مئی ۲۰۱۴ء

اقبالؒ کا پاکستان

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا بشیر احمد پسروریؒ کے پوتے مولانا حافظ محمد عثمان نے پسرور ڈسکہ روڈ پر دارالعلوم رشیدیہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وہاں مسجد اقصیٰ کی طرز پر اسی عنوان سے ایک وسیع مسجد کی تعمیر کا پروگرام ہے۔ مولانا محمد عثمان کی خواہش تھی کہ مسجد کے سنگ بنیاد کی اینٹ رکھنے کی سعادت میں حاصل کروں جو میرے لیے اعزاز کی بات تھی اور میں اس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ جبکہ اس سے چند میل کے فاصلہ پر بَن باجوہ میں معہد الرشید الاسلامی کے نام سے ایک دینی مرکز قائم ہے۔ ہمارے محترم دوست بھائی ذوالفقار صاحب اپنے دوستوں کے ہمراہ اس کا نظام...

ارکان پارلیمنٹ کے نام پاکستان شریعت کونسل کی عرض داشت

― ادارہ

(پاکستان شریعت کونسل کا ایک اہم اجلاس 3 اپریل 2014ء کو اسلام آباد میں کونسل کے مرکزی امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی کی قیام گاہ پر ان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے چند اہم مسائل پر ارکان پارلیمنٹ کو توجہ دلانے کے لیے مندرجہ ذیل عرضداشت پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔) ’’بگرامی خدمت معزز ارکان پارلیمنٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ پاکستان شریعت کونسل جو کہ نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے لیے غیر انتخابی فکری و علمی فورم کے طور پر ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہے، وطن عزیز کی تازہ ترین صورت...

روس کے خلاف افغانوں کا جہاد: ایک مغالطے کا ازالہ

― اکرم تاشفین

روس کے خلاف افغانوں کا جہاد ، امریکا کا تعاون اور روس کی شکست۔یہ موضوع اب شاید مزید اس قابل نہیں کہ اس پر بحث ومباحثہ کا میدان گرم رکھا جائے کیوں کہ ’’اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘۔ دنیا بھر میں تیزی سے بدلتے حالات میں عالم اسلام کو اس وقت جن فکری اور نظریاتی چیلنجوں کا سامنا ہے، ایسے حالات میں روس کی شکست کے پارینہ قصے کو دہرا نا ضیاع وقت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ تاریخ کے اس حساس عصر میں مسلمان اہل فکر وقلم کو آگے بڑھتے رہنا چاہیے اور مسلمانوں خصوصاً نوجوان نسل کو جن فکری پیچیدگیوں کا سامنا ہے، ان گتھیوں کو سلجھاتے رہنا چاہیے۔...

خاطرات

― محمد عمار خان ناصر

جناب عبد الستار غوری بھی اپنے وقت مقرر پر اللہ کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔ آمین۔ ان سے پہلی ملاقات آج سے کوئی بائیس چوبیس برس قبل گوجرانوالہ میں ، جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں ہماری رہائش گاہ پر ہوئی۔ وہ اپنے کسی دوست کے ہمراہ والد گرامی سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ (میری یادداشت کے مطابق یہ ڈاکٹر سفیر اختر صاحب تھے، لیکن ایک موقع پر غوری صاحب نے تصحیح کرتے ہوئے غالباً افتخار بھٹہ صاحب کا نام لیا تھا)۔ اس زمانے میں مجھے مسیحیت اور بائبل وغیرہ کے مطالعے کا نیا نیا شوق، بلکہ کسی حد تک جنون...

الشریعہ اکادمی میں بیتے دن

― محمد عثمان فاروق

۱۷ جون تا ۲۵ جولائی ۲۰۱۳ء، الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام علوم قرآنیہ کے شائقین کے لیے قرآن مجید کے ترجمہ وتفسیر اور توسیعی محاضرات کا اہتمام کیا گیا۔ ملک کے طول وعرض سے چالیس کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ جن دینی مدارس وجامعات سے طلبہ نے شرکت کی، ان میں جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ دار العلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ کراچی، جامعہ فریدیہ اسلام آباد، جامعہ معارف القرآن اسلام آباد اور مدرسہ اشاعت الاسلام مانسہرہ قابل ذکر ہیں۔ دورہ کے نصاب میں بنیادی طور پر قرآن مجید کا مکمل ترجمہ اور تفسیری مباحث شامل تھے۔ جن اساتذہ نے تدریس کی ذمہ داری انجام...

مکالمے کی نئی راہیں

― محمد عامر خاکوانی

پچھلے ڈیڑھ دو برسوں کے دوران سوشل میڈیا سے میرا رابطہ خاصا بڑھا ہے۔ میری دلچسپی دوسری ویب سائیٹس میں پیدا نہیں ہو سکی، فیس بک البتہ شروع ہی سے مجھے دلچسپ لگی۔ میرے کئی دوستوں کو ٹوئٹر زیادہ پسند ہے اور ان کے خیال میں اس کے ذریعے زیادہ بہتر ابلاغ ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوتا ہوگا، مگر مجھے تو ٹوئٹر خاصا بور لگا۔ جو بات فیس بک میں ہے، وہ ادھر نہیں۔ ممکن ہے آگے جا کر ٹوئٹر میں دلچسپی پیدا ہو جائے۔ فیس بک کا ایک بڑا فائدہ میں نے یہ دیکھا کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کا باہمی رابطہ او ر انٹرایکشن اس نے ممکن بنا دیا۔ متضاد سوچ کے حامل وہ لوگ جو کبھی ایک محفل...

کیا مرزا قادیانی ہوش مند اور ذی فہم شخص تھا؟

― مولانا محمد یوسف لدھیانوی

مولانا عبد الماجد دریا آبادیؒ مرزا قادیانی کو غیر معمولی عقل و علم کا شخص اور فہیم و ذی ہوش کا لقب پوری سادگی کے ساتھ دیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی شخصی زندگی کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے، اس کی طفلی، شباب اور پیری کے واقعات اور احوال پر نظر غائر رکھنے، اس کے تمام معاملات پر غور کرنے، اور اس کی تحریرات کو بنظر صحیح دیکھ جانے کے بعد میرا خیال تھا کہ کوئی شخص بشرطِ عقل سلیم اس کو زیرک، دانا، عاقل، عالم، ذی فہم اور ہوش مند قرار نہیں دے سکتا، الّا یہ کہ خود اسی کے حواس ماؤف ہوگئے ہوں۔ پہلی دفعہ مولانا کی تحریر پڑھ کر یہ جدید انکشاف ہوا کہ مرزا...

مادی ترقی کا لازمہ ۔ واہمہ یا حقیقت؟

― محمد ظفر اقبال

یہ زمانہ انسانی فکر اور معاشرے کی ہر سطح پر مغربی افکار اور تہذیب کے غلبے کا زمانہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب اپنی ابتدا سے اب تک خالص مادیت کی علم بردار رہی ہے۔ مادی ترقی [material progress] ہی کے باعث مغرب آج پوری دنیا پر عملاً متصرف ہے۔ ماریہ سبرٹ لکھتی ہیں: It was progress which had permitted Europeans to 'Discover' the whole world, and progress which would explain their growing hegemony over the global horizon.۱؂ اس حقیقت کے بالمقابل یہ بھی امر واقعہ ہے کہ مسلمان مادی ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔ مغرب کی مادی ترقی اور فتوحات کا عروج، امت مسلمہ پر مغرب کے تسلط اور یلغار کی مسلسل اور متواترسرگرمیاں اور مسلمانوں کی استخلاف فی...

’’سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘‘ کا قیام

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعۃ الرشید ایک بار پھر سبقت لے گیا ہے کہ اس نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے تحقیق اور مکالمہ کی اہم ملی و قومی ضرورت کے لیے قومی سطح پر ایک نیا فورم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے اور ’’نیشنل سنٹر فار اسٹڈی اینڈ ڈائیلاگ‘‘ کے عنوان سے ’’تھنک ٹینک‘‘ کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ۳؍ اپریل کو اسلام آباد کے ایک معروف ہوٹل میں اس فکری و علمی فورم کا افتتاحی پروگرام علمی و فکری دنیا میں تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا تھا جس نے مستقبل کے لیے امید کی نئی کرن روشن کی ہے اور تحقیق و جستجو کے متلاشی ارباب علم و فکر کے لیے مطالعہ و تحقیق اور اظہار و مکالمہ...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) جناب ایڈیٹر ماہنامہ الشریعہ۔ السلام علیکم۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ اس وقت الحمد للہ بہت سے فکری موضوعات کے لیے اہل علم وفکر کے درمیان علمی مباحثے کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ فورم کا کردار ادا کر رہا ہے۔ چونکہ الشریعہ کے قارئین بھی تقریباً سبھی اہل علم احباب ہیں، اس لیے خیال ہوا کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے حوالے سے معروف صحافی سلیم صافی کے کالم کا طالب علمانہ جواب آپ کے اور ’الشریعہ‘ کے تمام اہل نظر قارئین کی خدمت میں پیش کردوں۔ امید ہے مضمون آپ کے اور ’الشریعہ‘ کے قارئین کی نظر التفات کے قابل ہوگا۔ اکرم تاشفین۔ کالم نگار ماہنامہ...

مولانا حکیم محمد یاسین کا انتقال

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا حکیم محمد یاسین صاحبؒ ہمارے پرانے اور بزرگ ساتھی تھے، طویل عرصہ سے جماعتی رفاقت چلی آرہی تھی اور مختلف دینی تحریکات میں ساتھ رہا، ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔جھنگ صدر کے محلہ مومن پورہ کی مسجد اشرفیہ نہ صرف ان کی مسلکی، دینی اور تحریکی سرگرمیوں کا مرکز تھی بلکہ اسے جھنگ کے اہم تحریکی اور جماعتی مرکز کا مقام حاصل تھا۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے معتمد شاگرد تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے حضرت مفتی صاحبؒ کے دور سے ہی ممبر تھے۔ مجھے طالب علمی کے زمانے میں ان کے مرکز...

مولانا زاہد الراشدی کے اسفار اور خطابات

― ادارہ

* ۲۵ مارچ کو بعد نماز عشاء مولانا قاری سعید احمد کے ہمراہ حافظ آباد میں محفل قرأت میں شرکت اور خطاب۔ * ۲۶ مارچ کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعیۃ شبان اہل سنت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی محفل قرأت میں شرکت۔ * ۲۷ مارچ کو گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کے زیر اہتمام برصغیر کی نعتیہ شاعری کے حوالہ سے ایک سیمینار کی پہلی نشست کی صدارت۔ سیمینار سے پروفیسر ڈاکٹر سعد صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف، پروفیسر حافظ سمیع اللہ فراز، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک، مولانا محمد یوسف خان، حافظ محمد عمار خان ناصر اور...

شوگر کا بڑھتا ہوا مرض اور اس کے اسباب

― حکیم محمد عمران مغل

تقریباً تمام انسانی امراض کا تعلق کام ودہن سے ہے، لیکن شوگر کے مرض کا تعلق خاص طور پر خور ونوش کی عادات اور معدہ سے ہے، اس کے علاوہ کسی جسمانی عضو سے نہیں۔ کوئی چیز معدہ میں پھنس گئی اور آپ نے ازالہ کے لیے پھکی، چورن یا ہاضمے کی گولی کھا لی۔ معدہ کی کیفیت کا ازالہ ہو گیا۔ پھر کبھی یہی تکلیف محسوس ہوئی تو آپ نے پھر یہی کام کیا۔ اسی طرح آپ کو ہاضمہ کی خرابی دور کرنے کے لیے بار بار کوئی چیز استعمال کرنا پڑی تو سمجھ لیں کہ رفتہ رفتہ شوگر کا مرض آپ کے جسم میں جگہ بنا رہا ہے، کیونکہ جو کچھ آپ نے کھایا پیا ہے، وہ انسانی صحت کے اصول کے مطابق ازخود ہضم ہونا...