مولانا معین الدین لکھویؒ اور دیگر اہل حدیث اکابر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ کی وفات صرف اہل حدیث حضرات کے لیے باعث رنج وصدمہ نہیں، بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد سے تعلق رکھنے والا ہر مسلمان اور ہر پاکستان ان کی جدائی سے غم زدہ ہے۔ جن بزرگ اہل حدیث علماے کرام کے ساتھ میرا عقیدت اور نیاز مندی کا تعلق رہا ہے، ان میں حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ بھی شامل ہیں۔ میں نے جب اردو لکھنا پڑھنا شروع کی تو بالکل ابتدا میں جو چند کتابیں میرے مطالعہ میں آئیں، ان میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ’’خطبات احرار‘‘ بھی تھی۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ احرار کے باقاعدہ کارکن رہے ہیں، اس لیے گھر اور ارد گرد کے ماحول میں احرار اور احرار راہنماؤں کا تذکرہ عام رہتا تھا۔ اسی پس منظر میں ’’خطبات احرار‘‘ کے مطالعہ کا موقع ملا۔ اس میں مولانا سید محمد داؤد غزنوی کا نام پہلی بار پڑھا اور عقیدت کا رشتہ جڑ گیا۔ مولانا غزنویؒ کی زیارت مجھے یاد نہیں، لیکن ان کے ساتھ عقیدت ومحبت کا رشتہ تب سے استوار ہے۔

ان کے بعد مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کی شخصیت نے بطور اہل حدیث اور بزرگ عالم دین میرے دل میں جگہ بنائی۔ صدر ایوب خان مرحوم نے ۱۹۶۲ء میں مارشل لا اٹھایا تو گوجرانوالہ میں پہلا سیاسی جلسہ میاں افتخار الدین مرحوم کی یاد میں ہوا جس کی صدارت مولانا محمد اسماعیل سلفی نے کی اور اس سے دیگر مقررین کے علاوہ آغا شورش کاشمیری اور شیخ حسام الدین نے بھی خطاب کیا۔ یہ میری زندگی کا پہلا سیاسی جلسہ تھا جس میں بطور سامع شرکت کی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی کی زیارت سب سے پہلے اس جلسے میں کی۔ اس کے بعد مختلف جلسوں میں انھیں سنا۔ ایک بار ارادہ کر کے ان کے پیچھے جمعہ پڑھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں، جہاں میں زیر تعلیم تھا، ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ پابندی سے آتا تھا اور میں اس کا اس وقت سے باقاعدہ قاری ہوں۔ اس میں مولانا محمد اسماعیل سلفی کے ارشادات اور سرگرمیاں پڑھنے کو ملتیں۔ ایک بار اپنے بزرگ مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ کا کوئی پیغام لے کر میں ان کے پاس گیا۔ مولانا محمد اسماعیل سلفی کا معمول تھا کہ عصر کی نماز کے بعد اردو بازار میں اسکول بک ڈپو پر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے تھے۔ وہاں کرسی پر بیٹھے ہوئے مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کا سراپا ابھی تک ذہن کی اسکرین پر موجود ہے۔

اسکول بک ڈپو بھی ایک اہل حدیث عالم دین مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی مرحوم کا تھا جو گکھڑ کی مسجد توحید گنج کے خطیب وامام تھے اور اردو بازار گوجرانوالہ میں اسکول بک ڈپو کے نام سے کتابوں اور اسٹیشنری کی دکان کرتے تھے۔ میرا تعلق بھی گکھڑ سے ہے۔ بچپن میں ان کے گھر میں بھی ہمارا آنا جانا رہتا تھا اور ان کے بچے بھی ہمارے گھر میں آیا کرتے تھے۔ جماعت مجاہدین کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔ وہ کشمیر اور قبائل کے مجاہدین کی وقتاً فوقتاً مدد کرتے تھے اور آتے جاتے بھی رہتے تھے۔ کافی عرصے کے بعد سردار محمد عبد القیوم خان نے ایک ملاقات میں ان کا تذکرہ کیا تو مجھے بھی بہت سی باتیں یاد آ گئیں اور ہم کافی دیر تک حافظ محمد یوسف گکھڑوی اور ان کی جہادی سرگرمیوں کی باتیں کرتے رہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ کے ہمراہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے جنازے میں بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جو مولانا حافظ محمد یوسف گکھڑوی نے پڑھائی تھی۔

مولانا محمد اسماعیل سلفی کے بعد اس فہرست میں تیسرے بزرگ اہل حدیث عالم دین مولانا عبد الغفار حسن تھے۔ ان کے ساتھ میری پہلی ملاقات فیصل آباد میں مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف کے گھر میں ہوئی جہاں میں کبھی کبھی جایا کرتا تھا اور وہ بھی بہت شفقت فرمایا کرتے تھے۔ میں نے تین بزرگوں کا اپنی زندگی میں معمول دیکھا ہے کہ وہ رات کو سویا نہیں کرتے تھے۔ ان کی محفلیں رات گئے آباد ہوتی تھیں اور صبح اشراق سے فارغ ہو کر دوپہر تک ان کا سونے کا معمول تھا۔ ان میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے علاوہ مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ بھی تھے۔ بعض دفعہ ایسا ہوا کہ میں فیصل آباد میں کسی جلسے سے خطاب کرنے کے لیے گیا اور نصف شب کے لگ بھگ خطاب سے فارغ ہو۔ اسٹیج سے اترا تو دیکھا کہ حکیم عبد الرحیم اشرف صاحب کی گاڑی کھڑی ہے۔ ان کو کہیں سے میری آمد کا پتہ چل جاتا تھا اور وہ گاڑی بھیج دیتے تھے کہ میں ان کے ہاں سے ہو کر واپس جاؤں۔ وہاں حاضری ہوتی تو محفل خوب گرم ہوتی اور صبح سحری کے وقت ہی وہاں سے واپسی کی گنجائش نکلتی۔ 

مولانا عبد الغفار حسن نے مجھے بتایا کہ وہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران جیل میں والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ساتھی رہے ہیں تو تعلق ومحبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ وہ مجھے ہمیشہ شفقت سے نوازتے اور مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر سکون ملتا تھا۔ ۱۹۸۷ء میں شریعت بل کی تحریک کے لیے پیش پیش حضرات میں میرا نام بھی ہے۔ اس دوران بعض دوستوں کی غلط فہمی سے فقہ حنفی اور اہل حدیث کشمکش کے حوالے سے بحث چھڑ گئی اور ایک معروف اہل حدیث جریدے میں شریعت بل کے پس منظر میں فقہ حنفی کے خلاف تند وتیز مضمون شائع ہوا۔ مولانا عبدالغفار حسن کو خدشہ ہوا کہ میں اس کا جواب دوں گا تو بحث بڑھ جائے گی اور خواہ مخواہ تلخی میں اضافہ ہوگا۔ اس خدشے کے پیش نظر انھوں نے مجھے بطور خاص پیغام بھجوایا کہ اس کے جواب میں آپ کچھ بھی نہ لکھیں، میں خود اس کی وضاحت کروں گا۔ میں نے ان کے حکم کی تعمیل میں خاموشی اختیار کر لی اور مولانا عبد الغفار حسنؒ نے اسی جریدے کے اگلے شمارے میں ایک مضمون کے ذریعے لوگوں کو سمجھا دیا کہ یہ حنفی اہل حدیث مسئلہ نہیں، بلکہ قرآن وسنت کا نفاذ اور شریعت کی بالادستی امت کا اجتماعی مسئلہ ہے جسے فرقہ وارانہ تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہے۔

ایک اور اہل حدیث عالم دین مولانا حکیم عبد الرحمن آزادؒ کے ساتھ مجھے کم وبیش دو عشروں تک تحریک ختم نبوت کے لیے اکٹھے کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ ڈویژن کے امیر تھے۔ تحریک ختم نبوت کے لیے اس دوران میں جب بھی کوئی مشترکہ فورم تشکیل پایا، میں حکیم صاحب کی ٹیم کا حصہ رہا۔ اکٹھے تحریکی جدوجہد کا کئی بار حظ اٹھایا اور مل جل کر دینی جدوجہد میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔

حضرت مولانا معین الدین لکھوی بھی اسی صف کے بزرگ تھے۔ ۱۹۸۷ء کی تحریک شریعت بل اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ متحدہ شریعت محاذ کے سرگرم کارکن کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ حالات سے باخبر اور وقت کے تقاضوں سے آشنا بزرگ تھے۔ جچی تلی گفتگو کرتے تھے اور اجتماعی معاملات میں دینی موقف کی بھرپور ترجمانی کرتے تھے۔ ان کی خدمت میں بھی کئی بار حاضری کا موقع ملا اور ہر بار شفقت اور دعاؤں سے فیض یاب ہوا۔ جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں بھی ایک بار ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو بہت خوش ہوئے اور بہت سے معاملات میں مشاورت ہوئی۔ ان کا ایک جملہ بہت یاد آتا ہے جو خود انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ ایک جگہ کسی جذباتی دوست نے ان سے سرمحفل سوال کر دیا کہ شریعت بل کے نام سے فقہ حنفی تو نافذ نہیں ہوجائے گی؟ انھوں نے اس کا جواب دیا کہ اگر ہو بھی گئی تو کیا؟ ’’فقہ فرنگی‘‘ سے بہتر ہوگی۔

حضرت مولانا عبد القادر روپڑیؒ اہل حدیث علماے کرام میں بڑے مناظر تھے اور حنفیوں کے ساتھ مناظروں میں ان کا نام سرفہرست ہوتا تھا، مگر میرے ساتھ ان کا معاملہ بھی ہمیشہ شفقت کا رہا۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں ان کے ساتھ رفاقت رہی۔ ایک بار ان سے ملاقات کے لیے دال گراں چوک کے اہل حدیث مرکز میں حاضر ہوا تو بڑی محبت سے ملے اور فرمایاکہ ’’تم اچھی باتیں کیا کرتے ہو، کبھی کبھی آ جایا کرو۔‘‘

حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ کی وفات کی خبر پڑھ کر بزرگ اہل حدیث علماے کرام کے ساتھ اپنے تعلقات کی بہت سی باتیں ذہن میں تازہ ہو گئی ہیں جن میں سے چند ایک کا میں نے تذکرہ کر دیا ہے، لیکن اپنے دو بے تکلف دوستوں اور ساتھیوں علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ اور مولانا سید حبیب الرحمن شاہ بخاریؒ کا نام میں نے عمداً اس فہرست میں شامل نہیں کیا اور کسی دوسرے مناسب موقع کے لیے چھوڑ دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا معین الدین لکھویؒ سمیت ان سب بزرگوں کی مغفرت فرمائے اور ان کی حسنات کو قبول کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین

اخبار و آثار