عصری تعلیم کے اسکولوں پر توجہ کی ضرورت

صادق رضا مصباحی

اگر میں یہ کہوں کہ اس وقت مدارس سے زیادہ مکاتب پر توجہ کی ضرورت ہے تو اس میں کسی کو کوئی حیرت نہیں ہو نی چاہیے۔کسی بھی بلندفکراورزمانہ شناس شخص سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ زمانے کی رفتار کے آگے مدارس و مکاتب اپنی کوتاہ رفتاری کا شکوہ کر رہے ہیں۔ ہم نے بالعموم بلند بانگ دعوے تو بہت کیے مگر اس کے مطابق کا م پانچ فی صد بھی نہیں کیا۔ اس ضمن میں سیاسی لیڈران اور مذہبی قائدین دونوں ہی ذمے دار ہیں ۔ یہ بات یوں ہی نہیں کہی جا رہی ہے بلکہ اس کی پشت پر وہ تاریخی شہادتیں ہیں جن کا انکار سورج کو جھٹلا نے کے مترادف ہو گا۔

سائنس اور ٹکنا لوجی کے معاصررجحانات نے لوگوں کی سوچ اور فکر کا دھارا کچھ اس طرح موڑا ہے کہ اب وہ مادیت کے پجاری بن کررہ گئے ہیں۔اب ان کی فکر کا محور بس یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے ،اعلیٰ سے اعلیٰ ملازمت(Job) حاصل کیا جائے، بھاری بھرکم تنخواہوں پر کام کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ سماجی عزت دونوں ہاتھوں سے بٹوری جائے۔ اس رحجان کانتیجہ یہ نکلا کہ وہ شعوری یاغیرشعوری طورپرمذہب بیزاروں کی صف میں کھڑے ہوگئے۔ ان کی دنیاتوانہیں تھوڑی سی مل گئی مگروہ دین سے اوردین ان سے دورہوتاگیا۔ہماری قوم کے بیشترافراداپنے بچوں کواعلیٰ سے اعلیٰ عصری تعلیم دلانے کے لیے انگلش میڈیم اسکو لو ں کا رخ کر رہے ہیں جہاں ان کی جیب بھی خالی ہو رہی ہے اور ان کے دین کا سودا بھی ہو رہا ہے۔ یہاں رک کرذراغورکریں کہ آخران لوگوں میں مذہب بیزاری کیوں پیدا ہوئی؟ دراصل اس دین بیزار ی کاماخذانھی دنیاپرست مذہبی قائدین کافکروعمل ہے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ہمیں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اکثرمسلمان چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اسلامی تعلیم وتربیت حاصل کریں، ان کے اندر اسلامی مزاج پیدا ہو اور ان کا اسلامی شعور پختہ ہو مگر اس شدید خواہش کے باوجود وہ اپنے بچوں کو اسلامی مکاتب اورمدارس میں نہیں بھیجتے۔ سبب یہی بے سمتی کے شکارمدارس ومکاتب اوران کے اکثرمنتظمین ہیں جو اسلام کا نعرہ توخوب بلندکرتے ہیں مگران کے افعال وکردارسے اس کی تصدیق ہوتی نظرنہیں آتی۔ تقریباًسبھی مدارس و مکاتب انھیں لکیروں پر چل رہے ہیں جو برسو ں سے بنی ہو ئی ہیں۔ اس سے ایک انچ اِدھر یا اُدھر خود کو ہٹانا بہت بڑا جرم تصور کرتے ہیں اور انتہا تو یہ ہے کہ اس کو مذہب اور دین کے نام سے جوڑا جاتا ہے۔گویا اس لکیر سے اِدھر اُدھر ہٹنے میں دین کا کوئی اہم ستون منہدم ہو اجا رہا ہو۔ زما نے کے تقاضے کچھ اورکہتے ہیں مگریہ مدارس (الاماشاء اللہ) ان مطالبات پرپورے نہیں اتر رہے ہیں۔ اس کے جونقصانات ہوئے اورہورہے ہیں، ان کااندازہ لگاناکوئی مشکل نہیں ہے۔

بر صغیر ہندو پاک میں مدارس کی اتنی کثرت ہے کہ ان کا شمار مشکل ترین امر ہے اور ان میں چند کو چھوڑ کر باقی کوئی بھی مدرسہ ایسانہیں ہے جوموجودہ چیلنجوں کے جواب اوردین کادفاع کرنے والے ماہر افرادتیارکررہاہو۔ اس لیے ان کے اکثر فار غین نہ دین کے مفاد میں ہیں اور نہ سماج کے۔صرف مساجد و مدارس تک ہی محدود رہنا اسلام کا نقطۂ نظر کبھی نہیں رہا ۔ ان کے سوا عشق کے امتحان اور بھی تو ہیں مگر یہ دین کی خدمت کا مرکزصرف مسجدوں اور مدرسوں کو سمجھتے ہیں ۔ اس کے آگے نہ ان کی نظریں دیکھ پاتی ہیں اور نہ ان کی فکرکا پرندہ وہاں تک پہنچتا ہے۔ ظاہر ہے جب پڑھانے والوں کی فکریں زر خیزنہیں ہوں گی تو پڑھنے والوں کی فکروں کو بال و پر کیسے عطا ہو ں گے۔ اگر مدارس اسی طرح چلتے رہے تو اسلام کے مطلوب افراد قوم کو کبھی میسر نہیں آسکیں گے۔ 

ایک اہم اورکھلی ہوئی حقیقت یہ بھی ہے کہ مدارس کے فارغین دس سالہ طویل کورس کرنے اور عمر کا ایک بڑا حصہ مدرسوں میں گزارلینے کے باوصف بالعموم روح دین سے غافل ہی رہتے ہیں۔ ظاہر ہے جب وہ دین کی گہرائیوں سے واقف نہیں ہو ں گے تو اسلام کاپیغام صحیح طورسے کیسے پہنچاسکیں گے۔مدارس بلاشبہہ دین کے قلعے ہیں مگرآج اسلام اورمسلمانو ں کے تعلق سے جواضطراب پیداہوچکاہے، اس کی واحدوجہ بھی یہی مدارس اوراس کے فارغین ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے سماج کا امیر اورمتوسط طبقہ مدارس کوچندہ تودے دیتاہے مگروہ اپنے بچوں کامستقبل ان مدرسوں کے سپرد نہیں کرتا۔

آنکڑے یہ بتاتے ہیں کہ دنیوی تعلیم یافتہ لوگ بڑے بڑے منصبوں پر فائز ہیں اور دینی تعلیم یافتہ ان کے دست نگر بننے پر مجبور۔ ہمارے یہاں لاکھوں تقریریں ہوتی ہیں اورکروڑوں تحریریں لکھی جاتی ہیں کہ اسلام کامل واکمل دین ہے۔ وہ ہرزمانے ،ہر فکر، ہر فلسفے اور ہر طرح کے لو گوں کے لیے ہے مگر کیا تقریر کرنے والوں اور تحریر لکھنے والوں نے اسے عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا؟ عوام توعوام، خواص کی ایک بڑی اکثریت کے عمل نے نادانستہ طورپراسلام کو مسجد و مدرسے کے اندر محدود کر دیا ہے۔ مدارس کے اساتذہ اورمساجدکے ائمہ کے اندر معلوم نہیں اس تصورنے کیسے جڑپکڑلیا کہ مقتدیوں کو نماز پڑھانے اوردرسی کتابیں پڑھادینے سے ان کی ذمے داری پوری ہوگئی۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ دین کاتصوربہت وسیع اورجامع ہے۔ ایک مذہبی قائدکی یہ دینی ذمے داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے ہرطرح کے مسائل کاحل پیش کرے اور دین ودنیاہرمعاملے میں ان کامقتدابنے مگر ہمار ے اکثرمدارس کے نصاب ونظام نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتو ں پر سوالیہ نشان لگادیاہے۔ حالانکہ اب ضرورت اس بات کی زیادہ ہے کہ مدارس میں طلبہ کودینی وتبلیغی تربیت دی جائے اورانہیں موجودہ چیلنجوں کے جواب کے لیے تیار کیا جائے۔

آئیے گہرائی میں اترکرغورکریں کہ مدارس سے زیادہ مکاتب پر توجہ کی ضرورت کیوں ہے؟اگرہم دیگراقوام وملل سے اپنا موازنہ کریں توہمیں معلوم ہوگاکہ ہمارے پاس اعلیٰ درجے کے مکاتب ہیں ہی نہیں۔استثنائی مثالوں کی بات الگ ہے۔ جب کہ دیگر قوموں کے اپنے اپنے نہایت اعلیٰ درجے کے ادارے ہیں۔ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پوری دنیامیں سکھوں کی ایک الگ شناخت ہے ۔ابتدامیں ا ن کے پا س بھی اچھے تعلیمی ادارے نہیں تھے ۔ان کے بچے ہندوؤں اورعیسائیوں کے اداروں میں پڑھتے تھے مگرجب انہوں نے محسوس کیاکہ ان انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھ کر ان کے بچے اپنی شناخت اورمذہبی روایات سے دورہوتے جا رہے ہیں اوران کے دماغوں میں ایک الگ قسم کا کلچر پنپ رہاہے توانہوں نے خوداپنے ادارے قائم کرناشروع کیے جہاں ان کامذہب بھی محفوظ ہے اوروہ تعلیمی میدان بھی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔آج عالم یہ ہے کہ پورے ملک میں ان کے پاس انتہائی معیاری درس گاہیں ہیں۔ کیا مسلمان ان سے سبق حاصل نہیں کرسکتے ؟ہمارے بچے غیروں کے اسکولوں میں جاکراپنے مذہب سے متنفرہورہے ہیں، اپنی مذہبی اور موروثی روایات کاگلاخودگھونٹ رہے ہیں اوراپنے اسلاف کی نشانیو ں کوہی منہدم کرنے کے درپے ہیں۔ ان انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے کتنے مسلم بچے ہیں جنہیں صحیح کلمہ بھی یادہے اورجودین کی بنیادی اورضروری باتو ں سے ہلکی سی بھی آشنائی رکھتے ہیں؟ ایسی صورت میں صرف ایک صورت باقی رہ جاتی ہے اور وہ ہے دین وعصر دونوں کے تقاضوں سے لیس اور دونوں کی ضرور تو ں پر مشتمل اداروں یا مکاتب کے قیام کی تیاری ۔ہماری نسل جس تیزی سے اپنے مذہب سے عملاً بیزار ہو تی جارہی ہے اور الحادیت سے اپنے دل ودماغ دونوں آلودہ کر رہی ہے، اس کا تقاضاہے کہ جلد از جلد اس طرف توجہ دی جائے ورنہ شاید بچی کھچی نسلوں کے ذہن و دماغ کی ڈور بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اس کے لیے ہمیں خود کو تیار کرنا ہوگااورانفرادی یااجتماعی طور پر کمر ہمت کسنی ہوگی کیوں کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں مکاتب کا نظام ہے، عموماً ان کے دماغ کے سوتے با لکل خشک ہیں اور ان کی فکروں کا قبلہ درست نہیں۔ اس لیے ان سے کوئی اچھی امید نہیں کی جاسکتی ۔اگرانھی پرتکیہ کیے بیٹھے رہے توکسی بڑی تبدیلی کاخواب شایدہی کبھی شرمندۂ تعبیرہو۔

ذراغور کریں کہ مدارس یا مکاتب میں ہماری قو م کے کتنے فی صد بچے پڑھنے آتے ہیں اور عصری علوم کی طرف کتنے فی صد بچے بھاگتے ہیں۔ یہ کوئی حیرت و تعجب کی بات نہیں کہ دونوں میں کئی گنا کا فرق ہے ۔مثال کے طور پر ہم اپنے ضلع پیلی بھیت کو ہی لے لیں۔ یہا ں دینی علوم کی طرف مائل ہو نے والوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ دو ہزار ہو گی اور عصری علوم کی طرف مائل ہو نے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچے گی۔ ہمارے ذمے دار ان مدا رس ، چندہ کرنے والے مولوی صاحبان اور چندہ کروانے والے کمیٹی کے افراد ان دو ہزار کے لیے ہر سال لاکھوں کروڑوں کا چندہ کرتے ہیں اور ان دو ہزار کو خدمت دین کے لیے تیارکرنے میں پورا زور صرف کر دیتے ہیں (یہ الگ با ت ہے کہ یہ مقصدصحیح طورپرپوراہوتاہے یا نہیں) مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ لاکھوں طلبہ جو کالجوں اور یو نیور سٹیوں میں زیرتعلیم ہیں اوراپنے دین کی قیمتی پونجی فروخت کر رہے ہیں،ان کاا یمان کیسے بچایاجائے اورانہیں دین کی طرف کیسے مائل کیاجائے ؟ کیاہمارے پاس ان لاکھوں طلبہ کودین سے قریب کرنے کے لیے کوئی جامع منصوبہ ہے ؟ہماری نظرمیں کیا یہ دین کا کام نہیں؟ کیا ہی اچھا ہو تا کہ ہم ان عصری تعلیم یافتگا ن کی زبان سے بھی دین کی باتیں سنتے۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ دینی تعلیم یافتہ فردکی بہ نسبت عصری تعلیم یافتہ کی باتیں ہماراسماج خاص طور امیر (Upper Class) اور متوسط (Middle Class) طبقہ بہت غورسے سنتاہے کیوں کہ عموماً یہ عصری تعلیم یافتگان بڑے بڑے عہدوں پرفائزہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی باتیں زیادہ اثراندازہوتی ہیں اورہمارے دینی تعلیم یافتہ حضرات مسجدو مدرسے آگے نہیں بڑھ پاتے اور معاشی طورپرکمزوربھی ہوتے ہیں، اس لیے ان کی باتیں بڑے حلقے تک نہیں پہنچ پاتیں۔ اس کے لیے صرف وہی کا م کرنا ہے جو اوپر تحریر کیا گیا یعنی انتہائی اعلیٰ معیارکے انگلش میڈیم اسکولوں کاقیام جہاں دین کی تعلیم بھی ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر ہو۔ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر یہ قابل رشک ہوں اورمعیاری ہوں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آپ یقین جانیے کہ زیادہ نہیں، صرف بیس پچیس سال کے عرصے میں ملک کا تعلیمی اور معاشی منظر نامہ با لکل تبدیل ہو جائے گا۔ یہاں سے فارغ ہو کر ہمارے طلبہ اعلیٰ سطحی ملازمتوں اور حکومتی محکموں میں جائیں گے تو وہ صرف ایک آفیسر نہیں بلکہ ایک اچھے مسلمان اور ملک کے اچھے شہری بھی ہوں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کا عقیدہ و ایمان مضبوط ہوگا ۔انھیں گمراہ گر گمراہ نہ کر سکیں گے۔

ذراسوچیں کہ ہمارے مدارس و مکاتب کی طرف کون سا طبقۂ فکر متوجہ ہوتا ہے؟ تلخی کے یہ گھونٹ اپنے گلے کے نیچے اتارلیں کہ ہمارے یہاں۸۰؍فی صدغریب بچے پڑھنے آتے ہیں ۔اگر ان کے پاس عصری علوم حاصل کرنے کے لیے سرمایہ ہو تا تو یقین جانیے وہ کسی انگلش میڈیم اسکول اور یوینورسٹی کا ہی رخ کرتے۔

افسوس اس کا ہوتا ہے کہ مکاتب جن کی ازحدضرورت ہے، قائم نہیں ہو رہے ہیں بلکہ مدارس پہ مدارس قائم ہوتے جا رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ کمپٹیشن میں ایک ایک شہرمیں کئی کئی ادارے اورمدرسے کھل رہے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کمپٹیشن میں مدرسہ قائم ہوا تو وہاں بہتر تعلیم ہو تی، مگر ان کابھی حال نہایت ابتر ہے۔ میرے سامنے ایسی ایک نہیں، درجنوں مثالیں ہیں کہ کسی مدرس کا صدر المدرسین صاحب یا مہتمم صاحب سے کسی بات پرتنازع ہوا تو انھوں نے فوراً دوسرا مدرسہ قائم کر لیا اور چندے کا دھندہ شروع کر دیا۔اگر دین کی خدمت ہی کرنی ہے تو اچھے اور معیاری مکاتب کیوں نہیں قائم کیے جاتے؟آج کل مدرسہ قائم کرنا بہت آسان اور عام ہو گیا ہے ۔ کم پڑھے لکھے اور کم نظرمدرس کو پڑھانے کے لیے جدو جہد بھی نہیں کرنا پڑتی۔ کم پڑھے لکھے عوام انھیں مقتدا سمجھ کر انھیں حضرت حضرت کہہ کر پکارتے ہیں اور طلبہ دست بوسی کرتے ہیں۔ یہ حضرت اسی میں خوش ہو لیتے ہیں اور اسی کو مقصد زندگی اور کل دین سمجھ لیتے ہیں۔ جب اتنی عزت انھیں مفت میں مل رہی ہے تو وہ کیوں محنت کرنے لگیں؟ 

مدرسوں کی ریل پیل سے ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ حقدار لوگوں کو زکوٰۃ ،فطرے ،امداد کی رقم نہیں مل پاتی۔المیہ یہ ہے کہ مدارس اور مکاتب کا نظام عام طور پرایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو روح دین سے یکسر نابلد ہیں۔ دو چار موٹی موٹی باتیں جان لینے سے کوئی دین کاشناسانہیں بن جاتا۔ آج تعلیم گاہیں دولت کا انبار لگانے کاذریعہ بنتی جارہی ہیں۔ ذمے داران حکومت کی اسکیموں سے خوب خوب فیضیاب ہورہے ہیں مگراس حساب سے بچوں کو فیضیاب نہیں کررہے ہیں۔ پیسہ کماناکوئی بری بات نہیں، مگربری بات تب ہے جب مقصدصرف اورصرف پیسہ کماناہواوروہ بھی ناجائز طریقے سے اوردھوکہ دہی کے ساتھ جیسا کہ آج کل ایڈڈ مدارس میں ہو رہا ہے۔ مشاہدے کی مددسے یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اکثر مدارس یامکاتب کے ذمے داروں کوطلبہ کے مستقبل سے عملاًکوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔کیاوہ نہیں جانتے کہ ایک بچے سے کئی نسلوں کامستقبل وابستہ ہوتاہے؟ اگراس کامستقبل بربادہوگیا تواس کی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ یہ بچے دین کے مستقبل ہیں ،سماج کے مستقبل ہیں اورہمارے ملک کے مستقبل ہیں۔ اگران کی زندگیو ں سے کھلواڑ کیا گیا تو یہ سب سے بڑاجرم ہوگا ۔ایسے لوگوں کوخداکی بارگاہ میں جواب دہی کے لیے تیاررہناچاہیے ۔

کبھی غورکیاکہ آخر عصری اداروں کے طلبہ سے لے کر بڑے بڑے اہل مناصب وعہدے داران تک اکثر مسلمان آج صرف قومیت اورنام کے مسلمانوں کیوں ہیں؟ مشرقی روایات سے بدک کرمغربی روایات کی طرف کیوں بھاگتے ہیں؟ اس کے پیچھے مغرب زدہ اورالحاد آمیز تعلیمی نصاب ونظام کلیدی رول ادا کررہا ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل زیادہ تر غیروں کے مکاتب میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ ان کی تعلیم وتربیت مغربی نظریات وروایات کے سایے میں ہوتی ہے۔ ان اداروں کے اساتذہ اسلام کے حوالے سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذہن وفکر میں منفی نظریات منتقل کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے دوردوررہنے لگتے ہیں۔ یہ ادارے چونکہ ہر جہت سے اعلیٰ اور معیاری ہوتے ہیں، طلبہ کے بیٹھنے کااچھا انتظام،اچھے اساتذہ کے علاوہ یہاں ہروہ چیز میسرہوتی ہے جودورجدیدکی تعلیم گاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں کے سارے لوگ اصول وضوابط کی زنجیرو ں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ تعلیمی معیار نہایت بلند ہوتا ہے۔ یہاں کے طلبہ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہاں واقعی یہ کسی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ ظاہرہے کہ کوئی مسلم بچہ ان عصری اداروں سے نکل کرعمل کے میدان میں قدم رکھے گاتووہ ملحد،مغرب زدہ،فیشن پرست اوراسلامی احکام سے ناآشنا بلکہ ان سے متنفرہوہی جائے گا۔ دوسری طرف ہمارے مکاتب نہایت خستہ حالت میں ہیں۔ نہ کوئی اچھاانتظام ہے اور نہ کوئی اچھی سہولت۔ نصابی کتابیں نہایت غیر معیاری ہوتی ہیں اور اساتذہ میں جذبۂ دینی کا فقدان نظرآتا ہے۔ یہاں عموماً ایسی کتابیں داخل نصاب ہیں جو مغرب زدہ مصنفین کی تحریرکردہ ہیں۔ گویا ہمارے مکاتب کے درودیوار سے بھی مغربی نظریات اور غیر اسلامی روایات کی صداے باز گشت سنائی دیتی ہے۔ یہاں صرف براے نام تعلیم ہے اور براے نام تربیت۔یہ حقیقت بھی ہرکسی کے مشاہدے میں ہے کہ ہمارے مکاتب کے طلبہ عموماًپراگندہ حالی، تہذیب وتمدن سے خالی اور علم وادب سے عاری ہونے کی تصویرپیش کرتے ہیں۔ ذمہ داران ان اسلامی مدارس میں بچوں کواسلام کے نام پرجمع کرتے ہیں مگراکثربچے بے چارے اسلام کی تعلیمات ہی سے ناآشنارہتے ہیں۔

یہ کتنابڑا المیہ ہے کہ ہماری نئی نسل ہمارے بزرگوں کے کارنامو ں سے قطعاً ناواقف ہوتی جارہی ہے۔ ان کو مغربی مفکرین اور فلمی اداکاروں وادا کاراؤں کے نام تو خوب معلوم ہوتے ہیں لیکن اپنے اسلاف کی حیات اوران کے کارنامے توبہت دورکی بات ہے ، چندبڑے بزرگوں کے ناموں کے علاوہ انہیں نہ اپنے اسلاف کے نام معلوم ہیں اور نہ دین کی اصلیت کی کچھ خبرہے اوراگرکچھ معلوم بھی ہے تووہ بھی بہت سطحی اورناقص ہے جوکسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کی بھی شایان شان نہیں ۔مثال کے طورپرہمارے اسلاف نے ہندوستان میں بے شمارکارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔بے شمار اولیاے کرام اور مجاہدین عظام ہیں جنہوں اسلام کاپیغام گھرگھرپہنچانے ،ملک کی تعمیر وترقی کرنے ، اسے امن وانصاف کا گہوارہ بنانے اور آزادی دلانے میں اپنی جانوں کی بازی لگائی ہے، لیکن آپ انصاف سے بتائیے کہ کیا نئی نسل ان کے کارناموں سے واقف ہے؟ نصاب میں ہمارے ہی مذہب اورہماری ہی روایات کوتنقیدکانشانہ بنایاجاتاہے ،ایسے ایسے لوگوں کو بڑھا بڑھا کر پیش کیا جارہا ہے جنہوں نے آزادیِ ہند کے حوالے سے کوئی بھی قابل قدر کام نہیں کیا ، جنہوں نے انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوایا اور جن کی اسلام دشمنی اور وطن غداری بالکل مسلم ہے مگرچوں کہ یہ ساری باتیں ان کے نصاب میں شامل ہیں ا س لیے نئی نسل کاان کی قصیدہ خوانی کرنافطری ہے۔ مسلم مجاہدین کے کارناموں کو آج حرف غلط کی طرح مٹایا جاچکا ہے اور مزید کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ 

اس تناظر میں یہ کہنا بالکل حق بجانب اور صد فی صد درست ہے کہ اس وقت مدارس سے زیادہ مکاتب پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ مدارس توکچھ معیاری ہیں بھی مگر ایک بھی مکتب ہماری نظر سے اب تک ایسا نہیں گزرا جو طلبہ کو صحیح تعلیم وتربیت دے رہا ہو ۔زمانے کا اقتضا یہی ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو، اس طرف توجہ دی جائے ورنہ ہمارا قافلہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ خداراجلدی کیجیے۔اپنے بچوں کواپنے اسلاف سے دورمت ہونے دیجیے اوریہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اگروہ ہماری روایات اوراسلاف کی حیات سے دور ہو گئے توآپ اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی ہارگئے۔ بدلیے اپنے آپ کو ورنہ زمانہ آپ کو بدل دے گا۔ 

ضرورت ہے کہ انٹرمیڈیٹ تک ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جو ہماری تاریخی صداقتوں اوراسلامی احکام و روایات کی عظمتوں کو محیط ہو۔ ان نصابی کتابوں کو پڑھنے کے بعد طلبہ جب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں تو ان کے ذہن وفکر میں اسلام وسنیت کا شاداب گلشن آباد ہو اور یہ باطل نظریے کے کبھی بھی اسیر نہ بن سکیں بلکہ جب بھی کبھی اسلامی نظریات پر حملہ ہو تو اس کا دفاع اپنے عصری اور اسلامی علوم کے مطا لعے کی روشنی میں کرسکیں اور اپنے ماتحت ملازمین ، دیگر لوگوں ، حلقۂ احباب اور اہل خاندان کے سامنے اسلام کی صحیح ترجمانی پر قادر ہوں۔ عہد حاضر میں جب کہ بیشتر مسلمان اپنے بچوں کو دینی مدارس کی طرف نہیں بھیج رہے ہیں، وہ صرف عصری اداروں ہی کا رخ کررہے ہیں جہاں سے ان کا معاشی مستقبل بھی وابستہ ہوتا ہے ۔ایسے حالات میں اپنی اپنی بساط بھر اعلیٰ اورمعیاری مکاتب کا قیام وقت کا جبری تقاضاہے کہ جہاں یہ لوگ غیروں کے ادارے چھوڑکراپنے بچوں کو داخل کرانے پرمجبورہوجائیں اوریہاں پڑھ کران کے ذہن وفکر میں اسلامیات کا رنگ اتنا پختہ اور گہرا ہوجائے کہ پھر مرتے دم تک کوئی اس رنگ کودھندلا نہ کرسکے۔ بالخصوص عقائد اتنے پختہ ہوں کہ کوئی فکری طوفان اس میں خراش نہ پیدا کرسکے۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس