مکاتیب

ادارہ

(۱)

مکرم ومحترم حافظ عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم

دسمبر کے الشریعہ میں مقاصد شریعہ سے متعلق آپ کا مفصل مضمون پڑھ کر آپ کے علم کی گہرائی وگیرائی کا گمان یقین میں بدل گیا۔ اس مضمون پرتبصرہ کرنا میرے کم علم کے بس کی بات نہیں۔ چند باتیں جو ذہن میں آئی ہیں، لکھ رہا ہوں۔

جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے استاذ نے مشرکین مکہ سے متعلق جو آرا قائم کی ہیں، ان میں سے بیشتر قرآن سے ثابت نہیں۔ افسوس، جاوید صاحب اور ان کے متوسلین علم کے کبر کی وجہ سے ڈھنگ سے جواب نہیں دیتے۔ آپ نے بھی قانون رسالت، اتمام حجت جو لکھا ہے، یہ بھی انھی حضرات کی دین ہے ورنہ سرفراز صاحب صفدر نے میرے علم کی حد تک ایسی بات نہیں لکھی۔ دیکھیں مکہ میں الکہف نازل ہوئی۔ اس میں یہ صراحت ہے: ’من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر‘۔ لہٰذا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انھی مکیوں کو جبراً ایمان قبول کروایا جائے؟ پھر الاعراف ۹۴ سے بھی قانون رسالت ٹوٹ جاتا ہے کہ وہاں نبی کا لفظ آیا ہے۔ ریحان احمد یوسفی کو میں نے قرآن سے بہت سی آیات کی روشنی میں لکھا تھا کہ ’ارسلنا‘ کے لفظ میں رسول بنا کر بھیجنا ثابت نہیں ہوتا، مگر یہ لوگ باوجود ہمارے قرآنی آیات ان کے موقف کے خلاف پیش کرنے کے، ماننے کے لیے تیار نہیں۔ بہرحال آپ نے بھی التوبہ آیت ۱۴ سے استدلال کیا ہے کہ مشرکین مکہ کے لیے بھی عذاب کی علت انکار رسالت تھا۔ معاف کریں، آیت ۱۳ میں اس قتال کی علت بیان کر دی گئی ہے جو یہ تین ہیں: (۱) معاہدوں قسموں کا ایفا نہ کرنا، (۲) رسول کو جلاوطن کرنا، (۳) جنگ کی ابتدا کرنا۔ بتائیے انکار رسالت کہاں سے کشید کر لیا گیا؟

محترم طالب حسین صاحب سے چھ ماہ مغز ماری کے بعد میں خاموش ہو گیا۔ قرآن میں عذاب کی علت بیان کر دی گئی ہے۔ القصص ۵۹ اور سورہ ہود ۱۰۱، ۱۰۲ کو سیاق سے پڑھیں۔ السید الشیخ محمد علی کاندھلوی نے بجا طور پر مشرکین مکہ پر عذاب کی علت الانفال آیت ۱۳، ۱۴ کی تفسیر میں لکھ دی ہے، یعنی دنیا میں عذاب کی علت مخالفت رسول (نہ کہ انکار) اور آخرت میں سزاکی علت انکار رسالت ہے۔ مزید اطمینان کے لیے الاعراف ۱۶۵ تا ۱۶۳ پڑھیں۔ وہاں تو نہ نبی تھا اور نہ رسول، محض مصلحین تھے اور عذاب آ گیا۔ 

آپ بہت ذی علم انسان ہیں۔ میں آپ کی بے حد قدر کرتا ہوں، اس لیے محض اشارات کر دیے ہیں۔ غامدی صاحب کے قانون رسالت کی تغلیط کے لیے ڈھائی سال قرآن دیکھا کہ میرا ایمان اجازت نہیں دیتا کہ قرآن کی عطا کردہ آزادی کو جبر میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس آزادی پر ہی تو جزا وسزا ملے گی۔ مشرکین مکہ کے لیے مکہ میں رہنے پر جبر تھا۔ آپ سورۂ انفال اور التوبہ دھیان سے پڑھیں، میری بات سمجھ آ جائے گی۔

الانفال آیت ۳۴ کی شرح میں صاحب تدبر قرآن نے لکھا ہے کہ جھگڑا تولیت کعبہ کا تھا، اسی بنا پر انھیں بے دخل کیا گیا۔ التوبہ کی آیت ۲۸ سے بھی میری تائید ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کے لیے بھی تین آپشنز تھے۔ (۱) ایمان لا کرمکہ میں رہ سکتے تھے۔ (۲) مکہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ (۳) بصورت دیگر جنگ وقتال۔ یہ بات صرف امین احسن اور ان کے متوسلین کی سمجھ میں نہیں آتی، باقی جمہور مفسرین نے یہ بات لکھی ہے۔ التوبہ کی ابتدائی آیات کی شرح کسی بھی مفسر کی پڑھ لیں، مثلاً تفسیر عثمانی اور تفسیر احسن البیان وغیرہ۔ اس خط کے ہمراہ میں ایک خط بھیج رہا ہوں۔ جاوید صاحب اور ان کی المورد کی ٹیم تو جواب دے نہیں رہی۔ آپ جواب دے سکیں تومیری خلش دور ہو جائے گی۔

آپ نے بھی اپنے مضمون میں دیگر اہل سنت کی طرح لکھا ہے کہ رجم کی سزا تورات میں تھی۔ شاید میں اپنے علم کی حد تک واحد انسان ہوں جو یہ بات نہیں مانتا کیونکہ قرآن سے ثابت ہے کہ رجم کی سزا تورات میں بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ المائدہ آیت ۳۲ میں بنی اسرائیل کے لیے بھی موت کا قانون بیان کر دیا گیا ہے۔

صفحہ ۲۹ پر آپ نے لکھا ہے کہ کوئی حکم کسی علت پر مبنی ہے تو حکم کا وجود وعدم علت کے وجود وعدم پر منحصر ہوگا۔ یہ بات سو فی صد درست ہے، مگر آپ لوگ خود اس پر عمل پھر کیوں نہیں کرتے؟ مثلاً صلوٰۃ قصر کی علت کافروں کا (صرف کافروں کا) خوف ہے۔ تعدد ازواج کی علت یتیموں سے ناانصافی کا اندیشہ وغیرہ۔ ایسے ہی جمع بین الصلاتین پھر ناقابل عمل ہونا چاہیے، کیونکہ نماز وقت موقوت میں ہی فرض ہے۔ 

صفحہ ۲۷ پر آپ نے رسول اللہ پر ایمان لانے اور امت میں شامل ہونے کو لازمی قرار دیا ہے۔ یہ بات ایک پہلو سے ضروری ہے، مگر جنت میں داخلہ امت محمدیہ کے لیے خاص نہیں۔ قرآن میں (۲:۶۲) جنت میں داخلہ کے لیے بغیر شرک کی آمیزش کے اللہ پر صحیح صحیح ایمان لانا، آخرت پر صحیح طور پر ایمان لانا اورعمل صالح بنیادی شرائط ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کیوں ضروری ہے؟ سادہ سی بات ہے کہ ’ان ہذا القرآن یہدی للتی ہی اقوم‘۔ آج قرآن سمجھے بغیر اللہ کی منشا معلوم کرنا بہت مشکل ہے۔ امین احسن صاحب اور شیخ القرآن غلام اللہ صاحب کی شرح اس آیت کے حوالے سے بداہتاً غلط ہے اور غامدی صاحب نے جو ترجمہ اس آیت کا کیا ہے، ان کے عدم تدبر قرآن کا نتیجہ ہے۔ دیکھیں آل عمران ۱۱۳، ۱۱۴ میں بھی اہل کتاب کی تعریف کی گئی ہے۔ چند آیات پہلے بھی ان میں مومنین کا وجود تسلیم کیا گیا ہے۔ آل عمران ۶۴ میں دور رسالت کے اہل کتاب کو صرف توحید مان لینے کی دعوت دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ یہ دعوت مان لیتے تو جنت میں جا سکتے تھے یا نہیں؟ یہ موضوع بہت تفصیل طلب ہے۔ چند آیات لکھ رہا ہوں۔ ہو سکے تو غور فرمائیں۔ ۱:۷۶، ۲:۵۹و ۶۲ و ۱۰۵، ۳: ۱۱۰ و ۱۱۳ و ۱۱۴، ۴:۱۲۳، ۵:۶۹ سے ثابت ہے کہ اہل کتاب کے بارے میں جمہور امت کی رائے درست نہیں۔

محمد امتیاز عثمانی

امتیاز پائپ اسٹور، H153-154

سردار عالم خان روڈ، راول پنڈی

(۲)

مکرمی امتیاز عثمانی صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟

میں ممنون ہوں کہ آپ نے میرے مضمون کے بعض بحث طلب نکات کے حوالے سے اپنے خیالات کااظہار فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب کفار سے متعلق جہاد وقتال کے احکام کے حوالے سے آپ نے جس زاویہ نگاہ کی ترجمانی کی ہے، کئی برس سے جاری غور وفکر کے باوجود میں اس سے اتفاق کرنا ممکن نہیں پاتا۔ میں نے اپنی زیر ترتیب کتاب ’’جہاد۔ ایک تقابلی مطالعہ‘‘ میں اس موضوع سے متعلق سوالات پر تفصیلی بحث کی ہے۔ امید ہے کہ آپ اس کی اشاعت تک انتظار کی زحمت گوارا فرمائیں گے۔

عمار ناصر 

(۳)

محترمی ومکرمی !

السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی !

اس اللہ کے نام سے جس کے قبضہ قدرت میں میری آپ کی ساری دنیا جہان کی جان ہے۔ خدارا مسلک دیوبند کی حفاظت کیجیے۔ حضرت ! افغانستان میں خونخوار وحشی درندوں نے جس سفاکی اور درندگی کامظاہر ہ کیا ہے، باجوڑ ایجنسی، لال مسجد، جامعہ حفصہ میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں، اللہ کے مہمانوں کو جس سفاکی، بے رحمی، بے دردی سے شہید کیا گیا، پھر آئے دن علماے کرام بزرگان دین کو جس عیاری مکاری سے شہید کیا جا رہا ہے، دل خون کے آنسو رو رہا ہے، چیخیں نکل گئی ہیں۔

حضرت! اس وقت پور املک ہی نہیں بلکہ ساری امت مسلمہ یتیم ہوچکی ہے۔ ہم ہیں کہ بلک بلک کر رو رہے ہیں۔ ہمار ا کوئی ایک بھی پرسان حال نہیں ہے، نہ فقط نوجوان نسل سے کچھ امید کرسکتے ہیں۔ شاید کوئی ایک شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، قاسم نانوتوی، محمود الحسن، حسین احمد مدنی یا شاہ اشرف علی تھانوی پیدا ہو اور ہمارے سروں پر دست شفقت رکھے۔ مایوسی گناہ ہے مگر موجودہ حالات میں تو معاملہ مایوسی سے بھی کہیں بہت دور پہنچ چکا ہے۔

حضرت! سنا ہے کہ سینکڑوں نہیں ہزاروں طلبہ وفاق المدارس کا اعلیٰ امتحان ہر سال پاس کر کے سند فضیلت حاصل کرتے ہیں، پھر معاشرہ میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ قو موں کی تقدیربدلنے کے لیے توایک مرد قلندر بھی کافی، افسوس کہ یہاں ہزاروں میں ایک بھی نہیں۔ آخر کیا وجہ ہے؟

حضرت! محسو س نہ فرمائیں تو عرض کروں کہ اس کی وجہ ’’تربیت کافقدان‘‘ ہے۔ جسے دیکھو تنگ نظر، تنگ دل، سخت متعصب، بغض، عناد، حسد سے معمور، نہ ملاقات کا ڈھنگ، نہ بات کرنے کا سلیقہ، فقط اپنی ’’انا‘‘ تک محدود۔ پچھلے دنوں ہمارے ہاں ایک بڑا جلسہ ہوا۔ علماے کرام، مقررین، مختلف مدارس کے اساتذہ وطلبہ نے شرکت کی۔ جو بھی آیا اکڑ کر آیا، روکھے تیکھے اندازمیں علیک سلیک کی، عجیب انداز میں الگ ہو کر بیٹھ گیا۔ ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔ کن انکھیوں سے بھی دیکھتے رہے مگر خوشگوار ماحول بنا کر کسی نے دوسرے سے بات نہ کی۔ ایسا محسو س ہوا کہ آنے والے کودکھ تھا کہ بیٹھنے والوں نے کھڑے ہوکر میرا استقبا ل کیوں نہیں کیا۔ بیٹھنے والے سوچ رہے تھے کہ آنے والا ہمیں جھک کر کیوں نہیں ملا۔ کسی نے کسی کی عزت اد ب احترام نہیں کیا۔ 

حضرت! اس پر مجھے بڑ ادکھ اور افسوس ہوا کہ مولوی مولوی کی عزت نہیں کرتا۔ ایک ہی مسلک، ایک ہی مشن، عوام تو کالانعام، منتظمین جلسہ نے بھی عزت نہ کی، وہ کیوں کرتے۔ مولوی مولوی کی عزت کرتا ہے، عوام سے بھی علما کی عزت کرواتا ہے۔

حضرت! طلبہ کی تربیت کا سوچیں۔ مدارس میں کتابیں تو رٹوا دی جاتی ہیں، مگر تربیت کا فقدان ہے۔ تربیت کے لیے بڑی عاجزانہ رائے ہے کہ مسجد میں درس قرآن اور در س حدیث کا انتظام کیا جائے۔ نماز فجر کے بعد تمام درجات کے طلبہ کی حاضری لی جائے، ہر درجے کا مانیٹر اپنے اپنے درجہ کی حاضری لے۔ پھر ایک استاد طلبہ سے مخاطب ہو۔ کہے کہ بچو! اللہ ہمارا خالق مالک حاکم ہے، اس کاحکم قرآن کی صورت میں حضور کے واسطے سے ہم تک پہنچا ہے۔ میں اللہ کاحکم پڑھتاہوں،آپ غورسے سنیں، پھر اس پر عمل کریں۔ قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر ترجمہ اورمختصر تشریح کرے۔ فلسفیانہ ،منطقیانہ بحث سے اجتناب کرے، سادہ ترجمہ سادہ تشریح ہو،جیسے کسی افسر کاحکم ماتحت ملا زمین کوپڑھ کر سنایا جاتا ہے اورانہیں عمل کی تلقین کی جاتی ہے ۔ بعینہ اسی طرح عشا کی نماز کے بعد حاضری ہو، ایک دوحدیثیں پڑھ کر ان پر عمل کی تلقین کی جائے۔ 

اساتذۃ میں باری باری ایک استادکو ’’معلم الیوم‘‘ مقرر کریں، وہ سارا دن جامعہ میں گھومے پھرے،جائزہ لے کہ طلبہ احکامات الٰہی اور فرمان رسول کے مطابق کس قدر عمل کر رہے ہیں، بچوں کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، آپس کامیل ملاپ، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، مہمانوں کا اکرام، اساتذہ کی عزت، بول چال غرض ہر چیز چیک کر کے جامعہ کی ڈائری میں لکھے۔ درس قرآن وحدیث کے بعد کھڑا ہو، کسی طالب علم کانام لیے بغیر مطلق کہے کہ بعض بچے یہ یہ غلطی کرتے ہیں، ملاقات بول چال میں فلاں فلاں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں، ایسی غلطیوں کوتاہیوں سے اجتناب کریں۔

اساتذہ کی تربیت کا بھی ا نتظام کیاجائے۔ جدید طریقہ ہاے تدریس سے انہیں واقف کیاجائے ۔بچوں کی نفسیات اور ان کی ضروریات سے آگاہی ہو۔ ہر فن کی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں، لے کر مطالعہ کریں۔ اساتذہ کی شخصیت پرنگاہ رکھیں۔ سب سے اہم مسئلہ یہی ہے۔ طلبہ کی تربیت میں اساتذہ کی ذات گرامی بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔

حضرت! میں نہایت عاجزانہ مود بانہ دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا، مسلک دیوبند کی حفاظت کیجیے۔ میری رائے اور مشورہ سے اتفاق نہ کریں توکوئی بات نہیں، آپ صاحب علم ہیں خود غورفرمائیں۔ جیسے مناسب سمجھیں ویسے کریں۔ یقین جانیے کہ ہم بڑے ذلیل وخوار ہیں، معاشرہ میں ہماری ذرہ برابر عزت نہیں۔ ہم خود آپس میں ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے، نہ اتحاد نہ اتفاق ہے، جس سے فائدہ اٹھاکر لوگ ہمیں پیٹ رہے ہیں۔ فی الحال سیاست میں حصہ نہ لیں، پس پردہ زیر زمین کام کریں، تین سو تیرہ نفوس تیار کریں۔ یقین جانیں چند سالوں میں انقلاب آجائے گا، پوری دنیا میں مسلک دیوبند کی حکومت ہوگی۔

غلام یاسین ،استاد 

نہر کنارہ اللہ آباد 

تحصیل لیاقت پور، ضلع رحیم یارخان 

(۴)

جنا ب مدیر الشریعہ 

السلام علیکم ! ’’الشریعہ‘‘ کے تازہ شمارہ میں جناب منظورالحسن صاحب کا مضمون بعنوان ’’ غامدی صاحب کے تصور کتاب پر اعتراضات کاجائزہ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جناب منظور احمد صاحب نے لکھاہے کہ ان کے الفاظ ’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں‘‘ سے حافظ زبیر صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ فطرت کے حقائق اور قدیم صحائف بھی غامدی صاحب کے مصادر دین میں سے ہیں۔ میں منظورالحسن صاحب کی اس بات سے متفق ہوں، لیکن مجھے یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ الشریعہ کے تازہ شمارے میں بھی غامدی صاحب کے دفاع میں منظور الحسن نے ہی لکھاہے کہ فطرت کے حقائق اور قدیم صحائف غامدی صاحب کے مآخذدین نہیں ہیں۔ منظور الحسن کے غامدی صاحب کے دفاع میں لکھے جانے والے ان مضامین کو میں کیا سمجھوں؟ غامدی صاحب کی رائے یا منظورالحسن کی؟ منظورالحسن صاحب کے اب تک کے بیانات کے مطابق جو کچھ وہ غامدی صاحب کے دفاع میں لکھ رہے ہیں، حافظ زبیر صاحب کو اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ غامدی صاحب کے الفاظ نہیں ہیں۔ یعنی قارئین منظورا لحسن صاحب کے جواب کو غامدی صاحب کی طرف سے جوا ب سمجھیں، لیکن اگر منظور الحسن صاحب کے جواب پر نقد ہو تو وہ منظورالحسن صاحب پر نقد ہوگی نہ کہ غامدی صاحب پر۔ منظورصاحب بتائیں کیا میں درست سمجھاہوں؟

اسی طرح منظور الحسن صاحب نے اردوالفاظ مآخذ اور مصادر میں کوئی باریک فرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرے خیال میں منظور صاحب کی ایسی کوششیں کسی رضوان علی ندوی جیسے عالم کے لیے اس معا ملے میں بہترین محرک ثابت ہوسکتی ہیں کہ وہ اہل مورد کی اردو دانی کا بھی تحقیقی جائزہ لیں۔ مجھے خوشی ہوگی اگر منظور صاحب اہل لغت سے اس باریک فرق کو ثابت کر دیں جو انہوں نے ماخذ اور مصادر میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال میں نے حافظ زبیر صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنی کتاب ’’فکر غامدی‘‘ میں جہاں جہاں ماخذ کالفظ ہے، اس کو مصادر سے بدل دیں۔ جناب حافظ زبیر صاحب نے یقین دلایا ہے کہ اگلے ایڈیشن میں ماخذ کی جگہ مصادر کے الفاظ ہوں گے۔

حافظ طاہر اسلام عسکری

قرآن اکیڈمی، ۳۶ ۔کے

ماڈل ٹاؤن، لاہور

مکاتیب