پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

ابھی کل کی بات ہے کہ امریکی اہانت آمیز فلم کے خلاف پورے عالم اسلام میں غیظ وغضب کے شرارے بلند ہونے لگے تھے۔ مظاہرین نے سفارت خانوں میں آگ لگا دی، سفارت کاروں کی زندگی کا چراغ گل کر دیا اور ابھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا محو حیرت ہے، دنیا والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ پیغمبر اسلام کے خلاف دریدہ دہنی اور ہرزہ سرائی مسلمان کے لیے کس قدر ناقابل برداشت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ مسلمانوں کی وفاداری کس قدر ناقابل شکست ہے۔ مسلمان ناموس رسول کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ اس محبت رسول کو نہ کوئی ختم کر سکتا ہے اور نہ اس خزانہ میں کوئی نقب لگا سکتا ہے۔ یہ محبت اس ذات کی ہے جو افضل البشر ہے اور جس کی حمد وثنا مالک حقیقی نے اپنی کتاب قرآن میں کی ہے اور جس کی تعظیم وتوقیر پچھلے انبیا نے اور تمام حکما اور دانشوروں نے کی ہے اور کرتے رہیں گے اور جس کی ذات مسلمانوں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ دین اسلام نے تو کفار ومشرکین کے بتوں تک کی توہین سے منع کیا ہے۔ اس دین اسلام کے ماننے والے کسی بھی نبی اور رسول کی اہانت گوارا نہیں کرسکتے ہیں، چہ جائیکہ اس رسول کی اہانت کو گوارا کریں جو ختم الرسل اور مولائے کل اور دانائے سبل ہو ، جس کے لیے خدا اور اس کے فرشتے اور تمام اہل ایمان رات دن درود بھیجتے ہوں اور جس کی شان میں شاہ عبد العزیز محدث نے یہ شعر کہا تھا:

لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر 

رسول کوئی بھی ہو، اس صفخہ ہستی پر وہ رب العالمین اور مالک کائنات کا سفیرہوتا ہے اور مالک کائنات کے سفیر کی بے حرمتی کی سزا قتل ہے اور اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اس موضوع پر پوری کتاب السیف المسلول علیٰ شاتم الرسول کے نام سے لکھ دی ہے۔ مرتد اگر تائب ہوجائے تو وہ قابل معافی ہے، لیکن شاتم رسول کو رسول کے جانب سے معاف کرنے کا کسی کواختیار نہیں ہے۔ جو لوگ شاتم رسول کی سزائے قتل کا انکار کرتے ہیں، مغربی معاشرہ کا وائرس ان کے ذہنوں میں سرایت کرگیا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ انگلستان میں بھی اہانت رسول کا قانون موجود ہے، لیکن یہ امتیازی قانون ہے اور صرف حضرت عیسیٰ کے ناموس کا تحفظ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سلمان رشدی جیسے لوگوں کو پیغمبر اسلام کے خلاف دریدہ دہنی کی کھلی اجازت ہے ۔

افسوس ہے کہ اس موقع پر آزادی اظہار کے حوالے غلط طور پر دیے جارہے ہیں۔ دوسروں کے مقدسات اور برگزیدہ پیغمبروں کی اہانت آزادی اظہار کے دائرہ میں نہیں آتی۔انگریزی کا مشہور محاورہ ہے کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں پڑوسی کی ناک شروع ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ آزادی یہ ہے کہ دوسروں کی آزادی میں خلل ڈالے بغیر اور دوسروں کو ایذ ا پہنچائے بغیر کوئی کام کیا جائے۔ کروڑوں انسانوں کے مقتدا کی اہانت کرنا اظہار کی آزادی نہیں ہے، یہ دوسروں کو ایذا پہنچانا ہے اور ان کے جذبات کو مجروح کرنا ہے، کیونکہ مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوسکتا ہے اور ایک جان نہیں، ہزار جانوں کو قربان کرسکتا ہے۔ وہ رسول اللہ کی جوتیوں کی خاک کو بھی دنیا کے بڑے سے بڑے حکمران کے تاج سے افضل سمجھتا ہے۔

اظہار خیال کی آزادی عین اسلامی طریقہ ہے ۔ اسلام میں ہر شخص کو اظہار خیال کی آزادی دی گئی ہے جب تک کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو اور خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی اس میں نہ ہو اور دوسروں کو ایذا نہ پہنچائی جائے۔ہر شخص کو اپنی پسند اور اپنے ضمیر کے مطابق عقیدہ رکھنے اور عبادت کرنے کی پوری آزادی اسلام میں حاصل ہے۔ اعلان کردیا گیا ہے: لا اکراہ فی الدین یعنی دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں ۔ اور صاف کہہ دیا گیا ہے: قد تبین الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت ویومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی یعنی سچائی اور ہدابت کا راستہ گمراہی کے راستہ سے الگ ہو گیا ہے اور واضح ہو گیا ہے۔ اب جس کسی نے بدی اور طاغوت کا انکار کیا، اس نے مضبوط رسی کو پکڑ لیا۔ اسلام نے یہ موقف اس لیے اختیار کیا ہے کہ عقیدہ کا مسئلہ انسان کے ضمیر سے متعلق ہے۔ اس معاملہ میں کسی طرح کا دباؤ غلط اور نا مناسب ہے ۔ اسلام اظہار خیال کے بارے میں یہ موقف رکھتا ہے۔اس کے مقابلے میں عیسائیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ مذہب ہی نہیں، سائنسی نظریات کے علم برداروں کو بھی زندہ نذر آتش کردیا جاتا تھا اور اظہار خیال کی کوئی آزادی کسی کو حاصل نہیں تھی۔دوسروں کو چھوڑیے، آج عیسائی دنیا یہ الزام مسلمانوں پر عائد کرتی ہے کہ اسلام میں اظہار خیال کی آزادی نہیں ۔ اردو کا ایک محاورہ ہے: سوپ تو سوپ وہ چھلنی بھی بولی جس میں بہتر چھاج۔

اسلام انسانوں کے درمیان مساوات کا قائل ہے۔ تمام بنی نوع انسان برابر ہیں۔ زبردستی کسی پر کوئی نظام حیات تھوپا نہیں جاسکتا۔ تمام انسان اللہ کی مخلوق ہیں اور اور سب آدم کی اولاد ہیں۔ صحیح راستہ کو سمجھنے اور اختیار کرنے کا حق سب کو یکساں طور حاصل ہے۔ سب مکرم اور قابل احترام ہیں: ولقد کرمنا بنی آدم  اس لیے سب ایک دوسرے کے لیے قابل احترام ہیں۔ اسلام نے عالمی اخوت اور بھائی چارگی کا درس دیا ہے، ایک دوسرے پر ظلم، ایک دوسرے کی توہین اور ایذا رسانی کی اجازت نہیں ہے۔ عالمی امن کا یہ بنیادی اصول ہے جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے ۔ بدامنی اور جنگ وجدال کی ابتدا اس وقت ہوتی ہے جب اصول شکنی ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے مقدسات اور عقیدہ کی اہانت کی جاتی ہے۔ اسلام نے تمام پیغمبروں پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ مشرکین کے بتوں کو بھی برا کہنے سے روکا گیا ہے۔ اگر دنیا ان زریں اصولوں پر عمل کرنے لگے تو امن کا گہوارہ بن جائے۔ بد امنی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ان اصولوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ اسلام کے لغوی معنی ہی امن اور سلامتی کے ہیں اور اللہ کے ناموں میں ایک نام سلام بھی ہے۔ جو دین امن عالم کا نگہبان ہے، اس میں زور اور زبر دستی اور اظہار خیال پر پابندی کی گنجائش نہیں، بشرطیکہ یہ اظہار خیال کسی کی توہین اور تذلیل کے لیے نہ ہو ۔ اس زمانے میں لوگ اسلام اور اس کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں تحمل اور برداشت نہیں ہے۔ انہیں اپنی غلطی نظر نہیں آتی، وہ مسلمانوں کے احتجاج پر معترض ہوتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کوئی شخص ان کے سامنے ان کے والدین کو گالی دے اور ان کے بزرگوں کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کرے تو انہیں کیسا لگے گا؟ بدگوئی، تہمت، الزام تراشی کوئی شخص اپنی بہن ماں اور بیٹی تک کے بارے میں برداشت نہیں کرسکتا، پھر خیر البشر اور افضل الانبیاء کے بارے میں بد زبانی توہین اور جسارت کو کئی مسلمان کیسے برداشت کرسکتا ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ اہانت اسلام یا اہانت رسول کے سلسلے میں ہمارا رد عمل کیا ہو نا چاہیے؟ کئی اسلامی ملکوں میں امریکی اور دیگر سفارت خانوں پر حملے ہوئے اور سفیروں کی جان گئی۔ کیا یہ طرز عمل اسلام اور تعلیمات اسلام کے مطابق ہے؟ ہمیں اس بارے میں بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنا چاہیے: قل اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول۔ مسلمان ہوتے ہوئے اس سے مفر نہیں کہ مسلمان سیرت رسول، اسوہ رسول اور آپ کے ہر فرمان اور قول کی بے چون وچرا اطاعت کرے۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام میں سفیر اور سفارت کا احترام کیا گیا ہے۔ سفیر کی جان محترم ہے، اگر چہ وہ دشمن ملک ہی کا سفیر کیوں نہ ہو۔ سفیر کی جان ومال اور آبرو پر اور سفارتکاروں پر حملہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب کے دو سفیر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بھی اقرار کر لیا کہ وہ اب مرتد ہو چکے ہیں تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم قاصد اور سفیر نہ ہوتے تو تمہیں قتل کردیا جاتا، چنانچہ آپ نے ان کو واپس کردیا اور ان سے تعرض نہیں کیا۔ ’’ لولا ان الرسل لاتقتل لضربت اعناقکمتا  (احمد وابو داود) حکم یہ ہے کہ کوئی سفیر اگر پیشگی امان لے کر حاضر نہ ہو اور کوئی سفارت کی دستاویز پیش نہ کرے اور صرف یہ اطلاع دے کہ وہ سفیر بن کر آیا ہے، تب بھی اس سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا :

فان دخل بغیر امان فان قال جئت رسولا فالقول قولہ لانہ تتعذر اقامۃ البینۃ علی ذلک ولم تزل تا تی من غیر بینۃ (المغنی ۹ ؍ ۲۸۱)
یعنی اگر دار الاسلام سے باہر کا کوئی شخص بلا امان داخل ہو جائے تو اس سے تحقیق کی جائے گی۔ اگر وہ کہے کہ میں سفیر یا قاصد بن کر آیا ہوں تو اس کے قول پر اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ اس پر دلیل قائم کرنا دلیل اور بینہ قائم کرنا دشوار ہے اور سفراء ہمیشہ پیشگی اطلاع کے بغیر آمد ورفت کرتے تھے۔ ( بحوالہ قاموس الفقہ جلد چہارم )

اسلام میں سفارت کا ا حترام اس قدر ہے کہ جب قریش مکہ نے ابو رافع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفیر بنا کر بھیجا اور ان کے دل میں ایمان میں جگمگا اٹھا اور انھوں نے یہ عرض کیا کہ وہ اب قریش کے پاس واپس نہیں جانا چاہتے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ کے پاس رہنا چاہتے ہیں تو آپ نے فرما کہ کہ میں عہد کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا اور تمہیں روک نہیں سکتا۔ ابھی تم وا پس جاؤ اور اگر واپس جانے کے بعد بھی تمہارے دل کی یہی کیفیت رہے تو ہمارے پاس واپس آجانا۔ ( احمد و ابو داؤد)

حکم یہ ہے کہ اگر کفار اپنے پاس مسلمانوں کو قتل کردیں، اس حال میں بھی ان کے قاصد کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کو امان اور پناہ دی اور پھر اس کو قتل کردیا تو میں اس شخص سے بری ہوں، خواہ وہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو ۔ اسلام میں کسی کو امان دینے کے بعد امان کی رعایت کرنے اور اس کی خلاف ورزی نہ کرنے کا حکم ہے ۔ سفیر وہ ہوتا ہے جسے اسلامی حکومت کی پناہ حاصل ہوتی ہے، اس لیے اسلامی حکومتوں کی اور مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کا ہر حال میں خیال رکھیں۔ سفیر اور سفارت خانوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ تعدی اور ایذا رسانی سے مکمل پر ہیز کریں۔ اس لیے اس وقت اسلامی دنیا میں امریکہ میں اہانت رسول سے متعلق فلم کے خلاف بطور احتجاج سفارتوں پر حملہ اور سفیر کے قتل کے جو واقعات پیش آ ئے ہیں، وہ افسو ناک ہیں۔ اس رد عمل کو کسی اعتبار سے صحیح نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ اس بارے میں اسلامی تعلیمات کو بیان کریں اور عوام کے جوش وخروش کو صحیح اور درست سمت کی طرف موڑ نے کی کوشش کریں۔ محبت رسول میں حکم رسول کی خلاف ورزی کی اجازت کسی حال میں نہیں دی جاسکتی۔ 

سفارت خانوں پر حملے کے مسلم حکومتوں کے ذریعے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں پر یہ دباؤ ڈالنا چاہیے کہ ایسا قانون وضع کیا جائے جس کے ذریعے دنیا کے تمام مذاہب اور بانیان مذاہب اور مقدسات کا احترام ضروری ہو، ورنہ دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ مذاہب اور پیغمبران عالم کی توہین اور ان کے بارے میں بد گوئی اور بدکلامی آزادی رائے کے دائرہ میں ہرگز نہیں آتی، لیکن مسلمانوں کا اصل اور مثبت رد عمل یہ ہونا چاہیے کہ دنیا کے تمام ملکوں میں اور دنیا کی تمام زبانوں میں پیغمبر امن واخلاق کی تعلیمات کو مؤثر انداز میں پھیلایا جائے اور اس کے لیے تمام جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جائے۔ اس دنیا میں لاکھوں سعید روحیں اس کی منتظر ہیں کہ اسلام کا پیغام امن ان کے پاس پہنچے۔ یہ کام تعلیم یافتہ عوام وخواص سب کے کرنے کا ہے اور مسلم حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہر مسلمان کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا اس نے اپنے غیر مسلم پڑوسی اور غیر مسلم دوست اور احباب تک اس سوغات نجات کو پہنچانے کی کوشش کی ہے ؟ دلوں کے بند دروازے پر دستک دینا اور اسلام کے لیے دلوں کو نرم کرنا اصل کام ہے جس کے لیے امت کو کھڑا ہونا ہے۔

وہ ادائے دلبری ہو یا نوائے عاشقانہ 
جو دلوں کوفتح کرلے وہی فاتح زمانہ

حالات و واقعات