میرے شعوری ارتقا کی پہلی اینٹ

افضال ریحان

ممتاز عالم دین علامہ زاہد الراشدی اور ان کے علمی وفکری گھرانے کا میں دیرینہ نیاز مند ہوں۔ جس زمانے میں شیرانوالہ گیٹ کے اندر واقع مولانا احمد علی لاہوری کی مسجد میں مولانا مفتی محمود کا خطاب سننے اور مولانا عبیداللہ انور کی زیارت کرنے جایا کرتا تھا، انہی دنوں سے علامہ زاہد الراشدی کا آشنا ہوں۔ جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان مجلہ میں ان کی مصروفیات او ر تحریریں پڑھتا تھا، البتہ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ نوجوان علامہ صاحب میرے ممدوح حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کے نور نظر ہیں۔ جب معلوم ہوا توا ن کی قدر ومنزلت مزید بڑھ گئی۔ ہوش سنبھالنے کے بعد میں نے اپنی زندگی میں جو دوسری کتاب شروع سے آخر تک پورے انہماک کے ساتھ پڑھی، وہ تھی مولانا سرفراز خان صفدر کی کتاب ’’گلدستہ توحید‘‘۔ اس کتاب نے میرے اندر یہ لگن پیدا کی کہ قرآ ن مجید کو اسی انہماک و استغراق کے ساتھ الحمد سے والناس تک ترجمے کے ساتھ پڑھوں۔ ساتھ ساتھ نظریہ توحید کے حوالے سے نوٹس بھی لیتا جاؤں اور غور بھی کرتا جاؤں۔ اس کے بعد مولانا کی کتاب ’’آنکھوں کی ٹھنڈک‘‘ پڑھی جو سنت سے محبت اور شرک و بدعات سے کنارہ کشی کا سبق سکھاتی ہے۔ یوں مولانا سے مودت کا ایک تعلق سا بن گیا۔ اسی پس منظر میں مولانا سرفراز خان صفدر سے ایک یادگار ملاقات بھی ہوئی جس کی تفصیل آئندہ پر اٹھائے رکھتے ہیں اور اصل موضوع پر واپس آتے ہیں۔ مابعد علامہ زاہدالراشدی سے تعلق کی قدرت نے ایک اور سبیل پیدا کردی۔ یہ ہیں نوجوان محقق جناب عمار خان ناصر۔ المورد میں اس ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات بھلے لگے۔ جس طرح فکری ونظری طور پر ایک زمانے میں ان کے جد امجد سے قربت پیدا ہوئی تھی، اس طرح اسی دادا کے ہونہار پوتے سے بھی اپنائیت محسوس ہوئی۔ یہ معلوم ہونے پرکہ آپ علامہ صاحب کے صاحبزادے اور حضرت مولانا کے پوتے ہیں، خوشی اور مسرت ہوئی۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش خدمت ہے:

ایک بار میں جناب عمار خان صاحب سے ملنے ان کے گھر گوجرانوالہ گیا۔ مقصد حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کی زیارت تھا۔ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ایک نہایت خلیق چاندی جیسی داڑھی والے بزرگ نے بالا خانے پر واقع حجرے میں بٹھایا، چائے کاپوچھا اور بتایا کہ عمار خان صاحب آنے ہی والے ہیں، آپ تشریف رکھیں۔ تھوڑے انتظار کے بعد عمار خان صاحب تشریف لائے اور ہم انہیں ساتھ لے کر گکھڑ منڈی کے لیے روانہ ہو گئے۔ ابھی چند قدموں کا فاصلہ طے کیا تھا کہ میں نے عمار خان سے پوچھا کہ آپ کے والد محترم سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ آج کل یہیں ہیں یا باہر گئے ہوئے ہیں؟ وہ فوراً بولے ابھی اوپر جن حضرات کے درمیان بیٹھے تھے، ان میں آپ کے سامنے والے میرے والد صاحب ہی تھے۔ انہی قدموں پر واپس اسی حجرے میں گیا، علامہ صاحب کو سلام کیا اور کہا ’’ سوری جناب! میں آپ کو پہچان نہیں سکا تھا‘‘۔ پھر علامہ صاحب سے حسب سابق دعائیں وصول کرتا عمار صاحب کے پاس گاڑی میں آ گیا۔ ہم جب گکھڑ کے قریب پہنچے تو عمار خان صاحب نے اپنا موبائل مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ آپ ذرا اباجان سے بات کر لیں۔ ادھر سے علامہ زاہد الراشدی بول رہے تھے: ’’سوری ریحان صاحب، میں بھی آپ کو پہچان نہیں سکا تھا۔ مجھے تو اب فون پر عمار نے بتایاہے کہ میں افضال ریحان کے ساتھ آیا ہوں‘‘۔ ہے نا یہ دلچسپ واقعہ! ساحر لدھیانوی نے یہ شعر تو کسی اور محل کے لیے کہا تھا، لیکن حسب حال ہے:

میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو

اس کے بعد شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر کی زیارت ہوئی تو دل بہت خراب ہوا۔ یہ خیال ذہن میں بار بار آتا رہا کہ کاش میں انہیں اس حال میں دیکھنے کے لیے نہ ہی آتا تو اچھا ہوتا۔ جس شخصیت کو میں نے کبھی چاک وچوبند اپنے ساتھ شاہی مسجد کی سیڑھیاں چڑھتے اترتے دیکھا تھا، شفقت سے اپنا بازو میرے کندھے پر پھیلاتے باتیں کرتے سنا تھا، آج وہ بزرگی کے ہاتھوں بے بسی سے یوں لیٹے تھے کہ ان کے لیے اپنی سائیڈ بدلنا بھی محال تھا۔ ہمیں (میرے دو کزن ایوب اور اعظم بھی میرے ساتھ تھے) کچھ پلانے کے لیے انہوں نے جو بولا، ان کی سمجھ صرف بھائی عمار ہی کو آ سکی۔ وقت انسانی زندگی میں کتنی اور کیسی تبدیلیاں لاتا ہے، اسے ہم اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کر سکتے تھے۔ ہماری زبان پر یہ قرآنی الفاظ آئے: ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق افلا یعقلون۔ 

کسی نے سچ کہا ہے کہ زمانے میں ثبات ایک تغیر کو ہے۔ ہم اس تغیر کو ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور اپنے تصورات میں محسوس کرتے ہیں، لیکن اس کی گیرائی اور گہرائی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ افسوس! ہم اس تغیر کی ماہیت کو اپنی اپنی ذہنی تنگناؤں تک محدود سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ اس کائنات میں صرف انسانی زندگی کے اندر ہی تبدیلیاں نہیں آتیں، ہر لمحہ لاکھوں بلبلے بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ خاک سے نمو پا نے والے کروڑوں پھول روز کھلتے، مر جھاتے، بکھرتے او ر خاک میں ملتے ہیں۔ انسانی زندگی میں ایک نوع کی تبدیلی تو وہ ہے جو بچے سے بوڑھے ہونے تک محض جسم میں نہیں، تصورات ونظریات اور خیالات میں بھی آتی ہے۔ پھر یہ تبدیلیاں محض افراد تک محدود نہیں، اقوام اور ان کی سوسائٹیوں میں بھی ایسی ہی جوہری تبدیلیاں آتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ خاک کے یہ پتلے دوبارہ خاک ہو جاتے ہیں، جبکہ انسانی سوسائٹی کا سفر علمی، فکری اور شعوری حوالوں سے جاری وساری رہتا ہے۔ افراد یا اقوام کے بڑھتے ہوئے شعور پر تو قدغنیں اور بندشیں لگائی جا سکتی ہیں، لیکن بنی نوع انسان کے شعوری ارتقا کو روکنا ناممکن ہے۔ وقت کا پہیہ ہمیشہ آگے کو چلتا ہے، پیچھے نہیں مڑتا۔ جو اقوام ایسی کاوشیں کرتی ہیں، زمانہ انہیں جھٹک دیتا ہے۔ نتیجتاً وہ خود پسماندہ رہ جاتی ہیں، اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ زمانے کو برا مت کہو۔ زمانہ تو خود خدا ہے۔ لیکن جن اقوام نے انسان کی پہچان نہیں کی، وہ خدا کی پہچان کیا خاک کریں گی۔ کل یوم ھو فی شان۔

ہم صرف یہ گزارش کرتے ہیں کہ انسان نے ہزاروں صدیوں کے سفر کی فطرت اور تجربات سے جو کچھ سیکھا ہے، اسے مقدس الفاظ کی زنجیریں نہ پہنائی جائیں۔ زمانے کے ارتقا کو برا نہ کہاجائے کہ زمانہ تو خود خدا ہے۔ زمانی حقیقتوں کو مقدس الفاظ سے کمتر نہ سمجھا جائے، اس لیے کہ ایک Word of God ہے تو دوسرا Work of God ۔ پروردگار عالم کے قول وفعل میں تضاد آخر کیسے ممکن ہے؟ اگر کسی کی کم نظری کو ایسا کوئی تضاد دکھائی دیتا ہے تو پھر لازم ہے کہ وہ اقوال کی تشریح افعال کی روشنی میں کرے۔ بس یہی میرا وہ شعوری ارتقا ہے جس کی پہلی اینٹ میرے نہاں خانوں میں مولانا سرفراز خان صفدر نے استوار کی تھی۔ 

(بشکریہ روزنامہ پاکستان ،لاہور) 

مشاہدات و تاثرات