عالمی امن کے فروغ میں اہلِ قلم کا کردار

پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین

(دسمبر ۲۰۰۸ میں اکادمی ادبیات اسلام آبادکے زیر اہتمام منعقد ہونے والی دو روزہ ’’قومی اہل قلم کانفرنس‘‘میں پڑھا گیا۔)

’’ماضی کا فن کار ظلم و تشدد کے موقع پر کم از کم خاموشی اختیار کر سکتا تھا ۔ ہمارے اپنے زمانے میں جبرو تشدد نے اپنی شکل بدل لی ہے ، جب صورتِ حال یہ ہو تو فن کار خاموشی یا غیر جانب داری کیسے اختیا ر کر سکتا ہے؟ اسے کوئی نہ کوئی راستہ ، موافقت یا مخالفت کا اختیار کرنا پڑے گا ۔ بہر حال آج کے حالات میں میرا موقف یقیناًمخالفانہ ہو گا‘‘۔  البئر کامیو (Albert Camus) 

خواتین و حضرات ...! معاشرہ تحریر و تخلیق کے ذریعے خود کوتلاش کرتا ہے ۔ تخلیقاتِ انسانی ،معاشرتی، تہذیبی اور مادی زندگی کا اہم اور منفرد اظہار ہوتی ہیں۔ اِن کا تعلق پوری زندگی کے تجربوں اور خود زندگی کی رُوح کے اظہار سے ہے۔ اہلِ قلم شعوری و غیر شعوری طور پر زندگی سے خام موادلے کر ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جس کے معنی و اقدار ایک طرف اہلِ قلم کے حقیقی تجربے کو دوام بخشتے ہیں تو دوسری طرف زندگی میں خیر کا اضافہ کر کے خود زندگی کو تازہ دم کر دیتے ہیں ۔لیکن ایسا اُسی وقت ممکن ہے جب لکھنے والا سنجیدہ ہو ،اور زندگی سے اس کا پورا تعلق ہو ۔ اہلِ قلم اپنے زمانے کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں چھوٹے بڑے، واضح اور غیر واضح سارے عکس دکھائی دیتے ہیں ۔جو قلم کار اپنے عہد کے لیے یہ کام نہیں کرتا وہ نہ صرف غیر ذمہ دار ہے بلکہ اُس کے اہلِ قلم ہونے پر بھی شک کیا جا سکتا ہے کیونکہ سچاقلمکار معاشرہ کے اجتماعی شعور کا آئینہ دار ہوتا ہے جو اُسے اپنے احساسات سے باخبر بھی کرتا ہے اور اسے بدلتا بھی ہے۔ ایسے دور میں جیسا کہ آج کا دور ہے تبدیلیوں اور احساسات کا اظہار نہ کرنا اور مصلحتِ وقت کے پیشِ نظر خاموش ہو جانا یا زہر کے پیالے سے ڈر جانا سماج اور انسانیت دونوں سے غداری ہے ۔جب ایک نظام دم توڑ رہا ہو، ایک طبقہ ختم ہو رہا ہو اور دوسرا اس کی جگہ لینے کی کوشش کر رہا ہو تو اہلِ قلم بھی تاریخ کی اس پیش قدمی میں لازمی طور پر شامل ہو جاتے ہیں ۔ ایسے میں وہ اگر مصلحت کا شکار ہو کر دم توڑتے نظام و نظریات کا ساتھ دینے لگیں تو بذاتِ خود معاشرہ کے ذہنی ارتقا میں رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔

آج کی دنیا تاریخ کی بے رحمی کا شکار ہے اور ایک ایسے دور سے گذر رہی ہے جہاں ہر چیز کی شکل دھندلائی ہوئی ہے ۔ جہاں انسانیت اور امن و آشتی کی ہر قدر بے معنی ہو کر بد امنی ، دہشت گردی کے سامنے سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے۔ دہشت اور خونریزی نے ذہنِ انسانی کو کُہر آلود کر دیا ہے ۔ ہر وقت ، جگہ جگہ، کسی نہ کسی شکل میں جنگ جاری ہے۔ قوموں ، نسلوں ، زبانوں ، فرقوں اور طبقات کے مابین جنگ کے پیچھے مفادات کی ایک دنیا ہے۔ ایسے میں امن کا قیام کثیر الجہتی ہے۔ طاقتور کی حاکمیت کے لیے ساز گار حالات یاکمزور کے لیے تحفظ کے اسباب، اس کے پیچھے بھی مفادات کی ایک دنیا ہے ۔ ہر لمحہ جنگ کی صورتحال نے خوف اور بدامنی کا طوفان برپا کر رکھا ہے چنانچہ اس وقت عالمی امن کا قیام فروغِ انسانیت کا تقاضا ہے ۔

لیکن آج کے گھمبیرحالات میں عالمی امن کی بھی کئی توضیحات ہیں ۔عالمی سامراجیت کو کھل کھیلنے کے لیے پر امن حالات درکار ہیں ۔دنیا کے وسائل تک بغیر مزاحمت کے رسائی ایک مہیب جنگی قوت کے زیرِ سایہ ایک ایسا عالمی امن جس میں گلوبلائزیشن کا عمل پھلتا پھولتا رہے ۔ اِس امن کے فروغ کے لیے بھی اہلِ قلم کی خدمات ساری دنیا میں درکار ہیں اور عالمی سامراج کو وافر مقدار میں یہ خدمات حاصل بھی ہیں ۔

عالمی امن کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ دنیا میں زخم خوردہ ، مظلوم انسانوں (جو گذشتہ کئی عشروں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور ایک انقلاب کے خواہاں ہیں ۔ یہ انقلاب کسی نہ کسی کے خلاف تو ضرور ہو گا) میں انتقام کی آگ نہ بھڑک اُٹھے ۔ وہ اپنی حالتِ زار کومقدر سمجھ کر گہری نیند سو جائیں بصورتِ دیگر انتشار اور بد امنی پیدا ہو گی اور امن برباد ہو جائیگا ۔ اہلِ قلم کو یہاں بھی اچھی خاصی قیمت مل جاتی ہے ۔ کچھ اہلِ جنوں قلم و قرطاس کے سہارے شوقِ شہادت بھی پیدا کر تے ہیں ان کا خیال ہے جب تک عدل و انصاف اور مساوات نہیں ہو گی ۔امن فروغ نہیں پائے گا ۔

عالمی امن کی ایک اورجہت تحلیل ہوتی ہوئی ریاستوں ،پسماندہ قوموں ، مفلس اور جاہل نسلوں کو بھی درکار ہے تاکہ وہ اپنی بقا کی جدو جہد بغیر کسی خونریزی کے کر سکیں ۔ اپنی مرضی سے بنائے ہوئے ایجنڈے کی تکمیل بغیر کسی بیرونی مداخلت کے کر سکیں ۔ اس امن کا تقاضا یہ ہے کہ عراق، افغانستان، کشمیر ،افریقہ اور لاطینی امریکہ میں جنگ ختم ہو جائے عوام اپنی مرضی کا نظام اور حکومتیں قائم کر یں یہاں بھی اہلِ قلم کی بڑی قبیل بر سرِ پیکار ہے۔ 

قلم بھی تو دو دھاری تلوار ہے جو حملہ بھی کرتا ہے اورمزاحمت بھی ۔ امن اور جنگ دونوں کے پاس ’’قلم کار‘‘ایک کارندے کے طور پر کام کرتا ہے ۔قلم نفرتوں کو ابھارتا ہے ،جنگی ترانے لکھتا ہے، رجز تخلیق کرتا ہے ، ستم زدہ انسانوں کے بین لکھتاہے۔ نوحے رقم کرتاہے ، ہر ایک جواز کا ساتھ دیتاہے ۔ اپنی ماہیئت میں نہ جنگ کا کوئی ضمیر ہے نہ قلم کی کوئی اوقات ۔ سوال صرف اتنا ہے کہ ہتھیار کس کے ہاتھ میں ہے۔ 

آج دنیا اندرورنی و بیرونی طور پر ایک ڈھادینے والی کشمکش کے کرب میں مبتلا ہے اور ضرورت محسوس کر رہی ہے کہ موجودہ سماجی و سیاسی اداروں اور اخلاقیات و اقدار کا از سرنو جائزہ لے کر انھیں سلجھائے ،تاکہ نئی اقدار کی تشکیل ممکن ہو سکے ۔ لیکن ہمارا منجمد نظامِ فکر گلے میں ہڈی کی طرح اٹک گیا ہے۔ تاریخ کے جدلیاتی عمل کے کیمیاوی امتزاج کی تلاش اور شدید ذہنی کشمکش کی اکھاڑ پچھاڑ ہی ہمارے اس تہذیبی تعطل کا حقیقی سبب ہے ۔ایسی پیچیدہ صورت حال میں ہی اہلِ قلم کی ذمہ داری اور ان سے حلفِ وفاداری اُٹھوانے کے مسائل سامنے آتے ہیں کیونکہ کسی بھی سماج اور تہذیب میں نیا احساس ،تازہ افکار اور نیا شعور اہلِ قلم کے وسیلے سے ہی داخل ہو تا ہے۔چنانچہُ روحِ عصر اہلِ قلم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان لمحوں کو اپنی گرفت میں لائیں جو آج دنیا پر سے گذر رہے ہیں۔ جیسے جیسے ہمارا نظام خیال اپنی بدلی ہوئی صورت میں حرکت میں آتا جائے گا، ہماری تخلیقی قوتوں کے سوتے بھی ہر سمت میں کھلتے جائیں گے۔

اہل قلم نے ہمیشہ اپنے عہد کو متاثر کیا ہے ، اسے بدلا ہے ، اسے نیا دماغ اور نئی فکر دی ہے اسے پھیلا یا اور بڑا کیا ہے ۔ اور ہمیشہ ’’ عظیم احمقوں‘‘ کے سامنے’’ نہیں ‘‘کہنے کی جرأت کی ہے ۔ لکھاری معاشرے کا ذمہ دار شخص ہوتا ہے ۔ کوئی محسوس کرے یانہ کرے، لیکن قلم کار ہر لمحہ کو، ہر واقعہ کو صحیح پس منظر میں سب سے پہلے سمجھ لینے کی صلاحیت اور قوت رکھتا ہے اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانا اور روشنی دکھانا اس کا فرض بن جاتا ہے۔ ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ ’’ ادیب لکھتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے یہ فرض سنبھال لیا ہے کہ اس دنیا میں جہاں آزادی کو ہر دم کھٹکا لگا رہتا ہے ،آزادی کے نام کو آزادی سے مخاطب ہونے کی سرگرمی کو جاوداں بنا دیا جائے ۔‘‘ اہل قلم کو آج یہ فریضہ انجام دینا ہے ۔ 

خواتین و حضرات !آج ادیبوں او دانشوروں کی بڑی تعداد کے سامنے یہ کہنے کی جسارت کروں گاکہ حیات و کائنات کے مسائل کا علاج محض فقرے بازی کے تعویذ گنڈوں سے ممکن نہیں ۔ دنیا کو قلمی ہر کاروں اور گورکنوں کی بجائے ایسے اہلِ قلم کی ضرورت ہے جو زندہ رہ کر موت کاقلمی تجزیہ کرنا جانتے ہوں ۔ جو کسی شاعر یا نثر نگا ر کی درجن بھر خصوصیات گنوانے ، روایتی انداز میں غزلیں ، نظمیں کہنے یا بندھے ٹکے موضوعات پر افسانے لکھنے کی بجائے عصری مسائل پر غور و فکر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں ۔ جو روایت کو اپنا کر روایت کو توڑنے کی قوت کے حامل ہوں جو عالمی مسائل کے حل کے لیے تبدیلی کا نیا شعور دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ قطع نظر اس بات کے کہ دنیا ہر لمحہ ایک مہیب عالمی جنگ کے سائے میں ہے، یہ طے ہے کہ یہ ان مفتوحہ قوموں کی مانند نہیں ہے جو صدیوں تک محض حملہ آوروں کا انتظار ہی کرتی رہتی تھیں ۔ یا د رہے کہ انسان کا مقدر صفحہ ہستی سے معدوم ہو جانانہیں بلکہ کائنات کی وسعتوں میں پھیلی ابدی حرکت سے ہم آہنگ ہونا ہے ۔ دنیا کو بد امنی کے اندھیروں سے نکلنا ہو گا آج ہمارے پاس روشنی کی طرف سفر کرنے کے لیے زبردست صلاحیت موجود ہے ۔ اہلِ قلم کو خود احتسابی کے ذریعے اس صلاحیت سے رشتہ جوڑنا ہوگا۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم ذاتیات و نظریات سے بالا تر ہو کر انسانیت کا ساتھ دیں گے۔ خود احتسابی بہت مشکل کام ہے۔ لیکن یہ اُن پر فرض ہو جاتی ہے جو حق و انصاف اور امن و آشتی کے علمبردار کہلانا پسند کرتے ہیں۔ مگر حق و انصاف کے تار تار لباس اور امن و آشتی کی اڑتی ہو ئی دھجیوں سے نظریں بچا کر اور کترا کر نکل جاتے ہیں ۔ کوئی اہل قلم اپنے عہد کی اجتماعی دانش سے ماوراتخلیقات فراہم نہیں کرتا ۔ اگر کرتا ہے تو وہ محض لفاظی اور پراپیگنڈہ ہوتا ہے ۔ آج کے عہد کی دانش زبر دست سائنسی صلاحیت رکھتی ہے وہ تمام قوانین اور اُصول جو سائنس نے دریافت کیے ہیں وہی اس عہد کی ترقی کی بنیادبن سکتے ہیں ۔ فکر اور نظریے کی فرسودگی جس نے ماضی میں انسانوں پر جنگیں ہی جنگیں مسلط کیں ، سائنس نے ان کو شکست دے دی ہے سائنس کی اس فتح میں اہلِ قلم کو حصہ داربننا چاہیے، یہی وہ حصہ داری ہے جو اہلِ قلم و فکر کو ایک باوقار عالمی امن کی جانب لے جائے گی۔ 

حاضرین !کسی نے کہا تھا کہ ’’ امنِ عالم کے لیے ایک جنگ ہونی چاہیے ‘‘ ۔ یہ جنگ تلوار سے بھی ہو سکتی ہے قلم سے بھی۔ چلی کے پیبلونرودا (Pablo Neruda)نے یہ جنگ قلم سے لڑی۔ فرانزفینن(Frantz Fanon) نے بھی ایسا کرنے کی کوشش کی ۔ فرانس کے مفاد میں ژاں پال سارتر(Jean Paul Sartre)بھی اس جنگ کا داعی تھا۔ فیض احمد فیض اور حبیب جالب کا قلم بھی اس امن کو ترستا رہا ۔ آج بھی اہلِ قلم اس جنگ میں شریک ہیں مگر ضرورت حکمت و دانائی کی ہے کہ پہلے وہ حدود طے کر لی جائیں جو عالمی امن کو جنم دیں ۔ یا اگر وہ موجود ہیں تو اسے فروغ دیں ۔یہ حدود مبنی ہیں انسانوں کے حقوق ، ان کی آزادی اور عزت و احترام پر ۔ یہ سب کچھ کسی نئے عمرانی معاہدے یا بڑے سیاسی منشور سے ہی ہو گا۔ اہل قلم کا فرض ہے کہ وہ اس سیاسی منشور کو دنیا کے سامنے لے کر آئیں ، لوگوں کے ذہنوں کی آبیاری کریں اور انسانی قوت کو اس جارحیت کے سامنے لاکھڑا کریں جو امن اور جنگ دونوں ہتھیاروں سے انسانوں کے خلاف جاری ہے ۔

سامعین!دنیا میں اس وقت عالمی امن نہیں ایک عالمی ڈیٹر نس قائم ہے ۔ یہ ڈیٹر نس (Deterrence)ایک ایسا آتش فشاں ہے جو انسانی کائنات کو کبھی بھی کسی وقت بھی جلا کر بھسم کر سکتا ہے ۔ انسانوں کی حاصل کردہ ایٹمی صلاحیت اُسے ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ موت کی نیند سلا سکتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس طاقت کے پیچھے ایک خوف ہے اور یہ خوف محض نفسیاتی ہے بلکہ اسے ownership اور status quoنے پیدا کیا ہے ۔ یہ طبقاتی بالادستی کے تہس نہس ہو جانے کا خوف ہے اس کا مقابلہ ضمیر اور دانائی کی طاقت سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ کہتے ہیں پاکیزہ قلم ضمیر کی روشنائی سے لفظ لکھتا ہے ۔ اور پھر اس لفظ کی بڑی وقعت ہوتی ہے ۔جبکہ دانائی وہ دماغ ہے جو قلم کے راستے کتا ب میں پھیلتا ہے اور دنیا کے سامنے حقیقی عالمی امن کے قیام کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔ یہی پیغمبروں کا راستہ ہے ، یہی انقلابیوں کی راہ ہے ، یہی نسل در نسل دی گئی شہادتوں کا ثمر ہے ۔ قلم و قرطاس کا یہ راستہ اہل قلم کی میراث بنے گا، تب ہی ہم عالمی امن کی طرف بڑھیں گے۔ 

حالات و مشاہدات