شام لہولہان اور عالم اسلام پر بے حسی طاری!

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

شام (سیریا) کی سرزمین وہ ہے جس کو خود قرآن پاک میں متعد مقامات پر مقدس وبابرکت قرار دیا گیا ہے۔ زبانِ رسالت سے جس کے لیے علیکم بالشام  (شام کو لازم پکڑو)، طوبی للشام  (شام کے لیے خوش خبری ہو) اور کنانۃ الاسلام  (اسلام کی چھاؤنی )جیسے الفاظ آئے ہیں ، جس کے لیے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہم بارک فی شامنا  (اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے )کہہ کردعافرمائی ہے اورجس کی برکت وفضیلت میں اتنی حدیثیں آئی ہیں کہ کسی اورسرزمین کے تقدس کے بارے میں نہیںآئیں،وہ شام جہاں سیدنا بلالؓ ، امینِ امت ابوعبیدہ بن الجراحؓ، اللہ کی تلوار خالدبن ولیدؓ،کسرائے عرب امیرمعاویہؓ ،ام المومنین ام حبیبہؓ ،معاذبن جبلؓ ابودرداءؓ ،سعدبن عبادہؓ ،ابی بن کعبؓ اور حضرت دحیہ کلبیؓ جیسے کبارصحابہؓ آسودۂ خاک ہیں، جہاں عمربن عبدالعزیزؒ جیسے خلیفۂ راشد،صلاح الدین ایوبیؒ ؒ ؒ جیسے مجاہدکے علاوہ ابن الصلاحؒ ،ذہبی ؒ ،ترمذیؒ ؒ ؒ ؒ ،ابن کثیرؒ ،ابن عساکرؒ ، نوویؒ اور ابن تیمیہؒ جیسے ائمۂ اعلام کی آرام گاہیں ہیں،وہی شام آج لہولہان ہے اورعالم اسلام پر اس کے سلسلہ میں بے حسی طاری ہے۔

دوسال ہونے کو آرہے ہیں جب مارچ ۲۰۱۱ء میں شام میں انقلاب کی شروعات ہوئی ۔یہ انقلاب عالم عرب کے دوسرے ممالک تیونس ،مصراورلیبیامیں آنے والے عوامی انقلابوں سے بھی inspire ہواتھااورخودسیریامیں ا س انقلاب کی جڑیں بہت گہری تھیں۔ اس کی وجہ ۱۹۷۰ء سے چلے آنے والے اسدخانوادے کی جابرانہ وآمرانہ سفاک علوی حکومت ہے جوفوج کی مددسے سیریاکے اکثریتی سنی مسلمانوں پر کسی عفریت کی طرح مسلط ہے۔ واضح رہے کہ شام پر بدعقیدہ اورملحدعلوی نصیری مسلط ہیں جوحضرت علیؓ کی الوہیت کے قائل ہیں اورتقیہ پر یقین رکھتے ہیں۔یہ سنیوں کے بدترین دشمن ہیں اوریہ فرقہ شیعوں کا ایک غالی فرقہ ہے جس کو خودراسخ العقیدہ شیعہ امامیہ کافرمانتے ہیں ۔ یہ سب لوگ عرصہ ہائے دراز سے پیشۂ سپہ گری سے وابستہ رہے ہیں اوربیسویں صدی کے آغاز میں جب عرب دنیانے اپنی پہلی ہمالیائی غلطی بلکہ اسلام کے ساتھ غداری کی تھی کہ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرکے انگریزوں اور فرانسیسیوں سے ہاتھ ملالیاتھا۔اس وقت اس علوی نصیری فرقہ کو فرانس نے اپنے وسیع مقاصدکے لیے گودلے لیاتھا۔ اس نے ان کو فوجی تربیت دی اورسنیوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیارکردیاتھا۔اس کے بعدحافظ الاسدجیسے ملحد اور اسلام دشمن فوجی جنرل کے ہاتھ ان کی قیادت آگئی تواس نے نہ صرف ملک کے اقتدار پر قبضہ کرلیابلکہ شام کے دروبست پر اورزندگی کے ہرشعبہ میں کلیدی عہدوں پر ان کو مسلط کردیا۔

آغاز میں یہ انقلاب بالکل پر امن مظاہروں پر مشتمل تھا اور اس کا مطالبہ جابرانہ ملکی قوانین میں تبدیلی اور سیاسی نظام میں مثبت تبدیلیاں لانے کاتھا اورحکومت وقت یعنی ظالم وجابرصدربشارالاسدکے نظام کوختم کرنے کا مقصد ظاہرنہیں کیا گیا تھا، مگر جب بشارالاسدکی حکومت نے کسی بھی مطالبہ کوسننے اورماننے سے قطعی انکارکرکے پرامن مظاہرین کا استقبال گولیوں،توپوں کے دہانوں اور قید وبندسے کیا، ان کو سیریاکے بدنام زمانہ جیلوں میں ڈال کر شدید ٹارچر و تعذیب کی انتہاکردی تویہ پر امن مظاہرے منظم سیاسی احتجاج میں بدل گئے اور خاصے دنوں تک دمشق ،حلب، اریحا، ریف ،غوطہ ،حمص وغیرہ شہروں میں روزانہ یہ مظاہرے نکلنے لگے ۔ احتجاجیوں نے کئی پلیٹ فارم منظم کیے ،حقوق انسانی کے گروپ بنے ، انہوں نے باہر کی دنیا سے رابطہ کیا ۔ بشار الاسد اور اس کے ظالم وجابر باپ کرنل حافظ الاسدکے زمانہ سے جو لوگ اس نظام کے خلاف تھے اور سیریا سے بھاگ کرفرانس ،ترکی اور دوسرے یوروپی ممالک میں پناہ لیے ہوئے تھے، انہوں نے فرانس اور ترکی میں اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کردیا۔ سیریائی اپوزیشن پارٹیوں نے احتجاجیوں کی حمایت کی اور بشارا لاسد کے نظام کے خلاف سیاسی عمل کے لیے زور ڈالنا شروع کردیا۔انہوں نے کئی محاذبنائے جن میں سب سے بڑے محاذ کے صدربرہان غلیوم ہیں۔اب انقلاب کانشانہ موجودہ نظام کو ختم کرنااوراس کی جگہ ایک جمہوری واسلامی سیریاکی تشکیل تھی ۔

سیریامیں انقلاب کی بڑی وجہ داخلی ہے کہ وہاں ۱۹۷۰ سے کرنل حافظ الاسدنے فوجی بغاوت کرکے جمہوری وعوامی حکومت کا تختہ پلٹ دیاتھااورجن لوگوں نے بھی ان کے خلاف کوئی آواز اٹھائی، ان کو سختی سے کچل کررکھ دیاتھا اور انسانی حقوق بری طرح پامال ہورہے ہیں ۔ اسی خوں خوارحافظ الاسدنے حماۃ شہرمیں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے انقلابیوں کو بری طرح بمباری کرکے ہلاک کردیاتھا ۔اس کی خونریزی سے تین ہزاردین پسندمسلمان شہیدہوئے تھے۔ اس کے بعدسے سیریاجمہوریت پسندوں اورمذہبی لوگوں کے لیے ایک کھلا قیدخانہ بن گیا۔جولوگ پابندی سے نماز پڑھتے انٹی جنس کے لوگ ان کے پیچھے لگ جاتے ،پریس کی آزادی سلب کرلی گئی، آزادخیال صحافی اوردانشوراورادیب اورعلماء ایک ایک کرکے سیریاکو چھوڑ کر چلے گئے یااسدکے عقوبت خانوں میں پوری عمریں گزارکردنیاسے چلے گئے ۔کتنے لوگوں کوپولیس نے پکڑ ا اور پھر ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

جب یہ انقلاب شروع ہواتوباپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بشار الاسد نے ان نہتے اور غیرمسلح احتجاجیوں کے خلاف ہر شہر میں فوج اتار دی اور فوج نے راکٹوں، فوجی ہیلی کاپٹروں، توپوں اور ٹینکوں کے ساتھ ان کے گلی محلوں پر چڑھائی کردی ۔ مختلف شہروں میں بہت سے کمپاؤنڈ، مارکیٹیں اور محلے اڑادیے گئے ۔ پورے کے پورے محلے قبرستان بنا دیے گئے ۔ بہت سارے علاقوں، خاص طور پر ریفِ دمشق ،حلب اور غوطہ ،دیرالزور،درعااورادلب جیسے شہروں میں یہ وحشیانہ کارروائیاں اب بھی جاری ہیں ۔جس وقت یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، حلب اوروسطی دمشق میں سیریاکی سرکاری فوج اورآزادفوج کے جیالوں میں معرکہ آرائی جاری ہے۔ روزانہ سودوسوآدمی شہیدکیے جارہے ہیں۔اب تک ۵۱ ہزار سے زیادہ بے قصور عوام فوج کے جبر وتشدد کا نشانہ بن چکے ہیں اورا س سے کئی گنا زیادہ تعدا جیلوں میں سڑ رہی ہے۔ کتنے علماء کو اغوا کر لیا گیا ہے ، کتنوں کو مارڈ الا گیا ہے اور کتنی ہی مسجدیں زمیں بوس کی جا چکی ہیں۔ شام کے مظلوم عوام اپنا دوسرا رمضان ان ناگفتہ بہ حالات میں گزار رہے ہیں کہ جب حلب کا فوجی محاصرہ کیا ہوا ہے اور فوجی ہیلی کاپٹروں سے اس پر بمباری جاری ہے۔ لوگوں کو کھانے پینے کے سامان کی قلت ہے ،دوا اور علاج دستیاب نہیں ،بڑے پیمانے پر نوجوانوں اورلڑکوں کی بے محابا گرفتاریاں مسلسل جاری ہیں۔ شورش زدہ علاقوں کی لائٹ کاٹ دی جاتی ہے ،ان کی پانی کی سپلائی روک دی جاتی ہے، غرض وہ انتہائی شدیدحالات سے دوچارہیں جس کی تھوڑی سی جھلک الجزیرہ کی رپورٹوں اوراس کی سیریافائل (ملف سوریا ) میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ اندازہ کیاجاسکتاہے کہ ان کی عیدکیسی ہوگی !! 

سیریاکی حکومت نے غیرملکی صحافیوں اورذرائع ابلاغ پر مکمل طورپر پابندی لگائی ہوئی ہے اورانہی صحافیوں کو ملک میں داخلہ کی اجازت ملتی ہے جن کو مختلف ممالک میں اس کے سفارت خانے بھیجتے ہیں،جوظاہرہے کہ وہی خبریں دیتے ہیں جن سے انقلابیوں کی شبیہ خراب ہو اور حکومت کا مثبت امیج بنے ۔غیرملکی ریلیف ورک بھی نہیں ہونے دیاجارہاہے اورامدادی سامان مستحقوں تک نہیں پہنچ پاتاکیونکہ شامی سرکاری فوج کے علاوہ حکومت کے مسلح مخبرجوسادہ کپڑوں میں ہوتے ہیں، ہرجگہ پھیلے ہوئے ہیں اور لوگوں کوخوف زدہ اورہراساں کرنے کاسب سے بڑاآلہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کوسیریامیں الشبیحہ  کہتے ہیں، اردومیں ان کوکرایہ کے قاتل کہہ سکتے ہیں۔بشارالاسدکابھائی ماہرالاسدسیریائی انٹیلی جنس کاسربراہ اورانتہائی سفاکانہ طبیعت رکھتاہے ،اس کوشام میں ماہرالجزار(قصائی )کہتے ہیں۔اس نے نوجوانوں کو قیدکرنے اور ٹارچر کرنے کا رکارڈ قائم کیاہے اورحقوق انسانی کی وہ خلاف ورزیاں کی ہیں جن پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

مہینوں تک سیاسی لڑنے اور پرامن مطالبات کے بعد آخر خود شام کی سرکاری فوج سے فوجیوں کے بھاگنے اورانقلابیوں میں شامل ہونے کا عمل شروع ہوااورکرنل ریاض الاسعدکی قیادت میں الجیش السوری الحر(آزاد سیریائی فوج )کی بنیادڈالی گئی ۔شروع میں اس کے اندر صرف چندہزارنفرتھے، اب ترکی کی فوجی تربیت اور اسلحہ کی سپلائی کے باعث یہ آزادفوج بھی بہترپوزیشن میں ہے اورسرکاری فوج سے لوہا لے رہی ہے۔مگراس فوج کے پاس اورانقلابی رضاکاروں کے پاس ہلکے پھلکے اسلحہ ہیں ،ان کے پاس نہ بمبارجہازہیں نہ ٹینک اور توپ ،مگرظالم وجابرنظام سے آزادی حاصل کرنے کا جذبہ ہے جوان کو اپنی جوانیاں لگانے اور جانیں قربانیں کرنے کے لیے مہمیز کررہا ہے ۔

ترکی میں شامی مہاجرین کی تعداد سرکاری اعدادوشمارکے مطابق تعدادساٹھ ہزارتک پہنچ چکی ہے۔ بشارالاسدنے ایک سنی، ریاض الحجاب کو جوان کے پرانے وفادارتھے ،وزیراعظم بنادیاتھا، لیکن گزشتہ ہفتہ وہ بشارالاسدکا ساتھ چھوڑکر انقلابیوں سے مل گئے اورشام سے نکل گئے ہیں۔ ابھی وہ عمان میں ہیں اورانہوں نے شامی فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا قتل عام نہ کریں اوربشار الاسدکا ساتھ چھوڑکر عوام کا ساتھ دیں۔

سترہ مہینے کی لگاتارجدوجہدکرنے والے اورایک وحشی فوج سے نبردآزماشام کے ان انقلابیوں میں بڑاحصہ ان مذہبی لوگوں کا ہے جواخوان المسلمون کی فکرکے حامل ہیںیاسلفی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس کے علاوہ ایک قلیل تعدادان لوگوں کی بھی ہے جونیم مذہبی یالبرل ہیں مگرجمہوریت اوراستبدادی نظام سے آزادی چاہتے ہیں۔ان سترہ مہینوں کے اندر شامی قوم پر قیامت گزرگئی ہے ،وہ بدترین عذاب جھیل رہی ہے ۔ مگرابھی تک ہزاروں بیٹوں اورفرزندوں کی قربانیاں دے کربھی اس نے حوصلہ نہیں کھویاہے۔اس سلسلہ میں بدقسمتی سے ۵۷ رکن ممالک والی اوآئی سی اور عرب لیگ عالم اسلام کی دونوں تنظیمیں ان مظلوموں کی کوئی مددکرنے اورشام کے بحران کاکوئی حل نکالنے میں ناکام رہی ہیں ۔عرب لیگ نے اب سے کئی مہینے پہلے اپنے دوسومبصرین شام میں تعینات کیے تھے اورحکومت سے اپیل تھی کہ وہ خون خرابہ بندکردے مگرہزارزبانی دعووں اورعالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے باوجودحکومت نے اپنے تمام جارحانہ اقدامات جاری رکھے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ کئی بارعرب لیگ نے امن منصوبے پیش کیے مگرحکومت نے سردمہری سے کام لیااوراپناظلم وجبرترک نہیں کیا۔عالمی قوتوں میں روس اورچین کی ہمدردیاں شام کو حاصل ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کے وسیع تجارتی مفادات اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ چونکہ برسراقتدار بعث پارٹی کمیونزم کا عربی ورژن ہے، اس لیے روس سے اس کی زبردست قربت چلی آرہی ہے ،یہاں کہ ۱۹۵۶ء سے دونوں میں دفاعی معاہدہ بھی چلاآرہاہے۔اسی لیے روس سلامتی کونسل میں اس کے خلاف ہر قرارداد کو ویٹو کر دیتا ہے اوراس نے اس کا اعلان بھی کررکھاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شام کو ناٹوکی کارروائی کا خوف نہیں ہے۔

مسلم دنیا میں ایران اس کا سب سے بڑاحمایتی ہے اوراس کی ہرطرح مددکررہاہے۔ اسی طرح لبنان کی طاقت ور ملیشیااورسیاسی قوت حزب اللہ بھی اس کی زبردست حمایتی ہے۔ایران اورحزب اللہ دراصل مسلکی بنیادوں پر اس کے ساتھ ہیں، کیونکہ شام میں علوی نصیری فرقہ مسلط ہے جوصرف ۱۰ سے ۱۵ فیصد ہے، مگرملکی زندگی کے سیاہ وسفیدپر اسی کا تسلط ہے اوراس علوی آمرانہ نظام نے فوج کی مددسے ۸۵ فیصدسنی اکثریت کو بدترین استحصال اورظلم و بربریت کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ عرب علماء اور ان میں خاص طورپر شیخ یوسف القرضاوی نے واضح طور پر اس جابرنظام حکومت کے خلاف فتویٰ دیاہے اور اس نظام کو بیخ وبن سے اکھاڑپھینکنے کی اورشام کے مظلوم سنی مسلمانوں کی تائیدوحمایت کی اپیل کی ہے۔ ان کے علاوہ شام کے شیخ محمدغسان نجار،شیخ ہشیم المالح،سلفی جماعت کے شیخ عدنان عرعور،جامع اموی کے سابق خطیب معاذ الخطیب الحسنی اورنمایاں کردلیڈرسب انقلاب کے حامی ہیں اوراس میں شامل ہو کر ہرطرح کی قربانیاں دے رہے ہیں۔نیز دنیاکے مختلف ممالک میں سیریائی سفارت کاروں نے بھی اپنی حکومت سے انحراف شروع کردیا ہے۔

اقوام متحدہ اوردوسرے عالمی ادارے بھی اس محاذپر ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔یواین اوکے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو اقوام متحدہ نے اپناسفیربناکرخصوصی مشن پر سیریابھیجاتھا ۔ان کا مشن سیریامیں امن کا قیام ،سیاسی اصلاحات میں تیزی لانااورحکومت کواس پر راضی کرنا تھا کہ وہ فوج کوشہروں اورآبادیوں سے ہٹاکرواپس بیرکوں میں بھیجے اورانقلابیوں کے ساتھ گفت وشنیدکرے، مگربالآخر ان کا یہ مشن بھی سیریا حکومت کی ہٹ دھرمی کے آگے فیل ہوگیا۔ سچی بات تویہ ہے کہ امریکہ اورناٹووغیرہ اگرکوئی کارروائی سیریاکے خلاف کرتے ہیں تو اس کے خلاف سب سے زیادہ غل بھی مسلمان اورعرب ہی مچائیں گے اورہنگامہ کریں گے کہ صلیبی دنیاایک اورمسلم ملک پر چڑھ دوڑی، مگر وہ خوداپناگھردرست کرنے کی کوشش نہیں کرتے اورالمیہ یہ ہے کہ ہم ہروقت مغرب کو کوستے کاٹتے بھی ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے بھی مغربی دنیاکی طرف ہی دیکھتے ہیں!!ان سطورکے لکھے جانے کے وقت مکہ میں تنظیم اسلامی کانفرنس کے وزرائے خارجہ کی چوٹی کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس کے صدرنے یہ عندیہ دیاہے کہ سیریاکو تنظیم سے نکالاجاسکتاہے۔ یادرہے کہ ایک ماہ قبل اس کوعرب لیگ سے بھی نکال دیا گیا ہے،مگرایران کی پرجوش حمایت کے باعث ایسے علامتی اقدامات سے اس پر کوئی اثرپڑنے والانہیں ہے۔امریکہ اوردوسرے مغربی ملکوں نے شام پر اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ اس کے ساتھ کاروبارکی بندش کے علاوہ درجنوں اشخاص کے اثاثے بھی منجمدکردیے ہیں اور ان کے سفرکرنے پر بھی پابندی ہے ۔آج امریکہ نے تنظیم اسلامی کانفرنس پر زوردیاہے کہ وہ شام میں فوجی مداخلت کرے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک صحیح مشورہ ہے اورمسلم ملکوں کو بہت پہلے ہی یہ قدم اٹھالیناچاہیے تھا، مگرمسلمانان عالم کی قیادتوں کا جورخ ہے، اس سے نہیں لگتاکہ وہ کوئی ٹھوس قدم اٹھاسکیں گے ۔

لیبیامیں انقلاب اسی طرح رونماہواتھا کہ عوام نے اقتداروقت کے خلاف ہتھیاراٹھالیے اورمحض چندمہینے میں قذافی کا خاتمہ کردیا۔ سیریا میں یہ تجربہ اس لیے نہیں دہرایاجاسکتاکہ لیبیادنیامیں بالکل تنہاپڑگیاتھااورآس پاس کے کسی ملک نے اس کی حمایت نہیں کی تھی، جبکہ مشرق وسطی میں سیریا،ایران اورحزب اللہ کی ایک تکون بن گئی ہے جسے بجا طور پر Axis of evil (بدی کامحور) کہاجاسکتاہے اوریہ محورہم مسلک بھی ہے، یعنی سب شیعہ قوتیں یک جاہوگئی ہیں جو سیریا کے سنی مسلمانوں کا قافیہ تنگ کیے ہوئے ہیں۔ان کے مقابلے میں سیریاکے سنی بڑی نازک پوزیشن میں ہیں۔ مغربی دنیاان کی مددنہیں کررہی ،اقوام متحدہ اورحقوق انسانی کے دوسرے ادارے ان کے لیے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھتے، پڑوسی عرب ممالک سب بدترین درجہ کے منافق حکمرانوں کے قبضہ میں ہیں جو پون صدی سے چلے آرہے مشرق وسطی کے ناسورفلسطین کا مسئلہ نہیں حل کرا سکے توان سے سیریاکے مسئلہ کے حل کی توقع رکھناخودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔ البتہ سعودی عرب، قطر اور دوسرے ممالک نے ریلیف پہنچائی ہے اوراخلاقی طورپر انقلابیوں کی مددکی ہے۔

حال ہی میں دمشق میں آزاد سیریائی فوج نے ۴۸؍ ایرانیوں کوپکڑاہے اوراسی طرح کئی لبنانی باشندے بھی پکڑے گئے ہیں جو حزب اللہ کے لوگ ہیں ۔چنانچہ الجزیرہ نے آزاد سیریائی فوج کے حوالہ سے نقل کیاہے کہ یہ ایرانی باشندے جن کو زائرین باورکرایاجارہاہے کہ وہ دمشق میں واقع روضہ سیدہ زینب کی زیارت کے لیے آئے تھے،دراصل ایرانی فوجی ہیں جوزائرین کے بھیس میں سننی علماء اورمشائخ کو نشانہ بنانے کے لیے آئے تھے ۔آزاد سیریائی فوج کے اس الزام میں اس لیے قوت محسوس ہوتی ہے کہ سیریامیں انقلاب کے آغازکوسترہ مہینے گزرچکے ہیں اوریہ انقلابی لہرپورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے توآخرایسے بحرانی دورمیں کوئی محض مذہبی زیارت کے لیے دوسرے ملک کیوں جائے گااوراسے اتنی آسانی سے ویزاکیونکرمل جائے گااوروہ بھی ایک دونہیں سینکڑوں کی تعدادمیں؟

حیرت ہوتی ہے کہ ہندوستانی مسلمان جوروایتی طورپر پوری امت مسلمہ کے لیے تڑپتے ہیں اورہمیشہ امیرمینائی کے اس شعرکے مصداق ثابت ہوئے ہیں ؂ 

خنجرچلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے 

سیریاکے مظلوم مسلمانوں کے لیے کیوں بے حس بن گئے ہیں؟ ان کے اخبارات وجرائدخاموش ،ان کی ملی تنظیمیں جو ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر غل مچانے میں اپناجواب نہیں رکھتیں، وہ خاموش ۔میرااندازہ ہے (کاش کہ یہ انداز ہ غلط ہو!) کہ ان کے کسی اجلاس اورکسی کانفرنس نے اس لمبی مدت میں سیریاکے مسئلہ پرانقلابیوں کی حمایت اورجابرحکومت کی مذمت میں کوئی قراردادجاری نہیں کی ۔صرف فقہ اکیڈمی کااستثنا ہے جس نے اپنے علی گڑھ کے سیمینارمیں اس مضمون کی باضابطہ ایک قرارداد پاس کی تھی ۔اس کے علاوہ مادرعلمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے عربی رسائل الرائداورالبعث میں شام پر برابرمضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔اردومیں ہندوستانی علماء ودانشوروں میں صرف پروفیسر محسن عثمانی ندوی کی کئی چھوٹی بڑی تحریریں اس سلسلہ میں شائع ہوئی ہیں اورموقع موقع سے ان کے مضامین کئی اخبارات ورسائل میں آئے ہیں اورانہوں نے اپناخون جگرصفحہ قرطاس پر انڈیلاہے ۔ان کے علاوہ بالکل سناٹاہے اورہزاروں علماء ودانشوروں کی بھیڑمیں کوئی نہیں جو ملی غیرت کا ثبوت دے اورمصلحتوں کا دامن چھوڑکرحق کے دوبول بول سکے ۔یہاں تک کہ وہ تنظیمیں اوروہ لوگ بھی جوخودکو اخوان المسلمون کاہم خیال بتاتے ہیں،وہ بھی مصلحتوں کے اسیرہیں ،چونکہ ان میں سے بعض کے مفادات ایران سے وابستہ ہیں اورجو ایرانیوں اورحزب اللہ کے اتحادبین المسلمین کے کھوکھلے نعروں پر ایسے ایمان لائے ہوئے ہیں جیسے وہ وحی ہوں،اس لیے وہ اس کے خلاف نہیں جاسکتے اوربآوازبلندحق کی بات نہیں کہہ سکتے ۔اردوکے بہت سے اخبارات اوراردوکے کئی صحافی جو ایرانیوں کے پے رول پر ہیں اوران کے علاوہ کچھ وہ لوگ جن کوسیریائی سفارت خانہ نے سیریاکا سفرکرایاہے، وہ ابھی تک بشارالاسدکے قصیدے پڑھ رہے ہیں -

بدنام زمانہ سیریائی صدرجن کے ہاتھ سے زمین آہستہ آہستہ سرک رہی ہے ہوش کے ناخن نہیں لے رہے ہیں۔اب وہ دن دورنہیں جب ان کے وحشی خانوادے اوران کے وفاداروں کا یوم حساب شروع ہوگااوران ظالموں کوخوددنیاکے اندرہی اسی حشرسے دوچارہوناہوگاجس سے ان جیسے سینکڑوں جابراورآمردوچارہوچکے ہیں۔

حالات و واقعات

(ستمبر ۲۰۱۲ء)

Flag Counter