کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۲ )

حافظ محمد زبیر

قرآن وسنت کا باہمی تعلق

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے مُبَیّن(وضاحت اورتشریح کرنے والے) ہیں اور جناب غامدی صاحب بھی اس بات کو مانتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب ’برہان‘ میں قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے عنوان سے اس موضوع پر مفصل گفتگو کی ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن میں ذکر ہے:

وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ (النحل:۴۴)
’’اور ہم نے آپؐ کی طرف قرآن نازل کیا تا کہ آپؐ اس کی تبیین کریں جو ان کی طرف نازل کیاگیا ہے اور تا کہ وہ غور و فکر کریں۔‘‘

اسی طرح قرآن میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بیان کی خود ذمہ داری لی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

إِنَّ عَلَیْْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْْنَا بَیَانَہُ (القیامۃ:۱۷ تا ۱۹)
’’بے شک ہمارے ذمے قرآن کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوا دینا ہے ‘پس جب ہم اس کو پڑھ دیں تو آپ ؐ اس کے پڑھے ہوئے کی پیروی کریں‘ پھر ہمارے ذمے اس کا بیان ہے۔‘‘

اس تبیین یا بیان میں کیا قرآن کے کسی حکم کی تخصیص یا تحدید بھی داخل ہے ؟اگر ہم فقہائے اہل سنت سے یہ سوال کریں تو سب کے نزدیک تخصیص ‘تبیین میں شامل ہے لیکن اگر ہم غامدی صاحب سے یہی سوال کریں تو ان کے نزدیک تخصیص ‘قرآنی حکم میں تغیر و تبدل ہے لہٰذا یہ تبیین میں شامل نہیں ہے۔ جب ہم قرآن سے یہ سوال کرتے ہیں تو اس کا جواب بھی اثبات میں ہے ۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۃ بقرۃ میں جب بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو وہ حکم ان الفاظ کے ساتھ تھا:

وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَذْبَحُواْ بَقَرَۃً (البقرۃ:۶۷)
اور جب موسی ؑ نے اپنی قوم سے کہا :یقیناًاللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔

اس آیت مبارکہ میں لفظ ’بقرۃ‘ نکرہ مطلق ہے۔اس کو بعض اصولیین عام مطلق یا عموم بدلی بھی کہہ دیتے ہیں۔ علی سبیل البدل ’بقرۃ‘ کا ہر فرد( ہر گائے) اس لفظ میں شامل ہے ۔ بنی اسرائیل کسی بھی قسم کی گائے پکڑ کر ذبح کر دیتے تو اس حکم پر عمل ہو جاتا‘لیکن جب بنی اسرائیل نے لفظ’بقرۃ‘کی تبیین چاہی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَالُواْ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّن لّنَا مَا ہِیَ قَالَ إِنَّہُ یَقُولُ إِنَّہَا بَقَرَۃٌ لاَّ فَارِضٌ وَلاَ بِکْرٌ عَوَانٌ بَیْْنَ ذَلِکَ فَافْعَلُواْ مَا تُؤْمَرونَ (البقرۃ:۶۸)
’’انہوں نے کہا:آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے واضح کرے کہ وہ گائے کیا ہے ؟حضرت موسیٰ نے کہا:بے شک اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جو نہ بوڑھی عمر کی ہو اور نہ چھوٹی عمر کی ‘بلکہ درمیانی عمر کی ہو ۔پس تم کرو جس کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لفظ تبیین کے ذریعے ’بقرۃ‘ کی تخصیص و تحدید کر دی ہے‘اب ’بقرۃ‘ سے علیٰ سبیل البدل اس کا ہر فرد مراد نہیں ہے بلکہ اب اس ’بقرۃ‘ سے مراد علیٰ سبیل البدل اس کا ایک فردہے ۔لہٰذا تبیین کے ذریعے علیٰ سبیل البدل ’بقرۃ‘ کے بعض افراد کے لیے یہ حکم ثابت ہوا نہ کہتمام گائیوں کے لیے ‘اسی طرح اب تک بنی اسرائیل کے لیے حکم یہ تھا کہ درمیانی عمر کی کسی وصف کی گائے ذبح کر دیں تو اس حکم پر عمل ہو جائے گا۔ یہ ذہن میں رہے کہ اول حکم میں لفظ ’بقرۃ‘ میں درمیانی عمر کی گائے کی تحدید شامل نہ تھی یہ تحدید‘تبیین کے ذریعے لگائی گئی ۔ جب بنی اسرائیل نے اس گائے کی مزید تبیین چاہی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَالُواْ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّن لَّنَا مَا لَوْنُہَا قَالَ إِنَّہُ یَقُولُ إِنّہَا بَقَرَۃٌ صَفْرَاء فَاقِعٌ لَّوْنُہَا تَسُرُّ النَّاظِرِیْنَ (البقرۃ:۶۹)
’’انہوں نے کہا:آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے واضح کرے کہ اس گائے کا رنگ کیسا ہو؟تو حضرت موسی ؑ نے کہا:بے شک وہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :وہ ایک زرد رنگ کی گائے ہے اس کا رنگ گہرا ہے۔ وہ دیکھنے والوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے ۔‘‘

جب بنی اسرائیل نے لفظ تبیین کے ذریعے ’بقرۃ‘ کی مزید وضاحت چاہی تو اللہ تعالیٰ نے لفظ ’بقرۃ‘ کے عمومی مفہوم کی مزید تحدید وتخصیص کردی کہ اب صرف درمیانی عمر کی گائے مطلوب نہیں ہے بلکہ درمیانی عمر کے ساتھ ساتھ اس کا رنگ گہرا زرد بھی ہواجودیکھنے والوں کو بھلی معلوم ہو۔ اس آیت میں لفظ تبیین کے ذریعے درمیانی عمر کی گائے کی مزید تحدید و تخصیص کر دی گئی ۔اس وقت تک اگر بنی اسرائیل مذکورہ بالا صفات کی حامل کوئی سی بھی گائے ذبح کر دیتے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل ہو جاتا لیکن جب بنی اسرائیل نے اس گائے کی مزید تبیین چاہی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَالُواْ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّن لَّنَا مَا ہِیَ إِنَّ البَقَرَ تَشَابَہَ عَلَیْْنَا وَإِنَّا إِن شَاء اللَّہُ لَمُہْتَدُونَ قَالَ إِنَّہُ یَقُولُ إِنَّہَا بَقَرَۃٌ لاَّ ذَلُولٌ تُثِیْرُ الأَرْضَ وَلاَ تَسْقِیْ الْحَرْثَ مُسَلَّمَۃٌ لاَّ شِیَۃَ فِیْہَا قَالُواْ الآنَ جِءْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوہَا وَمَا کَادُواْ یَفْعَلُون (البقرۃ: ۷۰، ۷۱)
’’انہوں نے کہا:آپ اپنے رب سے دعا کریں وہ ہمارے لیے واضح کرے کہ وہ گائے کیا ہے؟بے شک گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے اور اگر اللہ نے چاہا توہم رہنمائی پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔حضرت موسی ؑ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :کہ وہ ایک گائے ہے جو نہ تو سدھائی گئی ہے کہ زمین میں ہل چلائے اور نہ کھیتی کو پانی پلاتی ہے وہ یک رنگ ہے کہ اس میں کوئی داغ نہیں ہے۔انہوں نے کہا تو اب توحق بات لے کر آیا ‘پس انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا جبکہ وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے۔‘‘

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے لفظ تبیین کے ذریعے ’بقرۃ‘ کے مزید افراد کو اس کے لغوی مفہوم سے نکال دیا اور اس کے معنی و مفہوم کی مزید تحدید و تخصیص کر دی۔ان آیات پر غور کرنے والے کو معلوم ہو گا کہ شروع میں جب گائے ذبح کرنے کے لیے لفظ ’بقرۃ‘ استعمال کیا گیا تھا تو اس ’بقرۃ‘ کی تمام قسموں پرعلی سبیل البدل اس لفظ کا اطلاق ہو سکتا تھا لیکن تبیین کے ذریعے ’بقرۃ‘ کے افراد کی اس قدر تحدید کر دی گئی کہ شاید بنی اسرائیل میں کوئی ایک ہی ایسی گائے پائی جاتی ہو کہ جس پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہو۔

قرآن کے عام و مطلق کی تخصیص و تحدید اس کے علاوہ اور کیا ہے ؟عام کی تخصیص کا یہ معنی بالکل نہیں ہے کہ باہر سے کوئی مفہوم نص کے معنی میں شامل کیا گیا ہے بلکہ تخصیص کا معنی و مفہوم تو شروع سے ہی نص کے عمومی معنی میں شامل ہوتا ہے۔ اس کو ہم قرآن کی ایک اورمثال سے سمجھتے ہیں کہ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ (النور:۲)
’’زنا کرنے والا مرد اور زنا کرنے والی عورت ‘ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں ’الزانی‘ اور ’الزانیۃ‘ لفظ عام ہیں اور ان کا اطلاق لغت میں ہر زنا کرنے والے مردپر ہوتا ہے‘چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ‘آزاد ہوں یا غلام‘عورت کی رضامندی سے زنا کرنے والا ہو یا اس پر جبر کرتے ہوئے‘چوری چھپے زنا کرنے والا ہو یا برسرعام مجمع میں‘ایک دفعہ زنا کرنے والا ہو یا زنا کا عادی مجرم ہووغیرہ یہ سب اس لفظ ’الزانی‘ اور ’الزانیۃ‘ کے متنوع افراد ہیں اور یہ سب اس کے عمومی معنی میں داخل ہیں۔اس لیے لفظ ’الزانی‘ اور ’الزانیۃ‘ اپنے تحت آنے والے تمام افراد کو شامل ہیں لہٰذا یہ لفظ ’عام‘ کہلائے گا۔ اگر اس لفظ ’الزانی‘ اور ’الزانیۃ‘ کے بعض افراد کو اس سے نکال لیا جائے اور اس کے مفہوم کو اس کے بعض افراد تک محدود کر دیا جائے تو یہ اس عام کی تخصیص کہلائے گی‘خود قرآن نے ایک اور جگہ وضاحت کر دی کہ لفظ ’الزانی‘ اپنے عموم پر باقی نہیں ہے یعنی غلام اس میں شامل نہیں ہیں‘ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فَإِنْ أَتَیْْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ (النساء:۲۵)
’’پس اگر وہ (لونڈیاں)زنا کا ارتکاب کریں تو ان پر نصف سزا ہے اس کی جو کہ آزاد عورتوں پر ہے۔‘‘

اسی طرح جمہور علما کے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تبیین کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ ’الزانی‘ سے مراد شادی شدہ نہیں ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نے قرآن کے الفاظ کے مفہوم میں کوئی نئی بات داخل نہیں کی بلکہ اس کے الفاظ کے ان بعض مصداقات کا تعین کیا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی مراد تھے۔

جس طرح تخصیص کا معنی کسی نص میں باہر سے کسی مفہوم کو شامل کرنا نہیں ہے اسی طرح تخصیص کا معنی کسی نص کے مفہوم کو تبدیل کرنا بھی نہیں ہے ۔مثلاایک بحث تو یہ ہے کہ اہل زبان نے فلاں لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا ہے؟ اور ایک دوسری بحث یہ ہے کہ متکلم کی اس لفظ سے منشاکیا ہے ؟مثلا اہل زبان نے لفظ ’رجل‘ کسی مذکر فرد واحد پر دلالت کے لیے وضع کیا ہے ۔اگر کوئی شخص کہتا ہے ’جاء نی رجل‘ تو اس سے مراد کوئی بھی ایساآدمی ہو سکتا ہے کہ جس پر لفظ ’رجل‘ صادق آ ئے۔اب اگر کوئی شخص یہ جملہ ’جاء نی رجل‘ بول کر مراد’زید‘ لیتا ہے تو یہ لغت کے منافی نہیں ہے ۔اگر کوئی شخص ہم سے یہ کہے کہ لغت کی کسی کتاب سے دکھاؤکہ ’رجل‘ کے معنی ’زید‘ ہوتے ہیں تو ہم اس کو یہ کہیں گے کہ ’جا ء نی رجل أی زید‘ لغت عربی کے قواعد و ضوابط کے مطابق جائز ہے اور اہل زبان اس کو استعما ل کرتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ آپ نے ’رجل‘ سے ’زید‘ مراد لے کر ’رجل‘ کے لغوی وضعی معنی کو تبدیل کر دیا ہے تو ہم اس کو کہیں گے کہ ’رجل‘ کا لغوی معنی تبدیل نہیں ہوا بلکہ متکلم نے اپنی مراد کو واضح کیا کہ ’رجل‘ سے اس کی مراد ایک خاص فرد ہے نہ کہ علیٰ سبیل البدل ہر فرد ۔لہٰذا ’تحریر رقبۃ‘ بول کر ’تحریر رقبۃ مؤمنۃ‘ مراد لینا عربی زبان کے اسلوب کے مطابق ہر متکلم کے لیے جائز ہے۔پس ثابت ہوا کہ تقیید بھی تبیین کی ہی ایک قسم ہے اور تقیید کلام کے وقت متکلم کے ذہن میں ہوتی ہے اس کو کلام میں ظاہر کرنا ضروری نہیں ہے۔جیسے کوئی شخص ’جاء نی رجل‘ بول کر کر اس سے مراد ’زید‘لے رہا ہو۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے جس مطلق کو بھی مقید کیاہے وہ دراصل متکلم کی منشا کی وضاحت کی ہے۔ ’جاء نی رجل أی زید‘ اہل نحو کے نزدیک نہ تو نسخ ہے اور نہ ہی یہ تغیر ہے بلکہ یہ تفسیر کہلاتا ہے او ر لفظ ’أی‘ حروف تفسیر میں سے ایک حرف ہے اور تفسیر ‘تبیین ہی کی ایک قسم ہے۔اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کام کیا ہے یعنی قرآن کے مطلق سے اللہ کی مراد کو واضح کیا ہے نہ کہ اس کے کسی حکم میں تبدیلی ‘ تحدید یا اس کو منسوخ کیا ہے جیسا کہ امام شافعی ؒ اور امام شاطبیؒ نے اس پر ’الرسالۃ‘ اور ’الموافقات‘ میں مفصل بحث کی ہے ۔

تخصیص وتقیید کی بحث کے بعد اب ہم اضافے کی طرف آتے ہیں‘ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کے کسی حکم پر اضافہ تبیین میں شامل ہے؟یا کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ قرآن کے کسی حکم میں اضافہ کریں ؟پہلے سوال کا جواب اگر ہم غامدی صاحب سے پوچھیں تو ان کا جواب نفی میں ہے ‘غامدی صاحب قرآن کے کسی حکم پر اضافے کو تبیین نہیں مانتے ‘جبکہ اہل سنت اس کو تبیین کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اضافہ کسی طرح تبیین کی ایک قسم ہے ؟۔ ’بقرۃ‘ کی جس مثال پر ہم بحث کر چکے ہیں وہ تحدیدو تخصیص کے علاوہ اضافے کی بھی مثال ہے ۔اللہ نے جب ’أن تذبحوا بقرۃ‘ کا حکم جاری کیا تھا تو اللہ کی مراد واضح تھی کہ کوئی بھی گائے ذبح کر لی جائے ۔اب متکلم (اللہ)نے اپنے ایک جاری کردہ ایسے حکم پر ‘جو کے کلام کے وقت ایک مکمل‘ قابل فہم اور قابل عمل حکم تھا‘لفظ تبیین کے ذریعے اضافے کیے ہیں لہٰذا اضافہ بھی تبیین ہی کی ایک شکل ہے۔ 

امام شافعی کا موقف

امام شافعی ؒ کا کہنا یہ ہے کہ سنت‘ قرآن کے کسی حکم کو نہ تو منسوخ کرتی ہے اور نہ اس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل کرتی ہے۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے واضح کر دیا ہے کہ جو بھی اس کی کتاب سے منسوخ ہوا ہے وہ اس کی کتاب ہی کے ذریعے منسوخ ہوا ہے اور سنت ‘کتاب کی ناسخ نہیں ہے بلکہ سنت توتمام احکامات میں کتاب کے تابع ہے۔وہ کتاب اللہ کے منصوص کی وضاحت کرتی ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے مجمل نازل کیاہے اس کی تفسیر بیان کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے‘کہتے ہیں:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آ ‘یا اس کو تبدیل کر دے۔آپؐ ان سے کہہ دیں : میرے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ میں اس کو اپنی طرف سے بدل دوں‘میں تو بس اسی کا اتباع کروں گا جو کہ میری طرف نازل ہوتا ہے ۔اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بہت بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے ۔پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی اتباع فرض کی ہے اور ان کو یہ اختیار نہیں دیاہے کہ وہ اپنی طرف سے اس کو تبدیل کر دیں۔‘‘ (الرسالۃ:ابتداء الناسخ و المنسوخ)

امام شافعیؒ کا کہنا یہ ہے کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہمیں جوبھی احکامات ملتے ہیں وہ یا تووہ احکامات ہیں جو کتاب اللہ میں بھی موجود ہیں ‘تو اس صورت میں سنت کے احکامات قرآن کے احکامات کی تاکید ہوں گے یا پھروہ قرآن کے مجمل کا بیان ہوں گے ۔سنت میں موجودتیسری قسم کے احکامات وہ ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن بالکل خاموش ہے تو ایسے احکامات بالاجماع حجت ہیں‘ لیکن سنت کے ایسے احکامات حجت کیوں ہیں؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے ۔امام شافعیؒ کہتے ہیں :

’’مجھے اس مسئلے میں اہل علم میں سے کسی کا اختلاف معلوم نہیں ہو سکا کہ سنت تین قسم کی ہے جن میں سے دوقسموں پر ان کا اتفاق ہے۔ یہ دونوں صورتیں ایک دوسرے سے ملتی بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں۔ ان میں سے ایک قسم تو وہ ہے کہ جس کے بارے میں صراحت کتاب اللہ میں موجود ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی سنت کے ذریعے تاکید فرما دی۔ جبکہ دوسری قسم کہ جسے اللہ تعالیٰ نے کتاب میں اجمالاًبیان کر دیا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی طرف سے اس کے منشا کی وضاحت کر دی ہے۔یہ سنت کی وہ دو قسمیں ہیں کہ جن کے بارے میں کوئی اختلاف مروی نہیں ہے ۔سنت کی تیسری قسم وہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حکم جاری فرمایا کہ جس کے بارے میں قرآن میں کوئی نص موجود نہیں ہے ‘تو اس قسم کے بارے میں بعض علما کا کہنا یہ ہے کہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی اطاعت فرض کی ہے اور اس کے علم سابق میں یہ بات موجود ہے کہ وہ آپؐ کی سنت کو رضامندی کی توفیق بخشے گا‘آپؐ کو اللہ کی طرف سے اس بات کی اجازت ہے کہ آپ جس مسئلے میں قرآن کاکوئی منصوص حکم نہ ہو اس کے متعلق اپنی سنت جاری فرما دیں۔بعض کا کہنا یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بھی ایسی سنت جاری نہیں فرمائی کہ جس کی اصل کتاب اللہ میں موجود نہ ہو جیسا نمازوں کی تعداد اور اس کی عملی صورت بیان کرنے میں آپؐ کی سنت کا دارومدار قرآن کا وہ اجمالی حکم ہے کہ جس میں نماز فرض قرار دی گئی ہے ۔اسی طرح خرید و فروخت کے بارے میں آپؐ نے جو احکامات بیان فرمائے ان کی بنا بھی قرآنی احکامات پر ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا اورربا کو حرام قرار دیا ہے ۔پس جن چیزوں کوآپؐ نے حلال یا حرام ٹھہرایا ہے ان کو اللہ کی طرف سے واضح فرمایا ہے جیسا کہ آپؐ نے نمازوں کی تبیین فرمائی ہے ۔بعض اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ سنت اللہ کے پیغام کے طور پر آپؐ کے پاس آئی تھی لہٰذا( اللہ کے فرض کرنے سے) سنت فرض ہوئی۔بعض علما کا کہنا یہ ہے کہ ہر وہ سنت جس کو آپؐ نے جاری کیاہے وہ آپؐ کے دل پر القا ہوئی تھی اور آپؐکی سنت ہی وہ حکمت ہے جو اللہ کی طرف سے آپؐ کے دل پر القا کی گئی ‘پس جو آپؐ کے دل پر القا کیا گیا وہی آپؐ کی سنت ہے۔‘‘ (الرسالۃ: باب ما أبان اللہ لخلقہ من فرضہ علی رسولہ اتباع ما أوحی الیہ)

امام شافعیؒ کی مذکورہ بالا عبارت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے تخصیص ‘ تقیید اور اضافے وغیرہ کو سنت کی دوسری قسم میں رکھا ہے اور اسے قرآن کے اجمال کا بیان کہا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنت کے وہ احکامات جو کہ بظاہر قرآن پر اضافہ معلوم ہوتے ہیں ان کو امام شافعی ؒ کیسے بیان میں شمار کرتے ہیں ؟امام شافعی ؒ نے ایسی احادیث جو کہ بظاہر قرآن پر اضافہ معلوم ہوتی ہیں ان کو مختلف طریقوں سے حل کیا ہے:

۱) بعض اوقات امام شافعی ؒ ایسی احادیث کو جو کسی آیت پر اضافہ معلوم ہو رہی ہوں ‘کسی اور آیت کی تشریح و توضیح کے طور پر بیان کرتے ہیں۔مثلاً امام شافعی ؒ کے نزدیک غیر شادی شدہ زانی کے لیے تغریب عام کی سزا قرآن کی آیت ’الزانیۃ و الزانی‘ پر اضافہ نہیں ہے بلکہ یہ سورۃ نساء کی آیت ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کا بیان ہے۔امام شافعیؒ لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے زنا کی جو ابتدائی حد سورہ نساء میں بیان ہوئی ہے وہ ’حبس‘ اور ’ایذا‘ تھی علاوہ ازیں ان آیات میں ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کے الفاظ میں اللہ کی طرف سے یہ وعدہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب اس سلسلے میں کوئی رہنمائی دیں گے۔لہٰذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی طرف سے ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کی تبیین فرماتے ہوئے غیر شادی شدہ زانی کے لیے سو کوڑے اور تغریب عام کی حد مقررکی اور شادی شدہ زانی کے لیے سو کوڑے اور رجم کی حدبیان کی‘کیونکہ آپ ؐ نے اس آیت کے نزول کے بعد فرمایا:

خذواعنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا البکر بالبکر جلد ماءۃ و تغریب عام و الثیب بالثیب جلد ماءۃ و الرجم۔
’’مجھ سے لے لو مجھ سے لے لو‘اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے رستہ نکال دیا ہے ۔غیر شادی شدہ کو غیر شادی شدہ کے ساتھ زنا پر سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے اور شادی شدہ کو شادی شدہ سے زنا میں سو کوڑے مارے جائیں اور رجم کیا جائے۔‘‘

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے اس رستے کو واضح کر دیا جو اللہ نے ان عورتوں کے لیے مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھااور یہ پہلی حد ہے جو کہ زانیوں پر جاری ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں :کہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان عورتوں کو اٹھا لے یا ان کے لیے کوئی رستہ مقرر کر دے۔ (الرسالۃ:باب وجہ آخر)

غامدی صاحب نے ’البکر بالبکر‘ والی روایت پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ اس حدیث سے تو صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ غیر شادی اگر غیر شادی سے زنا کرے تو سوکوڑے اور تغریب عام کی سزا ہے اور شادی شدہ ‘شادی شدہ سے زناکرے تو سو کوڑے اور رجم کی سزاہے ۔اگر شادی شدہ ‘ غیر شادی شدہ سے زنا کرے تو ان کی سزا تو حدیث میں بیان نہیں ہوئی ۔ہمارا جواب غامدی صاحب کو یہ ہے کہ و ہ حدیث پر اعتراض کرنے کی بجائے اگر اپنی عربی معلی کی روشنی میں قرآن کی آیت ’الحر بالحر و العبد بالعبد و الأنثی بالأنثی‘ کے اسلوب کلام پر غور فرما لیتے تو انہیں آپ ؐ کی اس روایت کے اسلوب کلام سے پیدا ہونے والے اشکالات رفع ہو جاتے۔بہر حال امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ کے لیے توسوکوڑوں اور تغریب عام کی سزا کو برقرار رکھالیکن آپؐ نے اپنے عمل کے ذریعے شادی شدہ زانی سے سو کوڑوں کی سزا منسوخ کر دی اور آپؐ نے حضرت ماعزأسلمیؓاورغامدیہ عورت کو صرف رجم کیا۔ امام شافعی ؒ کہتے ہیں :

’’ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعزؓ کورجم کیا اور ان کو کوڑے نہ مارے اسی طرح آپؐ نے أسلمی عورت کو بھی رجم کیا اورا س کو کوڑے نہیں لگوائے ۔پس سنت نے اس بات کی وضاحت کر دی کہ شادی شدہ زانیوں سے کوڑے منسوخ ہو چکے ہیں۔‘‘ (الرسالۃ:باب وجہ آخر)

امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ ایک طرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی آیت ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کی تبیین میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے لیے اللہ کے حکم سے حدود مقرر کیں تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے آیت مبارکہ ’الزانیۃ و الزانی‘ نازل کی تاکہ امت کو اس بات کی خبر دی جائے کہ سورۃ نساء کی ’حبس‘اور ’ایذا‘ کی سزا منسوخ ہے ۔امام شافعی ؒ کہتے ہیں:

’’پھر اللہ تعالیٰ نے ’حبس‘ اور ’ایذا‘ کو اپنی کتاب کے ذریعے منسوخ کر دیا اور یہ حکم جاری فرمایا کہ زانی مرد اور عورت میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔‘‘ (کتاب الرسالۃ:باب فرض الصلاۃ الذی دل لکتاب ثم السنۃ)

امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ آیت جَلدکے نزول کے بعد بھی آپ ؐ نے شادی شدہ کو سنگسار کیا جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت نے آپ ؐ کے حکم کو منسوخ نہیں کیا ۔امام شافعیؒ کے نزدیک آیت جلد کے نزول کا اصل مقصد ’ایذا‘ اور ’حبس‘ کی قرآن میں بیان شدہ سزا کو منسوخ قرار دیناہے نہ کہ زنا کی کسی حد کو بیان کرنا‘کیونکہ زنا کی حد تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کے بیان میں آیت جلد کے نزول سے پہلے ہی واضح کر چکے ہیں۔ لیکن آیت جلد ’ایذا‘ اور ’حبس‘ کی سزا کو منسوخ قرار دینے کے ساتھ ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کے بیان میں بذریعہ سنت جاری کردہ زنا کی حدود کی بھی تاکید فرما رہی ہے۔*۔امام شافعی ؒ کہتے ہیں:

’’اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑوں کی آیت کے نزول کے بعد بھی رجم کیا ہے ۔‘‘ (الرسالۃ:باب وجہ آخر)

یہ تو رجم کے بارے میں امام شافعیؒ کاموقف ہے۔ بعض علما کا کہنا یہ ہے کہ ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کے بعد جب آیت مبارکہ ’انما جزاؤ الذین یحاربون اللہ و رسولہ و یسعون فی الأرض فسادا أن یقتلوا أو یصلبوا أو تقطع أیدیھم و أرجلھم من خلاف أو ینفو من الأرض‘ نازل ہوئی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے ’زنا‘ کو ’فساد فی الأرض‘ کا ایک مصداق قرار دیاکیونکہ جس طرح ’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محاربت‘ کے الفاظ عام ہیں اور اس کے مصداقات کئی ہو سکتے ہیں جیسا کہ خود قرآن نے ’أکل ربا‘ کو اللہ کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے اسی طرح ’فساد فی الأرض‘ بھی ایک عام لفظ ہے کہ جس کے مصداقات سینکڑوں ہو سکتے ہیں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ کے زنا کو ’فساد فی الأرض‘ کا مصداق قرار دیتے ہوئے اس کے لیے ’أو یقتلوا‘ کے الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے رجم کی سزا تجویز کی اور اس کے ساتھ ’الزانیۃ والزانی‘ کی آیت پر عمل کرتے ہوئے سو کوڑوں کی سزا کو بھی جمع فرما دیا۔اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کے لیے ’الزانیۃ و الزانی‘ کے تحت سو کوڑوں کی حدبیان کی اورغیر شادی شدہ کے زنا کو بھی ’فساد فی الأرض‘ کا ایک مصداق قرار دیتے ہوئے ’أو ینفوا من الأرض‘ سے استدلال کرتے ہوئے ’تغریب عام‘ کی سزا کو بھی سو کوڑوں کی سزا کے ساتھ جمع کر دیا۔چونکہ ’الزانیۃ و الزانی‘ کا لفظ عام تھا لہٰذااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے شادی شدہ زانی اور غیر شادی شدہ زانی دونوں کے لیے اس سزا کو بیان کیا‘ اور سورۃ المائدۃ کی آیت سے شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا اور غیر شادی شدہ کے لیے تغریب عام کی سزا مقرر کی ۔سورۃ المائدۃ کی آیت سے رجم و تغریب عام کی سزا کا اخذ کرنااگرچہ یہ آپؐ کا استدلال و استنباط تھا لیکن اللہ کی تقریر و تائید نے اسے وحی بنا دیا۔علاوہ ازیں قرآنی آیات سے جو آپؐ استدلال کرتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے آپؐ کے لیے الہام ہوتا ہے جس کو امام شافعی ؒ نے قرآن کی اصطلاح میں’حکمت‘ کا نام دیا ۔لہٰذاہر ایک سزا جو کہ شا دی شدہ یا غیر شادی شدہ کے لیے سنت سے ثابت ہے وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ہی سے اخذ کی ہے۔ زنا کا ’فساد فی الأرض‘ کا ایک فرد ہونا عقلاً و شرعاً واضح ہے ۔مثلازنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کی اپنے غیر شرعی والدین سے نفرت‘شادی مرد و عور ت کے زنا کی صورت میں خاندانوں کا ٹوٹنا ‘باہمی قتل و غارت تک نوبت آ جانا وغیرہ۔ 

۲) بعض اوقات امام شافعی ؒ ان احادیث کے احکامات‘ جو کہ بظاہرہمیں قرآن پر اضافہ معلوم ہوتے ہیں‘کی قرآنی آیات سے اس طرح تطبیق فرماتے ہیں کہ وہ متعلقہ آیت پر اضافہ نہیں بنتے۔ مثلا امام شافعیؒ کے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ’ذی مخلب‘ اور ’ذی ناب‘ کو جو حرام کہا ہے وہ قرآن کی آیت ’قل لا أجد فیما أوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا أن یکون میتۃ أو دما مسفوحا أو لحم خنزیر فانہ رجس أو فسقا أھل لغیر اللہ بہ‘ پر اضافہ نہیں ہے ‘کیونکہ یہ آیت ایک خاص سیاق میں ہے ۔امام شافعیؒ کے نزدیک اس آیت سے مراد وہ اشیاء ہیں کہ جن کو مشرکین مکہ نے اپنی طرف سے حرام ٹھہرا لیا تھا لہٰذا مشرکین مکہ سے کہا گیاکہ جسے تم حرام سمجھتے ہو اس میں سے صرف چار چیزیں اللہ نے حرام کی ہیں۔امام شافعی ؒ کہتے ہیں :

’’ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپؐ کہہ دیں: میں اس میں جو میری طرف وحی کیا گیا ہے کسی چیز کو حرام نہیں پاتا اس میں سے کہ جس کو تم کھاتے ہوسوائے مرداراور جن کا بعد میں ذکر ہے۔پس جن اشیاء کو تم نے ناپاک سمجھ کر چھوڑ رکھاہے وہ ان اشیا کے مقابلے میں کہ جن کو تم حلال سمجھتے ہو ‘حرام نہیں ہیں سوائے ان کے کہ جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے ۔‘‘ (الرسالۃ:باب العلل فی الأحادیث)

امام شافعیؒ کی بات کی تائید قرآن کے سیاق وسباق سے بھی ہوتی ہے کیونکہ ’قل لا أجد فیما أوحی‘ سورۃ انعام کی آیت ’۱۴۵‘ہے جبکہ سورۃ انعام کی آیت ’۱۳۶‘ تا ’ ۱۵۳‘ کا مضمون ایک ہی ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ بار بار مشرکین مکہ کو جھنجوڑرہے ہیں کہ تم نے اپنی طرف سے حلال و حرام کے معیارات قائم کر رکھے ہیں ۔جیسا کہ اللہ کا فرمان ’و قالوا ھذہ أنعام و حرث حجرلا یطعمھا الا من نشاء‘ (الاأعام:۱۳۸) اور ’وقالوا ما فی بطون ھذہ الأنعام خالصۃ لذکورناو محرم علی أزواجنا‘ (الأنعام:۱۳۹)اور ’قل آالذکرین حرم أم الأنثیین أما اشتملت علیہ ارحام الأنثیین‘ (لأنعام:۱۴۳ و ۱۴۴) وغیرہ اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ اس آیت میں خاص مشرکین مکہ سے خطاب ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بتا دیں کہ جن ’طیبات‘ کو تم نے حرام ٹھہرا لیاہے وہ حرام نہیں ہیں بلکہ یہ چار چیزیں حرام ہیں ۔

علاوہ ازیں اس آیت میں جو حصر بیان ہوا ہے وہ حصر حقیقی نہیں ہے بلکہ یہ حصر مجازی یا حصر اضافی ہے جیسا کہ امام سیوطیؒ نے ’الاتقان‘ میں آیت کے حصر کو مجازی لیا ہے ‘حصر مجازی یا اضافی قرآن میں بہت استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت مبارکہ میں ہے ’قل انما یوحی الی أنما الھکم الہ واحد‘۔اگر ہم اس آیت میں حصر کو حقیقی معنی میں لیں تو اس کا معنی بنے گا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صرف توحیدألوہیت کی ہی وحی ہوئی ہے جو کہ خود قرآن کے بھی خلاف ہے کیونکہ قرآن میں صرف توحید ألوہیت کا بیان نہیں ہے ۔اسی طرح ’انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء‘ اور ’و ما محمد الا رسول‘ بھی حصر مجازی و اضافی کی مثالیں ہیں۔

لہٰذا قرآن کا بیان ’قل لا أجد فیما أوحی..‘ بھی شریعت ہے اور سنت کا بیان ’حرم رسول اللہ یعنی یوم خیبر لحوم الحمر الأھلیۃ و لحوم البغال و کل ذی ناب من السباع و کل ذی مخلب من الطیر‘ بھی بیانِ شریعت ہے جیساکہ امام ابن تیمیہؒ نے ’مجموع الفتاوی‘ میں لکھاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول آیت مبارکہ ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث‘ کا بیان ہے ۔جبکہ غامدی صاحب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو بیانِ شریعت نہیں مانتے بلکہ وہ اسے بیانِ فطرت قرار دیتے ہیں۔ 

۳) بعض اوقات امام شافعیؒ سنت کے احکامات کو قرآن کی اس آیت پر اضافہ کی بجائے اسی آیت کے اجمال کابیان قرار دیتے ہیں ۔امام شافعی ؒ اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کے جمع کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے ‘ یہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم آیت مبارکہ ’حرمت علیکم أمھتکم و بنتکم وأخوتکم وعمتکم و خلتکم و بنتکم ...‘ پر اضافہ نہیں ہے بلکہ یہ ’و أحل لکم ما وراء ذلکم‘ کا بیان ہے۔امام شافعیؒ کہتے ہیں:

’’پس یہ آیت مبارکہ دو معانی کا احتمال رکھتی ہے ایک یہ کہ جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے متعین طور پرحرام ٹھہرا دیا ‘وہ حرام ہوں اور جن سے سکوت فرمایا ہے وہ حلال ہوں اور یہ معنی اللہ تعالے کے قول’جوبھی اس کے علاوہ ہے وہ ان کے لیے حلال کیا گیاہے‘ سے بھی ثابت ہے اور یہ اس آیت کا ظاہر ی معنی ہے...اللہ تعالیٰ نے جودو بہنوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اصل حرمت جمع کرنے کی ہے ورنہ دونوں میں سے ہر ایک بہن علیحدہ علیحدہ اس کے لیے حلال ہو گی ۔جبکہ دوبہنوں کے علاوہ ماؤں‘بیٹیوں ‘پھوپھیوں اور خالاؤں کا حرام ہونا اصلاً ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ’جوبھی اس کے علاوہ ہے وہ ان کے لیے حلال کیا گیاہے‘ کا معنی یہ ہے کہ وہ عورتیں جو أصلاً حرام ہیں یا بذریعہ رضاعت أصل کا مثل ہونے کی وجہ سے حرام ہیں‘ ان کے علاوہ تمام عورتیں اس طریقے کے ساتھ حلال ہیں کہ جس طریقے سے ان کی حلت ثابت کی گئی ہے( مثلا دوبہنوں ‘ پھوپھی بھتیجی ‘ بھانجی خالہ کوایک ساتھ نکاح میں جمع نہ کرنا)...بات یہ ہے کہ جو عورتیں مباح ہیں ان میں سے بھی چار سے زائد سے نکاح حلال نہیں ہے اور گر کوئی شخص(چار کے ہوتے ہوئے) پانچویں سے نکاح کرے گا تو نکاح فسخ کر دیا جائے گا ‘پس یہ معلوم ہوا کہ مباح عورتوں میں سے کسی ایک سے نکاح اس وقت جائز ہو گا جبکہ نکاح کا صحیح طریقہ اختیار کیا جائے گا۔لہٰذا پانچویں عورت اور ایک عورت سے بھی ’و أحل لکم ما وراء ذلکم‘ کے مطابق اس وقت نکاح درست ہو گا جبکہ اس سے اس طریقے سے نکاح کیاجائے گا جو کہ نکاح کا صحیح طریقہ ہے اور ان شرائط کے ساتھ نکاح کیاجائے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو حلال کیا ہے اور ’و أحل لکم ماوراء ذلکم‘ سے مطلقاً حلت مراد نہیں ہے (بلکہ اس آیت کی حلت بعض صورتوں میں مقید ہے یعنی اللہ تعالیٰ پھوپھی کو اس شرط کے ساتھ حلال کیا ہے کہ اس کے ساتھ بھتیجی کو جمع نہ کیا جائے اور بھتیجی کو اس شرط کے ساتھ حلال کیا ہے کہ اس کے ساتھ پھوپھی کو جمع نہ کیا جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچویں عورت کو اس شرط کے ساتھ حلال کیا ہے کہ پہلی چار میں سے ایک کو طلاق دی جائے) ۔چناچہ کسی شخص کا کسی عورت سے نکاح کرنا اس کی پھوپھی یا بھتیجی کو ہر حال میں حرام قرار نہیں دیتا‘جبکہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کی ماؤں کوہر حال میں حرام قرار دیا ہے‘لہٰذا پھوپھی اور خالہ ان عورتوں میں شامل ہیں کہ جن کو حلال کیا گیا ہے مگر اس طریقے سے کہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کی حلت کے لیے مقرر کیا ہے جس طرح ایک آدمی کے لیے پانچویں عورت سے نکاح اس شرط کے ساتھ حلال ہے کہ وہ اپنی ایک بیوی کو طلاق دے کر جدا کردے‘تو بیوی کی پھوپھی سے نکاح اس وقت جائز ہو گا جبکہ بیوی کو اپنے سے علیحدہ کر دیا جائے۔‘‘ (الرسالۃ: باب محرمات النساء)

امام شافعی ؒ نے ’یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ‘ کو قرآن کی آیت کا بیان اس طرح بنایا ہے کہ قرآن کے لفظ عام ہیں مثلا قرآن نے ’امھاتکم‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اب ماں چاہے جننے والی ہو یا رضاعی ہو دونوں صورتوں میں ماں ہے اور ان الفاظ میں داخل ہے۔ اسی طرح قرآن کے الفاظ ’أخواتکم‘ بھی عام ہیں کہ اس لفظ کے مصداقات میں حقیقی بہن ‘باب شریک ‘ماں شریک اور دودھ شریک تمام بہنیں شامل ہیں۔اسی طرح کا معاملہ باقی ان رشتوں کا بھی ہے کہ جن کو قرآن نے بیان کیا ہے کہ ان میں بھی نسبی کے ساتھ ساتھ رضاعی رشتے بھی مراد ہوں گے ۔دوسری طرف اللہ کے رسول کے قول ’لا یجمع بین المرأۃ و عمتھا و بین المرأۃ و خالتھا‘ کو امام شافعی ؒ نے قرآن کا بیان یوں ثابت کیاہے کہ پھوپھی اور بھتیجی ‘بھانجی اور خالہ ان عورتوں میں شامل ہیں کہ جن کو حلال کیا گیا ہے مگر اس طریقے کے ساتھ جو کہ ان کی حلت کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے‘ لہٰذا کسی عورت کی پھوپھی سے نکاح اس وقت حلال ہو گا جب اس عورت کو طلاق دی جائے جیسا کہ پانچویں عورت سے نکاح اس وقت حلال ہو گا جبکہ پہلی چار میں سے ایک کو طلاق دی ہو۔ آیت مبارکہ ’أحل لکم ما وراء ذلکم‘ میں مطلقا حلت کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس طریقے کے ساتھ حلت کا ذکر ہے جو کہ شریعت نے کسی عورت کو حلال کرنے کے لیے مقرر کیا ہے (یعنی نکاحِ صحیح ہو ‘ایک ساتھ چار سے زائد کو جمع نہ کیا جائے‘پھوپھی و بھتیجی کو جمع نہ کیا جائے وغیرہ)۔ 

ہم نے یہاں ’الرسالۃ‘سے چند ایک مثالوں کو بیان کیا ہے جبکہ امام شافعی ؒ نے اپنے اس اصول کو ثابت کرنے کے لیے کہ سنت ہر صورت میں قرآن کا بیان ہوتی ہے ‘اپنی کتاب میں بیسیوں ایسی روایات کو قرآن کا بیان ثابت کیا ہے جو کہ بظاہر دیکھنے والوں کو قرآن پر اضافہ یا اس کا نسخ معلوم ہوتی ہیں۔

(باقی)

* امام شافعیؒ کے نزدیک نہ تو قرآن سنت کو منسوخ کرتا ہے اورنہ سنت قرآن کو منسوخ کرتی ہے بلکہ ان دونوں کا آپس کا تعلق شرح و بیان کا ہے نہ کہ ناسخ و منسوخ کا‘ لہٰذا جس طرح سنت قرآن کے احکامات کی تاکیدبھی کرتی ہے اور تفسیر بھی ‘ اسی طرح قرآن بھی سنت کے احکامات کی تائید بھی کرتا ہے اور وضاحت بھی۔


قرآن / علوم قرآن