’’چہرے کا پردہ : واجب یا غیر واجب؟‘‘

ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

مصنفین: پروفیسر خورشیدعالم /حافظ محمد زبیر

صفحات ۴۱۲۔ قیمت:۳۵۰روپے۔ شائع کردہ: دارالتذکیر، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور۔

علمی وفکری مسائل میں ارباب علم ودانش کو جب بحث ومباحثہ کا ماحول بہترین انداز میں نصیب ہو جائے تو ان کے ہاں باہمی مکالمے کا ذوق فزوں تر ہو کر تجزیہ واستدلال کی شاہر اہ پر چلتے ہوئے حقائق کی تفصیلات وجزئیات تک کا سفر طے کرتا ہے۔ عصر حاضر میں بعض دینی رسائل بڑے اہتمام کے ساتھ اس علمی روایت کو نہ صرف نبھا رہے ہیں بلکہ اس روایت کی ایک نئی روایت کی بھی تشکیل کر رہے ہیں۔ ان رسائل میں اشراق، الشریعہ اور حکمت قرآن کے نام بطور مثال پیش کیے جا سکتے ہیں۔ 

’چہرے کا پردہ واجب یا غیر واجب‘ کے موضوع پر اگست ۲۰۰۵میں پروفیسر خورشید عالم کا مقالہ ماہنامہ اشراق میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ یہ مقالہ اپنے اندر موضوع کی مناسبت سے سیر حاصل مواد رکھتا تھا۔ پروفیسر خورشید عالم نے اس مقالے میں سورہ احزاب اور سورہ نور کی ترتیب نزولی، حجاب اور ستر کے مباحث اور امتیازات، لفظ ’جلباب‘ پہ لغت اور تفسیر کے حوالے سے تحقیق، ’الاماظہر منہا‘ کی تفسیر، غض بصر اور زینت ظاہری کے بارے میں عادتاً اور عبادتاً کی اصطلاح کے پس منظر میں محدثین اور فقہا کے نقطہ ہاے نظر کو نہایت احسن انداز میں پیش کیا گیا۔ یہ مقالہ اپنے اندر علمی وفکری بصیرت کا کافی سامان لیے ہوئے تھا۔ 

حافظ محمد زبیر نے ماہنامہ ’حکمت قرآن‘ کی دسمبر ۲۰۰۵ کی اشاعت میں اس مقالے کے مباحث پہ اپنا تنقیدی مقالہ ’’چہرے کاپردہ، واجب، مستحب یا بدعت؟‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ اس مقالہ کاایک جملہ یہ ہے: ’’ فاضل مصنف علما کے شذوذات سے استدلال کرتے ہوئے چہرے کے پردہ کے واجب یا مستحب تو کجا، بدعت قرار دینے کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔‘‘ حافظ محمد زبیر نے اپنے مقالہ میں پروفیسر خورشید عالم سے گزارش کی کہ علماے سلف کے موقف کو خلط ملط نہ کریں۔ انہو ں نے پردے کے واجب یاغیر واجب کی علمی عقدہ کشائی کومستحب اور بدعت تک پھیلانے کا معرکہ سرانجام دیا۔ 

پروفیسر خورشید عالم نے اشراق، مئی ۲۰۰۶ میں حافظ محمد زبیر کے علمی کام کا بھر پور جواب دیتے ہوئے ان کی علمی بددیانتی سے لے کر ان کے مبلغ علم تک کی قلعی اس طرح کھول دی کہ بیشتر پڑھنے والے حیران رہ گئے۔ پروفیسر صاحب نے لکھاکہ ’’انہوں نے اس جواب کو فقہی عنوان دے کر خلط مبحث سے کام لینے کی کوشش کی ہے اور خاص مکتب فکر سے تعلق کی بنا پر اپنے ذہن میں جمے ہوئے خیالات کو تحقیق کے بغیر جوں کا توں ’حکمت قرآن‘ کے صفحات تک منتقل کر دیا ہے۔‘‘

بہرحال اشراق اور حکمت قرآن کے صفحات پہ ان دو ارباب دانش کے مباحثات مسلسل اشاعت پذیر ہو کر بالآخر ماہنامہ اشراق، فروری ۲۰۰۷ میں اختتام پذیر ہوئے۔ یہ ۱۷ مقالے اپنے اندر موضوع کی مناسبت سے نہ صرف علمی وتحقیقی مواد رکھتے ہیں بلکہ جواب مقالہ اور پھر جواب الجواب کی صورت میں تحقیق مزید کاروپ بھی لیے ہوئے تھے۔ جن قارئین نے ان ہردو رسائل میں اس علمی بحث کوچلتے اور اظہار کی نت نئی صورتیں اختیار کرتے پڑھا ہوگا، یقیناًانہوں نے اس بحث سے بہت کچھ سیکھا ہو گا، خاص طور پر یہ کہ کس طرح اپنا نقطہ نظر دلائل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جس موقف سے اختلاف ہو، اس کی کمزوری کو کس طرح علمی انداز سے واضح کیا جاتا ہے اور استدلال سے اپنے موقف کی برتری کس طرح واضح کی جاتی ہے۔ 

یہ کتاب اپنے اندر تحقیق اور جستجو کے شائقین کے لیے خاصا مواد رکھتی ہے، اور ابھی کسی اور محقق سے اس موضوع اور مواد پہ تحقیقی اور تنقیدی مطالعے کاحق مانگتی ہے۔ کاش کوئی اہل علم اور زیرک ناقد پیش کردہ مواد کا تنقیدی اور تحقیقی جائزہ پیش کر کے تشنگان علوم کی پیاس بجھا دے۔ البتہ حافظ محمد زبیر کے علمی مرتبے اور تحقیق کے اسلوب کے حوالے سے جو تاثر اس کتاب کے مطالعے سے قائم ہوتا ہے، اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ انھیں تحقیق کے میدان میں ابھی خاصا سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ خلط مبحث سے کام لیتے ہوئے کس طرح غیر متعلقہ معاملات اٹھاتے ہوئے علمی دیانت کے منافی طرز اختیار کرتے ہیں۔ ان کی عربی دانی کی قابلیت جس طرح ان کے نادر نمونوں سے سامنے آتی ہے، اس کو کوئی اورمثال ابھی تک ہمارے سامنے نہیں ہے کہ وہ کس طرح جابجا الفاظ کے غلط معنی اور کئی مقامات پر احادیث کے غلط ترجمے کر کے ایک افسوس ناک اورغلط روایت کے امین ہونے کابھرپور ثبوت دے رہے ہیں۔ حکمت قرآن مارچ ۲۰۰۶ میں اشاعت پذیر ان کے مقالے میں اٹھارویں حدیث کا ترجمہ انہوں نے جس طرح سے کیا ہے، اس پر افسوس کاا ظہار ہی کیا جا سکتا ہے کہ اصل معاملہ کیا تھا اور حافظ محمدزبیر نے کیا سے کیا کر کے پیش کیا ہے۔ (ص۱۹۰) اسی طرح نہ الفاظ کی دلالت سے نہ معانی کی دلالت سے، نہ ہی لغت کی شہادت سے ’جلباب‘ کامعنی وہ نکلتاہے جو حافظ محمد زبیر نکالتے ہیں۔ (ص ۲۲۲) فضیل بن عباس والی روایت کا مکمل علمی تجزیہ (ص۲۲۷) پڑھ کر ہمیں حافظ محمد زبیر کی علمی استعداد اور طرز استدلال سے جو آگاہی ہوتی ہے، اس پر فاعتبروا یا اولی الابصار ہی کہا جا سکتا ہے۔ غلط تراجم، بودے استدلال، معانی میں تحریف، اور غیر متعلقہ معاملات اٹھانے کی روایت کے ساتھ ساتھ عربی لغت سے ناواقفی کے باعث اگر حافظ محمد زبیر، پروفیسر خورشید عالم کی طرف سے دیے گئے مشوروں کو قبول کر لیں اور آئندہ بحثوں میں زیادہ سنجیدگی اور محنت سے کام لیں تو اس مباحثے کا حق ادا ہو جائے گا۔ 

کتاب کے صفحات نمبر ۱۶۴، ۲۱۸ اور ۳۹۱ پر ایک ترکیب ’’فحش غلطی‘‘ استعمال ہوئی ہے۔ یہ ایساغلط العام بن چکا ہے کہ عموماً اس کو غلط سمجھا ہی نہیں جاتا۔ یہ ترکیب ہی غلط ہے ، اصل لفظ ہے فاش غلطی۔ فاش کا مطلب ہے ظاہر، کھلا، آشکار، صریح، جب کہ فحش کامطلب ہے گالی، بے ہودہ بات، یاقابل شرم بات۔ ایک لفظ فاحش بھی ہے جس کامطلب شرمناک، جسم، بھاری اور سخت ہے۔ لغت کی کتابوں میں فاش غلطی اور فاحش غلطی تو ان معنوں میں مستعمل ہیں جو ہمارے اہل قلم لکھنا چاہتے ہیں، لیکن فحش غلطی کاتو مطلب ہی اور ہے۔

محمداحسن تہامی نے اس تمام علمی بحث کی ۱۷ ؍اقساط کو ایک منظم ترتیب سے بے کم وکاست کتابی شکل میں محفوظ کرکے ارباب بصیرت کے حضور ایک فکری کاوش کے روپ میں پیش کر دیا ہے۔ ۴۱۲ صفحات پرپھیلا ہوایہ علمی معرکہ اپنے اندر سیکھنے، سمجھنے، علم کو برتنے، پیش کرنے اورعمل کے نئے زاویے سمجھانے کا پورا التزام لیے ہوئے ہے۔ یہ کتاب دارالتذکیر کی اشاعتی روایت کی حسین تر صورت ہے۔ پروف ریڈنگ کا کامل التزام اس کو یادگار بنا دینے کے لیے کافی ہے۔ ارباب بصیرت اس علمی کاوش سے ضرور استفادہ کریں۔


تعارف و تبصرہ