’’اطراف‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(میاں انعام الرحمن کے مجموعہ مقالات ’’اطراف‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)


پروفیسر میاں انعام الرحمن ہمارے عزیز ساتھیوں میں سے ہیں۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا محترم حضرت مولانا ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز علماء لدھیانہ کے معروف خانوادہ کے بزرگ تھے اور رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کے ساتھ قریبی تعلق داری بھی رکھتے تھے۔ مولانا عبد اللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے۔ قیام پاکستان کے موقع پر لدھیانہ سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ آئے اور دار العلوم نعمانیہ کے نام سے مدرسہ قائم کر کے تدریس میں مصروف ہو گئے۔ میرا ان کے ساتھ نیازمندانہ تعلق رہا ہے۔ وہ جمعہ ہمیشہ مرکزی جامع مسجد میں پڑھتے تھے اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ غلطیوں پر ٹوکابھی کرتے تھے۔ ان کے فرزند حضرت مولانا عبد الواسع لدھیانویؒ آل انڈیا مجلس احرار اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں شمار ہوتے تھے جبکہ ان کے سب سے چھوٹے فرزند مولانا علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کے ساتھ کئی عشروں تک میری جماعتی رفاقت رہی ہے۔ علامہ صاحب نے ایک عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دیے ہیں اور وہ علماء لدھیانہ کی روایات کو تازہ رکھتے تھے۔

میاں انعام الرحمن کو میں بچپن سے جانتا ہوں اور اس دور سے انھیں دیکھ رہا ہوں جب وہ اسکول میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ علماء لدھیانہ کی حریت پسندی، اپنی بات کا بے باک اظہار اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی رائے کو پیش کرنے کا مزاج علماء کرام کے اس خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والوں پر مخفی نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ خاندان کے اس مزاج اور روایت نے میاں انعام الرحمن کی شخصیت اور ذوق کی تشکیل میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔ وہ پابند صوم وصلوٰۃ ہیں، وضع قطع میں خاندانی روایات کے دائرے کو قائم رکھے ہوئے ہیں، شرعی احکام وضوابط کی پابندی کرتے ہیں، علماء کرام کا احترام کرتے ہیں اور بزرگوں کی بات مان لینے کے خوگر ہیں، البتہ اپنی سوچ اور اس کے اظہار میں قدرے آزاد ہیں۔ بات ذرا مشکل اسلوب میں کرتے ہیں جو اکثر عام قاری کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔ وسیع تر مطالعہ اور اس کی بنیاد پر مختلف مسائل کا تیکھے انداز میں تجزیہ ان کا خصوصی ذوق ہے اور بہت سی باتیں ایسی کہہ جاتے ہیں جن سے اتفاق بظاہر مشکل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ہمارے ساتھی ہیں، الشریعہ اکادمی کی ورکنگ ٹیم کا حصہ ہیں اور وقتاً فوقتاً مختلف مسائل پر لکھتے رہتے ہیں جو ’الشریعہ‘ میں شائع ہوتا رہتا ہے۔

میری ایک ’’کمزوری‘‘ سے سب احباب واقف ہیں کہ میں آج کے حالات کے تناظر میں قدیم وجدید لٹریچر کا مطالعہ کرنے والے اور اپنے اس متنوع اور وسیع مطالعہ کی بنیاد پر مسائل کا تجزیہ کرنے والے اصحاب قلم کو ڈانٹنے اور ٹوکنے کا قائل نہیں ہوں، بلکہ حکمت عملی کے ساتھ ان کا ذہنی رخ موڑنے کی کوشش کو ترجیح دیتا ہوں اور یہ کوشش موقع ومحل کی مناسبت سے خود بھی کرتا ہوں۔ مجھے میاں انعام الرحمن کی بہت سے باتوں سے اختلاف ہوتا ہے اور ان کے مضامین کے زیر نظر مجموعہ کی بہت سی باتوں سے بھی مجھے اختلاف ہے، لیکن بحمد اللہ تعالیٰ میرے ذہن میں اختلاف اور بغاوت کے درمیان فرق کا نکتہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ کوئی صاحب فکر اور صاحب علم اگر ہمارے دینی اور علمی ڈھانچے کو چیلنج نہیں کرتا اور بغاوت کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اس کے اندر رہتے ہوئے کسی بات سے اختلاف کرتا ہے تو میں اسے خواہ مخواہ بغاوت سمجھنے یا زبردستی بغاوت کی طرف دھکیلنے کے رویے کو مناسب نہیں سمجھتا اور افہام وتفہیم (بالواسطہ یا بلا واسطہ) کے لہجے میں صحیح بات کی طرف توجہ دلانے کو زیادہ مفید طرز عمل تصور کرتا ہوں۔ میرے اس رویے سے بہت سے بزرگوں کو اختلاف ہوگا جو ان کا حق ہے، لیکن میرا طرز عمل بہرحال یہی ہے۔ اسی پر آئندہ بھی کاربند رہنے کا عزم رکھتا ہوں اور قدیم وجدید لٹریچر پرنظر رکھنے والی آج کی نسل کی راہ نمائی کے لیے اسی کو بہتر سمجھتا ہوں۔

میاں انعام الرحمن کے مضامین کا مجموعہ آپ کے سامنے ہے۔ اس کے مطالعہ کے دوران بہت سی باتوں میں آپ کو اجنبیت محسوس ہوگی، مگر میری درخواست ہے کہ اسے اس ذہن سے نہ پڑھیں کہ دین کی کوئی نئی تعبیر سامنے آ رہی ہے، بلکہ اس رخ سے دیکھیں کہ آج کے وہ اصحاب دانش جو دین کے ساتھ بنیادی وابستگی رکھتے ہیں اور روایت سے منحرف نہیں ہونا چاہتے، وہ کس انداز سے سوچتے ہیں، اس نئی سوچ کے ساتھ ہم آہنگی یا اختلاف کے مواقع کہاں کہاں ہیں اور ہم نے ایسی سوچ رکھنے والے حضرات کے ساتھ گفتگو اور مکالمہ کے لیے کون سا ایسا رخ اختیار کرنا ہے جو ان کے لیے بھی نفع بخش ہو اور ہم بھی افراط وتفریط کا شکار ہوئے بغیر اس کی افادیت کے دائرے کو وسیع کر سکیں۔

میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت میاں انعام الرحمن کی اس کاوش کو ان مسائل پر بہتر مکالمے کا ذریعہ بنائیں اور ہم سب کو فکر ونظر کی سلامتی کے ساتھ دین اور دنیا دونوں کو بہتر سے بہتر بنانے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

تعارف و تبصرہ