شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

ادارہ

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے

شہرا سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے


ایک بارود کی جیکٹ اور نعرۂ تکبیر

راستہ خلد کا آسان ہوا پھرتا ہے


کیسا عاشق ہے تیرے نام پہ قرباں ہے مگر

تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے


شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہیں جس سے

صبح وہ صاحب ایمان ہوا پھرتا ہے


ہم کو جکڑا ہے یہاں جبر کی زنجیروں نے

اب تو یہ شہر ہی زندان ہوا پھرتا ہے


جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر

شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے


(شاعر: نامعلوم)

ادبیات