امہ کو جو اصل خطرات درپیش ہیں، ان سے نظریں چرائے بیٹھے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جدید علوم مثلاً نفسیات، معاشیات، سماجیات اور مغربی فکر وفلسفہ بھی پڑھیں اور حکمت، تدریج اور خیر خواہی کے ساتھ معاشرے میں دعوت واصلاح کا کام کریں۔

۵۔ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے ’’قرآن فہمی میں حدیث وسنت سے استفادہ کے مختلف پہلو‘‘ کے عنوان پر تفصیلی لیکچر دیا۔ مفتی صاحب نے تحقیقی اور فنی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے بہت سادہ اور دل نشین پیرایے میں قرآن مجید اور حدیث وسنت کے باہمی تعلق کی وضاحت کی اور بتایا کہ قرآن مجید اور حدیث کا تعلق متن وشرح، اجمال وتفصیل، دعویٰ ودلیل کا ہے۔ ہدایت منبع وسرچشمہ قرآن اور صاحب قرآن دونوں ہیں اور یہ نقطہ نظر درست نہیں کہ راہ نمائی کے لیے قرآن مجید کافی ہے۔ مفتی صاحب نے قرآن مجید اور احادیث وآثار کے مختلف دلائل سے حدیث وسنت کی حجیت اور اس کی استنادی حیثیت کو اجاگر کیا۔

۶۔ ڈاکٹر عبد الماجد حمید مشرقی صاحب نے ’’دعوت دین کی راہ میں رکاوٹیں اور ان کا حل‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انھوں نے آسان اور عملی مثالوں کی مدد سے یہ بات سمجھائی کہ دعوت وتبلیغ کا کام کرنے والوں کو اخلاص، خیر خواہی اور حکمت وفراست کا حامل ہونا چاہیے، اس راہ کی مزاحمتوں اور موانع کو خندہ پیشانی اور صبر وتحمل کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے اور اس معاملے میں داعئ اعظم کے اسوہ اور آپ کے صحابہ کرام کی سیرت کو مشعل راہ بنانا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے دعوت کے اس تصور کو ناقص قرار دیا جس میں صرف صوم وصلوٰۃ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے اور لوگوں کے سماجی ومعاشی مسائل ومشکلات کو حل کرنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ان کے مسائل نمٹانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے یہ واقعہ سنایا کہ جب پہلی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبریل علیہ السلام سے سامنا ہوا اور پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ خوف کی حالت میں گھر واپس تشریف لائے۔ حضرت خدیجہ کے پوچھنے پر آپ نے سارا ماجرا سنایا۔ اس موقع پر حضرت خدیجہ نے ان الفاظ میں آپ کو تسلی دی کہ:

کلا واللہ لا یخزیک اللہ ابدا، انک لتصل الرحم وتحمل الکل وتکسب المعدوم وتعین علی نوائب الحق (صحیح بخاری)
’’ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بے یار ومددگار نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، بے سہاروں کا سہارا ہیں، غریبوں کے دکھوں کا مداوا کرتے ہیں اور ہر جائز کام میں لوگوں کی امداد واعانت کرتے ہیں۔‘‘

مشرقی صاحب نے کہا کہ قرآن مجید میں دعوت کے لیے دعوت الی اللہ کی تعبیر وارد ہوئی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دعوت، اللہ کی بندگی اور عبدیت کی طرف دی جانی چاہیے نہ کہ کسی مخصوص گروہ یا نظریات کی طرف۔ دعوت دین کا موضوع ایمان، اخلاق، ترک رذائل اور اکتساب فضائل ہونا چاہیے۔ دعوت بالکل سادہ اور فطری اسلوب میں ہونی چاہیے اور ہر قسم کے تکلف، تصنع اور بناوٹ سے پاک ہونی چاہیے۔

۷۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد سے مولانا سید متین احمد شاہ صاحب تشریف لائے اور ’’قرآن مجید کا ابلاغی اعجاز‘‘ اور ’’قرآن مجید کی سائنسی تفسیر کا جائزہ‘‘ کے عنوانات پر پرمغز گفتگو کی۔ مولانا نے بڑے مدلل اورمفصل انداز سے قرآن کی فصاحت، بلاغت، ایجاز، اختصار اور اثر انگیز کلام ہونے کو آیات قرآنیہ کی مثالوں سے بیان کیا۔ سائنسی تفسیر کے ضمن میں انھوں نے کہا کہ دور حاضر میں سائنس اور اس کی ایجادات ودریافتوں کے زیر اثر کچھ اہل علم نے آیات کی تشریح وتفصیل کرنی شروع کر دی ہے جو غیر محتاط رجحان ہے کیونکہ سائنسی نظریات میں آئے روز تغیر وتبدل ہوتا رہتا ہے اور مفروضات، تجربات اور مشاہدات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس لیے خدا کے لاریب کلام کو انسانی نظریات کی آمیزش سے الگ ہی رکھنا چاہیے۔ مولانا نے کہا کہ علم کے ذرائع میں وحی، وجدان، تجربہ، مشاہدہ ، اسناد وروایات میں بے خطا اور حتمی ذریعہ علم صرف اور صرف وحی ربانی یعنی قرآن مجید ہی ہے۔

۸۔ دورۂ تفسیر کے طلبہ کے لیے گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں بھی ایک محاضرے میں شرکت کا اہتمام کیا گیا جس کا انعقاد شعبہ علوم اسلامیہ میں ایم فل کے طلبہ کے لیے کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ فقہ وقانون کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد مشتاق احمد صاحب نے ’’جہاد اور اس کی عصری تطبیقات: چند سوالات‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ مشتاق صاحب قدیم فقہی ذخیرے کے ساتھ ساتھ مروجہ بین الاقوامی قانون پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے عصر حاضر میں جہاد، مزاحمت اور مختلف جہادی سرگرمیوں پر تفصیلی خیالات پیش کیے اور موجودہ زمانے کے بعض اہل علم کے افکار پر نقد بھی کیا۔ آخر میں شرکاء کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات واشکالات کے جواب بھی دیے۔ الشریعہ اکادمی کی طرف سے موصوف کی کتاب ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ بھی شائع کی گئی ہے جس کا مقدمہ استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے لکھا ہے۔

۹۔ جمعیت علماء اسلام کے راہ نما حافظ نصیر احمد احرار صاحب نے ’’شیخ الہند کی تفسیری خدمات‘‘ پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ مولانا محمود الحسن صاحب نے کس طرح مختصر حواشی میں معانی وحکمت کا دریا کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ان کی گفتگو مجموعی طور پر مفید تھی، البتہ راقم کا طالب علمانہ احساس ہے کہ تحقیق واستدلال کا عنصر کم اور عقیدت وتقدس کا پہلو غالب تھا۔

دورۂ تفسیر کے تمام اساتذہ علم وفضل اور اخلاق وکردار کا مثالی نمونہ تھے اور طلبہ نے سب سے استفادہ کیا، لیکن راقم تین اساتذہ سے متعلق قدرے تفصیل سے اپنے تاثرات وجذبات کا اظہار کرنے کی جسارت کرنا چاہے گا جن سے نجی مجالس میں بھی سیکھنے او رمختلف امور پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا۔ ان میں (۱) مولانا زاہد الراشدی صاحب، (۲) مولانا فضل الہادی صاحب اور (۳) مولانا عمار خان ناصر صاحب شامل ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی صاحب

مولانا اخلاص، سادگی، بے نفسی اور توازن واعتدال کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ مزاج میں شگفتگی، تواضع اور رواداری غالب ہے۔ پوری توجہ سے سوالات اور اشکالات سنتے اور محبت آمیز انداز میں جواب دیتے ہیں۔ جو سوال ان کے ذوق یا مطالعہ کے میدان سے باہر ہو تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ ’’مجھے معلوم نہیں۔ آپ فلاں عالم سے پوچھ لیں یا فلاں صاحب علم کی کتاب دیکھ لیں۔‘‘ جب کسی فاضل ومحقق کی بات پر نقد کرتے تو ساتھ ازراہ تفنن یہ کہتے کہ ’’مغالطہ لگتا ہے اور بڑوں بڑوں کو لگتا ہے۔‘‘ اسی طرح وہ اپنے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں سے بھی مناظرے کے بجائے مکالمے کا اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ طلبہ سے اکثر ایک بات بہ تکرار واعادہ کہتے تھے کہ ’’اپنے سے مختلف سوچ رکھنے والوں کا موقف غور سے سننا چاہیے اور ان کی زبانی سننا چاہیے۔‘‘ ایک مرتبہ اہل علم کے باہمی اختلافات او رمعاصرت کے حوالے سے انھوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ حکیمانہ قول سنایا کہ:

استمعوا علم العلماء ولا تصدقوا بعضہم علی بعض فو الذی نفسی بیدہ لہم اشد تغایرا من التیوس فی زروبہا (جامع بیان العلم لابن عبد البر)
’’اہل علم سے علم کی بات سیکھا کرو، لیکن ان کی باہمی چپقلش سے محتاط رہا کرو۔ خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، یہ آپس میں ایسے اختلاف کرتے ہیں جیسے باڑے میں بندھے ہوئے بکرے سینگ لڑاتے ہیں۔‘‘

استاذ گرامی مولانا راشدی صاحب کی صحبت سے ایک بات یہ بھی سیکھی کہ امت کے تمام دبستان فکر اور مخلص ومحقق علماء وداعیان دین اور ان کا علمی وفکری کام ہم سب کی مشترکہ میراث ہے اور ایک طالب علم کو ہر قسم کے تعصبات، گروہ بندیوں اور شخصی وفاداریوں سے بالاتر ہو کر ان سے اخذ واستفادہ کرنا چاہیے اور یہ اصول ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘۔

مولانا کسی عالم ومحقق کی چند منفرد آرا ونظریات پر تنقید کرتے ہوئے اس کی تنقیص پر اتر آنے اور پھر اسے ’لاخیرا‘ قرار دینے کے رویے پر بھی ماتم کناں نظر آتے۔ مولانا نے کہا کہ جہاں تک تفردات وشذوذات کا تعلق ہے تو وہ تقریباً تمام اہل علم کے ہوتے ہیں۔ اگر ہم چند اختلافات کی وجہ سے استفادہ کرنا چھوڑ دیں تو پھر کسی عالم سے بھی کچھ نہ سیکھ پائیں گے، کیونکہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی بھی شخص معصوم اور خطا سے پاک نہیں۔ امام دار الہجرت امام مالک نے بالکل بجا فرمایا ہے:

کل یوخذ قولہ ویرد الا صاحب ہذا القبر۔
’’ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے۔‘‘

مولانا نے ایک بات یہ بھی سمجھائی کہ دین کے مسلمات اور نصوص میں تو ہمیں آخری، قطعی اور حتمی یقین وجزم رکھنا چاہیے، لیکن جہاں تک ان کی تعبیرات، تفصیلات اور فروعات کا تعلق ہے تو اس معاملے میں دل ودما غ کو کھلا رکھنا چاہیے، غور وفکر کرنا چاہیے اور اہل علم سے مسلسل سیکھنا چاہیے۔ اسلاف کے ساتھ ساتھ اخلاف اور روایت پسند اہل علم کے ساتھ ساتھ معتدل جدید مفکرین ومحققین سے بھی سیکھنا چاہیے۔ 

ایک نجی مجلس میں دوران گفتگو میں راقم نے مصر کے مصنف ڈاکٹر عبد الحلیم ابو شقہ کی کتاب ’’تحریر المراۃ المسلمۃ فی عہد الرسالۃ‘‘ کی بابت مولانا کی رائے معلوم کی تو مولانا کہنے لگے، بہت اچھی کتاب ہے اور مصنف نے بڑی عرق ریزی سے کتاب وسنت کی روشنی میں اسلام میں عورت کا مقام، معاشرتی زندگی میں اس کا دائرہ عمل، پردہ، ملازمت، ازدواجی زندگی، غرضیکہ عورت سے متعلق تمام امور پر بحث کی ہے اور بڑی اجتہادی شان سے لککھا ہے۔ اباحیت پسندی اور شدت پسندی کی دو انتہاؤں کے مابین راہ اعتدال اختیار کی ہے۔ ایک طالب نے یہ باتیں سن کر کہا کہ مولانا! ہمارے معاشرے میں تو اس طرح کے جدید اہل علم اور مصنفین کو تجدد پسند، جدت پسند اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے۔ مولانا نے جواب دیا کہ جس طرح تجدد پسندی کا رویہ غلط ہے، اسی طرح تجمد پسندی بھی قابل اصلاح ہے۔ ہماری مذہبی فکر اس وقت بہت افراط وتفریط کا شکار ہے۔ مثلاً مغرب کے بارے میں رویے کو ہی دیکھ لیں۔ کچھ لوگ مغرب سے منسوب ہر چیز کو حتیٰ کہ اس کی ایجادات کو بھی غلط سمجھتے ہیں۔ انھیں کسی معاملے میں خیر اور استفادے کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف کچھ طبقات ایسے بھی ہیں جو مغرب اور اس سے منسوب ہر چیز کو عین معیار حق سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی چیز یا نظریہ کے صحیح اور غلط ہونے کا معیار صرف مغرب ہے۔ اب یہ دونوں رویے اور زاویہ نگاہ عدم توازن کا شکار ہیں۔ ہمیں تجزیہ وتحلیل کر کے مفید بات کو لینا ہے اور ناقص یا غلط بات کو ترک کر دینا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کو ہر وقت مستحضر رکھنا چاہیے کہ خیر الامور اوسطہا۔ بہترین معاملات وہی ہیں جن میں میانہ روی اختیار کی جائے۔

مولانا نے کہا کہ انسان جس طرح اخلاقی، مادی اور روحانی وجود رکھتا ہے، اسی طرح اس کا ایک نفسیاتی وجود ہے اور انسانی نفسیات بہت پیچیدہ ہے۔ اس لیے حب وبغض، قرب وبعد کے معاملے میں بہت احتیاط اور مزاج کا ٹھہراؤ چاہیے۔ نہ محبت اور عقیدت میں اندھا ہونا چاہیے اور نہ اختلاف ونفرت میں شدت اختیار کرنی چاہیے۔ پھر انھوں نے امام شافعی کا شعر سنایا:

وعین الرضا عن کل عیب کلیلۃ
ولکن عین السخط تبدی المساویا
ترجمہ: جب انسان محبت ورضا کی نظر سے دیکھے تو ہر عیب ونقص سے نظر اٹھ جاتی ہے، لیکن جب نفرت وناراضگی کی نظر ڈالتا ہے تو خامیاں اور عیوب ونقائص ہی نظر آتے ہیں۔

مولانا اکثر کہتے تھے کہ توازن اس دنیا کا سب سے مشکل کام ہے اور حقیقت کو پالینا اور اس پر قائم رہنا بہت بڑی سعادت ہے۔

مولانا کی ایک بڑی خوبی جو انھیں دوسرے داعیان وقائدین سے ممتاز کرتی ہے، وہ ان کی حق پسندی، اپنے سے اختلاف کرنے والوں سے حسن ظن رکھنا اور ان کے کارناموں کا اعتراف کرنا ہے۔ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے ہندوستان کے مشہور عالم و مصنف مولانا وحید الدین خان صاحب کی شخصیت اور کام کے متعلق مولانا کی رائے پوچھی تو مولانا کہنے لگے، خان صاحب بڑے عبقری انسان، بہترین مصنف، وسیع المطالعہ عالم اور داعی الی اللہ ہیں۔ ان کا اصل میدان تزکیہ و اصلاح اور دعوت و تبلیغ ہے اور وہ تمام معاملات پر اسی دائرے میں گفتگو کرنے کے خوگر ہو گئے ہیں۔ ان کا لٹریچر دور حاضر کی نفسیات، مزاج اور ذہنی سطح کے عین مطابق ہے اور وہ جدید محاورے اور اسلوب سے پوری طرح آشنا ہیں۔ تذکیر القرآن (دو جلدوں میں قرآن مجید کی تفسیر)، مذہب اور علم جدید کا چیلنج، تعبیر کی غلطی (دین کی انقلابی تعبیر پر مفصل نقد) اور سفر نامے و ڈائریاں وغیرہ قابل استفادہ ہیں۔ لیکن چونکہ ہر انسانی کام اجتہادی ہوتا ہے جس میں عدم توازن اور غلطی کا پورا امکان ہوتا ہے اس لیے خان صاحب کے بعض افکار و نظریات سے مجھے اختلاف ہے، جس میں ان کا تصور جہاد، دین کے دیگر شعبوں میں ہونے والے کام کی نفی، علماء سلف پر ان کی تند و تیز تنقیدات، توہین رسالت کے مرتکب کے لیے سزائے موت کا انکار وغیرہ شامل ہیں۔ 

راقم الحروف مولانا کی بات سن کر سوچ رہا تھا کہ خود پسندی و خود رائی کے اس دور میں جبکہ ہر گروہ کل حزب بما لدیھم فرحون کا عملی مظاہرہ کر رہا ہے، اور ہر با صلاحیت شخص جو کچھ پڑھ لکھ کر بول لیتا ہے، اعجاب کل ذی رأی برأیہ کی پیش گوئی کے مصداق کامل بنا ہوا ہے، ایسے میں مولانا کی شخصیت گوہر نایاب ہے۔ اگرچہ انہوں نے کوئی جماعت یا انجمن نہیں بنائی لیکن وہ اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ ان کے ذہن پر کوئی مخصوص فکر، رجحان یا ’ازم‘ بھی مسلط نہیں ہے۔ وہ تزکیہ و احسان، دعوت و تبلیغ، جہاد و قتال، اصلاح معاشرہ اور اسلامی حکومت کے قیام غرضیکہ ہر شعبے اور میدان میں ہونے والی خدمت دین کی تحسین کرتے ہیں اور ہر شخص کو اپنی صلاحیت، استعداد، مزاج اور افتاد طبع کے مطابق ان کاموں میں تعاون کی ترغیب دیتے ہیں۔ 

ایک طالب علم نے سبق کے بعد مولانا سے کہا کہ آج کل علمی حلقوں میں آپ کے افکار کے حوالے سے بہت باتیں ہو رہی ہیں اورفلاں عالم دین تو آپ پر بہت شدید تنقید کرتے ہیں اورآپ کے نظریات، عمار صاحب اور بالخصوص آپ کے مجلہ الشریعہ کی ’’آزادانہ غور و فکر‘‘ اور ’’مکالمہ و مباحثہ‘‘ کی پالیسی پر برستے ہیں۔ مولانا نے یہ ساری بات بڑے اطمینان اور ٹھیراؤ کے ساتھ سنی اور پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے، بیٹا! کوئی بات نہیں۔ وہ سب ہمارے دوست ہیں اور دوستوں کا حق ہوتا ہے۔ جس بات کو وہ درست سمجھتے ہیں پوری جرأت، متانت اور سنجیدگی سے اپنی بات کہنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ امت کے مختلف مکاتب فکر اور زاویۂ نگاہ رکھنے والے لوگوں میں مکالمہ ہو، بات چیت ہو تاکہ اختلافات کم ہوں اور غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات دور ہوں۔ مسلم معاشرے میں ہونے والی علمی و تحقیقی، دعوتی و اصلاحی، رفاہ عامہ اور معاشرے کی اسلامی تشکیل نو، غرضیکہ دین کے لیے ہونے والی ہر سنجیدہ کاوش کے حوالے سے مولانا نے کہا کہ ان سب میدانوں اور سطحوں پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سب کاموں میں وقت لگانے والے لوگوں میں سے یہ دعویٰ نکل جائے کہ ’’جو جدوجہد ہم کر رہے ہیں، وہی بالکل ٹھیک اور مطلوب کام ہے۔‘‘ 

اصلاحِ فرد و معاشرہ اور اسلامی انقلاب و اقامتِ دین کے علمبرداروں کی باہمی کشمکش کی بابت مولانا کہنے لگے کہ اصل میں جن لوگوں کا رخ فرد اور معاشرے کی اصلاح کی طرف ہے وہ حکومت و نظم اجتماعی کو اسلام کے قوانین کے مطابق ڈھالنے اور ریاستی و انتظامی اداروں میں دین کی بالادستی کی طرف وہ توجہ نہیں دیتے جو فی الواقع دینی چاہیے۔ اور اس کے برعکس جو لوگ تبدیلئ حکومت اور نفاذِ شریعت کی بات کرتے ہیں وہ مقاصد و وسائل کے فرق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے۔ اور فرد کے تزکیہ و تطہیر کو جو دین کا مقصود و مطلوب ہے، کی دین میں فیصلہ کن حیثیت کو بعض اوقات نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حکومت و ریاست، کسی بھی معاشرے کا عکس ہوتی ہے اور معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے۔ مولانا کے نزدیک حکومت کو اسلامیانے کے عمل سے قبل معاشرے میں تزکیہ و احسان، تعلیم و تربیت، تحقیق و اجتہاد اور دعوت و اصلاح کا کام بڑی حکمت، دل سوزی، تدریج اور محنت سے کرنے کی ضرورت ہے اور ایک سیاسی انقلاب سے قبل تہذیبی، ثقافتی اور سماجی تبدیلی از بس ضروری ہے۔

مولانا فضل الہادی صاحب

استاذ محترم فضل الہادی صاحب مرنجان مرنج طبیعت کے مالک ہیں، طلبہ سے نہایت مشفقانہ بلکہ دوستانہ برتاؤ کرتے ہیں۔ جامعہ دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل ہیں اور مولانا سرفراز خان صفدر صاحبؒ سے ترجمہ و تفسیر پڑھنے کی سعادت حاصل ہے۔ عربی زبان و ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں اور فی البدیہہ عربی اشعار کہتے ہیں۔ ایک مرتبہ دوران سبق داعی اور دعوت کا جو موضوع زیر بحث آیا تو کہنے لگے کہ داعی کو تین چیزوں کا خصوصی التزام کرنا چاہیے: 

ا) اللہ تعالیٰ سے عبدیت و استعانت کا خصوصی تعلق۔

ب) مخاطبین کو اپنے سے بہتر سمجھنا۔

ج) دعوت و تبلیغ کے بعد توبہ و استغفار کی کثرت۔

پھر آپ نے بانئ تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ کا ملفوظ سنایا:

’’بندہ مومن کے ہر نیک عمل کا آخری جزو، اعتراف تقصیر اور خشیت رب ہونا چاہیے۔‘‘ (ملفوظات مولانا الیاسؒ ، مرتبہ مولانا منظور نعمانیؒ )

دین کے داعیان اور معلمین پر نفس اور شیطان کا سب سے مہلک اور قوی حملہ خود نمائی، شہرت پسندی اور انانیت کا ہوتا ہے۔ استادِ محترم نے اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں تین منجیات اور تین مہلکات کا ذکر ہے، کہا کہ ہلاک کرنے والی چیزوں میں تیسری چیز نام و نمود اور خود پسندی ہ جسے رسول اکرم ؐ نے واعجاب المرء بنفسہ وھی اشدھنّ  کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی حب جاہ تو پہلی دو مہلکات (خواہش نفس کی پیروی اور بخل و کنجوسی) سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے سلف صالحین میں سے کسی کا قول سنایا کہ ’’کاملین کے ہاں سے جو چیز سب سے آخر میں رخصت ہوتی ہے، وہ حب جاہ و خود پسندی ہے۔‘‘

اس مرض کا علاج تجویز کرتے ہوئے استاد محترم نے طلبہ کو ادعیہ ماثورہ، مسنون اذکار، تنہائی میں طویل نفل نماز اور محاسبۂ نفس کی ترغیب دی۔ استاد محترم قرآن مجید کی تفسیر کرتے ہوئے قدیم عربی تفاسیر کے حوالہ جات بھی دیتے ہیں۔ ان میں روح المعانی، کشاف، زاد المسیر،قرطبی اور طبری وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ’انشراحِ صدر‘ کی تعریف کرتے ہوئے آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ اثر سنایا:

التجافی عن دار الغرور، و الانابۃ الی دارالخلود و استعداد الموت قبل نزولہ۔
ترجمہ: ’’انشراح صدر کا مطلب ہے کہ انسان اس دارِ فانی سے دل نہ لگائے بلکہ آخرت جو ہمیشہ ہمیش کا گھر ہے، اس کی طرف یکسو ہو اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کی فکر کرے۔‘‘

اسی طرح خدا کے متعلق استواء علی العرش ہونے کی تفصیل امام مالکؒ کے اس قول کی روشنی میں بتائی:

الاستواء معلوم، و کیفیتہ مجھول، والسوال عنہ بدعۃ۔
ترجمہ: ’’خدا کے عرش پر مستوی ہونے کا مطلب معلوم ہے، لیکن اس کی ہیئت اور کیفیت ہمیں معلوم نہیں اور اس بارے میں سوال اور کھود کرید کرنا بدعت ہے۔‘‘

ایک مرتبہ دوران تدریس استاد محترم نے اکابرین دیوبند میں سے مولانا قاسم نانوتوی صاحبؒ اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحبؒ کی کتب کی بعض عبادات پر ’مہربان دوستوں‘ (جس سے استاد محترم کی مراد بریلوی مکتبہ فکر کے علماء ہیں) کے کفر و فسق کے فتاویٰ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلاف کی تحریروں میں اگر کوئی بات کمزور یا خلاف تحقیق معلوم ہو تو پہلے حتی الوسع تاویل و توجیہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ اہل ایمان اور خصوصًا گزرے ہوئے نیک صالحین اہل علم سے حسن ظن اور عقیدت رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان کی بات کو موقع محل اور اس خاص پس منظر میں سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے، پھر اس کے بعد کوئی رائے قائم کرنی چاہیے۔ ویسے بھی ہماری امت کی علمی روایت میں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ ’’ہمیں سلف صالحین کی خامیاں اپنی طرف اور اپنی خوبیاں ان کی طرف منسوب کرنی چاہئیں‘‘۔ حدیث میں آتا ہے کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ:

لعن آخر ھذہ الامّۃ اوّلھم۔
ترجمہ: ’’اس امت کے آخری دور کے لوگ، گزرے ہوئے لوگوں پر زبانِ طعن دراز کریں گے۔‘‘

ایک طالب علم نے پوچھا کہ کیا ہم اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے اختلاف رائے کر سکتے ہیں؟ استاد محترم نے جواب دیا کہ اگر ایک طالب علم وسیع مطالعہ کا حامل ہے اور تجزیہ و تحلیل کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور ہے تو ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے بزرگوں اور والدین و اساتذہ کی تمام تر علمی عظمت و جلالت کے با وصف مختلف سوچ رکھ سکتا ہے۔ ویسے بھی امام مالکؒ کا قول ہے:

کل یؤخذ قولہ و یرد الّا صاحب ھٰذ القبر۔
’’ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی، ما سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے۔ ‘‘

پھر کہنے لگے، غالباً امام ابن قیمؒ نے الفوائد میں اپنے استاد امام ابن تیمیہؒ کی نسبت لکھا ہے کہ ’’ہمیں اپنے استاد (ابن تیمیہؒ ) سے بہت محبت ہے لیکن حق بات سے محبت ان سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘

محقق علماء سے استفادے کے ضمن میں استاد محترم نے ایک اہم بات یہ بھی سمجھائی کہ یہ دور تخصص کا ہے، لہٰذا کسی بھی علم اور فن کے ماہر سے اس کے متعلقہ میدان میں جس کا وہ شہ سوار ہے، استفادہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہر شخص ہر میدان کا اہل نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ ایک عالم حدیث کے علم پر مہارت رکھتا ہو، لیکن فقہ یا تاریخ میں اس کا علم اتنا عمیق نہ ہو۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے اس دور میں دانشوروں اور مقررین کی بھیڑ ہوگئی ہے جو آئے روز دین کی من پسند اور نت نئی تاویلات کرتے نظر آتے ہیں۔ استاد محترم نے اس تناظر میں کہا کہ سوائے چند مستثنیات کے میڈیا پر آنے والے زیادہ تر صاحبان علم ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوتے ہیں اور ہر سوال کا آخری و حتمی جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی معاملے میں لا علمی کا اظہار اپنی شان کے منافی سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی علمی اور متواضع رویہ نہیں ہے۔ سلف صالحین کا مزاج بالکل مختلف تھا۔ اگر ان سے کوئی ایسی بات پوچھی جاتی جس کا جواب انہیں معلوم نہ ہوتا تھا تو وہ صاف کہہ دیتے تھے کہ ’’لا ادری‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ’لا ادری‘ کہنے کو ’نصف العلم‘ کہا گیا ہے۔ 

ٹی وی چینلز پر مختلف موضوعات پر ہونے والے ٹاک شوز اور مذاکروں پر نقد کرتے ہوئے استاد محترم نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں نے تو قوم کا مزاج بگاڑ دیا ہے اور بے حسی اور انتشار ذہنی میں اضافہ کیا ہے۔ شرکاء مذاکرہ کی حالت بھی یہ ہوتی ہے کہ ان میں سے ہر شخص ’عقل کل‘ ہونے کا مدعی ہوتا ہے (الا ما شاء اللہ)۔ مخاطب کی بات توجہ سے سننے کی بجائے ’دندان شکن‘ جواب سوچنے لگتا ہے اور افہام و تفہیم کی بجائے سارا زور ’لینا، پکڑنا اور جانے نہ دینا‘ پر ہوتا ہے۔ استاد محترم نے ائمہ سلف میں سے کسی کا واقعہ سنایا کہ جب کبھی ان کا اپنے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے شخص سے کسی بات پر مباحثہ ہوتا تو وہ بارگاہِ خداوندی میں پہلے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ میرے مخالف کی زبان پر حق جاری کر دے اور میری سوچ کی غلطی مجھ پر کھول دے۔

مولانا عمار خان ناصر

استاد گرامی جناب عمار خان ناصر صاحب صالحیت اور صلاحیت کا حسین امتزاج ہیں۔ وسعت مطالعہ، غور و فکر، عاجزی و تواضع اور تحمل و رواداری آپ کی نمایاں صفات ہیں۔ سلف کے ساتھ ساتھ خلف اور روایت پسند اہل علم کے ساتھ ساتھ معتدل جدید محققین اور مفکرین سے بھی بھرپور اور یکساں استفادہ کرتے ہیں۔ وہ ’ہم غیر جانبدار نہیں بلکہ حق کے طرفدار ہیں‘ کا مصداق ہیں۔ حق پسندی کا یہ عالم ہے کہ جس بات کو حق سمجھتے ہیں، اپنوں اور بیگانوں کی مخالفت کی پروا کیے بغیر کہتے اور لکھتے ہیں۔ 

معاصر مفکرین اور داعیان سے استفادے کے حوالے سے عمار صاحب نے کہا کہ میں نے مولانا وحید الدین خان صاحب اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ خاص طور پر خان صاحب کی فکر انگیز تحریریں اور تزکیہ و دعوت پر ان کا قیمتی لٹریچر بڑا قیمتی ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب سے تلمذ کے تعلق کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ جاوید صاحب کی شخصیت، علم و تحقیق کی گہرائی و گیرائی اور خاص طور پر ان ے علمی رویے نے جس میں حد درجہ تواضع و انکساری ہے، مجھے بے حد متاثر کیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خان صاحب اور غامدی صاحب کی ہر بات اور ہر تحقیق درست ہے۔ مجھے ان دونوں اصحاب علم کے بہت سے نقطہ ہائے نظر سے اختلاف ہے اور میں نے اپنی تحریروں میں اس اختلاف کا اظہار بھی کیا ہے۔ استاد محترم نے کہا کہ ایک طالب علم کے لیے سیکھنے کے اعتبار سے مخصوص نتائج فکر سے زیادہ اہم چیز کسی صاحب علم کا زاویۂ نگاہ ہوتا ہے۔ استاد گرامی نے رجال دین سے اخذ و استفادہ اور تلمذ کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا قول سنایا:

لا یقلدنّ احدکم دینہ رجلًا، فان آمن آمن، وان کفر کفر، وان کنتم لا بدّ مقتدین فاقتدوا بالمیّت فانّ الحیّ لا تؤمن علیہ الفتنۃ۔ (معجم طبرانی)
ترجمہ: ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنی باگ کسی کے ہاتھ میں نہ دے دے کہ اگر وہ ایمان لائے تو ایمان لے آئے اور اگر وہ کفر پر راضی وہ جائے تو یہ بھی کفر پر راضی ہو جائے، اور اگر تمہیں پیروی کرنی ہی ہے تو کسی گزرے ہوئے شخص کی کرو کیونکہ جو شخص زندہ ہے وہ آزمائش سے محفوظ نہیں ہے۔‘‘

تزکیہ و احسان اور تصوف و سلوک کی بابت پوچھنے پر استاد محترم نے کہا کہ بلاشبہ دین کا مقصد فرد کے علم، عمل اور مزاج تینوں جہات سے تزکیہ و تطہیر ہے اور دین کا اصل مخاطب بھی فرد ہی ہے، لہٰذا تزکیہ کی حیثیت دین میں بنیادی اور اساسی ہے۔ باقی جہاں تک تصوف و سلوک کا اور خاص طور پر اس کی تعبیرات کا تعلق ہے تو اصطلاح سے قطع نظر مقاصد بالکل ٹھیک ہیں، یعنی ذوق عبادت، حسن معاشرت، اللہ کی مخلوق سے ہمدردی و غمگساری، خدمت خلق، رفاہ عامہ، فرد میں انکساری، عفو، ایثار اور نفئ ذات کے جذبات کو پروان چڑھانا وغیرہ۔ لیکن تصوف کے علم کلام، فلسفیانہ مباحث اور بالخصوص ایسے افکار جو کتاب و سنت سے ہم آہنگ نہیں ہیں، ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں استاد محترم نے مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تجدیدی و اصلاحی مساعی کا ذکر کیا اور کہا کہ مولانا نے بڑی حد تک تصوف و سلوک کو شریعت کا پابند بنایا ہے اور یہ ان کی بڑی خدمت ہے۔ امام غزالیؒ کا تصوف جو صرف خواص کے لیے تھا، مولانا تھانوی نے عوام الناس کی سطح پر اور ان کی نفسیاتی وعملی ضروریات کے لحاظ سے اس کی تفہیم کی ہے اور اصلاح نفس اور اصلاح معاشرہ کے لیے قابل قدر اور قیمتی مواد تصنیف کیا ہے۔ استاد گرامی نے مزید کہا کہ دور حاضر میں سندھ کے ایک صوفی منش عالم حافظ موسیٰ بھٹو صاحب نے مولانا تھانویؒ کی مشکل اور ادق تحریروں کو آسان اور عام فہم بنانے کے لیے بڑی تگ و دو کی ہے اور تصوف کی مروجہ خرافات اور ناقص تشریحات کو بڑی حکمت اور دلسوزی کے ساتھ ہدف تنقید بنایا ہے۔ موسیٰ بھٹو صاحب کی شخصیت کے حوالے سے استاد محترم نے کہا کہ ان کے مزاج میں بہت ٹھیراؤ ہے اور ان کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قدیم علماء اور محقق صوفیاء کے ساتھ ساتھ جدید اہل علم کے کام پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور جدید ذہن کی نفسیات سے بھی آگاہ ہیں۔

ایک مرتبہ ایک طالب علم نے عمار صاحب سے پوچھا کہ ہمارے محلے کی مسجد کی دیوار پر یہ اشتہار لکھا ہوا ہے کہ ’’اپنے مسلک کے علماء کے علاوہ کسی دوسرے کی کتاب نہیں پڑھنی چاہیے، کیونکہ اس سے انسان گمراہ ہو جاتا ہے‘‘۔ طالب علم نے پوچھا ، استاد محترم! یہ بات کس حد تک درست ہے؟ تو عمار صاحب نے (قدرے مسکراہٹ کے ساتھ) جواب دیا کہ یہ بات بس اس دیوار پر لگے اشتہار کی حد تک درست ہے۔ سب طلبہ یہ سن کر مسکرانے لگے۔ پھر استاد گرامی نے کہا کہ ایک عام آدمی کو آپ ذہنی خلفشار سے بچانے کے لیے یہ بات کہیں تو کسی حد تک اس کا جواز بنتا ہے،لیکن دین کے طالب علم جو کل معاشرے میں جائیں گے اور سماج کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں گے، ان کو آخر یہ آپ کیا ذہنیت دے رہے ہیں؟ کیوں ان کے سروں پر کنٹوپ چڑھا رہے ہیں؟ عالم کی صفات میں ایک نمایاں وصف جو قدیم فقہی لٹریچر میں بیان کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ: ان یکون بصیرًا بزمانہ۔ عالم وہ ہے جو اپنے زمانے سے واقف ہو۔ استاد محترم نے طلبہ سے کہا کہ دین کا مطالعہ ہر قسم کی تنگ نظری، جانبداری اور تعصب سے بالاتر ہو کر کرنا چاہیے۔ جو خیر جہاں سے ملے، ضرور لینی چاہیے اور اس معاملے میں عرفی تاثر اور لوگوں کی کڑوی کسیلی باتوں کی بالکل پروا نہیں کرنی چاہیے۔ 

استاد محترم نے ایک نوجوان فاضل اور محقق مبشر نذیر صاحب کے کام کو بھی سراہا جنہوں نے تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، اسلامی تحریکات، تصوف اور مذاہب عالم کے تقابلی مطالعہ پر تعلیم وتدریس کے پہلو سے قابل قدر کام کیا ہے اور ان کی بڑی خوبی یہ ہے کہ تمام دبستان فکر اور اہل علم و فکر سے یکساں استفادہ کیا ہے اور غیر جانبدارانہ اور تقابلی (Comparative) اسلوب اختیار کیا ہے۔ 

دین کی انقلابی تعبیر پر بات کرتے ہوئے، جسے عام طور پر ’’اقامت دین‘‘ کے عنوان سے معنون کیا جاتا ہے، استاد گرامی نے کہا کہ یہ احساس کہ مسلمانوں کو اپنا نظم اجتماعی یا بالفاظ دیگر حکومت و ریاست کے امور دین کی تعلیمات کے مطابق چلانے چاہئیں، اپنی اصل کے اعتبار سے بالکل ٹھیک ہے، بلکہ دین کے مطالبات میں سے ہے۔ مسلمان جس طرح بحیثیت فرد اللہ اور رسول کی تعلیمات کا پابند ہے۔ اسی طرح ایک مسلم معاشرے میں ریاستی و انتظامی معاملات بھی کتاب و سنت کے قوانین و احکام کے مطابق ہونے چاہئیں۔ لیکن یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اسلامی حکومت کا قیام حالات، امکانات اور مواقع کے لحاظ سے ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ حکومت و ریاست بالذات مقصود نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ دین کے نفاذ سے قبل ایک خاص حد تک دین کا نفوذ ہونا چاہیے۔ تزکیہ، دعوت، تعلیم اور تدریس کے نتیجے میں جب معاشرہ میں اسلامی تعلیمات سے قلبی و ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوگی تو اللہ تعالیٰ کو اگر منظور ہوا تو ہماری حکومت بھی انصاف اور مساوات کے اصولوں کو پیش نظر رکھ کر معاملات سر انجام دے گی۔ 

استاد محترم نے کہا کہ مرور ایام کے ساتھ اس فکر میں عدم توازن پیدا ہوتا گیا جس سے اس فکر کے حاملین میں انقلاب کی سوچ اتنی غالب ہوتی گئی کہ دین کی روح اور اس کا داخل نظر انداز ہوتا گیا اور جدوجہد کا سارا مرکز و محور خارج میں منتقل ہوگیا۔ نتیجتاً دین قریب قریب اسٹیٹ کے مترادف ہوگیا اور اس کا روحانی پہلو کمزور ہوتا چلا گیا۔ اس تعبیر کے اثرات دین کے مقاصد، دعوت دین اور غیر مسلموں سے تعلقات کی نوعیت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حدود و شرائط، نظم اجتماعی میں خروج، جہاد و قتال کا تصور اور اس کی نوعیت و دائرہ کار، انبیاء کی دعوت اور ان کا مقصد بعثت، یہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے اہم امور پر پڑے۔ چنانچہ ہندوستان کے جلیل القدر مفکر مولانا علی میاں ندویؒ کو قلم اٹھانا پڑا اور انہوں نے ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح‘‘ لکھ کر انقلابی فکر کے ناقص پہلوؤں کی طرف بڑی سنجیدگی، اخلاص اور درد مندی سے توجہ دلائی۔ اس کے علاوہ مولانا وحید الدین خان صاحب نے ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کی شکل میں اس فکر پر مفصل نقد کیا۔

راقم نے استاد گرامی سے ان کی پسندیدہ کتب کے متعلق پوچھا تو جواب دیا کہ علم دین کے دائرے میں قرآن مجید کے بعد مجھے تین کتابیں بہت پسند ہیں:

(ا) مسند احمد بن حنبل 

(ب) کتابِ مقدس (بائبل )

(ج) صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی (جو ابو نعیم کی ’حلیۃ الاولیاء‘ کی تلخیص ہے)

رمضان کے مہینے میں تراویح عمار صاحب کی اقتدا میں پڑھنے کا موقع ملا۔ تراویح کی نماز کے بعد وہ نماز میں پڑھے گئے قرآن مجید کے حصے کا خلاصہ بھی بیان کرتے تھے۔ ایک مرتبہ تراویح و خلاصہ کے بعد گفتگو کے دوران راقم نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ صاحب کے جاری کردہ دورۂ ترجمہ قرآن کے پروگرام کی طرف استاد گرامی کی توجہ مبذول کرائی تو استاد محترم نے کہا کہ عوام الناس کا قرآن مجید سے تعلق جوڑنے کے لیے یہ بہت اچھا پروگرام ہے اور ڈاکٹر صاحبؒ کی حسنات میں سے ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن مجید کے پیغام کو سادہ اور دلنشین اسلوب میں فقہی اور فنی باریکیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے لوگوں تک پہنچایا جائے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر صاحبؒ کا درس قرآن عوامی سطح پر بہت مؤثر ہوتا تھا۔ ہمارے ہاں بہت کم لوگ ہیں جو جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے سامنے اتنے موثر پیرایے میں قرآن مجید کا ترجمہ و تشریح کر سکتے ہیں۔ 

سبق کے بعد ایک مرتبہ ایک طالب علم نے استاد محترم سے کہا کہ آج کل آپ کی شخصیت مختلف حلقوں کی طرف سے اعتراضات کا نشانہ ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟ عمار صاحب نے کہا کہ میں بھی انسان ہوں اور میری کسی تحریر میں غلطی اور نقص کا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اختلاف رائے فطری چیز ہے۔ بس طالب علمانہ اسپرٹ کے ساتھ سیکھتے رہنے اور خوب سے خوب تر کی جستجو کرتے رہنا اصل چیز ہے۔ ہمارے معاشرے میں بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں علمی رویہ مفقود ہے۔ غور و فکر کرنا اور مخاطب کی بات کو سننا، نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ اپنے اپنے خول اور مسلکوں کے حصار بنا کر انھی میں جی رہے ہیں اور ان سے باہر نکل کر دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن اس چیز سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ قرآن مجید میں سورۃ رعد میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کیا گیا ہے:

فامّا الزّبد فیذھب جفآءً وامّا ما ینفع النّاس فیمکث فی الارض۔
ترجمہ: ’’سو جو جھاگ ہوتا ہے، وہ سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے، لیکن جو چیز لوگوں کے لیے نفع بخش ہوتی ہے، وہ زمین میں ٹھیری رہتی ہے‘‘۔

پھر کہنے لگے کہ ہم نے الشریعہ کی صورت میں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ایک ادنیٰ سی کاوش کی ہے تاکہ امت کے مختلف طبقات کے درمیان مکالمہ کی صورت پیدا ہو، کشیدگی ختم ہو اور ایک دوسرے کی بات کو سننے اور غور و فکر کرنے کی راہ ہموار ہو۔ 

استاد محترم سے پوچھا گیا کہ لوگوں سے ہمارا اختلاف ہوتا ہے اور بعض اوقات بات کشیدگی تک پہنچ جاتی ہے تو اس ضمن میں ہمیں کیا رویہ اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟استاد محترم نے کہا کہ جب غور و فکر اور مطالعہ و تحقیق کرتے ہوئے آپ کسی نئے نقطہ نظر یا فکر سے متاثر ہوں تو فوراً انھی نتائج فکر پر قانع ہو کر اس کے پر جوش داعی و علمبردار نہیں بننا چاہیے، بلکہ غور و مطالعہ کا سلسلہ مزید جاری رہنا چاہیے اور چیزوں کو ایک لگے بندھے انداز میں دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مخاطب کو اپنی بات زیادہ سنانے کی بجائے تواضع سے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دین کا سچا طالب علم کبھی خود پسند، متکبر اور جلد باز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کثرت مطالعہ اور کثرت دعا و استغفار کے التزام سے اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں نور بصیرت پیدا کر دیتے ہیں جس سے الجھنیں اور اشکالات دور ہو جاتی ہیں۔

دورہ کے نصاب کی بہتری کے لیے چند تجاویز

راقم اپنے محدود علم، مشاہدے اور تجربے کی بنا پر چند تجاویز و مشورے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہے:

ا) تزکیہ و احسان کے مباحث پر بھی محاضرات رکھے جائیں۔ خاص طور پر امام نوویؒ ، ابن قدامہؒ ، ابن قیمؒ ، ابن جوزیؒ اور ابن عبد البرؒ جیسے اساطین علم و فضل کی کتابوں کے منتخبات کا مطالعہ کروایا جائے تاکہ ایک تو سلف صالحین کے دینی فہم، ذوق، ترجیحات اور اسلوب سے آگاہی حاصل ہو اور ساتھ ساتھ طلبہ میں عربی دانی کی استعداد بڑھے۔

ب) دعوت دین اور معاشرہ و حکومت کی اسلامی تشکیل نو کے لیے اصول و مبادی اور طریقۂ کار کے موضوعات کو بھی خصوصی جگہ دی جائے تاکہ علم دین سیکھنے کے بعد طلبہ اپنے سماج اور ماحول میں جا کر اپنی استعداد، میلان طبع اور ذوق کے مطابق دعوت و اصلاح کا کام کر سکیں اور انذار، دعوت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حوالے سے دین کی تفویض کردہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ 

ج) جدید مغربی فکر و فلسفہ کے تعارف پر مبنی کچھ محاضرات کا بھی انعقاد کیا جائے تاکہ طلبہ حالات کے رخ اور تقاضوں سے واقف ہوں۔ 

د) نفسیات کے موضوع پر بھی کچھ مواد شامل نصاب ہونا چاہیے تاکہ دین کے طالب علم جنہوں نے کل معاشرے میں راہ نمائی کا فریضہ سر انجام دینا ہے، انسان کی نفسیات، محرکات، افتاد طبع اور رجحان سے واقف ہوں۔

اکیڈمی کی انتظامیہ خاص طور پر ناظم اکیڈمی مولانا محمد عثمان صاحب، مولانا وقار احمد، مولانا حافظ محمد رشید اور ان کی پوری ٹیم بے حد شکریے کی مستحق ہے جنہوں نے طلبہ کے قیام، طعام اور دوسری ضروریات کا خاطر خواہ بندوبست کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان سب کو ایمان، صحت اور عافیت کی دولت حاصل ہو، آمین۔ 

الشریعہ اکادمی