شش ماہی ’’معارف اسلامی‘‘ (خصوصی اشاعت بیاد ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ)

ڈاکٹر قاری محمد طاہر

ڈاکٹر محمود احمد غازی بڑی علمی شخصیت تھے۔ علمی حلقوں میں ان کا بڑا نام ہے۔ انہوں نے بہت زیادہ عمر نہیں پائی، لیکن ماہ و سال کی قلیل مدت میں انہوں نے بڑا نام کمایا۔ بہت اہم علمی آثار ورثہ کے طور پر چھوڑے جو اہل علم کے لیے روشنی کا سامان مہیا کرتے رہیں گے اور آپ کے خوان سے ہم علم کے موتی چنتے رہیں گے۔ آپ کا انتقال ۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ء میں ہوا۔ آپ کا انتقال علمی دنیا کابہت بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کا امکان مستقل قریب میں دور دور تک نظر نہیں آتا۔ 

آپ کے انتقال پر بہت سے رسائل نے اہم مضامین شائع کیے۔ ’’معارف اسلامی‘‘ اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جو ’’معارف اسلامی‘‘ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کلیہ علوم اسلامیہ کا علمی و تحقیقی رسالہ ہے۔ اس سے قبل آپ کی ذات کے حوالے سے گوجرانوالہ کا ماہنامہ ’الشریعہ‘ ایک وقیع نمبر پیش کر چکا ہے۔ تعلیمی اداروں میں شائع ہونے والے مجلات کی روایت کے مطابق مجلہ کے سرپرست علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں جبکہ مدیر مسؤل ڈاکٹر علی اصغر چشتی ہیں۔ مجلس مشاورت میں یونیورسٹی کے گیارہ پروفیسر حضرات کے نام موجود ہیں۔ مدیر مسؤل اور مدیر کو شامل کرکے یہ تعداد تیرہ ہو جاتی ہے۔ پھر مجلس مشاورت میں نو پروفیسر حضرات کے نام مستزاد ہیں جن کا تعلق پشاور سے لے کر قاہرہ اور امریکہ کی یونیورسٹیز کے ساتھ ہے۔ اس طرح کل ملا کر ۲۱ سے زائد پروفیسر حضرات اس مجلہ کو چلا رہے ہیں۔

کسی کتاب یا مجلہ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اس کے مباحث اور مواد سے لگایا جاتا ہے۔ محض ناموں کی کثرت کسی رسالہ کو بڑا نہیں بناتی۔ اگر اہل علم حضرات میں تختیاں لکھنے اور لگوانے کا شوق پروان چڑھ جائے تو قلمکار اور سیاست کار ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں اور قلم کاری اور سیاست کاری کے فاصلے سمٹ بھی جاتے ہیں۔ 

جن مقالہ نگار حضرات کی تحقیقات کو اس شمارہ میں شامل کیا گیا ان کی تعداد انیس (۱۹) ہے۔ جس میں تیرہ مقالات اردو میں ہیں، تین مقالات عربی میں اور تین انگریزی زبان میں ہیں۔ پہلے مقالے کاعنوان پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی شخصیت اور خدمات کے عنوان سے ہے جو ڈاکٹر اصغر علی چشتی کا تحریر کردہ ہے۔ آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ڈین کلیہ عربی و علوم اسلامیہ ہیں۔ آپ نے مقالے کا آغاز علامہ اقبال کے ایک شعرسے کیا ہے۔ شعر اس طرح لکھا ہے:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
چمن میں تب کہیں ہوتا ہے جاکر دیدہ ور پیدا

مقالہ نگار فاضل و عالم ہیں۔ ان سے تو یہ سہو ممکن نہیں تاہم مسودہ کمپوز کرنے والے اور پھر اس کو پڑ ھنے والے کا سہو ہو سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک کمپوز کرنے والے اور پروف خواں کا سہو قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ کیونکہ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے سہو کتابوں میں انہونی بات نہیں تاہم کتاب کے آغاز ہی میں اتنی بڑی غلطی کتاب کی قدروقیمت پر پہلی ہی نظر میں منفی اثرات لاتی ہے۔ بعض حضرات شعری اوزان کو اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک اصل مقصود بات کی تفہیم ہے۔ بات سمجھ میں آجائے تو اوزان کی پابندی شاید اہمیت کھو دیتی ہے۔

شعر می گویم بہ از آب حیات
من نہ دانم فاعلاتٌ فاعلاتٌ فاعلات

سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ 

دوسرے مضمون کا عنوان ’’بیابان کی شب تاریک میں قندیل‘‘ ہے۔ یہ مضمون مرحوم غازی صاحب کی بیٹی نائلہ غازی کے قلم سے ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کا مطالعہ ایک والد کی حیثیت سے کیا اور ان کی زندگی کے ان گوشوں کو وا کیا جو عام لوگوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ یہ مضمون بڑا جاندار ہے جس سے اولاد کے ساتھ محبت اور ان کی تربیت کے انداز کا پتہ چلتا ہے۔ نیز ان کی گھریلو زندگی کے پہلوؤں کے بارے میں روشنی ملتی ہے۔ 

’’علوم القرآن کی نئی جہات ڈاکٹر محمود احمد غازی کی محاضرات قرآنی کے تناظر میں‘‘ یہ مضمون ڈاکٹر ثناء اﷲ کا لکھا ہوا ہے جو ایک ہی عنوان سے دو مرتبہ تحریر کیا گیا۔ معلومات اگرچہ بہتر ہیں، تاہم تحصیل حاصل کا پہلو غالب ہے۔

’’دینی مدارس کا نظام و نصاب ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار سے استفادہ‘‘ کے عنوان سے لکھا گیا۔ یہ مضمون ڈاکٹر شاہ معین الدین ہاشمی کے قلم سے ہے۔ یہ مضمون جاندار ہے، محنت سے لکھا گیا ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر صاحب کی اس پختہ رائے کا علم ہوتا ہے جو وہ دینی مدارس اور دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے علوم کے بارے میں رکھتے تھے اور برملا اس کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے۔ 

اسی طرح ڈاکٹر جنید احمد ہاشمی کا مضمون ’’محکمات عالم قرآنی: اقبالیات میں ایک وقیع اضافہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ’’محکمات عالم قرآنی‘‘ ڈاکٹر غازی کی کتاب ہے جس پر مضمون نگار نے اچھی بحث کی ہے۔

اگلا مقالہ ’’افکار مجدد الف ثانی ؒ کے ڈاکٹر غازی پر اثرات‘‘ کے عنوان سے ہے جس کے لکھنے والے ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس ہیں۔ مقالہ نگار کے پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان بھی غالباً یہی تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر غازی کی بعض تحریروں سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مجددؒ سے ڈاکٹر غازی متاثر ہی نہیں بلکہ مستنیر بھی تھے۔ 

سات مضامین ڈاکٹر صاحب کی کتب کے حوالے سے لکھے گئے ہیں جو اسلام آباد کے ڈاکٹر حضرات کی مساعی جمیلہ کا نچوڑ ہیں۔ ان مضامین سے معارف اسلامی کی اس خصوصی اشاعت کی ضخامت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ 

معارف اسلامی کی اس خصوصی اشاعت میں سب سے زیادہ جاذب نظر مضمون ڈاکٹر محمد سجاد صاحب کا ہے جس کا عنوان ’’مکاتیب ڈاکٹر محمد حمید اﷲ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازی‘‘ ہے۔ آغاز میں انہوں نے ڈاکٹر حمید اﷲ مرحوم کے اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کے مختصر احوال کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر حمید اﷲ صاحب کے خطوط کی عبارات درج کی ہیں۔ یہ خطوط تعداد میں ۱۳۶ ہیں۔ یہ بات مسلم ہے کہ اہل علم کے خطوط بھی علمی ہوتے ہیں، خواہ ذاتی نوعیت ہی کے کیوں نہ ہوں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر حمید اﷲ مرحوم کے یہ خطوط انتہائی اہم ہیں۔ ہر خط علمی اعتبار سے کسی نئی جہت کا پتہ دیتا ہے۔ یہ تمام خطوط مستقل علمی تحقیق کا موضوع ہیں۔ معارف اسلامی کی مذکورہ خصوصی اشاعت میں یہ مضمون مرکزی حیثیت رکھتا ہے جس نے معارف اسلامی کے اس خاص شمارے کی قدر و منزلت میں خوب اضافہ کیا ہے۔ 

ڈاکٹر حمید اﷲ مرحوم کے مذکورہ خطوط ڈاکٹر غازیؒ نے خود ترتیب کے ساتھ مرتب فرما لیے تھے۔ ڈاکٹر محمد سجاد صاحب کے مطابق انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے حکم پر ان خطوط کی پروف خوانی کی۔ ڈاکٹر صاحب ان خطوط پر حواشی لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن زندگی نے وفا نہ کی۔ یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ ممکن ہے، کوئی صاحب علم آگے بڑھے اور ادھورا منصوبہ پورا کرسکے۔ ان خطوط میں پہلا خط ۷ ربیع الاوّل ۱۳۹۴ھ کا ہے۔ آخری خط ۲۶ دسمبر ۱۹۹۴ء کا ہے، جبکہ بقیہ دس خطوط پر تاریخ کا اندارج نہیں ہے۔ ان تمام خطوط میں ہر خط اپنی جگہ اہم ہے۔ ان خطوط کے مندرجات پر مزید تحقیقی کام کی بہت زیادہ گنجائش ہے جن سے علم و آگہی کے بڑے اہم مستور گوشے وا ہوسکتے ہیں۔ 

معارف اسلامی کے حصہ عربی میں تین مضامین شامل ہیں۔ پہلے مضمون میں ڈاکٹر عصمت اﷲ صاحب نے ڈاکٹر غازی صاحب کے احوال و آثار کا تذکرہ کیا ہے۔ دوسرے مضمون میں ڈاکٹر فضل اﷲ صاحب نے غازی صاحب کی عربی تصانیف کے اسلوب پر بحث کی ہے، جبکہ تیسرا مضمون ڈاکٹر محمد علی غوری کا ہے جس کا عنوان القانون الدوولی الاسلامی ہے۔

انگریزی زبان کے مضامین تقریباً اردو زبان میں لکھے گئے مضامین ہی کا انگریزی Version ہیں۔ مذکورہ خصوصی اشاعت میں مقالہ نگار حضرات کا تعارف بھی دیا گیا ہے جو اچھی روایت ہے۔ اس تعارف میں ان کے دیگر علمی آثار کا تذکرہ بھی شامل کر دیا جائے تو مزید بہتر ہوتا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی شاید بے محل نہ ہو کہ آغاز میں معارف اسلامی میں مقالہ کی اشاعت سے متعلق قواعد کے عنوان سے کچھ اصول دیے گئے ہیں۔ ان میں ایک شرط یہ بھی لکھی گئی ہے کہ مقالہ کسی اور جگہ شائع شدہ یا کسی اور جگہ اشاعت کے لیے نہ دیا گیا ہو۔ یہ شرط افشائے علم اور تعمیم علم کے منافی ہے جبکہ علم کو محدود کرنا اہل علم کے ہاں مذموم عمل ہے۔ 

مجموعی لحاظ سے معارف اسلامی کی خصوصی اشاعت ایک اچھا اضافہ ہے جس سے اہل علم مستقل استفادہ کرتے رہیں گے۔ 

توہین رسالت کا مسئلہ ۔ چند اہم سوالات کا جائزہ

تالیف: محمد عمار خان ناصر

سن اشاعت: مارچ ۲۰۱۱ء

ناشر: مکتبہ امام اہل سنت، جامع مسجد شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ

توہین رسالت کا مسئلہ انتہائی اہم بھی ہے اور انتہائی نازک بھی۔ ایمان کی معمولی رمق رکھنے والا ہر مسلمان اس معاملے میں حساس ہے۔ ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے۔ 

دردل مسلم مقام مصطفی است
آبروئے ما زنام مصطفی است

ماضی قریب میں پاکستان میں پیش آنے والے بعض واقعات نے اس مسئلہ کی اہمیت کو اور بھی اجاگر کر دیا ہے۔ اس موضوع پر اہل علم میں علمی بحثیں بھی سامنے آئیں۔ نام نہاد دانشوروں نے ٹی وی پر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ اس خالص علمی اور اعتقادی مسئلہ کو جذباتی رنگ دے کر خاص طبقے کو مطعون کرنے میں بھی کسر نہ چھوڑی۔ 

زیر تبصرہ کتابچہ اسی موضوع پر ہے۔ محمد عمار ناصر نوعمر قلم کار ہیں اور علمی دسترس بھی رکھتے ہیں۔ ایک علمی ماہنامے کے ایڈیٹر ہیں۔ جدید و قدیم علوم پر ان کی گہری نظر ہے۔ انہوں نے اپنی اس تصنیف کو سات بنیادی عنوانات پر تقسیم کیا ہے۔ جو اس طرح ہیں: 

۱۔ بنیادی سوالات 

۲۔ اسلامی ریاست کی ذمہ داری

۳۔ توہین رسالت کی شرعی سزا

۴۔ امام ابن تیمیہ کے مؤقف کا جائزہ

۵۔ فقہائے احناف کا نقطۂ نظر 

۶۔ حکمت و مصلحت کے چند اہم پہلو

۷۔ سزا کے نفاذ کا اختیار 

آخر میں ضمیمہ کے طور پر بعض اہم سوالات پر مراسلت بھی شامل ہے۔ 

توہین رسالت کے حوالے سے تین بنیادی نظریات ہیں۔ ایک نظریہ سیکولر یا لبرل ذہن رکھنے والوں کا ہے۔ وہ آزادی افکار کا سہارا لیتے ہیں اور توہین رسالت کرنے والے کے بارے میں کسی سزا کے قائل نہیں۔ ان کے ہاں فکری آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ لہٰذا کوئی طاقت اس آزادی میں مداخلت کا حق نہیں رکھتی۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ توہین رسالت انتہائی برا فعل ہے، لیکن اس کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ فاعفوا واصفحوا سے کام لینا چاہیے۔ ان کے نزدیک رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت کا پہلو غالب ہے۔ 

تیسرا نظریہ یہ ہے کہ اس جرم کا مرتکب شخص سخت سے سخت سزا کے مستوجب ہے جس میں موت تک کی سزا بھی شامل ہے۔ 

موصوف نے ان تمام پہلوؤں پر قدیم اکابر فقہاء اور علماء کی آراء کا جائزہ لیا ہے اور ان کی تحریروں سے نتائج اخذ کیے ہیں۔ علمی لحاظ سے مذکورہ کتاب نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اس موضوع پر جانکاری حاصل کرنے والوں کے لیے معلومات کا ذخیرہ ہے جس سے اس مسئلہ کو سمجھنے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے۔ 

تعارف و تبصرہ