جنوری ۲۰۱۲ء

رائے کی اہلیت اور بحث و مباحثہ کی آزادی

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی ہمارے فاضل دوست ہیں اور مخدومنا المکرم حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاندانی تعلق کے باعث وہ ہمارے لیے قابل احترام بھی ہیں۔ ہمارے ایک اور فاضل دوست مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی کی زیر ادارت شائع ہونے والے جریدہ ماہنامہ ’’فقاہت‘‘ لاہور کے دسمبر ۲۰۱۱ء کے شمارے میں، جو احناف کی ترجمانی کرنے والا ایک سنجیدہ فکری وعلمی جریدہ ہے، مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی نے اپنے ایک مضمون میں ’’الشریعہ‘‘ کی کھلے علمی مباحثہ کی پالیسی کوموضوع بنایا ہے اور اس سلسلے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے...

مولانا معین الدین لکھویؒ اور دیگر اہل حدیث اکابر

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ کی وفات صرف اہل حدیث حضرات کے لیے باعث رنج وصدمہ نہیں، بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد سے تعلق رکھنے والا ہر مسلمان اور ہر پاکستان ان کی جدائی سے غم زدہ ہے۔ جن بزرگ اہل حدیث علماے کرام کے ساتھ میرا عقیدت اور نیاز مندی کا تعلق رہا ہے، ان میں حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ بھی شامل ہیں۔ میں نے جب اردو لکھنا پڑھنا شروع کی تو بالکل ابتدا میں جو چند کتابیں میرے مطالعہ میں آئیں، ان میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ’’خطبات احرار‘‘ بھی تھی۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان...

میرزا عبدالرحیمؒ کے نام مجدد الف ثانیؒ کے خطوط

― پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ (۹۷۱۔۱۰۳۴ھ / 1624-1563ء) نے ’’اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ‘‘ کے اصول کے مطابق جن سیاسی شخصیات کو خاص طور پر خطوط صادر فرمائے اور ان کی اصلاح کی راہ سے بادشاہ، امرا اوردیگر عمائدین حکومت کی اصلاح کا قصد فرمایا ،ان میں ایک بڑا نام میرزا عبدالرحیم خانِ خاناں کا ہے ۔ حضرت مجددؒ کے طرزِ عمل سے ہمیں یہ راہنمائی ملتی ہے کہ داعی کا ایک اہم ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے میں صاحبانِ اقتدار میں سے سلیم الفطرت انسانوں کی کھوج میں خصوصی محنت کرے ،کیونکہ ایسے لوگوں کو تھوڑی سی محنت سے جادۂ مستقیم پر گامزن کیا جاسکتا...

’’حیات سدید‘‘ کے چند ناسدید پہلو (۳)

― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

یہ کہنا کہ ’’علامہ کا مطمح نظر دارالاسلام میں فقہ اسلامی کی تدوین نو تھا، جب کہ حضرت مولانا فقیہ نہیں تھے۔ ویسے بھی انہیں اس کام میں دلچسپی نہ تھی۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا۔‘‘ (حیات سدید صفحہ نمبر ۱۷۳) مولانا مودودی اور اقبال دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اقبال نے بہر حال مولانا کو اس کام کی ابتدائی تیاری کے لیے دارالاسلام منتقل ہونے کے لیے کہا تھا۔ وہ اس انتخاب کے لیے موزوں نہیں تھے تو مطلب یہ ہوا کہ اقبال کا انتخاب غلط تھا۔ مولانا مودودی اپنے خط نمبر ۹ مورخہ ۲۶۔مارچ ۱۹۳۷ء بنام چوہدری نیاز علی میں حیات سدید کے صفحہ نمبر ۴۹۹، ۵۰۰ پر لکھتے ہیں:...

جامع مسجد نور کی تاسیس کا پس منظر

― الحاج ظفر علی ڈار

روزنامہ اسلام کے ایک ذیلی رسالہ ’’بچوں کا اسلام‘‘ کے شمارہ نمبر ۴۹۵، مورخہ ۱۸؍ دسمبر ۲۰۱۱ء میں محمد معاذ نامی ایک صاحب کا مراسلہ بعنوان چھپڑ والی مسجد شائع ہوا ہے۔ مراسلہ نگار نے اپنی غلط اور گمراہ کن معلومات کی بنیاد پر، جو اس نے اپنے والد مسمی سیف الرحمن قاسم سے شنید کی ہیں، اس مسجد کی تاسیس کا سہرا اپنے پردادا کے سر باندھا ہے۔ چونکہ معاذ صاحب کی یہ تحریر بڑی غلط فہمیوں کو جنم دینے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے راقم الحروف نے اس مسجد کی تاسیس کے بارے میں درست حقائق کو معرض تحریر میں لانا ضروری سمجھا تاکہ تاریخ کا ریکارڈ درست رہے۔ اس مسجد کی...

علمی و اجتہادی مسائل میں رائے کا اختیار

― حافظ زاہد حسین رشیدی

ماہنامہ ’الشریعہ‘ نے جہاں کچھ عرصہ سے دینی جرائد میں مقبولیت حاصل کی ہے، وہیں اس کے علمی واجتہادی مسائل میں مباحثے نے بیسیوں Side Effects اثرات کے خدشات کو جنم دیا ہے جن کا اظہار بعض مقتدر شخصیات کرتی رہتی ہیں اور ’الشریعہ‘ کے صفحات پر ان کو جگہ دی جاتی ہے۔ ہماری ناقص رائے میں علمی مباحثے کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ضروری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہم اور نازک ترین مسائل میں اپنی رائے پیش کرنے کا اختیار کسے حاصل ہے؟ ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر ہمارے مخدوم بزرگ حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ رائے دینے کی اہلیت اور نااہلیت کے حوالے سے کسی اصول وضوابط...

مکاتیب

― ادارہ

(ا) محترمی جناب محمد عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم۔ آپ کا مقالہ ’’خروج‘‘ مجھے سہیل عمر صاحب ڈائریکٹر اقبال ایکاڈیمی نے بھیجا ہے جو میں نے بڑے شوق سے پڑھا۔ جب آپ نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف گجرات کے منعقدہ سیمینار پر کیا تھا تو میں موجود نہ تھا۔ اسی طرح میں نے بھی وہاں لکچر ’’وہ کام جو اقبال ادھورے چھوڑ گئے‘‘ کے موضوع پر دیا تھا جو اب ایک مقالے کی صورت میں تحریر کر دیا گیا ہے۔ شاید سہیل عمر صاحب اس کا پرنٹ آپ کو ارسال کریں۔ مناسب سمجھیں تو ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں شائع کر سکتے ہیں۔ ’الشریعہ‘ مجھے باقاعدہ ملتا ہے۔...

شش ماہی ’’معارف اسلامی‘‘ (خصوصی اشاعت بیاد ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ)

― ڈاکٹر قاری محمد طاہر

ڈاکٹر محمود احمد غازی بڑی علمی شخصیت تھے۔ علمی حلقوں میں ان کا بڑا نام ہے۔ انہوں نے بہت زیادہ عمر نہیں پائی، لیکن ماہ و سال کی قلیل مدت میں انہوں نے بڑا نام کمایا۔ بہت اہم علمی آثار ورثہ کے طور پر چھوڑے جو اہل علم کے لیے روشنی کا سامان مہیا کرتے رہیں گے اور آپ کے خوان سے ہم علم کے موتی چنتے رہیں گے۔ آپ کا انتقال ۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ء میں ہوا۔ آپ کا انتقال علمی دنیا کابہت بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کا امکان مستقل قریب میں دور دور تک نظر نہیں آتا۔ آپ کے انتقال پر بہت سے رسائل نے اہم مضامین شائع کیے۔ ’’معارف اسلامی‘‘ اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جو ’’معارف...

’’اطراف‘‘

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پروفیسر میاں انعام الرحمن ہمارے عزیز ساتھیوں میں سے ہیں۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا محترم حضرت مولانا ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز علماء لدھیانہ کے معروف خانوادہ کے بزرگ تھے اور رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کے ساتھ قریبی تعلق داری بھی رکھتے تھے۔ مولانا عبد اللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے۔ قیام پاکستان کے موقع پر لدھیانہ سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ آئے اور دار العلوم نعمانیہ کے نام سے مدرسہ قائم کر کے تدریس میں مصروف ہو گئے۔ میرا ان کے...

سیمینار: ’’ریاست و حکومت: علامہ اقبال اور عصری مسائل‘‘

― ادارہ

عصر حاضر کے عالمِ اسلام میں جن مفکرین کے نام سرِ فہرست آتے ہیں ان میں علامہ محمد اقبال کو مقامِ نام آوری اور مسندِ امتیاز و افتخار حاصل ہے ۔ لطافتِ خیال اور وسعت فکر میں ان کو اپنے عہد کی عظیم شخصیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جس مہم کا آغاز کیا اور جس تصور کی عملی تشکیل کی اس میں شاعرانہ حسن تخیل، فلسفیانہ ژرف نگاہی، مجاہدانہ روح اور قوت ارادی ان کے شریک کار رہی۔ ان کی نظم و نثر کا ہر پہلو ان کے جلوۂ ذہانت اور بصیرت حکیمانہ کا آئینہ دار ہے۔ حضرت اقبال کا فلسفہ اور شاعری بہت سے ارباب دانش کا موضوع فکر بنا لیکن ان کے منظرِفکر و بصیرت کے مختلف...

اخبار و آثار

― ادارہ

برطانیہ کے ممتاز عالم دین، دانش ور اور اسکالر اور ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری گزشتہ ماہ رائے ونڈ کے عالمی تبلیغی اجتماع کے موقع پر پاکستان تشریف لائے اور رائے ونڈ کے علاوہ لاہور، کراچی، فیصل آباد، سرگودھا، ڈھڈیاں شریف، گوجرانوالہ اور دیگر مقامات کا دورہ کیا۔ انھوں نے عالم اسلام کے علمی وفکری مسائل پر مختلف اجتماعات سے خطاب کیا اور سرکردہ علماء کرام کے ساتھ مشاورت کی۔ مولانا منصوری ۲۷؍ نومبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے اور ماہانہ فکری نشست میں تفصیلی اظہار خیال فرمایا۔ ان کا خطاب الشریعہ کی ویب...