ستمبر ۲۰۱۲ء

انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور عالم اسلام

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مغرب میں انسانی حقوق کے حوالہ سے جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اس کا آغاز ’’میگنا کارٹا‘‘ سے کیا جاتا ہے۔ ۱۲۱۵ء ؁ میں برطانیہ کے کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ اس عنوان سے ہوا تھا جس کا اصل مقصد تو بادشاہ اور جاگیرداروں کے مابین اختیارات اور حدودکار کی تقسیم تھا لیکن اس میں عام لوگوں کا بھی کسی حد تک تذکرہ موجود تھا، اس لیے اسے انسانی حقوق کا آغاز تصور قرار دیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں ایک عرصہ تک حکمرانی کا حق اور اس کے تمام تر اختیارات تین طبقوں کے درمیان دائر رہے ہیں: (۱) بادشاہ (۲) جاگیردار اور (۳) مذہبی قیادت۔...

شام لہولہان اور عالم اسلام پر بے حسی طاری!

― ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

شام (سیریا) کی سرزمین وہ ہے جس کو خود قرآن پاک میں متعد مقامات پر مقدس وبابرکت قرار دیا گیا ہے۔ زبانِ رسالت سے جس کے لیے علیکم بالشام (شام کو لازم پکڑو)،طوبی للشام (شام کے لیے خوش خبری ہو) اور کنانۃ الاسلام (اسلام کی چھاؤنی )جیسے الفاظ آئے ہیں ، جس کے لیے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہم بارک فی شامنا (اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے )کہہ کردعافرمائی ہے اورجس کی برکت وفضیلت میں اتنی حدیثیں آئی ہیں کہ کسی اورسرزمین کے تقدس کے بارے میں نہیںآئیں،وہ شام جہاں سیدنا بلالؓ ، امینِ امت ابوعبیدہ بن الجراحؓ، اللہ کی تلوار خالدبن ولیدؓ،کسرائے عرب امیرمعاویہؓ...

منفی اقدار کے فروغ میں میڈیا کا کردار

― مولانا حافظ محمد رشید

جدید دنیا کے تعلیمی اداروں، فکری رہنماؤں، دانشوروں، قلمکاروں اور صحافیوں پر اس مغربی ابلیسی تہذیب کا ایسا سحر طاری ہے کہ اس عریانیت وفحاشی پر مبنی ’’فلم انڈسٹری‘‘کے خلاف اگر کبھی کوئی آواز اٹھتی ہے تو ابلیسی سحر میں گرفتار یہ دانشور،قلمکار اور صحافی انسانیت کی دشمن اس ابلیسی پروگرام کو منوانے کے لیے میدان میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور انسان کی تخریبی صلاحیتوں کو ابھارنے والی اس شیطانی موسیقی اور فلم انڈسٹری کو فن، آرٹ اور تخلیقی صلاحیت کا نام دے کر اسے منوانا چاہتے ہیں اور جو اس پر تنقید کرے اوراس شیطانی انڈسٹری کو فروغ دینے والوں پر تنقید...

میری علمی و مطالعاتی زندگی (حکیم محمود احمد برکاتی سے انٹرویو)

― عرفان احمد

میری ولادت ریاست ٹونک میں 1926 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وطن میں پھر درس نظامی کی تکمیل اجمیر میں، پھر طب کی تحصیل طبیہ کالج دہلی میں، فراغت کے بعد مطب اور تدریس، 1952میں پاکستان کی طرف ہجرت، یہاں 1957 سے مطب کا سلسلہ اور برکاتی دواخانے کی بنا۔ 1964میں برکات اکیڈمی کا قیام، اب اجل مسمی کا بے تابی سے انتظار۔ تالیفات: سیرت فریدیہ از سرسید کی تدوین 1964، فضلِ حق خیر آبادی اور سن ستاون 1975، شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان (تخلیق مرکز لاہور، مکتبہ جامعہ دہلی)، مولانا معین الدین اجمیری: افکار و کردار، مولانا معین الدین اجمیر: تلامذہ کا خراج عقیدت، ترجمہ اتفاق...

خاطرات

― محمد عمار خان ناصر

رؤیت ہلال کا مسئلہ اور ہمارے قومی رویے۔ عید کے موقع پر چاند کی رؤیت کے حوالے سے اہل علم کے مابین بعض فقہی اختلافات عالم اسلام کے کم وبیش تمام حصوں میں موجود ہیں، مثلاً یہ کہ کیا چاند کی رؤیت کا فیصلہ فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر بھی کیا جا سکتا ہے یا اس کے لیے چاند کو آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے؟ اسی طرح یہ کہ کیا ایک علاقے میں چاند کے دیکھے جانے پر دوسرے علاقوں کے لوگ، جہاں چاند نظر نہیں آیا، رمضان یا عید کا فیصلہ کر سکتے ہیں یا ہر علاقے کے لوگوں کے لیے ان کی اپنی رؤیت کا اعتبار ہے؟ وغیرہ۔ تاہم ہمارے ہاں چاند کے دیکھے جانے کا فیصلہ کرنے کے لیے علماء...

سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام (۳)

― محمد زاہد صدیق مغل

۳۔ اصلاح انفرادیت کے اسلامی کام کی نوعیت۔ یاد رہنا چاہیے کہ مغربی فرد کے اضطرار کی بنیاد گناہ سے آگاہی ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے انسان کو عبد پیدا کیا ہے اور جب وہ عبدیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو درحقیقت اپنی اصل اور فطرت سے لڑتا ہے اور نتیجتاً ہر وقت اضطرار اور گناہ کے احساس سے معمور رہتاہے اور گناہ پر مطمئن ہونے کے لیے لغو تعبیریں تلاش کرکے خود کو دھوکا دیتا ہے۔ گناہ سے چھٹکارا اس وقت ممکن ہے جب انسان عبدیت کی نیت کرے، اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور گناہ معاف کردیتا ہے۔ اس کے دل کو اضطرار سے نجات دلا کر اطمینان کی دولت سے...

پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد ۔ قرآنی نظریہ تاریخ کی روشنی میں ایک عمرانی مطالعہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

قیامِ پاکستان کے بعد سے اس ملک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد بجائے خود، ایک اجتماعی معاشرتی خواہش (collective social will) کی مظہر رہی ہے کہ اسلام نافذ کیا جائے اور مملکت کے تینوں دساتیر (۵۶، ۶۲، ۷۳) کے بنیادی ڈھانچے ایک حد تک اسی معاشرتی خواہش کے سیاسی نتائج (political output) دیتے چلے آئے ہیں۔ ۱۹۷۳ کے آئین میں تو خیر سے ریاست کو بھی کلمہ پڑھوا دیا گیا ہے کہ اسلام، مملکت کا سرکاری مذہب قرار پایا ہے۔ اس لیے جہاں تک آئین و قوانین کی بات ہے، معاشرتی خواہشات کے سیاسی ثمرات میں ڈھلنے کا تعلق ہے، حالات و واقعات بہت زیادہ سنگین اور تشویش انگیز نہیں ہیں۔ایسے میں سوال پیدا...

ماہنامہ ’الشریعہ‘ اہل علم و ادب کی نظر میں

― ادارہ

(اہل علم وادب کے پیغامات اور تبصروں کا ایک انتخاب)۔ ’’میں روز اول ہی سے اس رسالے کا باقاعدہ قاری ہوں۔ آپ کی تحریروں اور مضامین میں جو اعتدال اور توازن ہوتا ہے، وہ گزشتہ کچھ عرصے سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کی تحریریں ملک میں ایک متوازن اور معتدل مذہبی رویے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی۔‘‘ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ، سابق صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)۔ ’’آپ نے ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ باعث دلچسپی ہے۔ خدا کرے رفتہ رفتہ یہ تجربہ ایسے نہج میں ڈھل جائے کہ سوچ کی مثبت اور مفید تبدیلی کو راہ ملے۔ آپ کو ما شاء...

تن ہمہ داغ داغ شد ۔۔۔

― حکیم محمد عمران مغل

ایک دبلے تلے اور نحیف نوجوان محمد احمد سے سر راہ ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ آپ سے ملاقات کا ارادہ تھا۔ میں وہیں رک کر ان کی داستان الم سننے لگا۔ کہنے گے کہ میں میاں چنوں کے علاقے اقبال نگر سے تعلق رکھتا ہوں۔ اب رزق کی تلاش میں ایک عرصے سے لاہور میں مقیم ہوں اور منوں ٹیکسٹائل مل لاہور میں بطور کیشئر خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اگرچہ ملازمت تو شایان شان ہے، مگر کھانا اطمینان سے نصیب نہیں ہوتا، عموماً بازار سے کھانا پڑتا ہے۔ علاج کی تمام امکانی کوششیں رائیگاں جاتی نظر آتی ہیں۔ اپنے طور پر میں نے ہر بڑے معالج کی دکان پر دستک دی ہے۔ مل مالکان نے اپنی پوری...

شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

― ادارہ

...