شیعہ سنی مفاہمت کی ضرورت و اہمیت

مولانا محمد وارث مظہری

شیعہ سنی اختلاف بنیادی طور پر مسلمانوں کی داخلی سیاسی کش مکش کی پیداوار ہے، لیکن بعد میں اس اختلاف نے جو شکل اختیار کی، اسے اب دونوں فریقوں کی نظر میں محض فروعات دین میں اختلاف سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، تاہم اسے کفرو ایمان کا اختلاف قرار دینا بھی کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس اختلاف کو کم یا ختم کرنے کی جو سنجیدہ کوششیں ما ضی میں ہونی چاہیے تھیں، وہ بد قسمتی سے نہیں ہوسکیں۔ اب یہ اختلاف اتنی سنگین کشمکش کی شکل اختیارکرچکا ہے کہ اس کی زد میں آکر نہ جانے کتنی ہی جانیں ضائع اور نہ جانے کتنے ہی مال واسباب تباہ ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں فرقوں کے شدت پسند حلقے اس اختلاف کو کفر و اسلام کے تناظر میں دیکھنے اور پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اس طرح دونوں فرقوں کے درمیان خلیج مزید بڑھتی رہی ہے۔دونوں فرقوںیا اس کے بعض طبقات کے اندر ایک دوسرے کے تعلق سے انتہا پسندانہ نظریات پائے جاتے ہیں۔شیعہ کی کتابوں میں یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ جب حضرت امام مہدی ظاہرہوں گے تو و ہ سنیوں کو قتل کریں گے۔سنیوں کے یہاں یہ حدیث پیدا کرلی گئی ہے کہ: ’’اخیر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو رافضی کہلائیں گے۔اسلام کے منکر ہوں گے، لیکن اس کا لفظی اقرار کریں گے تو تم ان کوقتل کردو، اس لیے کہ وہ مشرکین ہیں‘‘۔ (یکون قوم فی آخر الزمان یسمون الرافضۃ یرفضون الاسلام و یلفظونہ فاقتلوہم فانہم مشرکون) (1) شاید اسی گھڑی روایت کی بنا پر پاکستان میں بعض انتہا پسندوں نے شیعوں کو مباح الدم قرار دے رکھا ہے۔

کسی بھی جماعت یا قوم میں دوسری جماعت کے خلاف جو ڈھلی ڈھلائی سوچ (stereotypes) بن جاتی ہے، اس کو ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی فریق اپنے نظریاتی خول سے باہر آکردوسرے فریق کو خود اپنے طور پر سمجھنے اور برتنے کی کوشش نہیں کرتا۔ موجودہ دور میں دونوں فرقوں میں سے با شعور اور حساس لوگوں پرمشتمل ایک طبقہ شیعہ سنی مکالمے کوفروغ دینے کا خواہش مند اور اس کے لیے کوشاں ہے، لیکن اعتراف کی بات یہ ہے کہ اس تعلق سے جتنی دلچسپی شیعہ علما اور اہل حل و عقد کے یہاں پائی جاتی ہے، اتنی دلچسپی سنی علما و اہل فکر کے یہاں نہیں پائی جاتی۔ تہران میں اس کے لیے حکومت کی سر پرستی میں با ضابطہ ایک ادارہ ’’المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الاسلامیۃ‘‘ قائم ہے جس سے اسی مقصد کے پیش نظر ’’رسالۃ التقریب‘‘ نامی عربی جرنل شائع ہوتا ہے۔ سنی علما اور دانش وروں کی بڑی تعداد شیعہ سنت مفاہمت کے لیے اس کی طرف سے منعقد کیے جانے والے پروگراموں میں شریک ہوتی رہی ہے۔ 

فرقہ وارانہ مفاہمت کے لیے سب اہم طریقہ مکالمے کا طریقہ ہے۔مکالمہ متفق علیہ امور میں تعاون اور مختلف فیہ امور میں گفت و شنیدکے نکات کی تلاش کا نام ہے، اس لیے وہ ہر انسانی گروہ کی ضرورت ہے۔ چوں کہ شیعہ سنی مفاہمت مسلمانوں کے لیے اپنے داخلی حصار کو مضبوط کرنے کی ایک بہت ہی اہم کوشش ہے ،اسی لیے وہ زیادہ حساس بھی ہے۔ اس کی حساسیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں فرقوں کا یہ اختلاف صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ان اختلافات کو حل کرنے سے متعلق ماضی میں گفت و شنید کی سنجیدہ کوششیں بہت کم ہو سکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے جسم کے ایک بڑے اور ضروری عضو کو جسم سے کاٹ کرعلاحدہ تو کر سکتے ہیں لیکن پرسکون نہیں رہ سکتے۔یہ فطرت کے خلاف ہے۔فطرت دشمنوں کو بھی دوست بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔اسی لیے قرآن میں اس کی تاکید کی گئی ہے(2)۔ راقم الحروف کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں شیعہ سنی مفاہمت بہت سے سیاسی مسائل کے حل کی کلید بن سکتی ہے۔ یہ دونوں فرقے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور ان کا باہمی تعاون اجتماعی قوت و اتحاد کے ایسے دروازوں کو کھول سکتاہے جو اب تک تاریخ میں بند رہے ہیں۔

شیعہ سنی مفاہمت کے عمل کو ایک دینی وملی ضرورت کے طور پر آگے بڑھانا وقت کا تقاضا ہے جس کا مقصد تصحیح فکر و نظر کے ساتھ اسلامک اکٹو زم کوزیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنانا ہے۔ دونوں فرقوں کے درمیان مکالمے کے لیے سب سے پہلے اس بات پر اتفاق ضروری ہے کہ شیعہ سنی اختلاف کا تعلق بنیادی عقائد اورایسے اساسات دین سے نہیں ہے جو کفر وایمان کی بنیاد ہیں۔ اس تعلق سے اہم بات جس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، یہ ہے کہ شیعوں کے مختلف طبقات اورگروہ ہیں۔ان کے درمیان بہت سے بنیادی نظریات میں باہم ختلاف پایا جاتا ہے۔ شیعوں کی باضابطہ الگ الگ شاخوں کے علاوہ خود اثنا عشری فرقہ مختلف طبقات میں بٹا ہوا ہے۔اس لیے کوئی ایک شرعی حکم تمام شیعوں پر لگا ناانصاف کے تقاضے کے مطابق نہیں ہے۔ بہت سے ثقہ علما کا نطتہ نظر یہی ہے کہ عمومی طور پر شیعوں پرکفر کا حکم لگانے کی بجائے یہ معیار بنایا جائے کہ جو لوگ اس طرح کے عقائد رکھتے ہوں، وہ کافرہیں۔اس میں غالی شیعہ خود شامل ہو جائیں گے۔ خاص طور پر جوشیعہ قرآن میں تحریف کے شدت کے ساتھ منکر ہیں، ان کی تکفیر صحیح نہیں ہے۔ 

شیعہ اور سنی دونوں ہی قرآن کے اس حکم کے مخاطب ہیں کہ:’’ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو‘‘ (4)۔ قرآن کے مطابق آپسی تنازع اور اختلاف کو امت کی قوت و اثر کے ز ائل ہونے کا سبب بتایا گیا ہے۔(3) اس پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں امت کی جو صورت حال ہے وہ سب پر ظاہر ہے ۔ ایک مضبوط حکمت عملی کے تحت نواستعماری مغربی طاقتیں شیعہ سنی اتحاد کو عملی شکل میں ڈھلتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتیں۔ حالیہ عرصے میں غیر مسلموں: عیسائی،ہندو وغیرہ کے ساتھ مکالمے کا غلغلہ پایا جاتاہے اوراسلامی اور مغربی ملکوں میں اس پر کانفرنسیں اور سیمینارمنعقدہورہے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ خود داخلی سطح پر اس نوع کی کوشش و عمل کی ہمارے اندر شدید کمی پائی جاتی رہی ہے۔ برصغیر میں پہلے شیعہ سنی اختلاف نے اور بعد میں دیوبندی ۔بریلوی اور اہل حدیث و اہل تقلید کے اختلاف نے مسلم اجتماعیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ دیوبندی بریلوی مفاہمت پر میرے خیال میں اب تک باضابطہ طور پر صرف حلقہ دیوبند کے مشہور عالم مولانا اخلاق حسین قاسمیؒ نے قلم اٹھایا ہے۔اس موضوع پر اپنا کتابچہ انہوں نے راقم الحروف کو بھی بھجوایا تھا،لیکن کسی نے اس کوشش اور فکر کو آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔اب یہ اطلاع خوش آیند ہے کہ حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب بھی دیوبندی بریلوی اختلاف وکش مکش کوختم یا کم کرنے کے تعلق سے نہایت مثبت ذہن رکھتے ہیں۔ اس وقت امت کی سب سے اہم ضرورت نظم اجتماعی کا استحکام ہے اور اس کے لیے بین مسلکی مکالمے کی ہر سطح پر ضرورت ہے ۔مکالمے کے علاوہ دوسرا انتخاب، ذاتی مطالعہ اور ذاتی غور وفکرایک یک طرفہ عمل ہے جس کا نتیجہ محدود اور وقتی ہوتاہے۔

اس مفاہمت کے عمل میں سب سے بنیادی رول شیعہ سنی دونوں فرقوں کے علما اور ارباب فکر کاہے، کیوں کہ عوام کی فکری قیادت انھی کے ہاتھوں میں ہے۔لیکن دانش وروں کے اہل فکرطبقے کے اشتراک و تعاون کے بغیر یہ نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے چند امور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جن کو اس تعلق سے عمل میں لانا ضروری ہے:

حسن ظن

دو فریقوں کے درمیان نتیجہ خیز مکالمے کے لیے سب سے اہم چیز حسن ظن اور الدین النصیحۃ کے تحت خیر خواہی کا جذبہ ہے۔ قرآن میں بد گمانی کی مذمت کی گئی ہے۔(5) حدیث کے مطابق بد گمانی سے بچنا چاہیے کہ بد گمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث) (6) مسلکی کش مکش میں سب سے زیادہ دخل اس بد گمانی کو ہے جو باہمی طور پر دوری بنائے رکھنے اور ایک دوسرے کوسمجھنے کی کوشش نہ کر نے کی وجہ سے عوام تو عوام، خواص کے بھی ذہنوں میں بھی راسخ ہو چکی ہے۔عوامی سطح پر ایک دوسرے کے تعلق سے نہایت بے بنیاد باتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ حسن ظن کے ساتھ یہ علمی اور دینی تقاضا ہے کہ اس کی حقیقت خود متعلقہ فریق کی کتابوں یا علما سے معلوم کی جائے۔ دونوں فرقوں کے تعلق سے پا ئے جانے والے اسٹیریو ٹائپس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ شیعوں کے تعلق سے بدگمانی کی ایک اہم وجہ ان کا تقیہ سے متعلق نظریہ ہے۔اس میں شک نہیں کہ اس سے متعلق جو نظریات اپنی تفصیلی شکل میں ان کی کتابوں میں موجود ہیں، وہ انتہا پسندی پر مبنی ہیں اور ان پر عمل کرنے کی صورت میں تقیے اور نفاق میں بظاہر کم ہی فرق رہ جاتا ہے۔ لیکن اہل سنت میں بڑے پیمانے پر یہ رائج تصور کہ شیعہ سنیوں کے ساتھ ہر یا اکثر انفرادی واجتماعی امور و معاملات میں تقیہ کرتے ہیں، صحیح نہیں ہے۔سماجی زندگی میںیہ سرے سے قابل عمل نہیں ہے۔ تاہم یہ صحیح ہے کہ غالباً تقیے کی ہی بنا پر اہل تشیع کے یہاں فکر و عمل کا تضاد پایا جاتا ہے۔

سماجی سطح پر اشتراک عمل

اس تعلق سے سب سے اہم کام یہ ہے کہ دونوں مکاتب فکر کے لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اشتراک عمل وجود میںآئے۔ اشتراک عمل سے اشتراک فکر کی بھی راہیں ہموار ہوں گی۔سنی حلقے کی طرف سے جو بھی سیاسی وسماجی پروگرام منعقدہوں، ان میں شیعہ اہل علم و فکر کی شرکت کو یقینی بنا یا جائے۔ اسی طرح شیعہ حضرات سنیوں کو اپنے اجتماعی کاموں میں شریک کریں۔ اپنے اداروں کی رکنیت دیں۔ ہندوستان میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی مثال اس تعلق سے نمایاں ہے کہ عرصۂ دراز سے اس کے نائب صدر مشہور شیعہ عالم مولانا کلب صادق ہیں۔ مسلم پرسنل لا بور ڈ ہندوستان میں اہم اجتماعی ادارہ ہے جس کے صدور میں قاری محمد طیبؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور مولانا رابع حسنی ندوی( موجودہ) جیسے مستند اورثقہ علما کا نام آتا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں بھی شیعہ علما شریک رہے ہیں۔ہندوستان میںیہ بحث سرے سے کبھی پیدا نہیں ہوئی کہ شیعوں کو مسلمانوں کی ملی و اجتماعی سرگرمیوں میں شریک کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔ موجودہ صورت حال میں اہل فکر شیعہ علما سنی فضلا اور ارباب علم ہنر کو اپنے اداروں سے جو ڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ راقم الحروف کے شناسا کئی دیوبندی فضلا،دہلی کے سفینۃ الہدایہ ٹرسٹ اورجامعہ اہل بیت سے وابستہ ہیں۔ میرے خیال میں یہ اہل تشیع کی طرف سے یہ ایک مثبت پہل ہے جس کے جواب میں ہمیں بھی اپنے اداروں میں شیعوں کو جگہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن یہاں اس سیاق میں ایرانی حکومت کے اس رویے کی کوئی توجیہ سمجھ میں نہیں آتی کہ ایران میں سنیوں کو تقریباً حاشیہ پر رکھا گیا ہے۔ تہران میں تقریباً دس لاکھ سنی ہیں، لیکن سنیوں کو وہاں مسجد بنانے کی اجازت نہیں۔اس کے بر عکس مثال کے طور پر سعودی عرب میں نہ صرف ان کی مساجد ہیں بلکہ، مجھے دو اہم شیعہ علما نے بتایا کہ مدینہ میں بھی انہیں مسجد بنانے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس طرح کا امتیاز شیعہ سنی مفاہمت و تقارب میں زبردست رکاوٹ ہے۔

بہر حال دونوں فرقوں کے درمیان سماجی سطح پر دوریوں کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ عراق میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان ازدواجی رشتے کا تعلق تقریباً 30/% فی صد ہے۔ (8) ہمارے یہاں بہ مشکل ایک فی صد ہوگا۔ اہل سنت کے وسیع النظر علما کی نظر میں یہ صحیح اور جائز ہے۔ شیخ یوسف قرضاوی انھی میں سے ایک ہیں، لیکن ہمارے اکثر علما اس جواز کے قائل نظر نہیں آتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اہل کتاب کی عورتوں سے شادی جائز ہے تو یہ کتنی عجیب بات ہوگی کہ شیعوں کے ساتھ اسے ناجائز قرار دیا جائے۔ ایک دوسرے کے پروگراموں ،شادی وغم کی تقریبات، ایک دوسرے کی مسجدوں میں نمازکی ادائیگی،اجتماعی افطار ،اس نوع کی دوسری سرگرمیاں دونوں فرقوں کے درمیان مفاہمت کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ 

اشتعال انگیز باتوں سے احتراز

دونوں فرقوں کو اشتعال انگیز باتوں سے آخری حد تک پرہیز کرنا لازمی ہے۔ ہندوستان میں لکھنؤ میں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں شیعہ سنی کشیدگی میں اس بات کا بہت دخل رہا ہے کہ دونوں فریق اپنے نظریات پر سنجیدہ علمی ماحول میں غور و خوض کے بجائے انھیں عوامی سطح پرسڑکوں پر حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔اشتہارات اور جلسے جلوس جذبات کو اور بھڑکاتے ہیں۔اسی روش نے پاکستان کومسلکی کش مکش کا جہنم زار بنا دیا ہے ۔اختلاف کرنے والے ہر دو فریقوں میں ایک حلقہ انتہا پسندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ارباب حل وعقدکے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس حلقے کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرے۔سماجی سطح پراس کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرے ۔اجتماعی عہدوں سے اس کو دور رکھے ،نئی نسل کو اس سے خبر دار و ہوشیار کرے۔اسی حلقے کو اسلام دشمن اورسماج دشمن عناصر استعمال کرکے اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔

ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو اس ذہنیت سے نکلنا ضروری ہے کہ فریق مخالف جب تک اپنے فلاں مخصوص نظریات سے دست بردار نہ ہو جائے اس وقت تک اس کے ساتھ مکالمہ اور تعلق سازی کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔حقیقت یہ کہ اس شرط کے ساتھکبھی کوئی مکالمہ عمل میں آہی نہیں سکتا۔

ایک دوسرے کو اصل ماخذ کی روشنی میں سمجھنے کی کو شش

شیعہ سنی مفاہمت کے لیے ایک دوسرے کو اس کے اصل ماخذ سے سمجھنا ایک اہم اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔دونوں فریقوں کے پاس اختلافی لٹریچر کا تقریبا ہزار سال سے زیادہ عرصے پرمشتمل ذخیرہ موجود ہے۔ جس میں دونوں فریقوں کے یہاں بڑی مقدار میں رطب ویابس جمع ہوگئی ہیں ۔ان سے دامن بچاتے ہوئے بنیادی ماخذ تک رسائی اور اس کی روشنی میں اپنے اختلافات کا تجزیہ ایک دشوار گذارعمل ضرور ہے لیکن ناگزیر ہے۔اصل مسئلہ علمی حلقوں کی سہل پسندی اوراخلاص کی کمی کا ہے۔جو علما ذوق علم سے بہرہ ور ہیں وہ خاموش اور ان معاملات سے کنارہ کش ہیں اور کم علم و نام نہاد علما و اہل دانش اختلاف کی خلیج کے مزید وسیع کرنے کو علم کی معراج اورافتراق امت کے کام کوعبادت سمجھ کر اس میں جوش اور خشوع و خضوع کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ 

جہاں تک راقم الحروف کو علم ہے ،ازہر کے تدریس فقہ کے نصاب میں فقہ جعفری اور فقہ زیدی و اباضی بھی شامل ہے۔ علی گڑھ میں سنی تھیولوجی کے ساتھ شیعہ تھیولوجی کا قیام بھی اہم اور نہایت با معنی اقدام تھا،لیکن اس کے طرز پرہندو پاک کی دینی درس گاہوں میں کوئی پہل سامنے نہیں آئی ۔ نہ شیعہ سنیوں کے مدارس کا رخ کر سکتے ہیں اور نہ سنی شیعوں کے مدارس کا۔اب اس تعلق سے پیش رفت کی ضرورت ہے۔پاکستان کے تعلق سے یہ توقع کم ہے ،ہندوستان کی ا گرکوئی قابل ذکر دینی درس گاہ اس بارے میں پہل کرے تو بلاشبہ یہ ایک تاریخی اور دور رس اثرات کا حامل قدم ہوگا۔ فقہ جعفری کی ایک خصوصیت ( اپنی بہت سی افراط و تفریط کے ساتھ ) یہ ہے کہ اس میں اجتہاد کادروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔ اس اعتبار سے اس باب میں اس میں سنی مکتب فکر کے مقابلے میں حرکیت اور لچک زیادہ ہے اور اس کے عملی مظاہرایران میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔(اگرچہ ایک خاص دائرے تک ہی، کیوں کہ بہر حال راقم الحروف کو اس بات پر ہمیشہ حیرت رہی کہ آخراجتہاد کے دروازے کے ’چوپٹ کھلے ‘ رکھے جانے کے باوجود آج تک بہت سی قبیح اور غیر اخلاقی و غیر فطری رسموں مثلاً: متعہ،رسول اللہ کی تصویر کشی جس کا ایران میں بکثرت رواج ہے، پر بھی شیعہ مجتہدین کی طرف سے پابندی کیوں عائد نہیں کی جاسکی؟) اسی طرح روایات واحادیث کے باب میں اگر شیعہ حضرات یہ اصولی لچک پیدا کرنے پر آمادہ ہوں کہ عقلی طور پر روایات کے قبول وعدم قبول کا مدار جیسا کہ سنیوں کے یہاں ہے، راوی کا معتمد وغیر معتمد ہونا،ہوناچاہیے نہ کہ محض اہل بیت سے انتساب،تو وہ سنیوں کے زیادہ محفوظ، مستند اور بڑے ذخیرہ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ 

شیعہ سنی مفاہمت میں ایک بڑی رکاوٹ صحابۂ کرام اور بعض ازواج مطہرات کے تعلق سے شیعوں میں پائی جانے والی بد ظنی، غلط نظریات اور ان کا افسوس ناک سطح پر زبانی اظہار و اصرار ہے۔ شیعوں کے ایک طبقے نے اس کو ایک بڑے کار ثواب کے طو پرا ختیار کر کررکھا ہے۔ شیعہ مجتہدین اور حکومت کے تعاون سے قائم قمُ(ایران) کے بعض اداروں کی طرف سے نہایت افسوس ناک کتابیں اصحاب رسول و ازواج مطہرات کی معاندت میں لکھی گئی ہیں ۔مثلاً ایک کتاب ’’تین سو جعلی صحابہ‘‘ ہے جو مجمع جہانی اہل بیت ،قم سے اردو سمیت کئی زبانوں میں شائع کی گئی ہے ۔بظاہر اس کا مقصد اسی شیعوں کے مشہور عام نظریے کو تقویت دینا ہے کہ صحابہ کی بہت بڑی تعداد نعوذ باللہ منافقین پر مشتمل تھی۔ جب کسی فریق کی مقدس شخصیات کواس طرح ہدف تشنیع بنا یا جانے لگے تو اس کے جذبات کا برانگیختہ ہونا لازمی ہو جاتاہے اور اس طرح سارا معاملہ افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔ کچھ سال قبل ایک بڑے شیعہ اجتماع میں جس میں خیر سگالی کے جذبے سے سنیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا، ایک ذمہ دار شیعہ مقرر نے اپنے اس نہایت بے بنیاد اور افسوس ناک نظریے کو دہرایا کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد تین چار صحابہؓ کے علاوہ باقی سارے صحابہ نعوذ باللہ مرتد ہو گئے تھے۔ ہمارے ایک فاضل دیوبند دوست نے وہیں کھڑے ہو کر احتجاج کیا کہ کیایہی سننے کے لیے ہمیںیہاں بلایا گیا تھا۔ راقم الحروف کا اندازہ ہے کہ شیعوں کا ایک طبقہ شیعہ سنی مفاہمت کا حامی ہونے کے باوجود تبرا اور سبّ صحابہ کو اپنا مسلک بنائے ہوئے ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کم از کم اس سے طبقے سے کسی قیمت پر مصالحت نہیں ہوسکتی۔

اکتوبر 2009 میں دوشنبے (تاجکستان) میں ملک کے صدر کی طرف سے امام ابو حنیفہ ؒ پر ہونے والی عالمی کانفرنس میں ( جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا) بعض اہل تشیع کی ایسی ہی کسی حرکت پر شیخ ازہر، شیخ طنطاوی ؒ نے انتہائی خفگی کے عالم میں اسی قسم کی راے کا اظہار کیا تھا۔شیعہ سنی قربت ومفاہمت میں جو چیزسب سے بڑی دیوار بن کرحائل ہے، وہ بلاشبہ یہی سب وشتم صحابہ کا مسئلہ ہے۔اس تعلق سے شیعوں کے مراجع تقلید علما اور مجتہدین،ایرانی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحریری یا زبانی سطح پرپائے جانے والے اس مظہرپرپابندی لگائے ۔ قم میں مختلف دیواروں پر اللہم العن قاتلی فاطمۃ (فاطمہؓ کے قاتلین پر اللہ کی لعنت ہو) لکھا ہوا ہے۔ حضرت ابو بکروعمرؓ کواہل تشیع حضرت فاطمہؓ ؓکا قاتل تصور کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح اہل تشیع کے یہاں اب قرآن کے محفوظ اور غیر محرف ہونے پر تقریباً اجماع ہو چکا ہے اور اس حوالے سے جو درجنوں روایات شیعہ کی اہم اور مستند کتابوں میں پائی جاتی تھیں، ان کے بارے میں اس پراتفاق کرلیاگیاکہ وہ سب غلط اور موضوع ہیں، اسی طرح شیعہ مجتہدین کواپنے اثر ورسوخ کو کام میں لاتے ہوئے خاص طور پر خلفاے ثلاثہ(حضرت ابوبکر و عمراور عثمان رضی اللہ تعالی عنہم) اور حضرت عائشہؓ اورعمومی سطح پرتمام صحابہ کرامؓ سے متعلق عوام وخواص کے ذہن کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جنہیں یہ بتایا گیا ہے کہ نعوذ باللہ صحابہ کرامؓ کی اکثریت (مختلف شیعی روایات کے مطابق، تین چار صحابہؓ کے علاوہ تمام کی تمام) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گئی تھی اور خلفاے ثلاثہ نعوذ باللہ غاصب و منافق تھے۔ بصورت دیگر تقریب او ر مکالمے کی کوششیں بے سو د ثابت ہوں گی۔ اسی طرح اہل سنت کے ان علما کو اور جماعتوں کو جو شیعوں خاص طور عمومی سطح پر تمام اثناعشریوں کی تکفیر کرتے ہیں، اس سے باز آنا چاہیے۔ اس نظریاتی تبدیلی کے بغیرشیعہ سنی اتحاد مشکل نظر آتاہے۔ اسی طرح پچھلے دنوں ایک سلفی اسکالر اور مناظر کی طرف سے، جو پیس ٹی وی کے ذریعہ اہم خدمات انجام دے رہے ہیں، یزید کی شخصیت کو اہمیت دینے کے حوالے سے جو تنازع پیدا ہوا وہ سراسر مسلکی امن و آشتی کی فضا کو غارت کر دینے والا ہے۔ اہل سنت کی طرف سے ایسے لاحاصل موضوعات پر زبان کھولنے یا قلم اٹھانے سے احتراز کیا جانا ہی عین اسلامی مصلحت ہے۔

بہرحال شیعہ سنی مفاہمت وقت کا ایک اہم تقاضا ہے۔ہمیںآگے بڑھ کر ایسی کوششوں کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ مشہور سنی داعی اسلام شیخ احمد دیدات مرحوم نے ایک جگہ لکھا ہے کہ :کیا 90%فی صد سنی 10%فی صدشیعوں سے خوف زدہ ہیں کہ وہ ان سے قریب ہونے کی کوشش نہیں کرتے؟(9)میرے خیال میںیہ سوال اہم ہے۔اہل سنت ہر طرح سے اہل تشیع پر اثر اندازہونے کی قوت رکھتے ہیں،لیکن اس کے باوجودان کے یہاں اس تعلق سے غیر ضروری حساسیت اور بے جا تحفظ کی نفسیات پائی جاتی ہے۔ 

2008 میں لکھنؤمیں شیعہ وسنی حضرات نے ایک ساتھ مل کر نمازعید ادا کی۔یہ ایک نہایت خوش آیند واقعہ تھا جسے دونوں فرقوں کی دو باوقار شخصیات مولاناکلب صادق اور مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا کارنامہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ کہ صرف رسول اللہ کی اس حدیث کو بھی قابل ذکر انداز میں عمل میں لایا جانے لگے توصورت حال میں نمایا ں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے کہ ’’: ہر نیک و بد کے پیچھے اور ہر نیک و بد پر نماز پڑھو اور ہر نیک وبد کے ساتھ جہاد کرو‘‘ (صلوا خلف کل بر و فاجرو صلوا علی کل بر وفاجر وجاھدو ا مع کل بر و فاجر) (8)

بہر حال شیعہ سنی اتحاد اور مفاہمت وقت کا ایک اہم تقاضا ہے ۔ضرورت ہے کہ علما اور اہل فکر اس کی طرف متوجہ ہوں، لیکن میں پوری غیر جانب داری کے ساتھ سمجھتاہوں کہ مفاہمت کے تعلق سے بنیادی طور پر شیعوں کو ہی اپنے بہت سے روایتی نظریات اور طرز عمل پرنظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر مفاہمت کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ 

مکالمے اور مفاہمت کی کوششوں کے لیے ہندوستان کی سر زمین خاص طورپر نہایت سازگار ہے۔شرط یہ ہے کہ اس رخ پر مناسب انداز میں قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے۔


حواشی

(1) مسائل الجاہلیۃ التی خالف فیھا رسول اللہﷺ اہل الجاہلیۃ ص:67 -المکتبۃ السلفیۃ ومکتبتہا ،قاہرہ 1397-سرورق کی عبارت ہے: الف اصلہا الامام شیخ الاسلام محمد ابن عبد الوہاب وتوسع فیہا علی ہذ الوضع علامۃ العراق السید محمود شکری آلوسی۔غالب گمان یہی ہے کہ یہ اضافہ ثانی الذکر کی طرف سے کیا گیا ہوگا)۔

(1) فصلت: 34

(2) آل عمران: 103

(3) الانفال: 46

(4) الحجرات: 12

(5) متفق علیہ

(http://soundvision.com/info/muslims/shiasunni.asp (6

(http://www.islamawareness.net/Deviant/Shia/iran.html (7

(8) بیہقی و دارقطنی عن ابی ہریرہؓ 

آراء و افکار