معلم کا منصب اور اس کے فنی و اخلاقی تقاضے

مولانا عبد الرؤف فاروقی

(۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ سے خطاب۔)


نحمد ہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فا عوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اقرا باسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علق اقرا وربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم۔

میں نے جو آیات مبارکہ پڑھی ہیں، ان میں کہاگیا ہے: اقرا وربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم۔ تعلیم بالقلم، یہ طریقہ تدریس ہے ۔اللہ تعالیٰ نے خود کو جب معلم کہاہے کہ میں نے تعلیم دی ہے تو یہ کہا کہ بالقلم ، ایک واسطہ اور سبب استعمال کیا ہے اور وہ قلم ہے۔ چنانچہ مدرسین کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ علم دینے کے لیے ان مفید ذرائع کو استعمال کریں اور اپنے مدرسے کے منتظمین سے یہ درخواست کریں کہ میں اپنے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مستفید کرنا چاہتا ہوں، مجھے یہ چیزیں مہیا کی جائیں۔پہلے بلیک بورڈ ہوا کرتا تھا، اس پر چاک کے ساتھ لکھا کرتے تھے۔ اب وائٹ بورڈ آگیا ہے، اس پر مارکر کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ بڑے آسان طریقے آگئے ہیں تو اگر اس کو استعمال کرنے کی تھوڑی سی مشق کرلی جائے تو اس پر کوئی اسکول وکالج کی اجارہ داری نہیں ہے کہ وہ استعمال کرسکتے ہیں اور ہم نہیں، یا وہاں اس کو استعمال کیا جاسکتاہے، یہاں نہیں۔ آپ صرف ونحو پڑھا رہے ہیں، آپ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا رہے ہیں، آپ حدیث مبارکہ پڑھا رہے ہیں، اس کے لیے وہ چیز جو سمجھ میں نہیں آرہی، اس کو اگر آپ وائٹ بورڈ کے ذریعے اپنے طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کریں یا کسی کو سمجھا تے ہوئے دیکھ لیں تو آپ کو خود بخود ان شاء اللہ اس کا طریقہ آجائے گا۔اس کا استعمال طریقہ تدریس میں اور تربیتی کام میں ضروری ہے۔ 

جب ہم پڑھتے تھے تو اس وقت ایک درجے میں دس پندرہ طلبہ ہوا کرتے تھے۔اب ایک درجے میں ڈیڑھ سو تک طلبہ ہوتے ہیں، یعنی مدارس بھی بڑھے ہیں اور مدارس میں طلبہ کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ ایک استاذ ایک گھنٹے میں ڈیڑھ سو طلبہ کی نفسیات کے ساتھ کس طرح نباہ کرے گا؟ جامعہ اشرفیہ میں جب میں پڑھتاتھا تو ایک درجے میں بارہ، تیرہ طلبہ تھے۔ اب وہاں میرا بیٹا پڑھتا ہے، اس کے درجے میں طلبہ کی تعداد ۱۴۵ ہے۔ استاذکا تعلق اپنے طلبہ کے ساتھ صرف پون گھنٹے کا ہے، اپنے فن کے اعتبار سے۔ اس کے بعد استاذ چور دروازے سے اپنے گھر چلا جاتا ہے اور طالب علم اپنے ہاسٹل اور دارالاقامہ میں چلا جاتا ہے۔ باقی چوبیس گھنٹے طلبہ کا اپنے اساتذہ کے ساتھ ربط ضبط نہیں ہوتا۔ اب ایک استاذ ڈیڑھ سو طلبہ کی نفسیات کا کیسے مطالعہ کرے گا اور وہ کیسے ان کی نفسیات سے واقف ہوگا؟ اس لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ ہم چالیس چالیس طلبہ کی کلاسیں بنالیں، ایک ہی درجے کے چار پانچ فریق بنا لیے جائیں۔ اس طرح استاذ کو اپنے ہر ایک طالب علم کی نفسیات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور وہ ہر ایک پر ذاتی توجہ دے سکے گا۔ جب کلاس کم ہوگی تو آپ دھیان رکھ سکیں گے کہ کون متوجہ ہے اور کون متوجہ نہیں ہے، کون جاگ رہا ہے اور کون بین النوم والیقظۃ ہے۔ ہمارا آٹھ سال کا جو دورانیہ ہے، اس میں تعلیم تو روزانہ چھ گھنٹے ہوتی ہے۔ ان چھ گھنٹوں میں میرا خیال ہے کہ اکثر طلبہ دو گھنٹے جاگ کر اور چار گھنٹے سو کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اساتذہ کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ اس قطار کے پیچھے جو حضرات ہیں، وہ کیا کر رہے ہیں۔ رقعے بازی ہو رہی ہے یا کتاب کھولی ہوئی ہے اور اپنے گھر والوں کو خط لکھ رہا ہے۔ لیکن اگر طلبہ کی تعداد کم ہوگی تو استاذ ہر ایک طالب علم کے تمام معاملات کو دیکھ رہا ہوگا۔ 

آپ مدرس ہیں یا مدرس بننے جا رہے ہیں تو آج آپ یہ طے کریں کہ جب میں مدرس بنوں گا تو اپنے شاگرد کے علم وفن، اس کی اخلاقی تربیت اور اس کے مدرسے کے جو مسائل ہیں، ان میں وہ میری اولاد کی طرح ہے۔ جس طرح گھر میں آپ کو چار پانچ بچوں کی تمام ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں، اسی طرح مجھے اپنے طلبہ کی تمام ضروریات پوری کرنا ہیں۔ ایک باپ کی حیثیت سے اپنی کلاس کو دیکھیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایک کامیاب معلم ہیں۔ 

تکرار کا ہمارے ہاں جو ماحول تھا، وہ اب آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔اس کا بہترین حل یہ ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ اذا تکرر الکلام علی السمع تقرر فی القلب، ایک پون گھنٹے میں جتنا سبق ہمیں پڑھایا جاتا تھا، دس منٹ میں پڑھا کر فارغ کر دیا۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ باقی آدھا گھنٹہ فارغ رہتا ہے۔ اگر وہ آدھا گھنٹہ فارغ نہ رہے، ایک استاذ کو چالیس پینتالیس منٹ کا جو وقت دیا گیاہے، اگر وہی پون گھنٹہ استاذ اس سبق کو بار بار دہرائے اور طلبہ سے بھی اس کا اعادہ کروائے تو تکرار کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور ہم جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس انگریزی سیکھنے کے لیے یا کمپیوٹر سیکھنے کے لیے یا کسی اور کام کے لیے وقت نہیں بچتا تو اس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ جتنا کام کسی فن کا ہم چوبیس گھنٹے میں کرتے ہیں، وہ چالیس منٹ میں ہوسکتاہے اگر ہم کلا س کی جتنی ضروریات ہیں، ان کو پورا کردیں۔ ایک مدرس ہونے کی حیثیت سے آپ اس کا تجربہ کریں شروع میں کتاب کے متعلق جو بنیاد بن جاتی ہے وہ آخر تک قائم رہتی ہے ۔منتظمین کی طرف سے آپ کو جو چالیس ،پینتالیس منٹ کا پیریڈ دیا گیا ہے، آپ اس کا استعمال اس طرح کریں کہ آپ سبق پڑھائیں تو پھر دوبارہ اس کا اعادہ کریں اور دوتین دفعہ دوتین طلبہ سے سنیں۔ کبھی کسی سے، کبھی کسی سے، تو ہر طالب علم اپنا سبق چوکنا ہو کر سنے گا۔اب تو ایسے اسکول آگئے ہیں جو کہتے ہیں کہ بستہ بھی گھر لے جانے کی ضرورت نہیں۔ بستہ یہاں رہے، بچہ صبح اسکول آئے اور شام کو گھر چلا جائے۔ گھر کا جتنا کام ہے، ہم اس کو یہاں کرائیں گے۔ باقی وقت وہ ٹی وی دیکھتا ہے، کھیلتا کودتا ہے۔ تو اگر ہم جدید طریقہ ہائے تدریس سے کچھ استفادہ کریں تو ہمارے بچوں کے پاس بہت سا وقت بچ سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ان کو اپنے آپ پر مسلط کر لیں۔

طریقہ تدریس میں ہمارے ہاں تکرار اور مطالعے کا جو ماحول ہے، اس کے بارے میں ہمارے اساتذہ ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ بغیر مطالعہ کے سبق پڑھانا تو زنا کرنے کے برابر ہے۔ یہ جملہ ہمارے ہاں چلتا ہے کہ یہ ایسے ہی کتاب کے ساتھ ظلم اور طالب علم کے ساتھ ناانصافی ہے جیسے ایک آدمی نے ایک بہت بڑے کبیرہ گناہ زنا کا ارتکاب کرلیا ہے۔ طالب علم کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مطالعہ کر کے آئے۔ پھر استاذ کا علم اور طالب علم کا علم، یعنی علم اور طلب علم جب آپس میں ملیں گے تو کام بنے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بات ہے علم کو سینوں میں اتارنے کی۔ اور تدریس کے طریقے کے لیے تو وہی پرانا معاملہ ہے کہ دن کو آپ گھوڑے کی پیٹھ پر ہوں اور رات کو مصلے پر کھڑے ہوں۔ کہا گیا ہے کہ ’ان للتقویٰ مھابۃ‘ ، تقویٰ کا اپنا ایک رعب ہے۔ اور علم کے بارے میں مجھے میرے شیخ حضرت عبید اللہ انورؒ نے کئی دفعہ یہ بات سنائی، مولانا زاہد الراشدی بھی اس کے گواہ ہوں گے کہ حضرت مدنی فرمایا کرتے تھے کہ تسخیر کائنات کا سب سے بڑا وظیفہ تقویٰ ہے۔ آپ جتنے زیادہ متقی ہوں گے، کائنات اتنی آپ کے سامنے مسخر کر دی جائے گی۔ تو اللہ تعالیٰ آپ کو مجتہد فی التدریس بنادیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ کا اپنا ذوق، اپنا اخلاص یہ ہو کہ میں جو کچھ بنا ہوں، میرا شاگرد مجھ سے بھی اونچی جگہ پر پہنچے۔ یہ تودنیا کا نظام ہے۔ ہر باپ یہ چاہتا ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے آگے بڑھ جائے، تو جب آپ باپ کے درجے پر آئیں گے اور شاگرد کے بارے میں یہ سمجھیں گے کہ میں باپ ہوں اور یہ میرا بیٹا ہے تو آپ کی یہ خواہش ہو گی کہ آج میں جس جگہ پر بیٹھا ہوں، میرا شاگرد مجھ سے بھی آگے بڑھے اور دنیا میں اس کے علم کا فیضان ہو۔ یہ میرا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب ایسا جذبہ ہو گا، یہ اخلاص ہو گا تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے تدریس کے طریقوں میں خود مجتہدانہ صلاحیت پیدا کر دے گا۔ روزانہ نئے سے نئے طریقے سمجھ میں آتے رہیں گے۔ ان سے آپ اپنا علم آگے پہنچاتے رہیں گے۔ 

مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ برصغیر کے سب سے بڑے اردو کے خطیب تھے ۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ پیر مہر علی شاہ صاحب ؒ سے بیعت ہوئے اور پھر بعد میں حضرت رائے پوریؒ سے بیعت ہوئے۔ پیر مہر علی شاہ صاحب ؒ کے پاس بیعت کے لیے جانے سے پہلے وہ میاں شیر محمد شرقپوریؒ کے پاس گئے کہ مجھے بیعت کر لیں۔ (تو یہ ہمارا ایک اور بھی مسئلہ ہے کہ ہم نے اپنے مشائخ کو ان کے کھاتے میں ڈال دیا ہے جو کبھی مشائخ کے مزاج کے تھے ہی نہیں) تو کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے کہا کہ ’’شاہ جی، تہاڈا حصہ میرے کول نہیں ہے۔ میر ے کول ہوندا تے میں تہانوں گھڑ دیندا‘‘۔ گھڑ دینے کا مفہوم آپ کے ذہن میں ہے، ایک غیر متوازن چیز کو متوازن بنا دینا۔ یہ ہوتا ہے اصل میں استاد کا کام۔ امیر شریعت کا حصہ یہاں نہیں تھا تو پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے پاس چلے گئے۔ وہاں بیعت ہوئے تو پیر مہر علی شاہ صاحب ؒ کے بعد ان کے خاندان میں وہی صاحبزادگی تھی۔ وہاں مزاج نہ بن سکا تو حضرت رائے پوریؒ کے پاس آئے تو حضرت رائے پوریؒ نے بہر حال گھڑا۔ آپ اگر امیر شریعت کی صرف خطابت نہیں، ان کی وہ زندگی جو تربیت کی زندگی ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ اللہ کرنا سیکھا ہے، وہ کبھی معلوم کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کس طرح وہ گھڑا کرتے ہیں۔

آپ کے پاس والدین ایک سرکش بچہ، ان گھڑا بچہ، غیرمتوازن بچہ، اپنی بہت بڑی متاع آپ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس کو گھڑنا،سنوارنا اور زمانے کا معلم بنانا یہ آپ کی ذمہ داری ہے، اور یہ تبھی ہوگا جب ہم اس بچے کے اوقات کو اور اس بچے کی زندگی کو اپنے پاس امانت سمجھیں گے اور کل قیامت کے دن ’لاایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عہد لہ ‘  کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دہی کے احساس کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو انجام دیں گے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اور آپ کو اپنے پیغمبر کے طریقہ تدریس کی روشنی میں اپنے زمانے کا معلم بننے کی توفیق عنایت فرمائے اور جو لوگ ہمارے پاس علم سیکھنے کے لیے اور فیضان کی روشنی لینے کے لیے آتے ہیں، ہم ان کو زمانے کا معلم بنا سکیں۔ وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جیسے وہ ’’سراج منیر‘‘ تھا اور اس نے صحابہ کو ’’نجوم‘‘ بنا دیا، ہم بھی اپنے طلبہ کو آئندہ کی نسلوں کے لیے اسی طرح تیار کریں تو ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ 

تعلیم و تعلم / دینی مدارس