کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۳)

حافظ محمد زبیر

امام شاطبیؒ کا موقف

امام شاطبیؒ کا موقف بھی وہی ہے جو کہ امام شافعی ؒ کاہے کہ سنت نہ توقرآن کو منسوخ کرتی ہے اور نہ ہی اس کے کسی حکم پر اضافہ کرتی ہے بلکہ یہ اس کا بیان(یعنی قرآن کے اجمال کیتفصیل‘ مشکل کا بیان‘مطلق کی مقید اور عام کی مخصص) ہے۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں :

’’سنت یا تو کتاب کا بیان ہوتی ہے یا اس پر اضافہ ہوتی ہے اگر تو وہ کتاب کا بیان ہو تو اس کے مقابلے میں کہ جس کا وہ بیان ہے ثانوی حیثیت رکھتی ہے...اور اگر وہ بیان نہ ہوتو پھر اس کا اعتبار اس وقت ہو گا جبکہ وہ کتاب اللہ میں موجود نہ ہو۔ ‘‘ (الموافقات‘جلد۲‘ الجز الرابع‘ ص۳‘دار الفکر)

غامدی صاحب نے امام شاطبی ؒ کی اس عبارت کواپنے موقف کی تائید میں تو نقل کر دیا کہ دیکھیں امام شاطبیؒ بھی یہ کہتے ہیں کہ سنت ‘قرآن پر اضافہ نہیں کر سکتی ‘لیکن ان سینکڑوں روایات کا غامدی صاحب نے بالکل بھی تذکرہ نہ کیا کہ جو بظاہر قرآن پر اضافہ معلوم ہوتی تھیں لیکن امام شاطبیؒ نے انہیں قرآن کا بیان ثابت کیا۔امام شاطبیؒ کا موقف یہ نہیں ہے کہ جو روایات تمہیں کتاب اللہ پر اضافہ معلوم ہوں‘ ان کو رد کر دوجیسا کہ غامدی صاحب نے ان کے قول سے یہ مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے بلکہ امام شاطبی ؒ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جو روایات بھی کتاب اللہ پر اضافہ معلوم ہو ں وہ کتاب ا للہ کا بیان ہی ہوں گی ہم اگر غور و فکر کریں تو اس بات کو آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں پھر اسی موقف کو ثابت کرنے کے لیے امام شاطبیؒ نے اپنی کتاب ’المواقفات‘ میں ان سینکڑوں روایات کو قرآن کی آیات کا بیان ثابت کیا ہے کہ جو بظاہر قرآنی احکام پر اضافہ معلوم ہوتی تھیں۔امام شاطبی ؒ اپنے اسی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’سنت کے احکامات کا اصل قرآن میں موجود ہوتا ہے۔پس سنت ‘قرآن کے مجمل کی تفصیل‘مشکل کا بیان‘اور اختصار کی شرح ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ سنت‘ قرآن کا بیان ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :ہم نے آپؐ کی طرف ذکر کو نازل کیا ہے تا کہ آپؐ لوگوں کے لیے ان کی طرف نازل کیے گئے کو واضح کریں ۔پس تم سنت میں کوئی بھی ایسا حکم نہ پاؤ گے کہ جس پر قرآن نے اجمالاً یا تفصیلاً رہنمائی نہ کی ہو۔ ‘‘ (الموافقات ‘ ۲/۶)

جیسا کہ امام شاطبی ؒ نے لکھا ہے کہ سنت‘قرآن کا ہر حال میں بیان ہی ہوتی ہے اسی طرح انہوں نے الحمد للہ اس اصول کواپنی کتاب ’الموافقات‘ میں ثابت بھی کیا ہے۔امام شاطبی ؒ کا کہنا یہ ہے کہ 

۱) بعض اوقات ہمیں سنت کے بعض احکامات ‘قرآن پر اضافہ معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ اضافہ نہیں ہوتے بلکہ قرآن کا بیان ہوتے ہیں کیونکہ شرح بھی مشروح سے زائد ہی ہوتی ہے۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں :

’’جیسا کہ سائل کے سوال میں ہے تو لازمی بات ہے کہ(سنت کے یہ احکامات) اضافہ ہے اور اس کو اضافہ مانا جائے گا ۔لیکن اس اضافے کے بارے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہ کیا یہ اضافہ ایسا اضافہ ہے جو کہ شرح کا مشروح پر ہوتا ہے جیسا کہ ہر شرح اس بیان پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ مشروح میں نہیں ہوتا ‘اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو کوئی شرح نہیں کہے گایا یہ اضافہ کسی دوسرے ایسے معنی کو شامل ہے جو کہ کتاب میں موجود نہیں ہے اور یہ مسئلہ علماء کے درمیا ن اصل محل نزاع ہے(یعنی بعض علماء سنت کے اضافے کو قرآن کے مجمل کا بیان بناتے ہیں جیسا کہ اما م شافعیؒ کا موقف ہے اور بعض علماء سنت کے اضافے کو قرآنی حکم میں اضافہ کی بجائے معنی جدید کا اضافہ قرار دیتے ہوئے قبول کرتے ہیں جیسا کہ ابن تیمیہؒ اور ابن قیم ؒ نے بیان کیاہے) ...اسی طرح اگر قرآن میں ایک حکم اجمالی طور پر ہے اور سنت میں اس کی تفصیل ہے تو جو سنت میں حکم ہے وہ ‘ وہ حکم نہیں ہے جو کہ قرآن میں ہے ۔جیسا کہ قرآن کا حکم ہے ’أقیموا الصلاۃ‘ ۔قرآن کے اس حکم میں ’الصلاۃ‘ کا لفظ مجمل ہے اور اللہ کے رسولﷺ نے اس کے اجمال کو بیان کیا ہے اور اللہ کے رسولﷺ کے بیان سے جو معنی حاصل ہوا ہے وہ ’مبین‘ یعنی صرف کتاب سے حاصل نہیں ہوتا تھااگرچہ اللہ کے رسولﷺ کے بیان کی مراد اور کتاب کی مراد ایک ہی ہے لیکن پھر بھی دونوںیعنی’ بیان‘ اور’ مبین‘ً حکم میں مختلف ہوں گے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک مجمل کا بیان نہ ہو اس وقت تک اس پر عمل کرنے کا حکم توقف ہے لیکن جب مجمل کا بیان ہو جائے تو اس کے مقتضی پر عمل کیا جائے گا(جیسے قرآن کا حکم ’أقیموا الصلاۃ‘ ایک مجمل حکم ہے اور اس پر عمل اس وقت تک نہ ہو گا جب تک اللہ کے رسولﷺ اس کا بیان نہ فرما دیں) لہذا جب ثابت ہو گیا کہ دونوں یعنی کتاب اور بیان کا حکم مختلف ہے (کیونکہ ’أقیموا الصلاۃ‘ میں کتاب کے حکم پر توتوقف ہو گا جبکہ سنت کے حکم پر عمل ہو گا) تو دونوں کا معنی بھی مختلف ہو گاپس اس طرح سنت کے احکامات کا بھی کتاب کے بالمقابل انفرادی حیثیت میں بھی اعتبار ہو گا۔‘‘ (الموافقات‘ ۲/۱۰‘۱۱)

۲) امام شاطبی ؒ کے نزدیک بعض وہ روایات جوکہ قرآن پر اضافہ معلوم ہوتی ہیںیا اس کے کسی حکم کی تحدیدکررہی ہوتی ہیں وہ درحقیقت قرآنی آیات میں اللہ کی منشا و مراد کو واضح کر رہی ہوتی ہیں۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:

’’جیسا کہ سنت تبیین کرتی ہے یہ مجمل کی وضاحت ‘مطلق کی تقیید اور عموم کی تخصیص کرتی ہے ۔ پس اس توضیح ‘تقیید اور تخصیص کی وجہ سے بعض اوقات قرآن کے بہت سے صیغے اپنے ظاہری لغوی مفہوم سے باہر نکل جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سنت ان تمام صورتوں میں یہ واضح کر رہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کی ان صیغوں سے مراد کیا ہے ؟پس جس شخص نے ان تین صورتوں میں سنت کی وضاحت کو چھوڑ کر خواہش نفس سے ظاہری صیغوں کی پیروی کی تو ایسا غور و فکر کرنے والا اپنے غور و فکر میں گمراہ بن جائے گا‘کتاب اللہ سے جاہل شمار کیا جائے گا اور جہالت کے اندھیروں میں پڑا رہے گا اور کبھی ہدایت نہ پا سکے گا۔ ‘‘ (الموافقات‘ ۲/۱۱)

امام شاطبیؒ اس کی مثال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’مثلا جب قرآن کے حکم ’چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹو‘کا بیان ہمیں سنت سے یہ ملا کہ ہاتھ کلائی سے کاٹا جائے گااور چوری کی ہوئی چیز کا بھی ایک نصاب مقرر ہے( اس نصاب جتنے یا اس سے زائد مال کی چوری ہو گی تو ہاتھ کاٹا جائے گا) اور یہ چوری مالِ محفوظ میں سے ہووغیرہ توسنت کے ان تمام احکامات کے بارے میں ہم یہی کہیں گے کہ سنت نے اللہ تعالی کی اس آیت سے مراد کو واضح کیا ہے نہ کہ اپنی طرف سے کچھ مزید احکامات کو ثابت کیا ہے۔اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ امام مالکؒ اور اس طرح دوسرے مفسرین ہمارے لیے قرآن کی کسی آیت یاحدیث کا معنی واضح کرتے ہیں تو جب ہم امام مالکؒ کی تفسیر وتوضیح پر عمل کرتے ہیں تو ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم یہ بات کہیں:کہ ہم نے فلاں مفسر کے قول پر عمل کیاہے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے قول پر عمل نہیں کیا۔‘‘ (الموافقات‘ ۲/۵)

لہٰذا امام شاطبیؒ کے بیان کے مطابق سنت میں موجود تخصیص ‘ تحدید اور تقیید وغیرہ قرآنی الفاظ سے اللہ کے منشا کو واضح کر رہے ہوتے ہیں جیسا کہ ہر مفسراور عالم اللہ کی منشا ومراد کو اپنے محدودعلم کی روشنی میں متعین کرتا ہے۔ 

۳) امام شاطبیؒ کے نزدیک سنت کے بعض وہ احکامات جوقرآن کی کسی آیت کے ناسخ یا اس کے مفہوم کو تبدیل کرنے والے معلوم ہوتے ہیں‘ وہ درحقیقت اللہ کے رسول ﷺ کا قرآن کی کسی آیت کا وہ گہرا فہم ہے کہ جس کی عدم موجودگی کی صورت میں امت قرآن کوسمجھنے میں غلطی کھا سکتی تھی ۔اما م شاطبیؒ کے نزدیک اللہ کے رسولﷺ نے آیت ’و امھتکم التی أرضعنکم و أخواتکم من الرضاعۃ ‘کے ساتھ اور بھی بہت سے رضاعی رشتوں کو قیاس کے ذریعے ملا دیاکیونکہ نص میں موجود ان دورضاعی رشتوں اور باقی رضاعی رشتوں میں کوئی فارق موجود نہیں ہے ‘عام اہل اجتہاد کے لیے ان دو رضاعی رشتوں سے باقی رضاعی رشتوں کی حرمت نکالنا ممکن نہ تھا ‘ لہذا اللہ کے رسولﷺ نمے قرآن کی اس نص کے گہرے فہم کو اپنی سنت کے ذریعے امت تک منتقل کر دیا کہ جس تک پہنچنے میں امت ترددو اختلاف کا شکار ہوسکتی تھی ۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:

’’اللہ تعالی نے آیت مبارکہ ’اور تمہاری وہ مائیں کہ جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعی بہنیں بھی تمہارے اوپر حرام کی گئی ہیں ‘میں رضاعت کے دو رشتوں کی حرمت کا تذکرہ کیا ہے تو اللہ کے رسولﷺ نے ان دو رشتوں کے ساتھ رضاعت کے باقی ان تمام رشتوں کو بھی ملا دیا جو کہ نسب کی وجہ سے حرام ہیں جیسا کہ پھوپھی ‘خالہ‘بھتیجی ‘بھانجی وغیرہ ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان رضاعی رشتوں کو قیاس کے بعد آیت میں مذکورہ دو رشتوں سے ملا دیا کیونکہ سنت میں بیان شدہ رضاعی رشتوں اور قرآن کے رضاعی رشتوں میں کوئی فرق کرنے والی چیز موجود نہیں ہے ۔اگر اللہ کے رسولﷺ کی سنت نہ ہوتی تواللہ کے رسولﷺ کے علاوہ جو مجتہدین ہیں وہ اس غور و فکر اور تردد میں مبتلا ہو جاتے کہ نص میں موجود رضاعی رشتوں کی حرمت پر ہی اکتفاکریں یانص میں قیاس کر تے ہوئے اور بھی رضاعی رشتوں کو ان دو رشتوں کے ساتھ ملا دیں۔پس اللہ کے رسولﷺ نے اپنے علاوہ مجتہدین کو اس تردد سے نکالنے کے لیے اس آیت کے بیان میں یہ سنت جاری فرما دی کہ ’اللہ تعالی نے جورشتے نسب سے حرام ٹھہرائے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام کیے ہیں ‘ اور اس طرح کی باقی تمام روایات کا بھی یہی معنی ہے ۔‘‘ (الموافقات‘ ۲/۲۴) 

غامدی صاحب اس بات پر مصر ہیں کہ اس آیت کا اسلوب بیان ایسا ہے کہ ہر شخص قرآن میں موجو د ’وأخواتکم من الرضاعۃ‘ کے الفاظ سے باقی رضاعی رشتوں کی حرمت بھی خود ہی نکال سکتا ہے جبکہ امام شاطبیؒ جو کہ غامدی صاحب کی طرح عجمی نہیں ہیں اور امت نے ان کو مجتہدین علماء میں بھی شمار کیا ہے ‘ ان کی رائے یہ ہے کہ ایک عام آدمی توکجا ایک مجتہد کے لیے بھی قرآن کی اس عبارت ’و امھاتکم التی أرضعنکم و أخواتکم من الرضاعۃ‘سے سنت کے بیان کے بغیر باقی رضاعی رشتوں کی حرمت نکالنا بہت مشکل تھا ۔ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ غامدی صاحب کے عجمی ہونے کے باوجود یہ ممکن ہے کہ وہ امام شاطبی ؒ جیسے عربی النسل‘امام ‘فقیہ ‘مجتہد اور اصولی سے زیادہ قرآن کے اسلوب سے واقف ہوں۔غامدی صاحب کے دعوی کے مطابق قرآن پر تدبر کرنے والے ہر شخص کے لیے ’و أخواتکم من الرضاعۃ‘سے بالبداہت باقی بھی رضاعی رشتوں کی حرمت واضح ہوجاتی ہے لیکن ہم یہ کہتے ہیں یا توقرآنی الفاظ کی یہ بداہت و وضاحت صرف غامدی صاحب کے حصے میں ہی آئی یا پھر قرآن پر تدبر کا شرف پچھلی چودہ صدیوں میں غامدی صاحب کو ہی حاصل ہوا کیونکہ غامدی صاحب کی طرح کسی بھی عربی النسل فقیہ ‘مجتہد یا اصولی کو ’و أخواتکم من الرضاعۃ‘ سے باقی رضاعی رشتوں کی حرمت سمجھ میں نہیں آئی۔بلکہ امام شاطبیؒ جیسے مجتہد اور فقیہ کا کہنا تو یہ ہے کہ ان الفاظ سے باقی رضاعی رشتوں کی حرمت نکالنا ایک عام مجتہد کے بس کی بات نہ تھی اسی لیے تو سنت کو جاری کیا گیا۔

امام شاطبی ؒ اپنی کتاب ’الموافقات‘ میں اس کی ایک اورمثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے جو ’ذی مخلب‘ اور ’ذی ناب‘ کو حرام قرار دیا وہ ’قل لا أجد فیما أوحی الی محرما...‘ پر اضافہ نہیں ہے بلکہ یہ آیت مبارکہ ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث‘ کابیان ہے کیونکہ بعض جانور اور پرندے ایسے تھے کہ جن کے بارے میں آپؐ کے علاوہمجتہدین کو یہ اشکال پیدا ہوسکتا تھا کہ وہ ’الطیبات‘ میں سے ہیں یا ’الخبائث‘ میں سے‘تو اللہ کے رسولﷺ نے ایسے جانوروں کے بارے میں اپنی سنت جاری فرما دی۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:

’’ان میں ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی نے طیبات کو حلا ل قرار دیا ہے اور خبائث کو حرام ٹھہرایا ہے اور کچھ چیزیں ایسی تھیں کہ ان دونوں کے درمیان تھیں ان کا ان دونوں میں سے کسی ایک یعنی طیبات یا خبائث سے الحاق ممکن تھاتو اللہ کے رسولﷺ نے ایسی تمام اشیاء کے بارے میں کہ جن کے طیب یا خبیث ہونے میں اشکال ہو سکتا تھا وضاحت فرمادی کہ یہ طیب ہے یا خبیث ہے پس آپؐ نے درندوں میں سے ہر کچلی والے درندے اور پرندوں میں سے پنجوں والے پرندوں کے کھانے سے منع فرمایا۔ ‘‘ (الموافقات‘جلد۲‘ الجز الرابع‘دار الفکر‘ ص۱۸)

غامدی صاحب کے نزدیک ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث ‘میں ’الطیبات ‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین فطرت انسانی سے ہو گا اور جہاں فطرت انسانی میں کسی جانور کے بارے میں اختلاف ہوجائے کہ یہ طیبات میں سے ہے یا خبائث میں سے ہے وہاں اہل عرب کے مزاج اور فطرت کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو گی ۔غامدی صاحب کا یہ موقف جمہور اہل سنت امام ابو حنیفہؒ ‘ امام مالکؒ ‘ امام احمدؒ ‘امام ابن تیمیہ ؒ اور امام شاطبی ؒ وغیرہ کے نقطہ نظر کے خلاف ہے جیسا کہ امام ابن تیمیہؒ نے ’مجموع الفتاوی‘ میں اس پر مفصل بحث کی ہے کہ اہل عرب کی فطرت یا مزاج سے طیبات یا خبائث کا تعین قرآن و سنت اور جمہور کی رائے کے خلاف ہے ۔

امام ابن تیمیہؒ کا موقف

امام ا بن تیمیہ ؒ بھی قرآن کے ‘ سنت سے نسخ کے قائل نہیں ہیں اور سنت کو قرآن کا صرف بیان ہی مانتے ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

’’پس اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کو صرف قرآن ہی منسوخ کر سکتا ہے جیسا کہ امام شافعی ؒ مذہب ہے اور امام احمدؒ سے ثابت شدہ دو روایتوں میں سے صحیح روایت یہی ہے بلکہ یہی قول امام احمدؒ سے نصاً ثابت ہے کہ قرآن کو بعد میں آنے والا قرآن ہی منسوخ کرے گا اور عام حنابلہ کا مذہب بھی یہی ہے ۔‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ ۱۷/۱۹۵)

یہ واضح رہے کہ امام صاحب کی یہاں پر نسخ سے مراد قرآن کے کسی حکم کا مکمل طور پر رفع ہو جانا ہے نہ کہ جزوی حکم کا اٹھ جانا۔امام ابن تیمیہ ؒ نے بعض ایسی روایات کو جو کہ بظاہر قرآن پر اضافہ معلوم ہوتی ہیں‘ قرآن کا نسخ شمار کرنے کی بجائے اس کی کسی دوسری آیت کا بیان قرار دیتے ہیں ۔امام صاحبؒ کے نزدیک اللہ کے رسولﷺ نے ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب ‘ کو جو حرام قرار دیا ہے وہ قرآن کے حکم ’قل لا أجد فیما أوحی الی ...‘ کا نسخ نہیں ہے اور نہ ہی اس پر اضافہ ہے کیونکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس آیت کے نزول تک جو وحی آپؐ پر نازل ہوئی ہے اس میں صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیا گیا۔ امام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں :

’’اسی وجہ سے آپؐ کا درندوں میں سے کچلی والوں اور پرندوں میں سے پنجوں والوں کو حرام قرار دینا قرآن کی آیت ’آپؐ کہہ دیں کہ جو میری طرف وحی کی گئی ہے ‘ اس میں ‘ مَیں کسی بھی کھانے والے پرکسی چیز کو حرام قرار نہیں دیتا کہ جس کو وہ کھاتا ہے ‘کا نسخ نہیں ہے ۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس آیت کے نزول سے قبل تین قسم کی چیزوں کو ہی حرام قرار دیا تھا۔یہ آیت اپنے نزول تک تین قسم کی چیزوں کے علاوہ کی حرمت کی نفی کرتی ہے(نہ کہ اپنے نزول کے بعد حرام ہونے والی چیزوں کی حرمت کی نفی) ۔اس آیت سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ان تین چیزوں کے علاوہ تمام اشیاء حلال ہیں ۔لیکن اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ (اس آیت کے نزول تک تو اللہ تعالی نے صرف چار ہی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے لیکن) اللہ تعالی نے باقی چیزوں کی حلت و حرمت کو درگزر کرتے ہوئے بیان نہیں کیا (یعنی باقی اشیاء اس آیت کے نزول تک نہ حلال ہیں نہ حرام‘بلکہ اپنا حکم آنے تک معفو عنھا ہیں)جیساکہ کسی بچے کایا مجنون کا فعل ہے ۔اسی طرح معروف حدیث میں ہے :حلال وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حرام ٹھہرایا ہے اور جس کے بارے میں اللہ تعالی خاموش ہیں اس سے اللہ تعالی نے درگزر فرما دیا ہے (یعنی اللہ کے رسولﷺ نے جو ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب‘ کو حرام قرار دیا ہے وہ ‘وہ جانور تھے کہ جن کے بارے میں کتاب اللہ میں سکوت تھا) اور یہ حدیث حضرت سلمان فارسیؓ سے محفوظ موقوفاً یا مرفوعاً ثابت ہے ۔‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ: کتاب الفقہ‘ فصل الانکار علی من یأکل ذبائح أھل الکتاب)

ایک اور جگہ اپنے اسی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے امام صاحب ؒ لکھتے ہیں کہ ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب‘ کی تحریم سنت کی طرف سے ایک ابتدائی حکم تھا نہ کہ قرآن کا نسخ یا اس پر اضافہ‘ اور سنت کا ایسا حکم کہ جس میں سنت ابتداء کسی چیز کو حرام قرار دے‘ اس کو ماننا واجب ہے ۔امام صاحبؒ لکھتے ہیں :

’’اللہ کے نبیﷺ نے ہر کچلی والے درندے اور پنجوں والے پرندوں کو حرام قرار دیا ہے اور یہ کتاب اللہ کا نسخ نہیں ہے کیونکہ کتاب اللہ نے ان درندوں اور پرندوں کو کبھی بھی حلال قرار نہیں دیا بلکہ ان کی حرمت سے سکوت اختیار کیاتھا۔پس ان جانوروں اور پرندوں کی حرمت آپؐ سے شریعت کے ایک ابتدائی حکم کے طور پر جاری ہوئی۔اور ایسی حرمت جو کہ آپؐ سے ابتدائی طور پر جاری ہوئی ہو اس کے بارے میںآپؐ سے حضرت أبو رافعؓ ‘حضرت أبو ثعلبہؓ اور حضرت أبو ھریرۃؓ وغیرہم سے مروی روایتکے الفاظ ہیں :میں تم میں سے کسی ایک کو تکیہ لگائے ہوئے اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے پاس میری طرف سے کوئی ایسا أمر آئے کہ جس کے کرنے کا میں نے حکم دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہوتو وہ یہ کہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرآن ہی کافی ہے جس کو قرآن نے حلال کہا ہے ہم اس کو حلال کہتے ہیں اور جس کوقرآن نے حرام ٹھہرایا ہے ہم اسے حرام ٹھہراتے ہیں ۔خبرار!مجھے قرآن بھی دیا گیاہے اور اس کی مانند اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیا گیا ہے ۔ایک اور روایت کے الفاظ ہیں :مجھے قرآن کی مثل یا قرآن سے زائد بھی کچھ دیا گیا ہے ۔خبردار!میں نے کچلی والے درندوں کو حرام ٹھہرایاہے ۔پس آپؐ نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آپؐ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی نازل ہوتی تھی اور یہی وحی ’حکمت‘ کہلاتی ہے(یعنی جس کا ذکرقرآن کی آیت مبارکہ ’واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من آیات اللہ و الحکمۃ‘ میں ہے )اور اسی وحی میں (جو قرآن کے علاوہ ہے)آپؐ کو اللہ تعالی نے خبر دی کہ ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب‘ حرام ہیں اور آپؐ کا یہ فرمان کتاب اللہ کا نسخ نہیں ہے کیونکہ کتاب اللہ نے ان جانوروں اور پرندوں کو کبھی بھی حلال نہیں کہا بلکہ کتاب اللہ نے تو ’الطیبات‘ کو حلال قرار دیا ہے اور یہ جانور اور پرندے’ طیبات‘ میں سے نہیں ہیں۔ ‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ:کتاب العقیدۃ‘ فصل أحادیث تنازع الناس فی صحتھا)

امام ابن تیمیہؒ کے نزدیک ’ذی مخلب‘ اور ’ذی ناب‘ کی سنت میں حرمت ‘ قرآن کی آیت ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث ‘ کا بیان ہے ۔امام صاحبؒ لکھتے ہیں :

’’اور اللہ تعالی کا قول’آپؐ ان کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہرائیں گے ‘اللہ کی طرف سے یہ خبر ہے کہ آپ مستقبل میں ایساکریں گے پس آپؐ نے طیبات کو حلال ٹھہرایا ہے اور خبائث کو حرام قرار دیا ہے جیساکہ آپؐ نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے کو حرام قرار دیا ہے ۔ ‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ: کتاب التفسیر‘ فصل الناس فی مقام حکمۃ الأمر و النھی علی ثلاثۃ أصناف)

غامدی صاحب کے نزدیک ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا جو کہ خود غامدی صاحب کے اصول ’’قرآن قطعی الدلالۃہے‘‘ کے خلاف ہے ۔کیونکہ اگر فطرت انسانی سے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین کیا جائے گا تو قرآن کے ان الفاظ کا معنی کبھی بھی متعین نہ ہو سکے گااور فطرت میں اختلاف کی صورت میں ایک فقیہ کے نزدیک ایک جانور حلال ہو گا اور دوسرے کے نزدیک وہی جانور حرام ہو گا۔ کیا عربی معلی میں ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا کوئی معنی نہیں ہے؟کہ غامدی صاحب کویہ کہنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کے معنی اور مصداقات کا تعین فطرت انسانی سے ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ بھی قرآنی الفاظ’ الصلاۃ‘ اور ’الحج‘ اور ’الصیام‘ اور ’الزکوۃ‘ وغیرہ کی طرح مجمل ہیں کہ جن کا بیان سنت ہے نہ کہ فطرت‘ کیونکہ صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے گوہ کے گوشت اور پیازکوطبعاً ناپسند کرنے کے باوجود حلال قرار دیا۔ امام ابن تیمیہ ؒ ’الخبائث‘ اور ’الطیبات‘ کا معنی اور ان کی حرمت و حلت کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’جمہور علماء کاکہنا یہ ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں اللہ تعالی نے حلال قرار دیا ہے اور ان کا کھانادین میں نفع کا باعث ہے اور خبیث سے مراد ہر وہ چیز ہے کہ جو اپنے کھانے والے کے دین کو نقصان پہنچانے والی ہو۔اور دین کی أصل عدل ہے کہ جس کے قیام کے لیے اللہ تعالی نے رسولوں کو مبعوث فرمایا‘پس جو چیز اپنے کھانے والے میں ظلم اور زیادتی پیدا کرتی ہے اللہ تعالی نے اسے حرام قرار دے دیا ہے۔ جیسا کہ ہر کچلی والے درندے کے کھانے کو حرام قرار دیا گیاکیونکہ ایسادرندہ سرکش اور حد سے بڑھنے والاہوتا ہے اور غذا دینے والاغذا لینے والے کے مشابہ ہوتا ہے ۔پس جب کسی ا نسان کاگوشت ایسے جانور سے پیدا ہو گاتو اس انسان کے اخلاق میں سرکشی اور زیادتی پیدا ہو جائے گی۔ اسی قسم کا حکمخون کا بھی ہے جو کہ شہوت اور غصے سے متعلقہ نفسانی قوتوں کو جمع کرتا ہے۔پس جب انسان ایسی چیزوں کو بطور غذا استعمال کرتا ہے تو اس کی شہوت اور غصہ اعتدال سے بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بہائے گئے خون کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس تھوڑے سے خون کو جائز قرار دیا گیا جو کہ جانور کے جسم میں باقی رہ جاتا ہے کیونکہ یہ ضرر نہیں دیتا(یعنی انسان کی شہوت اور غصہ نہیں بڑھاتا)اور خنزیر کا گوشت اس لیے خبیث ہے کہ یہ لوگوں میں برے اخلاق پیدا کرتا ہے ۔‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ: جلد۱۹‘ ص۲۴ و ۲۵)

غامدی صاحب کے نزدیک اگر کسی جانور کے بارے میں فطرت انسانی میں اختلاف ہوجائے کہ وہ ’الطیبات‘ میں سے ہے یا ’الخبائث ‘ میں سے ہے ‘تو ایسی صورت حال میں اہل عرب کافطری رجحان فیصلہ کن ہو گا ۔ جبکہ امام ابن تیمیہؒ اس مسئلے میں اہل علمء کی آراء نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اور اسی طرح علماء میں سے جس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں پر اس کوحرام قرار دیا ہے کہ جس کو اہل عرب خبیث سمجھتے تھے اور اس کو حلال قرار دیاہے کہ کہ جس کو اہل عرب طیب سمجھتے تھے تو جمہور علماء امام مالکؒ ‘امام ابو حنیفہؒ ‘ امام احمد ؒ ‘ اور متقدمین حنابلہ کا قول اس کے خلاف ہے۔لیکن امام احمدؒ کے اصحاب میں سے خرقی ؒ اور ایک گروہ نے اس مسئلے میں امام شافعیؒ کی موافقت اختیار کی ہے۔لیکن امام احمد ؒ سے مروی عام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود ان کا مسلک وہی ہے جو کہ جمہورعلماء ‘صحابہؓ اور تابعینؒ کامسلک ہے کہ کسی چیز کی حرمت و حلت کا تعلق اہل عرب کے کسی چیز کو طیب یاخبیث سمجھنے سے معلق نہیں ہے بلکہ اہل عرب بہت سی ایسی چیزوں کو بھی طیب سمجھتے تھے کہ جن کو اللہ تعالی نے حرام ٹھہرایا ہے جیسا کہ خون‘مردار‘گلا گھٹ کر مرنے والے جانور ‘ چوٹ کھا کر مرنے والے جانور ‘کسی جگہ سے گر کر مرنے والے جانور‘ کسی دوسرے جانور کے سینگ سے مرنے والے جانور‘درندوں کے شکار کا باقی ماندہ‘اور وہ جانور ہیں کہ جن کو ذبح کرتے وقت ان پر غیر اللہ کانام لیا گیا ہو۔اور اہل عرب بلکہ ان کے بہترین لوگ بہت سی ایسی چیزوں کو ناپسند کرتے تھے کہ جن کو اللہ تعالی نے کبھی بھی حرام نہیں ٹھہرایاجیساکہ گوہ کے گوشت کو اللہ کے نبیﷺ ناپسند کرتے تھے اور آپؐ نے فرمایا چونکہ یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پائی جاتی اس لیے میں اپنے آپ کو اس سے دور رکھ رہاہوں اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ حر ا م نہیں ہے اور آپؐ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اور آپؐ دیکھ رہے تھے۔(یعنی آپؐ نے اس کے کھانے سے منع نہیں فرمایا)۔ ‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ: جلد۱۹‘ ص۲۴)

امام ابن تیمیہؒ کا کلام ختم ہوا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ بعض روایات میں پیاز کابھی ذکرہے۔خیبر فتح ہونے کے بعد جب بعض صحابہؓپیاز کھا کر مسجد میں آئے تو آپؐنے فرمایا:

من أکل من ھذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا یقربنا المسجد فقال الناس حرمت حرمت فبلغ ذلک رسول اللہ ﷺفقال أیھا الناس انہ لیس لی تحریم ما أحل اللہ و لکنھا شجرۃ أکرہ ریحھا (مسند أحمد:۱۰۶۶۲)
’’جس نے اس خبیث درخت(یعنی پیاز) کو کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے تو لوگ یہ کہنے لگے کہ پیاز حرام کر دیا گیا ‘حرام کر دیا گیا۔جب آپؐ کو اس کی خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا :اے لوگو!جس کو اللہ نے حلال ٹھہرایاہے تو مجھے کوئی اختیار نہیں ہے کہ اسے حرام قرار دوں ۔لیکن یہ ایک ایسا درخت ہے کہ جس کی خوشبو مجھے ناپسند ہے ۔‘‘

اس روایت اور اسی جیسی اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عام انسان کی فطرت یا اہل عرب کی فطرت تو کجااللہ کے رسول ﷺ بھی اپنی فطرت سے کسی چیز کو حرام قرار نہیں دے سکتے۔ بلکہ حلال وہی ہے جسے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے حلال ٹھہرا دیا ہے اور حرام وہی ہے جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کہا ہے اور جس کے بارے میں قرآن و سنت کی نصوص میں سکوت ہے تووہ حدیث کے الفاظ کے مطابق’ معفو عنھا‘ میں شامل ہے اور مباح ہے۔اس لیے جمہور اہل سنت کے نزدیک ہر حرام کی حرمت نص سے ثابت ہے اسی طرح ہر حلال کی حلت بھی نص سے ثابت ہے ۔امام ابن تیمیہؒ نے کسی جانور کے حرا م ہونے کی اصل بنیاد اس کی خباثت کو ہی بنایا ہے ۔امام صاحب ؒ لکھتے ہیں :

’’اسباب تحریم دو قسم کے ہیں ایک تو درندگی کی قوت ہے جو کہ درندے کے نفس میں ہوتی ہے ا ور اس درندے کو کھانے سے انسان کے جسم میں اس کی بہیمانہ قوت کے اثرات آ جاتے ہیں اور لوگوں کے اخلاق درندوں کے سے اخلاق بن جاتے ہیں یا اس وجہ سے کہ اللہ تعالی اس کو بہتر سمجھتے ہیں اور بعض اوقات حرمت کی وجہ کسی خبیث کا کھانا ہوتا ہے جیسا کہ بعض پرندے کسی گلی سڑی لاش کو کھاتے ہیں یا کچھ چیزوں کی حرمت کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ فی نفسہ خبیث ہوتی ہیں جیساکہ حشرات الأرض ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ کھانے کی پاکیزگی و خباثت حلت و حرمت میں اثر رکھتی ہے جیساکہ سنت میں جلالۃ(وہ جانور جو کہ گندگی کھاتا ہے ) کے گوشت اور اس کے دودھ اور اس کے انڈے کے استعمال کے بارے میں ممانعت آئی ہے۔کیونکہ بعض اوقات طیب ‘خبیث غذا کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیۃ: جلد ۲۱‘ ص ۵۸۵)

(باقی)

قرآن / علوم قرآن

(جنوری ۲۰۰۸ء)

Flag Counter