دعوت الی اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے (۱)

مولانا محمد عیسٰی منصوری

دعوت

اسلام کی روح اورطاقت: حضرات انبیا کا بنیادی اور اصل کام دعوت الی اللہ یعنی انسانوں کو اللہ کی طرف بلانا تھا۔ وہ انسانوں کو اللہ کا تعارف کرواتے، اللہ کی عظمت وبڑائی دلوں میں اتارتے، ان میں آخرت کی فکر پیدا کر کے ان کا رخ دنیا سے آخرت کی طرف موڑتے اور انہیں اللہ کے لیے مرنا اور جینا سکھاکراللہ والا بنادیتے۔ نبیوں کا طریقہ براہ راست انسانوں تک پہنچ کر انہیں ایمان واسلام پہنچاناتھا۔ انبیاء علیہم السلام دین کے دوسرے کام تعلیم وتعلم، تزکیۂ نفس، ذکروتلاوت، صدقہ وخیرات، دعوت کے ضمن میں اور تابع کرکے انجام دیتے تھے۔ ان کی پوری زندگی اور زندگی کے ہر دن اور ہرلمحے کا بنیادی کا م دعوت ہی تھا۔ خاتم النبیین اور آپ کے صحابہؓ کازندگی بھریہی اصل مشغلہ تھا، البتہ کبھی کبھی دعوت کی راہ کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے قتال کی بھی نوبت آجاتی تھی۔ دعوت کی بدولت ہجرت کے بعد دس سال میں روزانہ ۲۷۴ میل کے حساب سے اسلام پھیلتا گیا۔ آپ ؐکی وفات تک کم وبیش دس لاکھ مربع میل کا علاقہ اسلام کے زیرنگیں آگیاتھا۔ آپ کے بعد چالیس سال کی مختصر سی مدت میں تقریباً ۶۵ لاکھ مربع میل علاقہ پر اسلام کی عمل داری قائم ہوگئی، یعنی اس دور کے تین معلوم براعظموں (ایشیا، افریقہ اوریورپ کے بڑے حصہ) پر جسے آج مسلم ورلڈ یا عالم اسلام کہاجاتاہے۔ یہ درحقیقت پیغمبراسلامؐ اور آپ ؐکے صحابہ کرامؓکی دعوت کا پھل ہے۔ بعدکے ادوار میں مسلمان تدریجاً دعوت سے دور ہوتے گئے، اگرچہ بعد کے ادوار میں بھی کسی نہ کسی درجہ میں اسلام کی اشاعت ہوتی رہی اور اس اشاعت اسلام میں دیگر عوامل نے بھی تھوڑا بہت کردار ادا کیا، لیکن دعوت اور غیردعوت کے ادوار میں اشاعت اسلام میں نمایاں فرق یہ رہا کہ جن خطوں اور علاقوں میں دعوت کے ذریعہ اسلام پہنچا، وہ آج تک ایمان پر قائم اور پوری طرح محفوظ ہیں اور جن خطوں میں عسکری فتوحات یا دیگر عوامل سے اسلام پھیلا، عسکری قوت کے کمزور پڑنے کے ساتھ وہاں دوبارہ کفرکی عمل داری قائم ہوگئی۔

دین کے اجتہادی شعبے اصل (دعوت)کے ساتھ ہی پورا فائدہ دیں گے :بعدکے ادوار میں دعوت کے بجائے دین کے دیگر اجتہادی شعبوں کی طرف توجہ مرکوز ہوجانے کی وجہ سے ایک طرف نئے نئے خطوں اور علاقوں میں اسلام کی اشاعت کی رفتار سست وکمزور ہوتی گئی، دوسری طرف خود مسلمانوں میں ایمانی وعملی ضعف وکمزوری درآئی جس کی وجہ سے طرح طرح کے اعتقادی وفکری فتنوں وگمراہیوں نے جنم لیا حتیٰ کہ آج یہ حالت ہوگئی کہ اگر مسلمان کہلانے والوں کو قرآن وسنت کی کسوٹی پر پرکھاجائے تو انہیں مسلمان کہنا مشکل ہوگا۔ دین کے دیگر شعبے جب تک اصل کام (دعوت) کے ضمن میں چلتے رہے، ان میں ترقیات، فوائد اور خیروبرکت رہی اور جب اصل (دعوت)کی جگہ دین کی اجتہادی شکلوں، تعلیم وتعلم، درس وتدریس، تصوف وتزکیہ، تذکیر وتبلیغ نے لے لی یعنی دعوت کے بجائے اجتہادی شعبے ہی رہ گئے تو ان میں رسمیت آکر طرح طرح کی خرابیاں پیداہونے لگیں، کیونکہ صرف دعوت ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعہ داعی کا ربط وتعلق ایک طرف براہ راست اللہ سے اور درسری طرف لوگوں سے استوار رہتاہے۔ جب تک یہ تعلق قائم رہے، کفر اور باطل طاقتیں اپنی سازشوں اور کوششوں میں کامیاب نہیں ہوپاتیں۔ حضرت امام مالک ؒ کا قول مشہور ہے کہ اولین دور یعنی دور نبوت میں امت کی صلاح وفلاح، ترقی وکامیابی جس طریقہ پر ہوئی، آخری دور میں بھی اور (درمیان میں بھی) اسی راہ (دعوت) سے ہوگی۔

حق وباطل کی جنگ میں سنت الٰہی

حق وباطل کی جنگ میں یہ ہمیشہ سے اللہ کی سنت رہی ہے کہ باطل کو مادّی وسائل واسباب نہایت فراوانی سے دیے جاتے ہیں اور ان کے مقابلے کے لیے حضرات انبیاء علیہم السلام کوجو اسباب اور سازوسامان عطا کیا جاتا ہے، وہ ہے’’دعوت اور دعا‘‘ یعنی دن کو، جان کھپاکر لوگوں کو اللہ کی بات پہنچانا اور رات کو اللہ کے سامنے آہ وزاری اور دعا میں مشغول رہنا۔ دعوت کی بدولت داعی کے ساتھ اللہ کی خاص نصرت وطاقت شامل حال ہوجاتی ہے، ایسی طاقت جس کا مقابلہ کوئی دنیوی طاقت نہیں کر سکتی۔ گویا دعوت کا عمل دنیا میں بھی غلبہ وکامرانی کی شاہ کلید اور گہری حکمت ہے۔ داعی کسی قوم وملک کو دعوت دے کر گویا اسے اس سے بے انتہا بڑی قوت وطاقت سے بھڑا یعنی ٹکرا دیتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ قوم وملک یامطیع (مسلمان) ہو جاتا ہے یا خداکا غیبی نظام اس کے خلاف پڑ کر اسے تباہ کردیتاہے، چنانچہ دور نبوت میں بھی یہی ہوا۔ اُس وقت دنیا پر عملاً دو سپر پاورز کی عمل داری قائم تھی۔ ایک رومن امپائر اور دوسری پرشین امپائر۔ اگر صحابہ کرامؓ ان دونوں سُپر پاورز کے مقا بلے کا مادّی سازوسامان، اسلحہ واسباب اکٹھا کرتے تو شاید صدیوں تک ان کے مقابلے کے اسباب ووسائل جمع نہ کر پاتے۔ صحابہ کرامؓ نے کامیابی کی مختصر راہ اختیار فرمائی، یعنی ان کو اللہ کی طرف دعوت دی۔ انکار کرنے پر اللہ کی غیبی طاقت ونظام ان کے خلاف ہو گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گنتی کے چند سالوں میں صدیوں سے جمی جمائی دونوں عظیم سلطنتیں اس طرح مٹ گئیں جیسے نمک پانی میں تحلیل ہوکر ختم ہو جاتا ہے۔ آج ان دونوں سپرپاورز کی سرزمین ہی اصل دارالاسلام ہے۔

ملت اسلامیہ کے لیے واحد راہ عمل صرف دعوت ہے

غورکیاجائے تو آج کے دور میں بھی ملت اسلامیہ اور عالمی کفریہ طاقتوں کے مابین طاقت اسباب ،وسائل کاتقریباً وہی تناسب ہے جوآج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے تھا، بلکہ جدید سائنسی وٹکنالوجی ترقی نے اسلام اور کفر کے درمیان طاقت کے تناسب میں فرق کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگر دور نبوت میں طاقت کا تناسب ایک اور دس کا تھا تو اب ایک اور ہزار کا ہو گیا ہے۔ مثلاً غزوۂ بدر میں صرف تعداد کا فرق تھا۔ ایک طرف تین سو تیرہ ہیں، دوسری طرف گیارہ سو، مگر دونوں کے پاس دستی ہتھیار تھے۔ اب جدید سائنس نے الیکٹرونک اسلحہ دے کر ایک فرد کو اس قابل بنادیاہے کہ وہ ایک بٹن دباکرپورے ملک کو تباہ کرسکتاہے،اس لیے اب ملت اسلامیہ کے لیے غلبہ وکامرانی حاصل کرنے کی صرف ایک ہی راہ باقی رہ گئی ہے جو دور نبوت میں تھی، یعنی دعوت الیٰ اللہ۔ اشاعت اسلام کی پوری تاریخ دعوت کی تاریخ ہے۔ مسلمانوں نے گزشتہ چودہ سو سالہ دور میں مراکش سے انڈونیشیا تک جو کچھ حاصل کیا، وہ دعوت ہی کی بدولت حاصل کیا اور جو کھویا، دعوت میں کوتاہی سے کھویا۔ آج دنیا بھرمیں مسلمانوں کو جو سزامل رہی ہے، وہ درحقیقت دعوت چھوڑنے کی سزاہے کہ ہم نے لوگوں کو ان کی امانت یعنی ایمان واسلام ان تک نہیں پہنچایا ،اس لیے ہم اللہ اور انسانیت دونوں کے مجرم بن گئے۔

ملت اسلامیہ کے تین دور

حضرت جی مولانا یوسفؒ نے ۱۹۶۳ء میں تقریباً تین گھنٹے دعوت کی تاریخ پر ایک تقریر فرمائی (جو بندہ نے حضرت کے سامنے بیٹھ کر قلم بند کی تھی، جلدہی ان شاء اللہ شائع کرنے کا ارادہ ہے۔) اس میں حضرت ؒ نے ملت کے تین دور بتائے۔ پہلادور جس میں دعوت اصل اور محور کے درجہ میں تھی، علم وذکر ضمن میں تھے۔ اس دور میں کس طرح آناً فاناً دنیا میں اسلام پھیلا۔ پھر خلفائے راشدین کے بعد جو بر سر اقتدار طبقہ تھا، وہ دعوت چھوڑکر عیش وعشرت میں پڑگیا تو مخلصین نے علم کو اصل اور محور بنا کر سارے مجاہدے، مشقتیں اور تکالیف جو پہلے دور میں دعوت کی خاطر برداشت کیے جاتے تھے، دوسرے دور میں علم کی خاطر یعنی حدیث ،تفسیر، سیرت اور دیگر دینی علوم کے محفوظ کرنے کی خاطر اختیار کیے۔ اس دوسرے دور میں علم اصل اور محور تھا، دعوت وجہاد اور ذکر ضمن میں تھا۔ جیسے حضرت عبداللہ بن مبارک سال میں چھ ماہ درس حدیث دیتے اور چھ ماہ جہاد کرتے تھے۔ ذکر بھی تھا، مگر اصل محور کے درجے میں بنیادی توجہ علم پر یعنی احادیث جمع کرنے، سیرت ومغازی وتفسیرکے محفوظ کرنے اورمسائل استنباط کرنے وغیرہ وغیرہ پر تھی۔ جب اہل علم میں بگاڑ آگیا، علماء بادشاہوں کے قرب اور دنیوی عہدوں ومناصب کے حصول اور مال اور متاعِ دنیا جمع کرنے میں لگ گئے تو مخلصین نے اللہ کے ذکر کے ذریعہ تزکیۂ قلوب، اخلاص اور تعلق مع اللہ پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کر دی۔ اس طرح تیسرا دور شروع ہو ا۔ اس تیسرے دور میں علم بھی تھا، دعوت بھی تھی ، مگر اصل اور محور کے درجہ میں ذکر تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے اپنے آخری دور میں سات سو مبلغین دعوت کے لیے جنوبی ہند روانہ کیے، مگر اس تیسرے دور میں محور اور اصل کے درجے میں ذکر الٰہی تھا۔

پھر حضرت ؒ نے تفصیل سے ان تینوں ادوار کا فرق بیان فرمایا۔ مثلاً پہلے دور میں کفاراورخدا کے دشمنوں کو کثرت سے ہدایت مل رہی ہے، اسلام تیزی سے ملکوں اور قوموں میں داخل ہورہاہے، کٹڑ سے کٹڑ اسلام کے دشمن ایمان لارہے ہیں۔ دوسرے دور میں عباسی خلیفہ حضرت سفیان ثوریؒ کا معتقد ہے، ان کے خط کو احترام میں آنکھوں سے لگاتاہے، سرپر رکھتاہے، بوسہ دیتاہے، مگر ان کی لکھی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کرتا۔ حضرت ؒ نے فرمایا کہ قیامت تک امت پر ان تین ادوار میں سے کوئی نہ کوئی دور رہے گا۔ جب محور اور اصل دعوت ہوگی تو پہلے دور کی برکتیں فوائد وثمرات ملیں گے اور جب ذکر محور ہو گا تو تیسرے دور کے فوائد وبرکات حاصل ہوں گے۔ حضرت ؒ نے یہ مفصل تقریر خیر القرونِ قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم کی تشریح وتفہیم کے ذیل میں فرمائی تھی۔

دعوت ہر مسلمان کا اصل کام اور فریضہ

اسلام ایک دعوتی دین ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے: ’’کہہ دیجیے، یہ میراراستہ ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتاہوں بصیرت کے ساتھ اور میرے متبعین کا بھی‘‘ (القرآن) پیغمبر اسلام نے اس امت کی تربیت دعوت ہی کے راستہ سے فرمائی۔ ہر شخص کلمہ پڑھتے ہی دعوت کے کام میں لگ جاتاتھا۔ حجۃ الوداع کے آخری پیغام میں آپؐ نے قیامت تک کے مسلمانوں کی ڈیوٹی لگا دی کہ اب تم کو رہتی دنیا تک میرا پیغام انسانیت کے ہر ہر فرد تک پہنچاناہے۔ پوری انسانیت آپ کی امت قرار دی گئی، امت اجابت یا امت دعوت۔ جیسے باپ آخری وقت میں اپنے بیٹے کو وصیت کر جائے کہ میری میراث دوسرے بیٹے تک بھی پہنچادینا، لیکن وہ بیٹا ساری وراثت اپنے ہی پاس رکھ لے، دوسرے بھائی تک نہ پہنچائے تو وہ باپ کا بھی مجرم ہوگا اور دوسرا بیٹا (غیر مسلم) بھی اس کا دشمن بنے گا۔ آج ساری دنیا کو ہم سے یہی دشمنی ہے کہ ہم نے ان کا حق مارا ہے، ان کا ورثہ (ایمان واسلام ان تک نہیں پہنچایا)۔ غرض ایک مسلمان کا اصل کا م اور زندگی کا مشن دعوت ہی ہے، اس کے بغیر نہ وہ کا مل مسلمان بن سکتاہے اور نہ دنیا میں اسلام فاتح وغالب رہ سکتاہے۔ رہا جہاد تو وہ نام ہے دین پھیلانے میں اپنی ساری قوت وتوانائی حتیٰ کہ جان تک قربان دینے کا۔ جہاد، دعوت ہی کاآخری مرحلہ ہے، یعنی جب طاقت وقوت سے دعوت کو روکا جائے تو طاقت ہی سے وہ رکاوٹ دور کردی جائے۔ موجودہ دور میں دشمنان اسلام بالخصوص مغرب کی صہیونی وصلیبی قوتوں نے ایک طر ف ابلاغ کے تما م وسائل پر جن کے ذریعے انسانوں کے دلوں تک رسائی حاصل کی جاتی ہے، اور دوسری طرف اسلحہ وطاقت کے تما م وسائل پر مکمل قبضہ وکنٹرول کر کے جہاد کے خلاف شرانگیز پروپیگنڈا کر رکھا ہے اور مغرب سے مرعوب ومتأثر ہمارے بالائی طبقات، حکمراں، فوج اور جدید تعلیم یافتہ طبقے نے بھی لفظ جہاد کو طعنہ بلکہ گالی بنادیا ہے۔ یہ لوگ ہر جگہ جہاد سے برأت کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ سارا قرآن جہاد کی اہمیت وفضیلت سے بھراپڑا ہے، لیکن اسلام کا مقصود قتال نہیں، دعوت ہے۔ قتال ناگزیر حالات میں مجبوراً سرجن کے آپریشن کی طرح آخری آپشن کے درجہ میں ہے۔

ایمان ونفاق کے درمیان فرق کرنے والی چیز دعوت و جہاد ہی ہے

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ایمان ونفاق کے درمیان امتیاز، دین پھیلانے کی جدوجہد (دعوت وجہاد) سے ہی قائم ہوتا ہے۔ دور نبوت کے منافقین نمازو روزہ، ذکر وتلاوت، صدقہ وخیرات سب کچھ کرتے تھے،امتیاز دعوت وجہاد کے موقع پر ہی ہوتا تھا۔ آخری غزوہ تبوک میں تیس ہزار صحابہ کرام شریک ہوئے، صرف تین نہ جاسکے۔ اس پر ان کے ساتھ توبہ قبول ہونے تک معاشرتی طور پر کا فروں اور منافقوں جیسا برتاؤ ہوا۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ نبی آخرالزماںؐ کے امتی کے لیے دین پھیلانے کی جد وجہد یعنی دعوت کے بغیر صرف دین پر چلنا ہرگز کافی نہیں۔ بقول عصرحاضر کے ایک داعی کے آج دین پھیلانے کے لیے لوگوں میں مارے مارے پھرنا فضیلت اور ثواب کی چیز ہے۔ وہ وقت (ظہور مہدی) قریب ہے جب یہ دور نبوت کی طرح فرض وواجب ہوگا، دین کی خاطر نہ نکلنے والے کو منافق وکافر قرار دیا جا ئے گا۔ قرآن کاارشاد ہے: کامل مؤمنین صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ پراور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، پھر ذراشک نہیں کیا، پھر اپنی جان ومال سے اللہ کی راہ میں کو شش وجہاد کیا۔ صرف یہی لو گ (ایمان کے دعوے)میں سچے ہیں۔‘‘ (سورۂ حجرات آیت ۱۵) 

ہمارے تمام مصائب اور مشکلات کا اصل سبب

آج دنیا کے ہر ملک میں ہمارے جتنے بھی مسائل ہیں مثلاً تعلیم میں پچھڑجانا، اقتصادی پسماندگی، سیاسی بے حیثیتی، ہر طرح کی ناانصافی، ہولناک مظالم، نسل کشی (دیکھا جائے تو دنیا بھر کی دجالی طاقتوں نے ہر ملک میں اسپین کی تاریخ دہرانے کی تیاری کر لی ہے) ،یہ ہولناک حالات ومصائب اصل مرض نہیں، مرض کی علامت ہیں۔ ہمارا اصل مرض یہ ہے کہ ہم نے اللہ سے اپنا رشتہ توڑلیا اور دین کو پھیلانا چھوڑدیا جس کی وجہ سے ہم انسانیت کے خیر خواہ بننے کے بجائے حریف بن گئے۔ آج ہم دنیا بھر میں اپنی مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں کہ فلسطین میں ہمارے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے، عراق وافغانستان میں یہ ظلم ہو رہا ہے، کشمیر وفلپائن میں یہ ظلم ہو رہا ہے۔ ہم اپنی اور دنیا کے انسانوں کی نظر میں مظلوم ہیں اور دوسرے لوگ ظالم، لیکن کبھی کبھی میں سوچتاہوں کہ دنیا کے انسانوں تک ان کی امانت (ایمان واسلام) نہ پہنچانے کی وجہ سے اصل ظالم ہم ہی ہیں کہ ہم نے ان کا حق ماراہے، باپ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کی امانت اس کے دوسرے بیٹے تک نہیں پہنچائی۔ اللہ اور رسول ؐنے انسانیت تک پہنچانے کے لیے ہمیں جو ذمہ داری وامانت سونپی تھی، ہم نے خیانت کی، ذمہ داری پوری نہیں کی۔ ایمان واسلام وہ دولت ہے جس کے بغیر دنیا کا ہر فرد بشر ہمیشہ ہمیش کے لیے ہلاکت میں پڑجائے گا۔ ہم انسانیت کے حق میں اتنے بے رحم وظالم ثابت ہوئے کہ ان بے چاروں کو دائمی ہلاکت وبربادی سے بچانے کی ذرافکر نہ کی، اپنی دنیا بنانے میں مگن رہے تو اللہ نے اس جرم کی پاداش میں انہی لوگوں کے ذریعہ ہماری دنیا کو جہنم بنادیا۔

دنیامیں اسلام کی اشاعت کس طرح ہوئی؟ دنیامیں اسلام دینی اداروں سے نہیں، دعوت سے پھیلاہے، مثلاً بر صغیر کے مغربی حصہ (پاکستان) میں زیادہ تر اسلام کی اشاعت اس دور میں ہوئی جب مسلمانوں میں کسی حد تک دعوت کا جذبہ موجود تھا، یعنی محمد بن قاسمؒ اور ان کے بعد کا دور، چنانچہ تاریخ فرشتہ میں ہندوستان میں پہلی مسلم سلطنت کی بنیاد رکھنے والے سلطان شہاب الدین غوری کا خط نقل کیا ہے جو انہوں نے شمالی ہند کے سب سے طاقتور حکمراں پِرتھوی راج کو لکھاتھا کہ تم سرحد، سندھ، پنجاب، بلوچستان میرے حوالہ کر دوتومیں دہلی واجمیر پر حملہ نہیں کروں گا اور اپنے مطالبے کے حق میں یہ دلیل دی تھی کہ یہ علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔ اسی طرح بنگال (بنگلہ دیش) پر سات سو سالہ مسلم حکمرانی کے دورمیں مسلمانوں کی تعداد ۱۵؍۲۰فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی تھی، لیکن انگریز کے عین دور شباب میں حضرت سید احمد شہید بریلوی ؒ کے خلیفہ مولاناکرامت اللہ جونپوری ؒ نے دعوت کا کام کرکے بنگال میں تقریباً ایک کروڑ لوگوں کو مسلمان بنایا۔ اس سے معلوم ہواکہ پاکستان کی اصل بنیاد بھی دعوت ہے نہ کہ دوقومی نظریہ۔ آج پاکستان اسی تضاد کے نتائج بھگت رہاہے کہ قائد اعظم نے دوقومی نظریہ (اسلام وکفرکی تفریق) کی بنیاد پر پاکستان بنایا اور بننے کے بعد اپنی ساری توانائی اور توجہ ایک قومی نظریہ (اسلام وکفر کی برابری) کے مطابق ڈھالنے پر لگا دی۔ یا د رکھیے !دعوت سے ہی دار کفردارالاسلام بنتاہے، نہ کہ کسی نظریہ سے۔

نازک حالات میں دعوت ہی نے ملت اسلامیہ کو سنبھالا

ہماری تاریخ کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ جب کبھی ملت پر نازک وقت آیا، اس وقت دین کے دوسرے شعبے یااپنی ادارے وجامعات کام نہیں آئے بلکہ دعوت ہی کے ذریعے حالات بدلے۔ مثلاً چھٹی صدی ہجری میں تاتاریوں کی یلغار کے وقت دینی اداروں، جامعات ،علما ومشائخ کی کمی نہیں تھی۔ صحرائے گوبی سے اٹھنے والی آندھی (تاتاری) نے عالم اسلام کو اس بری طرح تاراج وتباہ کیا کہ سمجھا جانے لگا، گویا اب اسلام کا خاتمہ ہے۔ ایسے نازک حالات میں اللہ کے چند مخلص بندوں نے خاموشی سے ان جنگجووجنگلی فاتحین کے دلوں پر دستک دی، انہیں اللہ کی طرف بلایا، ان تک ایمان پہنچایا جس کے نتیجہ میں حالات نے ایک دم اسلام کے حق میں اس طرح پلٹا کھایا جس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا۔ بقول برطانوی پروفیسر اور علامہ اقبال کے استاذ آرنلڈ کے، جہاں مسلمانوں کی تلوار اور سارے وسائل ناکام ہوگئے، وہاں بے لوث دعوت نے مسلمانوں کی تاریخ بدل کر رکھ دی اور فاتحین کی پوری نسل من حیث القوم اسلام کی آغوش میں آکر صدیوں تک کے لیے اسلام کی سب سے بڑی علمبردار اور محافظ بن گئی۔ اسی طرح ہندوستان میں دسویں صدی ہجری میں اسلام پر نازک وقت آیا جب برہمنوں کی ایک گہری سازش کے نتیجہ میں مغل امپائر کی سب سے زیادہ بلند حوصلہ اور طاقتور شخصیت اکبراعظم کودین الٰہی کے نام سے اسلام کے مقابلے پر لاکھڑاکیا گیا۔ وہ وقت برصغیر میں اسلام کے لیے نازک ترین وقت تھا۔ اللہ کے ایک مخلص بندہ (حضرت مجدد الف ثانیؒ ) کی خاموش دعوت نے ایسے حالات بدلے کہ اکبر اعظم کے تخت پر چوتھی پشت میں ایک ایسی شخصیت (اورنگزیب عالمگیر) جلوہ افروز ہوئی جنہیں عرب دنیاکے ممتاز عالم دین اور مفکر شیخ علی طنطاوی نے چھٹا خلیفہ راشد قرار دیا۔ اس عظیم انقلاب کا سہرا حضرت مجدد الف ثانی کی دعوت، خاص طور پر تحریر ی دعوت (مکتوبات) کے سر ہے۔ آپ نے اپنی تحریری دعوت کے ذریعے اکبر کے ارکان سلطنت وامراے دربار کے دلوں پر براہ راست دستک دی ۔ یہ آپ کی دعوتی کڑھن وکوشش کا کرشمہ تھا کہ اکبر کے اراکین سلطنت وامرا نے اس عظیم فتنہ کو اکبر کے شاہی محل میں دفن کردیا۔ غرض دعوت ہی سے ہر دور کے مسائل حل ہوئے۔

تمام مسائل کے حل کا نبوی طریقہ

یہاں سرسری نظر اس پرڈالیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسائل کو کس طرح حل فرمایا۔ ہجرت مدینہ کے وقت ایک طرف لٹے پٹے مہاجر تھے جو اللہ کے لیے اپناسب کچھ چھوڑ کر اور صرف جان بچاکر مدینہ پہنچے تھے۔ دوسری طرف مدینہ کے کاشتکار (انصار) تھے جن کا بال بال یہودیوں کے سودی قرضے میں جکڑا ہوا تھا۔ آپ ؐنے مدینہ پہنچ کر چارکام کیے: 

(۱)اللہ کی عبادت اور تعلیم وتربیت کے لیے مسجد کی بنیاد رکھی۔

(۲) بے وسائل آنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے ایک مقامی (انصاری) اور ایک پردیسی (مہاجر)کے درمیان مواخات کے عنوان سے مضبوط رشتہ قائم کرکے ان پناہ گزین کے سارے مسائل ایک لمحہ میں حل فرمادیے۔

(۳) چاروں طرف خوف وہراس کا عالم تھا، مٹھی بھر مسلمان دنیابھر کے کفر کے درمیان گھرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی فضا ختم کرنے اور امن قائم کرنے کی خاطرمدینہ منورہ کے یہودیوں اورقبائل سے اپنے اپنے مذہب، شریعت اور معاشرت پر رہتے ہوئے مدینہ کے دفاع میں شرکت کرنے اور باہمی رواداری کے ساتھ رہنے اور آپسی مناقشات اور اختلاف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو تسلیم کرنے پر معاہدہ فرمایا جسے میثاق مدینہ کہا جاتا ہے اور جو دنیاکا پہلاتحریری دستورہے۔ اسی طرح مدینہ کے اطراف میں کئی کئی سومیل کا سفر فرماکر مختلف قبائل سے معاہدے فرمائے۔ کسی سے اس شرط پر معاہدہ ہواکہ جب مسلمانوں کے قافلے (عسکری وتجارتی) ان کے علاقوں سے گزریں تو ان کو اپنامہمان بنائیں۔ بعض سے اس شرط پر معاہدہ ہواکہ ان کے علاقہ سے اسلام کے دشمن گزریں تو ان کی مکمل اطلاع فراہم کریں، وغیرہ وغیرہ۔

(۴) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری توجہ مسلمانوں کی تعلیم وتربیت پر مرکوز فرمائی۔ مسجد نبوی صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ مدرسہ، یونیورسٹی، خانقاہ، تربیت گاہ بھی تھی۔ مختلف اوقات میں تعلیم اور ذکر کے حلقے لگتے، پھر لوگ اپنے گھروں میں جاکر عورتوں اور بچوں کو تعلیم دیتے اور تربیت کرتے۔ غزوہ بدر کے موقع پر اہل مکہ کے ان قیدیوں کے لیے جو لکھناپڑھنا جانتے تھے، آپ نے رہائی کا یہ فدیہ مقرر کیا کہ دس مسلمان بچو ں کولکھنا پڑھنا سکھا دیں تو آزاد ہیں۔ سوچنے کی بات ہے جو قیدی اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے جذبہ سے آئے تھے، انہوں نے دین (قرآن وسنت) کی تعلیم دی ہوگی؟ بلکہ اس دور کی عصری تعلیم ہی دی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی ایسی تعلیم وتربیت فرمائی کہ ہرصحابی رہتی دنیا تک کے لیے اعلیٰ آئیڈیل ونمونہ بن گیا۔ تاریخ شہادت پیش کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت یافتہ (صحابہ کرامؓ) جماعت نے وقت آنے پر اُس دور کے ہر سیاسی، انتظامی، عسکری، معاشی مسئلے میں اور ہر ہر علم وفن میں کامل مہارت کا ثبوت دیا۔ ان میں ہر شخص داعی تھا۔ وہ دنیا کے جس خطے میں بھی پہنچا، وہاں کے لوگوں کو اسلام اورایمان پہنچاکر ان کا معلم اور مقتدا بنا۔ گنتی کے چند صحابہ کے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ وہ متخصص فی القرآن یا فی الفقہ یا فی القرأت تھے، لیکن صحابہ کرامؓ کی زندگی کا بغور مطالعہ بتاتاہے کہ ہر صحابئ رسول متخصص فی الدعوت تھا۔ وہ جہاں بھی گیا، ہزاروں لاکھوں کو اسلام اور ایمان کی دولت سے سرفرازکرگیا۔ اگرمسلمان داعی نہ ہوتو اس کا ایمان اور اسلام اتنا کمزور ہوگا کہ وہ نامساعد حالات کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔

داعی کی مثال ایک تاجر کی سی ہے۔ جس طرح تاجر اپنا مال بیچنے کے لیے گاہک کی ہرطرح کی بدتہذیبی، سختی اور بداخلاقی برداشت کرکے نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آتاہے، اسی طرح داعی بھی مدعوین کی ہر طر ح کی سختی، درشتی اور بداخلاقی کو نظر انداز کرکے اخلاق کریمانہ اور ہمدردی سے اپنی بات پہنچاتاہے۔ تاجر ہر وقت گاہک کے پسندوناپسند، مزاج ونفسیات، رضا وخوشی اور دلجوئی کی فکر میں رہتاہے۔ اگر تاجر دیکھتا ہے کہ گاہک اس کی دکان میں نہیں آرہاہے تو وہ یہ نہیں کہتاکہ میری بلاسے، اگر خریدنا ہوگا تو خود آئے گا، بلکہ وہ گاہک کی پسند کے مطابق دکان کواور خودکوڈھالتاہے۔ اگر کسی جگہ دکان نہیں چل رہی تو سوچتاہے شاید عملہ نا اہل ہے ، عملہ بدلتا ہے۔ پھربھی نہ چلے تو سوچتاہے شاید دکان کا ڈیکوریشن اور فرنیچر (سجاوٹ) گاہک کو ترغیب دلانے میں ناکام ہے۔ وہ ڈیکوریشن بدلتاہے۔ پھربھی گاہک نہ آئے تو سوچتاہے کہ شاید اس جگہ کپڑے کے بجائے اناج کی دکان چلے گی۔ دکان کا سامان بدلتاہے اور کبھی دکان کی جگہ ہی تبدیل کر دیتاہے۔ اپنے مال کی ایڈوٹائزنگ کے لیے جدید تشہیری طریقہ اختیار کرتاہے، نہایت صبر وتحمل اور بردباری سے محنت کیے جاتاہے، یہاں تک کہ دکان چل پڑتی ہے۔ افسوس! ہمارا ذہن ودماغ تجارت میں تو نت نئے تجربات کی تلاش میں سرگرداں رہتاہے، لیکن جب دعوت یاانسانیت تک دین وایمان پہنچانے کا مرحلہ سامنے آتاہے تو اکابر اکابر اور اسلاف اسلاف کے نا م پر صدیوں پرانے اسلوب، زبان ولہجہ،طریقۂ کار ہی دہراتے ہیں۔ ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا دعوت دینے کاطریقۂ کار مخاطب کی ذہنی سطح ،مزاج ونفسیات ،زبان واسلوب کے مطابق ہے یا نہیں؟ہم خود کو دھوکہ میں رکھتے ہیں کہ آخر ت میں ہمارے نامۂ اعمال میں اتنے کروڑ اتنے ارب نیکیاں جمع ہو رہی ہیں ،خواہ ہم اپنے طرز عمل اور بداخلاقی سے لوگوں کو اسلام ایمان سے بدظن ومتوحش ومتنفر ہی کررہے ہوں۔

دعوت کی عظمت اورداعی کے اوصاف

دعوت درحقیقت ایمان(اللہ کو ماننے )کی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جو شخص بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتا تھا، اسے اسی وقت ایمان کی دعوت کا فریضہ سونپ دیتے۔ صدیق اکبرؓ نے ایمان لاتے ہی ایمان کی دعوت دینی شروع کی اور محنت کرکے اسی دن کی شام تک چھ نئے لوگوں کو ایمان پر لے آئے جن میں کئی عشرۂ مبشرہ میں سے بنے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ایمان قبول کرتے ہی حرم میں پہنچ کر علانیہ اپنے ایمان کا اعلان کیا اور ایمان کی دعوت دی۔ اسلام کے سب سے بڑے دشمن ابو جہل کے بیٹے حضرت عکرمہؓ نے جب ایمان قبول کیا تو کلمہ شہادت کے اقرار کے بعدحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قل اشہد اللہ واشہد من حضر انی مسلمٌ مجاہد مہاجر  (حیاۃ الصحابہ) میں اللہ کو اور حاضرین کو گواہ بناکر کہتاہوں کہ میں مسلمان مجاہد اور مہاجر ہوں، یعنی میں نہ صرف مسلمان ہوا بلکہ ایمان پھیلانے کی محنت کرنے والا اور اایمان واسلام کی خاطر سب کچھ چھوڑ نے والا (قربانی کرنے والاہوں) یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر شخص کو مسلمان بنانے کے ساتھ ہی داعی اور دعوت کے لیے سب کچھ قربان کرنے والا بھی بنادیتے تھے۔ یہی اصل کار نبوت، طریق نبوت اور سنت نبوی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جو شخص بھی ایمان لاتا، اسے اسی کے قبیلہ اور قوم میں ایمان کاداعی بناکر روانہ فرماتے۔ اس طرح بہت سارے افراد کی دعوت پر ان کا پورا قبیلہ یا قبیلہ کے بہت سے افراد مسلمان ہوجاتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے، مثلاً عرب کے قبائل کا لباس تقریباً یکساں ہوتا تھا۔ نام بھی تقریباً سارے صحابہ کے اسلام سے پہلے کے ہیں۔ ہاں اگر کسی کے نام میں شرک کی بو آتی یا اس کے کوئی نامناستب معنی ہوتے تو اسے آپ تبدیل فرمادیا کرتے تھے، لیکن آج مثلاً کوئی یہودی یا عیسائی شخص میرے پا س آکر مسلمان ہوتو میں اس میں ایمانی صفات پیدا کرنے یا داعی بنانے کے بجائے ظاہر پر زیادہ توجہ دوں گا۔ سب سے پہلے نام بدلوں گا، پھر اس کا لباس، حتیٰ کہ ٹوپی عمامہ پہناکر اس کو اس کے اپنے معاشرے سے کاٹ دوں گا۔ اب وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ اپنے معاشرے میں جاکر دین کی دعوت دے سکے۔ اس مسئلہ پر بھی غورکرنے کی ضرورت ہے۔ 

ہر داعی گویا براہ راست اللہ کی طرف سے پیغامبر ہوتاہے، اس لیے وہ خداکے نمائندے کی حیثیت سے بلند سطح سے بات کرتاہے۔ داعی کے لیے یہ بلند ترین مرتبہ حاصل ہونے کے لیے تین باتیں ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ ہر وقت خداکی عظمت، بڑائی اور کبریائی کااستحضار ہو۔ ہر نبی کا پہلا بول ہی اللہ اکبر رہا۔ اگر چہ قرآن کی پہلی آیت پڑھنے کے متعلق نازل ہوئی مگر پڑھایا کیا؟ اللہ کی عظمت اور دعوت پڑھائی، چنانچہ اس کے بعد جو آیت نازل ہوئی، وہ ہے: یا یھا المدثر قم فانذر وربک فکبر، اے گدڑی میں لپٹے ہوئے! اٹھیے اور اللہ کی بڑائی بیان کیجیے۔ 

دوسری بات داعی کی نظروں میں دنیا کی بے ثباتی اور بے حیثیتی ہے۔ فرمایا کہ اگر ساری دنیا کی حیثیت اور قیمت اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی توکسی منکر خداکو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیا جاتا۔ داعی کے دل میں دنیا کی بے حیثیتی کا بیٹھنا نہایت ضروری ہے، ورنہ اس کی دعوت بے جان ہوگی۔ ایک بار بندہ حکومت مراکش کی دعوت پر داربیضہ (Casa Blanka) اسلامی دعوت کا نفرنس میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔ ہوائی جہاز میں میری سیٹ کے ساتھ ایک نوجوان کی سیٹ تھی۔ جب جہاز نے اُڑان بھری اور زمین سے بارہ چودہ ہزار فٹ بلند ہو ا اور میں نے کھڑکی سے نیچے دیکھاتو لندن شہر کی بڑی بڑی شاہراہیں ایسے نظر آئیں گویا کسی نے کالی لکیر کھینچ دی ہو اور لندن کی عظیم الشان بڑی بڑی عمارتیں جنہیں دیکھ کر دل مرعوب ہوتا تھا اور دل میں ان کی عظمت اور شان وشوکت بیٹھتی تھی، ایسی حقیر، معمولی اور چھوٹی چھوٹی نظر آرہی تھیں گویا کسی نے سگریٹ یا ماچس کی بہت سی ڈبیاں ایک دوسرے پر رکھ دی ہوں۔ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ ذرانیچے دیکھیے، لندن شہر اور اس کی شاندار عمارتیں کتنی حقیر اور بے حیثیت نظر آرہی ہیں۔ سبب یہ ہے کہ ہم محض جسمانی طور پر زمین سے چند ہزار فٹ اُوپر آگئے۔ اگر خداہمیں روحانی سربلندی نصیب فرمادے تو دنیا کی ان چیزوں کی کیا حیثیت باقی رہ جائے گی! 

تیسری چیز داعی کا اپنے دعوت کے معاملے میں بے لوث ہوناہے کہ وہ اپنی کوششوں اور قربانیوں پر مخلوق اور انسانوں سے کچھ نہیں چاہتا۔ ہرنبی کی بنیاد یہی ہوتی تھی، ما اسئلکم علیہ من اجر، ان اجری الا علی رب العٰلمین، اے لوگو! ہمیں تم سے کچھ نہیں چاہیے۔ ہمیں جو چاہیے، اللہ سے لیں گے۔ یہ تین صفات داعی کو نہایت ممتاز حیثیت عطاکر دیتی ہیں اور بلند ترین مقام پر فائز کردیتی ہیں۔ پھر اللہ اپنی غیبی طاقت اس کے ساتھ کردیتاہے۔ وہ اللہ کا محبوب ہوتاہے۔ ظاہرہے جو اللہ کے بندوں کا رشتہ اللہ سے جوڑ رہا ہو، اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ پیارا کون ہو سکتا ہے! ظاہر ہے پھر اس کا مقام یہ ہوتاہے کہ ایک سپرپاور (سلطنت ایران) کا فرمانرواداعی (پیغمبراسلام)کے دعوت کے خط کو چاک کردیتاہے تو داعی فرماتاہے کہ اس نے ہمارا دعوت نامہ نہیں، اپنا ملک چاک کرکے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور یہ منظر دنیادیکھتی ہے کہ چندہی سالوں میں اس کی عظیم سلطنت پارہ پا رہ ہوکر نیست نابود ہوجاتی ہے۔

ذہنوں پر سیاست کے غلبہ کے مضمرات

ہم سے ایک بڑی غلطی عصر حاضر میں یہ ہورہی ہے کہ ہمارا ذہن داعیانہ کے بجائے سیاسی بن گیاہے۔ گزشتہ صدی میں عالم اسلام پر مغرب کے سیاسی غلبے کے ردعمل کے طور پر ہمارے بعض مفکرین کو یہ مغالطہ ہواکہ مسلمانوں میں باطل (مغربی تمدن، فکروفلسفہ اور کمیونزم) یورپ وروس کے سیاسی تفوق وغلبہ کے سبب پھیل رہاہے۔ اگر ہمارے پاس بھی مستحکم سیاسی حکومت ہوتی تو ہم اسی طرح اسلام پھیلاتے۔ اس طرح ان کا ذہن دعوت کے بجائے سیاست، ایمان وعمل کے بجائے ریاست کے حصول کی طرف لگ گیا۔ اسلام کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کبھی ریاست وحکومت یاسیاسی طاقت سے نہیں پھیلا بلکہ اکثر سیاسی شکست اور حکومتی عدم استحکام کے زمانے میں تیزی سے پھیلاہے۔ مثلاًتاتاریوں کی یلغار عالم اسلام کے لیے قیامت سے کم نہیں تھی۔ تاتاری لشکروں نے پورے عالم اسلام کو تہہ وبالا کردیاتھا، ہر شہرلاشوں سے پٹاپڑا تھا، ہرجگہ مسلمانوں کے سروں کو کاٹ کر اونچے اونچے منارے سجائے گئے تھے۔ تمام مؤرخین اسلام کے خاتمے کی پیشین گوئی کررہے تھے۔ ایسے مایوس کن حالات میں اللہ کے کچھ بندوں نے انھی سفاک قاتلوں (تاتاریوں)کو دعوت دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایک دن میں ان کے لاکھوں گھرانے مسلمان ہوئے اور پوری تاتاری قوم من حیث القوم حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئی۔ غرض اس سیاسی عدم استحکام کے دور میں اس طرح اسلام پھیلاکہ تاریخ میں اس کی نظیر نہ پانچ سو سال پہلے ملتی ہے نہ پانچ سو سال بعد تک۔ آج پھر دنیا بھر میں مسلمانوں کی پسپائی، شکست، کم ہمتی،ذلت وغلامی کا وہی سماں ہے جو تاتاریوں کے حملے کے وقت تھا۔ آج اسلام کے خلاف شرانگیز پروپیگنڈے نے ہر مسلمان کو مجرم بناکر رکھ دیاہے۔ اس کے باوجود آج پھر دنیامیں اسی طرح اسلام پھیل رہاہے جیسا تاتاریوں کے یلغار کے بعد پھیلا تھا۔ خاص طور پر مغرب (امریکہ، یورپ) میں اس تیزی وسرعت کے ساتھ اسلام پھیل رہاہے کہ اس نے عالمی کفر کے سرغنوں کو حیران وپریشان کردیا ہے ،جبکہ ہمارے پاس دنیا بھر میں دعوت کا کوئی خاص نظم ہے نہ کوشش، لوگ ازخود ذاتی مطالعہ وتفکر سے یاکتابیں پڑھ کر اسلام کی طرف آرہے ہیں۔ اگر ہم دعوت کے فریضہ پر کھڑے ہوجائیں تو آج پھر تاتاریوں کے دور کی طرح یورپ، امریکہ اور دنیا بھر میں حیران کن نتائج سامنے آسکتے ہیں اور تاتاریوں کی طرح اسلام کو دنیا سے مٹانے کا جذبہ رکھنے والی اقوام ، اسلام کی پاسبان بن سکتی ہیں۔

اشاعت اسلام کی راہ میں سب سے بڑ ی رکاوٹ

عصر حاضر میں ہمارے بعض مفکرین کی تحریروں کے سبب ہمارے ذہنوں پر دعوت کے بجائے سیاست سوار ہوگئی ہے۔ اس سیاسی ذہن نے انسانیت کے متعلق ہمارا نقطۂ نظر تبدیل کردیاہے اور ہمیں اقوام عالم کا حریف بنا دیا ہے۔ ہم نے خود کو محتسب اقوام یادنیا بھر کی قوموں کے لیے خدائی فوجدار سمجھ لیاہے، جبکہ قرآن وحدیث کی روسے اقوام عالم کے لیے ہماری پوزیشن ناصح وامین یعنی اقوام عالم تک ایمان واسلام کی امانت بلاکم وکاست پہنچانے والے اور انسانیت کے سچے بہی خواہ اور خیر خواہ کی ہے۔ جیسے کوئی سچا ڈاکٹر خیر خواہی کی حد تک اپنے مریض کا خدمت گار ہوتاہے، اسی طرح داعی انسانیت کا سب سے بڑا خیر خواہ وخادم ہوتاہے۔ حضرت مدنی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضرات انبیاء ؑ سیاسی نظام قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کو جہنم سے بچانے کے لیے مبعوث ہوتے تھے۔ ان کا حال اس بات کا ساہوتا تھا جس کا اکلوتا لڑکا آگ کے شعلہ میں گرا چاہتاہو اور وہ بے قرار ہو کر ہر حال میں اسے بچانے کی کوشش کررہاہو۔ دعوت انسانیت کی خیر خواہ بناتی ہے اور سیاست نفرت پیداکرتی ہے۔ حضرت مدنی ؒ سمجھتے تھے کہ دوقومی نظریے سے برصغیر میں نفرت کا وہ طوفان اٹھے گا کہ برصغیر کی اقوام میں اسلام کی اشاعت دشوار تر ہوجائے گی۔ دوقومی نظریہ کی تفریق ونفرت سے پہلے صرف کلکتہ کی مسجد ناخدامیں روزانہ تقریباً سوآدمی آکر مسلمان ہوتے تھے،اسلام خاموشی سے آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنارہاتھا۔ اس سیاسی نفرت نے ہندوکو متحدومستحکم کرکے برہمن کے شکنجے کو پورے بھارت پر مضبوط کردیا، برہمن جس کی ہزار ہا سال سے عالمی طور پر کوئی حیثیت نہیں تھی، وہ آج ایک عالمی طاقت بن گیا ہے، حتیٰ کہ وہ عالمی صہیونی وصلیبی طاقتوں سے مل کر اسلام کو دنیا سے مٹانے کا منصوبہ بنارہاہے۔ سیاست نے برصغیر میں ہندو کو عظیم طاقت بنادیا، ورنہ مذہب کے اعتبار سے اس سے زیادہ بودا اور کمزور کوئی مذہب نہیں تھا۔ غرض عصرحاضرمیں اسلام کی اشاعت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی تعصبات ونفرت ہے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی کتاب ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ میں لکھاہے کہ ہندوستان میں مذہب کی تبدیلی پر اگر کوئی اعتراض کرتاہے تو وہ سیاسی سبب سے ہوتاہے نہ کہ مذہبی سبب سے۔

دعوت کی بنیادی ضرورت

دعوت کے لیے بنیادی ضرورت حالات کا نارمل رکھناہے۔ قرآن نے حالات کو پرامن نارمل رکھنے کے لیے جگہ جگہ صبر اور اعراض کی تعلیم دی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کشید گی کم کرنے اور باہمی حالات کو نارمل بنانے کی خاطر حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کی انتہائی غلط قسم کی اشتعال انگیز یک طرفہ شرائط بھی منظور فرمالی تھیں جس کے نتیجہ میں وہ صلح نامہ فتح مبین بن گیا۔ قرآن وسیرت سے ہمیں یہی سبق ملتاہے کہ ہر قوم پر عمل وکردار اور دعوت کے ذریعہ اتمام حجت کیاجائے۔ ان تمام مراحل کے بعد آخری مرحلہ قتال کا آتاہے ۔ آج ہم دعوت چھوڑکر ایک جامد نسلی گروہ بن کر رہ گئے ہیں، جیسے کسی گڑھے میں پانی ٹھہر کر آہستہ آہستہ متعفن بدبودار اور گندا ہو جاتا ہے۔ جب تک اس میں نیاپانی شامل ہوتارہے، وہ چشمہ صافی رہتاہے۔ ضرورت ہے کہ اسلام کے چشمہ صافی میں ہرزمانہ میں ہرآن نیاخون شامل ہوتارہے تاکہ کثافت دور ہوتی رہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے علمبردار اور اس کے پھیلانے والے ہر دور میں نومسلم ہی رہے ہیں۔ حضرات صحابہ کرامؓ بھی نو مسلم تھے اور ساتویں صدی ہجری کے تاتاری (اتراک بھی) اور بیسویں صدی کے تبلیغ جماعت کے میواتی بھی ایک طرح کے نو مسلم تھے۔ جس طرح تیرہویں صدی عیسوی کے تاتاریوں نے سمرقند سے حلب تک تما م عالم اسلام کی مساجد تباہ کرکے کھنڈر بنادی تھیں، پھر دعوت کی بر کت سے انہی کی اولاد نے ان تما م مساجد کو نہ صرف تعمیر کیا بلکہ سجدوں سے آباد بھی کیا،آج بھی ہماری تمام مشکلات اور مصائب کا حل صرف ایک ہے۔ وہ ہے حالات کو معتدل رکھ کر اقوام عالم سے الجھے بغیر ان کو اسلام اورایمان کی دعوت دی جائے۔ جس طرح حضرت یونس علیہ السلام دعوت کے معاملے میں اجتہادی کوتاہی سے مچھلی کے پیٹ میں ڈال دئے گئے تھے، آج پوری ملت اسلامیہ دعوت فراموشی کے جرم میں ہر قسم کے مسائل کے شکنجے میں اس طرح جکڑدی گئی ہے کہ ایک مسئلہ حل ہوتا نہیں کہ دوسرا پیداہو جاتاہے۔

دین پھیلانے کی محنت ہی امت مسلمہ کو متحداور یکجا کرسکتی ہے

آج ہمارا بہت بڑا مسئلہ باہمی تشتت وافتراق ہے۔ ہماری پوری تاریخ شاہد ہے کہ یہ امت صرف دعوت وجہاد پر ہی جمع ومتحد ہوسکتی ہے نہ کہ کسی مسلک پر، کیونکہ پوری امت نہ حنفی بن سکتی ہے نہ مالکی نہ شافعی نہ حنبلی، نہ امت کسی ایک بزرگ کی بیعت پر اور تصوف کے کسی خاص سلسلے پر متفق ہوسکتی ہے، نہ کسی ایک جامعہ یاادارہ مثلاً جامعہ ازہر یا دیوبندپرمتحد ہوسکتی ہے۔ آج بھی کھلی آنکھوں سے یہ حقیقت دیکھی جا سکتی ہے کہ جہاں تبلیغ کا کام شروع ہوا، پوری امت ایک جگہ جمع ہوگئی۔ مثلاً تبلیغی جماعت (جس کا کام دعوت کے بجائے تذکیر ہے) کے اجتماعات میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی ہر مذہب کے لوگ اور تصوف کے ہر سلسلے کے افراد اور ہر نسل کے ہزار ہا افراد جمع ملیں گے، مثلاً سوڈانی ،نائجیرین، اردنی، سعودی، انڈونیشی وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح جہاد افغانستان میں سعودی، شامی، مصری، یمنی، الجزائری، مراکشی، لیبی، افریقی ،یورپی، امریکی، چینی، چیچن، البانی، ترکستانی غرض کہ ہر ملک ونسل کے مسلمانوں نے اپناحصہ ڈالا، جبکہ دعوت وجہاد کے علاوہ دین کے دوسرے شعبوں میں صرف قومی نسلی جھلک ہی نظر آئے گی۔

(جاری)

دین اور معاشرہ