فالج کا ایک نایاب نسخہ

حکیم محمد عمران مغل

مسجد و مدرسہ نیلا گنبد ، انار کلی لاہور کو ہمیشہ ایک مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔ یہاں بڑے بڑے علما، فقہا، اساتذہ کرام اور حکما کا جمگھٹا رہا ہے۔ انھی میں ایک ایسے عالم دین تھے جو سرکاری نوکری چھوڑ کر یہاں کے پرسکون ماحول میں آ بسے۔ دین کے علاوہ کوئی کام یا مجلس انھیں پسند نہ تھی۔ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں کے اسکالر تھے۔ گزر بسر کے لیے مختلف زبانوں کے تراجم کا کا م شروع کر دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سعودی حکومت اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، امریکہ، افریقہ تک ان کے نام کا سکہ چلنے لگا۔ بھاٹی گیٹ ہائی اسکول میں عربی کے استاذ تھے، مگر سب کچھ چھوڑ کر مسجد نیلا گنبد میں آ بسے۔ ان کے دو چھوٹے بھائی بھی تھی۔ میرا تعلق ان سے اسکول سے ہی ہوا تھا۔ صبح جتنا کماتے تھے، شام کو خالی ہاتھ گھر جاتے تھے۔ مخلص اتنے کہ کبھی کسی سے انتقام لینے کا نہ سوچتے۔ مجلس بھی بڑی وسیع ہوا کرتی تھی۔ خود اعلیٰ پایے کے ہومیو پیتھ ڈاکٹر تھے، مگر ترجیح ہمیشہ طب اسلامی کو دی۔ فرماتے تھے کہ میں نے ہومیو پیتھک کا کورس کیا ہے، مگر جو بات طب اسلامی یا یونانی میں ہے، وہ دوسرے کسی نظام میں نہیں۔ اسی لیے میں ان کے نزدیک ہوتا گیا۔ میری خواہش تھی کہ ایسے نیک عالم باعمل سے ہر قیمت پر رابطہ استوار ہونا چاہیے۔ یہ تھے حضرت مولانا منظور الوجیدی المعرف مولانا منظور بیگ۔

ایک مرتبہ یوں ہوا کہ تین چار دن تک ملاقا ت نہ ہو سکتی۔ پتہ کیا تو بتایا گیا کہ وہ ہسپتال میں داخل ہیں۔ میں فوراً ہسپتال پہنچا۔ چھوٹا بھائی تیمار داری کر رہا تھا، مگر نہایت پریشان تھا۔ میں نے کہا کہ تسلی رکھیں، اللہ فضل کرے گا۔ کل میں دوا کے ساتھ حاضر ہوں گا۔ ان کے بھائی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب تو دیسی دوا نہیں کھانے دیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ سے زیادہ مجھے ان معاملات کا پتہ ہے۔ دوسرے دن میں دوا کے ساتھ گیا تو ان کے دونوں بھائیوں کے علاوہ قاری بشارت صاحب مرحوم نے، جن سے میں نے قرآن شریف پڑھنے کا فن سیکھا تھا، فرمایا کہ اس ماحول میں یہ مناسب نہیں۔ میں نے عرض کی کہ ماحول، حالات اور بیماری کی کیفیات کے تحت جو دوا میں لایا ہوں، وہ اللہ کے فضل سے تیر بہدف ثابت ہوگی اور کئی دفعہ تجربہ کی میزان پر یہ دوا پرکھی جا چکی ہے۔ لیکن ان کے چھوٹے بھائی صاحب نے کہا کہ منظور صاحب خود بھی آمادہ نہیں، کیونکہ واسطہ تو ڈاکٹر حضرات سے ہی پڑے گا اور وہ دیسی دوا دیکھ کر ناراض ہوں جائیں گے۔

میں واپس آ گیا اور رات بھر سوچتا رہا کہ انھوں نے یہ دوا نہ کھائی تو ساری زندگی چارپائی سے نہ اٹھ سکیں گے۔ اللہ نے میرے دل میں ایک بات ڈال دی۔ دوسرے دن میں پھر گیا اور ان سے کہا کہ میری دوا بہت قیمتی ہے۔ آپ مجھے کم از کم تیس سال سے جانتے ہیں کہ میں نے کس طرح اور کن حالات میں طب اسلامی پڑھی ہے۔ میں نے ہر طرح سے قائل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ آپ اپنی ذمہ داری پر دے سکتے ہیں تو دے دیں۔ میں نے کہا مجھے منظور ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ جو کیپسول وہ کھا رہے ہیں، وہ سارے لا کر مجھے دے دیں۔ وہ لے آئے۔ میں نے سب کو خالی کر کے ایک کالی مرچ کے برابر ہر کیپسول میں خالص ہیرا ہینگ بھر دی۔ میں نے کہا کہ ایک کیپسول ابھی سادہ پانی سے دے دیں۔ میں نے رات وہیں گزارنے کی خواہش ظاہر کی جس سے ان کا حوصلہ بڑھا۔ سات دن صبح شام کھانے کے بعد صرف ہینگ دی گئی۔ ساتویں روز مولانا منظور صاحب پیدل چل کر اچھرہ سے نیلا گنبد آئے بھی اور گئے بھی۔ پھر وہ جتنا عرصہ زندہ رہے، سواری استعمال نہ کی۔ میں نے ان کے بھائی صاحب سے کہہ دیا تھاکہ میرا ذکر نہ کریں کہ ہر کوئی میرے پیچھے لگ جائے گا اور جان چھڑانی مشکل ہو جائے گی۔

مولانا کو تکلیف کیا تھی؟ بظاہر ان کا ایک قدم معمولی سے ڈگمگاتا تھا، مگر کوئی یہ نہ جان سکا کہ انھیں فالج کا حملہ ہوا تھا۔ ہینگ اور کالی زیری دونوں بڑے نام اور کام کی ادویہ ہیں۔ فالج کے علاوہ میں نے ہینگ کے ساتھ بڑے اونچے اور پڑھے لکھے گھرانوں کے مریضوں کا لقوہ کا علاج کیا ہے۔ آج جتنی ٹھنڈک ہمارے گھروں میں مستعمل ہے، اس نے لوگوں کو جیتے جی گڑھوں میں دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔ ٹھنڈا پانی، ایئر کنڈیشنر، برف، قلفی، ٹھنڈی بوتلیں، سب زہر قاتل ہیں۔ ان سے بچیں۔

نوٹ: ہر آدمی یہ نسخہ استعمال نہ کرے، خصوصاً وہ مریض جو بلڈ پریشر یا خونی امراض کا شکار ہوں۔

امراض و علاج