’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر سیمینار

حافظ عبد الرشید

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں وقتاً فوقتاً مختلف موضوعات پر سیمینارز اور علمی و فکری نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اکادمی کی سرگرمیوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ان سیمیناروں میں ملک اور بیرون ملک سے ممتاز اہل علم و دانش کو اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی جاتی ہے۔ اب تک دینی مدارس کے نظام و نصاب، تدریس کے طریقے اور تعلیم و تربیت کے مناہج کے عنوانات پر نشستیں ہو چکی ہیں۔ اسی سلسلے میں موّرخہ ۱۵ فروری ۲۰۰۹ ء بروز اتوار اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار ہو ا جس میں ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ صاحب اور جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے نائب مہتمم مولانا مفتی محمد زاہد صاحب مدعو تھے۔ سیمینار کی صدارت اسلام آباد کے معروف عالم دین مولانا محمد رمضان علوی نے فرمائی ۔ سیمینار کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد مولانا حافظ محمد یوسف (استاد الشریعہ اکادمی) نے معزز مہمانان گرامی کا خیر مقدم کرتے ہوے ان کا شکریہ ادا کیا اور اکادمی کے ڈپٹی ڈائر یکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر کو ابتدائی خطاب کی دعوت دی۔ 

مولانا محمد عمار صاحب نے اپنے مختصر خطاب میں عصر حاضر کے معروضی حالات اور نفسیات کے تناظر میں تدریس حدیث کے دو پہلووّں کی طرف توجہ دلائی۔ انھوں نے فرمایا کہ قرآن وحدیث ہمارے دینی نصاب کا مرکز و محور ہیں جبکہ دوسرے علوم ان کو سمجھنے کے لیے معاون و تابع کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان میں سے اکثر انہی د و بنیادی مآخذ سے اخذ شدہ ہیں۔ ہر دور میں اہل علم ودانش نے ان علوم کو استعمال کرتے ہوئے قرآن وسنت کی طرف رجوع کیا اور اپنے دور کے معروضی حالات ونفسیات کے تحت پیدا ہونے والے سوالات میں معاشرہ کی رہنمائی کی۔ اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے آج کے دور میں حدیث کا مطالعہ کرتے ہوے فی الجملہ اسے قرآن کی شرح سمجھنے کے ساتھ ساتھ ہر ہر حدیث اور ایک ایک روایت کا قرآن کریم سے معنوی تعلق واضح کرنے کی ضرروت ہے کہ کس طرح قرآن نے ایک بات کہی اور حدیث نے اس پر احکام مرتب کیے، قرآن نے ایک عمومی اصول بیان کیا تو اس کی حکمت کی روشنی میں کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار حکیمانہ اور علمی فروع وجزئیات اخذ کیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ دور میں مختلف فکری عوامل کے تحت ایک خاص قسم کی نفسیات وجود میں آئی ہے، ایک خاص ذہن بناہے جویہ سمجھنا چاہتا ہے کہ قرآن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے احکامات اخذ کیے اور کیسے ان پر عمل کیا، کیونکہ یہ بات طے ہے کہ جس علو ذہنی اور جس رسائی وگہرائی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم سے علوم ومعارف اخذ کیے ہیں، کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ مولانا عمار صاحب نے دوسری بات یہ کہی کہ ہمارے ہاں حدیث عملاً فقہا کے استنباطات، اختلافات اور فقہی اجتہادات کی خادم بن کر رہ گئی ہے۔ اکثر علمی بحثوں میں اصلاً ٰیہ ہی زیر بحث ہوتاہے کہ اس حدیث سے فلاں فقہ نے کیا سمجھا ہے، پھر اسی کا معارضہ ومناقشہ ہوتاہے کہ اگر وہ یہ کہیں گے تو ہم اس کا یہ جواب دیں گے وغیرہ۔ حالانکہ نفس الامر میں حدیث قرآن کی خادم تو ہے لیکن اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کو انسانوں کے، خواہ وہ کتنے ہی بلند مرتبہ ہو ‘ اقوال و اجتہادات کا خادم اور ان کو سمجھنے کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ حدیث کو اس کی مستقل حیثیت و شان اور اصلی مرتبہ پر رکھ کر ہی پڑھنا چاہیے۔ اس کے ضمن میں جزوی طور پر فقہا کے اجتہادات کو زیر بحث لایا جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہ ایک علمی ضرورت ہے۔ 

اس کے بعد اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی صاحب کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں حدیث کی تدریس و تفہیم سے متعلق تین باتیں عرض کروں گا: 

انہوں نے بعض روایات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیاکہ حدیث بیان کرتے ہوئے سامعین کے معروفات ومسلمات کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے ان کے ذہنوں میں نفرت پیداہو اور وہ اللہ اور رسول کی بات جھٹلانے کی منزل تک جاپہنچیں ۔ حدیث کے بیان کو لوگوں کے ایمان میں اضافے کا ذریعہ بننا چاہیے، اس میں تشکیک و شبہات کا نہیں اور جس طرح پبلک میں ذ ہنی سطح معروفات و مسلمات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اسی طرح کلاس کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ حدیث کے طلبہ کا جو ذہنی معیار آج سے پچاس سال پہلے تھا، وہ آج نہیں پایا جاتا۔ آج تو طلبہ اگر نفس حدیث اور اس کا ترجمۃالباب سے ربط ہی سمجھ لیں تو ان کی بڑی مہربانی ہو گی۔

دوسری بات انھوں نے یہ کہی کہ حضرت امام طحاوی ؒ کی کتاب ’’شرح معانی الآثار‘‘ احناف کے مستدلات کا بہت بڑا ماخذ ہے۔ انہوں نے اس کتاب کی وجہ تصنیف میں دو جملے لکھے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث کا ظاہری تعارض و تضاد جب لوگو ں کے سامنے آتاہے تو ضعیف ایمان والے تشکیک میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ملحدین اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ ایک مسئلہ میں دس حدیثیں متعارض ہیں، کس پر عمل کریں اور کس کو چھوڑیں۔اس تأثر کو ختم کرنے کے لیے امام طحاوی نے یہ کتاب تصنیف فرمائی ۔اگر تیسری صدی ہجری میں یہ صورت حال تھی کہ امام طحاویؒ کو یہ کتاب لکھنی پڑی تو آج ۱۵ویں صدی ہجری ہے اور امام طحاوی ؒ کے کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت بھی دوچند ہے۔ آج بھی اس ذوق کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ احادیث کے باہمی تعارض کو ہم جھگڑے کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ تطبیق و ہم آہنگی کو ظاہر کرنے کی کوشش کریں۔

تیسری بات حضرت شاہ ولی اللہ کے حوالے سے یہ بیان کی کہ شاہ صاحب کے نزدیک حدیث تمام علوم دینیہ حتیٰ کہ قرآن کا بھی مأخذ ہے۔ انہوں نے علم اسرار دین کو علم حدیث کا ایک شعبہ بنایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ گذشتہ ادوار میں جس طرح علما پر واجب تھاکہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے قرآن کا اعجاز واضح کریں، آج کے دور میں بھی ان علما پر فرض ہے کہ وہ اعجاز قرآنی کو اس حوالے سے بھی ثابت کریں کہ قرآن نے سوسائٹی کے لیے جو قوانین واحکام پیش کیے ہیں اورجس طرح کے مصالح کو پیش نظر رکھا ہے، آج کا کوئی بھی نظام اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتا۔ ایسے مکمل و اکمل اور معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے والے قوانین پیش کرنا کسی اکیلے انسان یا انسانوں کی کسی جماعت کے بس کی بات نہیں۔ یعنی حدیث پڑھاتے ہوئے آج کے زمانے کے مطابق اس کی لِم اور سِر کو بیان کرناضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید تحقیقات کا مطالعہ بھی ضروری ہے جس سے حدیث کی تفہیم میں آسانی پیدا ہوگی اور ایمان میں بھی اضافہ ہو گا۔ 

اس کے بعد مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد نے نہایت پُر مغز علمی اور وقیع معلومات پر مشتمل خطاب فرمایا۔ انہوں نے تدوین حدیث کی تاریخ کو بنیاد بناتے ہوئے مندرجہ ذیل باتوں کی طرف توجہ دلائی:

(۱) حدیث کی تدریس میں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آیا اس سے ہمارے زمانے کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں یا نہیں۔ کیا ہمارا طریقہ تعلیم ایسا ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہونے والے فیض سے آج کی جیتی جاگتی زندگی کو سیراب کر سکیں؟

(۲) ہمارے ہاں (اس سے مراد پوری دنیا میں موجود وہ حضرات ہیں جو حدیث کے پڑھنے پڑھانے میں مصروف ہیں) حدیث کا مصرف یہ رہ گیا ہے کہ ہم اُسے ایسے ہتھوڑے کے طور پر استعمال کریں جس سے ایک دوسرے کا سر پھوڑا جا سکے، حالانکہ حدیث کی تاریخ میں کہیں بھی اس مقصد کے لیے اسے استعمال نہیں کیا گیا۔ ہمارے اکابرین مثلاً حضرت عمربن عبدالعزیز ؒ اور حضرت امام مالک ؒ نے باوجود حکومت و اقتدار کی قوت کے حدیث میں موجو د مختلف نوعیت کے اعمال کے رواج کو ختم نہیں کیا بلکہ اس خواہش کا اظہار کرنے والوں کو سختی سے روکا کیونکہ امت کی حکمت اس بات میں ہی ہے کہ امت میں مختلف آرا اور اجتہادات کا تنوع برقرار رہے۔ 

گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن 

انہوں نے حضرت شیخ الہند ؒ کا ایک واقعہ نقل کر کے عمومی رویے کی نشاندہی فرمائی کہ حضرت شیخ الہندؒ حدیث کا درس دے رہے تھے کہ ایک حدیث ایسے ہی بلاتبصرہ گزر گئی۔ ایک طالب علم بولے کہ حضرت یہ حدیث احناف کے خلاف ہے تو حضرت نے فرمایا کہ ’’میں کیاکروں؟‘‘ یعنی یہ تو فقہا کے مستدلات ہیں اگر ہمارے خلاف کوئی حدیث آگئی تو کون سی آفت ٹوٹ پڑی۔ پچھلی حدیث ان کے بھی تو خلاف تھی۔ لیکن پھر وہی شیخ الہند ؒ باوجود اپنے اس معتدل مزاج کے ’’ایضاح الأدلۃ‘‘ لکھنے پرمجبور ہوئے کیونکہ فریق مخالف کی طرف سے تشدد کا مظاہر ہ ہو رہا تھا۔ 

مفتی صاحب نے فرمایا کہ جس طرح قرآن کریم میں ہر ہر آیت سے مختلف سوالوں کا جواب ملتا ہے، اسی طرح حدیث کے مجموعوں میں بھی ہر ہر حدیث سے بے شمار سوالوں کا جواب ملتا ہے، اس لیے جس طرح قرآن کریم کو آیات الاحکام کے ساتھ خاص کرنامناسب نہیں، اسی طرح حدیث کوبھی کسی خول میں بند کرنا مصلحت کے خلاف ہے۔

(۳) دینی مدارس میں سال کے آخر میں احادیث کی جو تلاوت ہوتی ہے، اسے اجتماعی مطالعہ کی شکل دی جائے۔طلبہ کے پاس پنسلیں اور ڈائریاں ہوں اور اس پر انعام مقرر کیاجائے کہ کون احادیث باب سے ترجمۃ الباب سے ہٹ کر کتنے مسائل اخذ کرتا ہے۔ 

(۴) حدیث کا صرف یہ حق نہیں کہ اس پر کمروں میں بیٹھ کر تبادلہ خیال کیاجائے یا لائبریریوں میں تحقیق کی جائے۔ یقیناً یہ بھی اہم فریضہ ہے اور ضروری ہے لیکن عام معاشرتی زندگی میں حدیث کا چلن ہونا زیادہ اہم ہے ۔ جھو ٹ، سچ، غصہ، ناراضگی، محبت خداوندی، انابت الی اللہ، انفرادی زندگی، گھریلومسائل، سیاست و قانون تک میں حدیث چلتی پھرتی نظرآنی چاہیے۔ اس کے لیے عام لوگوں کا حدیث سے زیادہ سے زیادہ فہم کا تعلق قائم کر ناضروری ہے، اس کے لیے طلبہ کو اس کی مشق کرانی چاہیے کہ وہ لوگوں میں رائج زبان میں شستہ و عمدہ ترجمہ کرسکیں۔

اس کے بعد مولانا مفتی برکت اللہ صاحب نے خطاب کیا جس میں انہوں نے حدیث کی تحقیق و تخریج کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف سائٹس کی نشاندہی کی جو حدیث کی تحقیق اور تخریج میں از حد معاون ثابت ہو سکتی ہیں ۔ انہوں نے اسی خواہش کا اظہار کیا کہ جیسے دنیا کے مختلف کونو ں میں مختلف علوم وفنون پر بڑے اچھے اچھے میوزیم بنائے گئے ہیں، ایسے ہی حدیث سے متعلق ایک جدید اور تحقیقی میوزیم ہونا چاہیے جس میں حدیث کے طرق و اسناد کے تنوع ((Diversity حدیث کی حفاظت میں محدثین و رواۃ کی بے مثال خدمات اور حفاظتِ حدیث پر مستند مواد کو بصری ذرائع سے پیش کیا جائے ۔ یہ بات آج کے متجسس ذہن، خاص طور پر مغربی ذہن کو اپنی جانب کھینچ لے گی اور وہ مبہوت ہو کر اسلام کی حقانیت کا یقین کر لے گا۔ انہوں نے یہ رائے بھی دی کہ اس طرح کے سیمینار ز میں پروجیکٹر (projector) اوردوسرے سمعی وبصری ذرائع کا استعمال ہونا چاہیے۔ 

تقریب کے آخر میں مولانا مفتی رویس خان صاحب آف میر پور آزاکشمیر نے بڑی شگفتہ گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ طلبہ حدیث جب حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں مختلف قسم کے اشکالات پیدا ہوتے ہیں، اساتذہ کرام کو چاہیے کہ ان اشکالات پر طلبہ کو ڈانٹنے یا مطعون کرنے کے بجائے ا ن کو سنیں، سمجھیں اور تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کریں تاکہ طلبہ شرح صدر کے ساتھ حدیث کے مطلب کو جذب کرسکیں ۔ انہوں نے چند پُرلطف واقعات بھی سنائے جن سے محفل کشتِ زعفران بنی رہی اور حاضرین نے بہت حظ اُٹھایا۔ 

تقریب کے اختتام پر مولانا مفتی رویس خان صاحب نے دُعا کرائی اور شرکاے محفل کی چائے کے ساتھ تواضع کی گئی۔

مولانا اللہ وسایا کی الشریعہ اکادمی میں تشریف آوری

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا اللہ وسایا صاحب ۲۰؍ فروری کو گوجرانوالہ کے دورہ کے موقع پر الشریعہ اکادمی میں بھی تشریف لائے اور نماز عصر کے بعد علماے کرام اور طلبہ کی ایک نشست سے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے تقاضوں کے حوالے سے تفصیلی خطاب فرمایا۔ انھوں نے ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے عنوان سے اپنی ۲۵ جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب بھی الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے ہدیہ کی جس میں انھوں نے قادیانیت کے بارے میں گزشتہ ایک صدی کے دوران مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماے کرام کی طرف سے لکھی جانے والی تحریروں کو یکجا کر کے کتابی شکل میں محفوظ کر دیا ہے۔ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے الشریعہ اکادمی میں تشریف لانے اور ضخیم کتاب لائبریری کے لیے ہدیہ کرنے پر مولانا اللہ وسایا کا شکریہ ادا کیا ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی دینی وعلمی خدمات کو قبولیت وثمرات سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

اخبار و آثار