تعلیم و تعلم میں اخلاص نیت کی اہمیت

مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

(۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب۔)


نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد!

محترم حاضرین ،برادران اسلام واساتذہ کرام !

آج کی یہ تربیتی محفل آپ صبح سے سماعت فرما رہے ہیں اور یہ اس کی دوسری نشست ہے۔ اس میں بہت سے اہل علم وفضل کی تقاریر آپ نے سنیں، تجاویز اور آرا آپ کے سامنے آئیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں پر جن مقررین نے خطاب کیا ہے، انہوں نے دینی تعلیم کے علاوہ عصری تعلیم کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ یہ مجلس چونکہ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کی ورک شاپ کے سلسلے میں ہے، یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہم عصری تعلیم کی اہمیت کو بھی اپنی جگہ ملحوظ رکھتے ہیں اور اگر دونوں پہلوؤں پر بات کرنی ہے تو پھر میری ناقص رائے کے مطابق اس میں ایسے مقررین کو بلانا چاہیے جو دینی مدارس کی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی بہرہ ور ہوں۔ کیونکہ ہمارے ہاں جن مقررین نے تقریر کی ہے، ان میں سے بعض نے کہاکہ میرا دینی مدارس کے ساتھ تعلق نہیں اور بعض نے کہا کہ میرا تعلق صرف دنیاوی تعلیم سے ہے، جبکہ اگر دونوں پہلوؤں پر یکساں تبصرہ کرنا ہے تو ایسی شخصیات کو دعوت دینی چاہیے جن کی دونوں پہلوؤں پر نظر ہو تاکہ ان کے سامنے صرف کالج اور یونیورسٹی کا ماحول نہ ہو یا ان کے سامنے صرف دینی مدرسہ اور مکتب کا ماحول نہ ہو۔ دونوں ہوں تو پھر وہ ایک جامع تبصرہ کر سکتے ہیں۔ اگر صرف ایک پہلو ہوگا تو وہ اپنے متعلق خوبیاں یا خامیاں بیان کرسکتے ہیں، لیکن دوسرے پہلو پر وہ کچھ عرض نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے یہ میری ایک سفارش ہے ۔

باقی جن حضرات نے یہاں پر تقاریر کی ہیں اور اپنی تجاویز دی ہیں، ان کو کئی پہلو ؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ میں اس کے صرف ایک پہلو پر اختصار کے ساتھ کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ تمام پہلو جن میں ہم علم کو، تربیت کو، اخلاق کو اور ارتقا کو تقسیم کرتے ہیں، یہ تمام پہلو اسی وقت ٹھیک ہو سکتے ہیں جب کسی انسان کی نیت ٹھیک ہو گی۔ جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’انما الاعمال بالنیات‘۔ اگر ایک آدمی باعمل ہے تو جب اس کی نیت ٹھیک ہوگی، اس کے ساتھ اخلاص ہوگا، باقی چیزیں ہوں گی تو پھر وہ آدمی کامیاب ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ او راگر ایک آدمی کی نیت ٹھیک نہیں ہے تو چاہے وہ اپنے فن کا کتنا ہی ماہر ہو، اس کا فیض عام نہیں ہو سکتا۔ اس کے پاس وسیع معلومات تو ہیں، لیکن نیت ٹھیک نہیں ہے، اخلاص نہیں ہے تو نہ اس کو خود کچھ فائدہ ہو گا اور نہ اس سے پڑھنے والوں کو، تربیت حاصل کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔ جیساکہ مولانا عبدالحق خان بشیر صاحب نے بیان کیا، روحانیت کا سلسلہ دینی مدارس کے اندر کم ہوتا جا رہا ہے یا ختم ہوتا جا رہا ہے۔یہ بڑی اہم بات ہے۔اس سلسلے میں، میں اپنے استاذ الاستاذ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی اپنی بیان کی ہوئی بات عرض کرناچاہوں گا جو انہوں نے اپنی ترمذی کی تقریر میں بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں پڑھ رہا تھا۔ وہاں مجھے ہدایہ اخیرین کی ایک بحث میں مشکل پیش آگئی ۔میں نے اس کو سمجھنے کی پوری کوشش کی، شروحات دیکھیں، حواشی دیکھے، علما کی طرف رجوع کیا، لیکن مسئلہ حل نہ ہوا۔ فرماتے ہیں کہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضر ہوا، درود وسلام پیش کیا، مراقبہ کیا اور جب میں مراقبے سے اٹھا تو میرا وہ ہدایہ اخیرین کا مسئلہ حل ہو چکا تھا۔ تو روحانیت کا یہ اثر ہے، کیونکہ جو ہم تعلیم پڑھ رہے ہیں یا پڑھا رہے ہیں، چاہے اس کا تعلق وحی جلی سے ہو یا وحی خفی سے، بہرحال اس کا تعلق روحانیت کے ساتھ ہے اور اس کا دارومدار نیت پر ہے۔ گویا تمام گفتگو اور بحث کا خلاصہ نیت ہے۔ اگر انسان کی نیت ٹھیک ہے تو وہ سارے کام ٹھیک طریقے سے کرے گا۔ تعلیم ٹھیک طریقے سے حاصل کرے گا، پڑھائے گا صحیح طریقے سے اور اسی طرح اخلاق وعبادات بھی صحیح طریقے سے سرانجام دے گا۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی کوتاہیاں دورکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس