کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۱)

حافظ محمد زبیر

ہر دور میں انسان اپنے’ ما فی الضمیر ‘ کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے زبان کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ انسان اپنے خیالات ‘افکار ‘نظریات‘جذبات اور احساسات کو اپنے ہی جیسے دوسرے افراد تک پہنچانے کے لیے الفاظ کو وضع کرتے ہیں۔ کسی بھی زبان میں کسی مفہوم کی ادائیگی کے لیے جو الفاظ وضع کیے جاتے ہیں، وہ دوطرح کے ہوتے ہیں۔ یا تو کسی لفظ کو اہل زبان کسی ایک متعین معنی یا مفہوم کو ادا کرنے کے لیے وضع کرتے ہیں، اس کو اصولیین کی اصطلاح میں ’خاص‘ کہتے ہیں۔ مثلاً اردو زبان میں اس کی سادہ سی مثال کسی کا نام ہے۔ جب والدین کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس بچے کو پکارنے ‘بلانے‘ اس سے متعلق کسی کو خبر دینے وغیرہ کے لیے اس کا ایک نام رکھ لیتے ہیں۔ کسی مفہوم یا تصور کا کسی لفظ کے ساتھ یہ الزام ’وضع‘ کہلاتا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اصل مفہوم ہوتا ہے نہ کہ الفاظ ‘کیونکہ الفاظ تو مفہوم کی ادائیگی کے لیے وضع کیے جاتے ہیں لیکن اس لحاظ سے الفاظ کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ انسان کے مافی الضمیر کی ادائیگی کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ الفاظ و معانی کا یہ تعلق لازم و ملزوم کا ہے۔ مثلاً لفظِ ’زید‘ ہے جو کہ ایک معین ذات پر دلالت کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، اس لیے یہ لفظ خاص ہے ۔اگر استاذکلاس روم میں بیٹھے طلبہ سے کہتا ہے :’ زید کی ڈیوٹی ہے کہ وہ روزانہ بلیک بورڈ صاف کرے گا‘ تو اس عبارت میں لفظِ زید خاص ہے اور اس سے ایک ہی متعین مفہوم اور ذات مراد ہے۔ بعض اوقات اہل زبان جب کوئی لفظ وضع کرتے ہیں تو وہ بہت سے غیر متعین افراد کو یکبارگی شامل ہوتا ہے جسے اصولیین کی اصطلاح میں ’عام‘کہتے ہیں۔ اس کی سادہ سی مثال اردو زبان میں لفظِ ’جو‘ ہے۔ اگر کوئی استاذ اپنی کلاس کے طلبہ سے کہتا ہے کہ ’جو بھی کلاس روم میں ہے کھڑا ہو جائے‘ تو اس جملے میں لفظِ ’جو‘ عام ہے اور کلاس کے تمام افراد کو شامل ہے اس لیے کلاس کے ایک ایک طالب علم کو یہ حکم شامل ہو گا۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک لفظ ایک اعتبار سے خاص ہوتا اور ایک اعتبار سے عام ہو تا ہے۔ مثلاً اردو زبان میں اس کی سادہ سی مثال لفظِ ’شیر‘ ہے۔ یہ لفظ باقی حیوانات چیتا‘ ہاتھی‘ بندر‘ لومڑی وغیرہ کے اعتبار سے خاص ہے، لیکن اپنے افراد کے اعتبار سے عام ہے کیونکہ اس لفظ کا اطلاق کسی بھی شیر پر ہو سکتا ہے۔

لفظ خاص وعام کی اپنے معنی پر دلالت

قرآن جو کہ عربی زبان میں ہے اس کا ہر لفظ اپنی وضع کے اعتبار سے یا توخاص ہو گا یا عام ہو گا۔قرآن کے خاص الفاظ کے بارے میں فقہا اور اصولیین کا اتفاق ہے کہ وہ قطعی الدالۃ ہوتے ہیں یعنی ان الفاظ کا معنی ایک ہی ہو تا ہے اور اس معنی میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں:

’’احناف اور باقی مذاہب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لفظِ خاص اپنے اس معنی پر کہ جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے ‘قطعیت اور یقین کے ساتھ دلالت کرتا ہے جب تک کہ کوئی ایسی دلیل موجود نہ ہوجو اس کو اس کے موضوع لہ معنی سے پھیر دے اور کسی دوسرے معنی کی طرف لے جائے۔قطعیت سے یہاں مراد یہ ہے کہ لفظِ خاص میں کسی دلیل کی وجہ سے کسی اور معنی کا احتمال نہیں ہوتا‘ نہ کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں اصلاً کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں ہوتا۔‘‘ (أصول الفقہ الاسلامی‘جلد۱‘ص۲۰۵‘مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

مثلاً قرآن میں ہے: تبت یدا أبی لھب و تب (لہب:۱) (ہلاک ہو ں أبو لہب کے دونوں ہاتھ‘اور وہ خود بھی ہلاک ہو) اس آیت مبارکہ میں لفظ ’أبولہب‘خاص ہے اور اس سے مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہے جو کہ آپؐ پر ایمان نہیں لایا تھا اور آپؐ کو اذیت پہنچاتاتھا۔یہ لفظ اپنے مفہوم میں قطعی الدلالۃ ہے یعنی اس میں کسی اور مفہوم کی گنجائش نہیں ہے۔ 

اسی طرح قرآن میں ہے: الزانیۃ و الزانی فاجلدوا کل واحد منھما ماءۃ جلدۃ (النور:۲) (زنا کرنے والا مرد اور زنا کرنے والی عورت‘پس تم ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔) اس آیت مبارکہ میں ’ماءۃ‘ لفظِ خاص ہے کہ جس کا معنی سو ہے‘ کیونکہ اس سے مراد ’ننانوے‘ یا ’ایک سو ایک‘ نہیں ہوتے‘ اس لیے یہ لفظ اپنے معنی میں قطعی الدلالۃ ہے۔ لیکن اگر کوئی قرینہِ صارفہ یا دلیل موجود ہو تو خاص کو اس معنی سے پھیرا جا سکتا ہے کہ جس کے لیے یہ وضع ہوا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے : یذبح أبناءھم و یستحی نساءھم (القصص:۴) (وہ (یعنی فرعون) ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔) 

اس آیت میں ’یذبح‘ کا لفظ خاص ہے جو کہ واحد مذکر غائب کے فعل کے لیے اہل زبان نے وضع کیا تھا اور جب اس لفظ کو ایک ہی فرد کے فعل کے لیے استعمال کیا جائے گا تو یہ اس کا قطعی الدلالۃ مفہوم ہو گا اور اس لفظ کا اپنے موضوع لہ معنی میں استعمال حقیقی استعمال کہلائے گا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں یہ لفظِ خاص اپنے موضوع لہ معنی یعنی واحد مذکرغائب کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ یہاں یہ جمع مذکر غائب یعنی فرعون کے لشکر کے سپاہیو ں کے لیے استعمال ہوا ۔کیونکہ بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے والے تو اصلاً فرعون کے لشکر کے سپاہی تھے نہ کہ اکیلا فرعون‘جیسا کہ قرآن نے کئی دوسرے مقامات پر اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے :

یذبحون أبنائکم و یستحیون نسائکم (البقرۃ: ۴۹ و ابراہیم: ۶)
’’وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔‘‘

دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں ’یذبح‘ سے صرف فرعون کو مراد لینا عقلاً بھی محال ہے اس لیے اس آیت میں یہ لفظ اپنے موضوع لہ معنی میں استعمال نہ ہوگااور واحد مذکر غائب کے صیغے کا جمع مذکر غائب کے لیے یہ استعمال‘ مجازی استعما ل کہلائے گا۔

مذکورہ بالا مثال صرف یہ سمجھانے کے لیے دی گئی ہے کہ قرآن میں خاص کے قطعی الدلالۃ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے صرف ایک ہی معنی مراد ہو سکتا ہے کوئی اور معنی مراد ہی نہیں ہوسکتا بلکہ خاص کے قطعی الدلالۃ ہونے کا معنی یہ ہے کہ جب تک کوئی قرینہ صارفہ نہ ہو تو اس وقت تک لفظِ خاص اپنے معنی میں قطعی اور یقینی ہوتا ہے اور اس سے مراد صرف وہی معنی ہوتا ہے کہ جس کے لیے اسے اہل زبان نے وضع کیا ہے‘ اسی نکتے کی طرف ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے :

’’قطعیت سے یہاں مراد یہ ہے کہ لفظِ خاص میں کسی دلیل کی وجہ سے کسی اور معنی کا احتمال نہیں ہوتا ‘نہ کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں اصلاً کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں ہوتا۔ (أصول الفقہ الاسلامی‘ جلد۱‘ ص۲۰۵)

لفظِ عام کی اپنے معنی پر دلالت کے بارے میں فقہا و اصولیین کا اختلاف ہے۔ جمہور فقہا مالکیہ ‘شوافع اور حنابلہ کا کہنا ہے کہ ایساعام کہ جس کی تخصیص نہ ہوئی ہواس کی دلالت اپنے معنی پر ظنی ہوتی ہے جبکہ احناف اور معتزلہ کا موقف یہ ہے کہ عام کی تخصیص سے پہلے اپنے معنی پر دلالت قطعی ہوتی ہے ۔ڈاکٹر وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں:

’’اکثر فقہائے مالکیہ‘شافعیہ اور حنابلہ کا کہنا یہ ہے کہ عام کی اپنے جمیع افراد پر دلالت ظنی ہوتی ہے جبکہ احناف او ر معتزلہ کامختار مذہب یہ ہے کہ عام کی تخصیص سے قبل اس کی اپنے افراد پر دلالت قطعی ہوتی ہے اور ایک ایسا قول امام شافعیؒ کی طرف بھی منسوب ہے ‘اور اگر عام کی تخصیص ہو جائے تو باقی پر اس کی دلالت ظنی ہوتی ہے اورقطعیت سے یہاں مراد یہ ہے کہ لفظ عام میں کسی دلیل کی وجہ سے کسی اور معنی کا احتمال نہیں ہوتا ‘نہ کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں اصلاً کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں ہوتا۔‘‘ (أصول الفقہ الاسلامی‘جلد۱‘ص۲۵۰‘ ۲۵۱)

أحناف کا کہنا یہ ہے کہ لفظِ عام کو اہل زبان نے عمومی معنی کے لیے وضع کیا ہے لہذا اس سے مراد قطعی طور پر اس کا عمومی معنی ہی ہو گا جبکہ جمہور کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی عام ایسا نہیں ہے کہ جس کی تخصیص موجود نہ ہو، یہاں تک کہ بعض علما کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کے عام میں صرف ایک آیت ایسی ہے کہ جس کی تخصیص نہیں ہے ورنہ ہر عام کی کوئی نہ کوئی تخصیص ضرور موجود ہے ۔اسی وجہ سے أصولیین اور فقہاء میں یہ قول بہت معروف ہے کہ ’ما من عام الا و قد خص منہ البعض‘ یعنی کوئی عام ایسانہیں ہے کہ جس سے کسی چیز کو خاص نہ کیا گیا ہو۔علامہ آمدیؒ لکھتے ہیں:

’’یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی عام ایسا نہیں ہے کہ جس کا کوئی مخصص نہ ہو سوائے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے کہ :اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ (الاحکام فی أصول الأحکام‘جلد۲‘ ص۴۱۰)

جبکہ امام شوکانی ؒ نے ’ارشاد الفحول ‘ میں بعض علما کے حوالے سے قرآن کی صرف چارآیات ایسی بیان کی ہیں کہ جو کہ اپنے عموم پر باقی ہیں۔ تمام فقہائے مالکیہ ‘شافعیہ ‘حنابلہ اور احناف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عام کی تخصیص کے بعد باقی افراد پر عام کی دلالت ظنی ہوتی ہے لہذاجمہور اور احناف کے مسلک میں فرق بالکل نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ استقرا سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ہر عام کا کوئی نہ کوئی مخصص ہے لہذا تخصیص کے بعد اس عام کی دلالت اپنے باقی افراد پر فقہائے أربعہ کے نزدیک ظنی ہوگی ۔اورعام کی تخصیص بعض اوقات عقل سے ہوتی ہے ‘بعض اوقات عرف و عادت سے ‘بعض ا وقات خودقرآن سے اور بعض اوقات سنت سے ہوتی ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ اہل سنت میں سے کسی کا بھی یہ موقف نہیں ہے کہ قرآن کاہر ہر لفظ قطعی الدلالۃ ہے ۔ہاں اہل سنت میں اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ قرآن کے کتنے مقامات قطعی الدلالۃ ہیں اور کتنے ظنی الدلالۃ ہیں؟

ہمیں قطعی الدلالۃکا لغوی معنی آسان الفاظ میں سمجھ لیناچاہیے ۔ لفظ ’قطعی‘ کا مادہ ’قطع‘ ہے کہ جس کا معنی عربی زبان میں کاٹنا ‘جدا کرنا یا علیحدہ کرنا ہیں اور دلالت سے مراد کسی لفظ کا معنی یا مفہوم ہے لہذا کسی لفظ کے قطعی الدلالۃ ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس لفظ کا صرف ایک ہی معنی ہے اور اس لفظ کے دوسرے معانی لینے کے احتمالات ختم ہوچکے ہیں۔جیسا کہ ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ فقہائے اہل سنت کے نزدیک قرآن کا بعض حصہ قطعی الدلالۃ ہے اور بعض ظنی الدلالۃ ہے اور قرآن کے بعض الفاظ کو قطعی الدلالۃ کہنے سے ان کی مرادیہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسی دلیل نہیں کہ جو ان الفاظ کے اپنے وضعی معنی پر دلالت میں مانع ہو۔اگر قرینہ صارفہ یا دلیل ہو تو سب علمائے اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن کے الفاظ قطعی الدلالۃ ہوں یا ظنی الدلالۃ‘ ان کو ان کے لغوی و وضعی معنی و مفہوم سے پھیرا جا سکتا ہے ‘ اور ان کے نزدیک وہ دلیل جو کہ قرآن کو اس کے قطعی الدلالۃمفہوم سے پھیر دے ‘عقل بھی ہوسکتی ہے اورحس و مشاہدہ بھی ‘عرف و عادت *بھی ہو سکتی ہے اوراجماع امت بھی ‘ حدیث نبوی بھی ہو سکتی ہے اور قول صحابی* بھی ‘اور خود نص قرآنی بھی ہو سکتی ہے ۔مثلا قرآن میں ملکہ سبا کے بارے میں ہے: ’وأوتیت من کل شیء‘ یعنی ملکہ سبا کو ہر چیز دی گئی تھی ‘اس آیت کا یہ مفہوم مشاہدے اور حس کے خلاف ہے لہذا اس آیت میں ’من کل شیء‘ سے مراد ہر چیز نہیں بلکہ وہ چیزیں مراد ہوں گی جو کہ عام طور پر بادشاہوں کے پاس ہوتی ہیں‘لہذا س آیت کی تخصیص بھی ہوگئی کیونکہ یہ اپنے عموم پر باقی نہ رہی اور اس کے مفہوم میں تبدیلی بھی ہو گئی کیونکہ ’من کل شیء‘ اپنے لغوی معنی پر برقرار نہ رہا‘اس طرح کی قرآن میں بیسیوں مثالیں ہیں جن کو طوالت کے خوف سے ہم بیان نہیں کر رہے۔ اہل سنت کا موقف بیان کرنے کے بعد اب ہم غامدی صاحب کا اس مسئلے میں نقطہ نظر بیان کر رہے ہیں۔

* قول صحابیؓ اور عادت سے قرآن کے عام کی تخصیص کے بارے میں اختلاف ہے‘احناف اور حنابلہ کے نزدیک قول صحابیؓ جبکہ احناف اور جمہورمالکیہ کے ہاں عادت سے قرآن کے عام کی تخصیص ہو سکتی ہے ۔

قرآن کی قطعیت کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف

غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کا ہر ہر لفظ قطعی الدلالۃ ہے اور قرآن کو اس کے قطعی مفہوم سے پھیرنے کے لیے صرف خود قرآن ہی دلیل بن سکتا ہے ۔جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یاجلی‘یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے ‘اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا۔دین میں ہر چیز کے ردو قبول کا فیصلہ اس کی آیاتِ بینات ہی کی روشنی میں ہو گا ۔ایمان وعقیدہ کی ہر بحث اس سے شروع ہو گی اور اسی پر ختم کر دی جائے گی۔ہر وحی ‘ہر الہام‘ہر القاء‘ہر تحقیق اور ہر رائے کو اس کے تابع قرار دیا جائے گااور اس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بوحنیفہ و شافعی ‘بخاری و مسلم‘أشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی ‘سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی بھی چیز قبول نہیں کی جاسکتی۔دوسری یہ کہ اس کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے ۔یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے‘پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے ہر گز قاصر نہیں رہتا ۔اس کا مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ قبول کرتے ہیں‘وہ نہ اس سے مختلف ہے نہ متبائن۔اس کے شہرستانِ معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں۔وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔اس میں کسی ریب و گمان کے لیے ہر گز کوئی گنجائش نہیں ہوتی‘‘۔ (میزان:ص۲۳‘۲۴)

ایک اور جگہ جناب غامدی لکھتے ہیں :

’’حدیث سے قرآن کے نسخ اور اس کی تحدید و تخصیص کا یہ مسئلہ محض سوئے فہم اور قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے۔اس طرح کا کوئی نسخ یا تحدیدو تخصیص سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی کہ اس سے قرآن کی یہ حیثیت کہ وہ میزان وفرقان ہے ‘کسی لحاظ سے مشتبہ قرار پائے۔قرآن کے بعض اسالیب اور بعض آیات کا موقع و محل جب لوگ نہیں سمجھ پائے تو ان سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی صحیح نوعیت بھی ان پر واضح نہیں ہو سکی‘‘۔(میزان:ص۳۶)

غامدی صاحب کے نزدیک قرآنی الفاظ کے علاوہ اس کا عرف اور اس کا سیاق و سباق بھی اس کے کسی عام کی تخصیص یا تحدید کر سکتا ہے ۔غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’سوم یہ کہ اس کے عام و خاص میں امتیاز کیا جائے۔قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہرا لفاظ عام ہیں‘لیکن سیاق سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ ان سے مرادعام نہیں ہے۔ قرآن ’الناس‘ کہتا ہے لیکن ساری دنیا کا تو کیا ذکر ‘بارہا اس سے عرب کے سب لوگ بھی اس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔و ہ ’علی الدین کلہ‘ کی تعبیر اختیار کرتا ہے ‘لیکن اس سے دنیا کے سب ادیان مراد نہیں لیتا۔ وہ ’المشرکون‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے ‘لیکن انھیں سب شرک کرنے والوں کے معنی میں استعمال نہیں کرتا۔ وہ ’و ان من أھل الکتاب‘ کے الفاظ لاتا ہے ‘لیکن اس سے پورے عالم کے اہل کتاب مراد نہیں ہوتے۔ وہ ’الانسان‘ کے لفظ سے اپنا مدعا بیان کرتا ہے ‘لیکن اس سے ساری اولاد آدم کا ذکر مقصود نہیں پوتا ۔یہ قرآن کا عام اسلوب ہے جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح و وضاحت میں متکلم کامنشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے ‘لہذ اناگزیر ہے کہ اس معاملے میں قرآن کے عرف اور اس کے سیاق و سباق کی حکومت اس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے‘‘۔(میزان:ص۲۱‘۲۲)

جاوید احمد غامدی صاحب اس بات کو مانتے ہیں کہ سنت ان احکامات میں ایک مستقل مأخذ کی حیثیت رکھتی ہے جو کہ قرآن میں بیان نہیں ہوئے اور قرآن ان کے بارے میں خاموش ہے لیکن جو احکامات قرآن میں بیان ہو گئے ہیں ان کے بارے میں غامدی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سنت ‘قرآن میں بیان شدہ احکامات کی صرف تبیین کر سکتی ہے نہ تو ان کی تخصیص کر سکتی ہے نہ ان پر اضافہ کر سکتی ہے اور نہ ان میں سے کسی حکم کو منسوخ یا تبدیل کر سکتی ہے۔ جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں :

’’سنت قرآن مجید کے بعد دین کا دوسرا قطعی مأخذ ہے ۔ہمارے نزدیک یہ اصول ایک ناقابل انکار علمی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے ۔قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات و ہدایات قیامت تک کے لیے اسی طرح واجب الاطاعت ہیں ‘جس طرح خود قرآن واجب الاطاعت ہے۔آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے بعد آپ ؐ کا کام ختم ہو گیا ۔رسول کی حیثیت سے آپؐ کا ہر قول و فعل بجائے خود قانونی سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے ۔آپؐ کو یہ مرتبہ کسی ا مام و فقیہ نے نہیں دیا ہے ‘خود قرآن نے آپؐ کایہی مقام بیان کیا ہے ۔کوئی شخص جب تک صاف صاف قرآن کا انکار نہ کر دے ‘اس کے لیے سنت کی اس قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا ممکن نہیں ہے ۔قرآن نے غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں رسول کے ہر امر و نہی کی بہر حال بے چون و چرا تعمیل کی جانی چاہیے:
و ما ارسلنا من رسول الالیطاع باذن اللہ (النساء:۶۴)
’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘

سنت کے یہ اوامر و نواہی دو قسم کے معاملات سے متعلق ہو سکتے ہیں ۔ایک وہ جن میں قرآن مجید بالکل خاموش ہے اور اس نے صراحۃً یا کنایۃً کوئی بات نہیں فرمائی ہے ‘اور دوسرے وہ جن میں قرآن مجید نے نفیاً یا اثبا تاًکوئی حکم دیا ہویا کوئی اصول بیان فرما دیا ہے ۔پہلی قسم کے معاملات میں اگر سنت کے ذریعے کوئی حکم یا قاعدہ ہمیں پہنچے تو اس کے بارے میں کسی بحث و نزاع کا کوئی سوال نہیں ہے ۔اس طرح کے معاملات میں سنت بجائے خود مرجع و مأخذ کی حیثیت رکھتی ہے ‘ان معاملات میں ہمارا دائرہ عمل بس یہ ہے کہ ہم ان ذرائع کی تحقیق کریں ‘جن سے یہ احکام و قواعد ہمیں پہنچے ہیں ‘پھر ان کا مفہوم و منشا متعین کریں اور اس کے بعد بغیر کسی تردد کے ان پر عمل پیرا ہوں ۔رہے دوسری قسم کے معاملات ‘یعنی وہ جن میں قرآن مجید نے کوئی حکم یا قاعدہ بیان فرمایا ہے ‘تو ان کے بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ سنت نہ قرآن مجید کے کسی حکم اور قاعدے کو منسوخ کر سکتی ہے ‘اور نہ اس میں کسی نوعیت کا تغیر و تبدل کر سکتی ہے۔سنت کو یہا ختیار قرآن مجیدنے نہیں دیا ہے اب کسی امام و فقیہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بطور خودسنت کے لیے یہ اختیار ثابت کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ (برہان:ص ۳۶‘ ۳۷)

غامدی صاحب کے نقطہ نظر کی غلطی

ہمارے نزدیک غامدی صاحب کا یہ موقف عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں غلط ہے اور اس کے غلط ہونے کی درج ذیل وجوہات ہیں:

۱) غامدی صاحب کا یہ موقف اجماع امت کے خلاف ہے‘ فقہائے محدثین‘ مالکیہ‘ حنابلہ‘ شافعیہ‘ا حناف‘ ظاہریہ اور اہل الحدیث کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سنت‘ قرآن کے کسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیرکر سکتی ہے ۔ علامہ آمدی ؒ لکھتے ہیں:

یجوز تخصیص عموم القرآن بالسنۃ أما اذا کانت السنۃ متواترۃ‘ فلم أعرف فیہ خلافا...و أما اذا کانت السنۃ من أخبار الآحاد ‘ فمذھب الأئمۃ الأربعۃ جوازہ۔ (الاحکام فی أصول الأحکام‘ جلد۲‘ ص۴۷۲)
’’قرآن کے عموم کی سنت سے تخصیص جائز ہے ‘جہاں تک سنت متواترہ کا معاملہ ہے تو میرے علم کی حد تک اس بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے...جہاں تک اخبار آحاد کا معاملہ ہے تو أئمہ أربعہ کا موقف ہے کہ ان سے قرآن کی تخصیص جائز ہے ۔‘‘

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ احناف ‘خبر واحد سے قرآن کی تخصیص کے قائل نہیں ہیں‘یہ بات صحیح نہیں ہے ۔ہم یہ بات پہلے بیان کر چکے ہیں کہ قرآن کا ایسا عام کہ جس کی تخصیص ہو چکی ہو وہ احناف کے نزدیک ظنی الدلالۃ ہوتاہے اور اس کی تخصیص ان کے ہاں خبر واحد سے جائز ہے۔اسی طرح ایسا عام کہ جس کی ابھی تک تخصیص نہ ہوئی ہو اس کی تخصیص بھی احناف کے ہاں خبر متواتر اور خبر مشہور سے جائز ہے او راحناف کی خبر مشہورجملہ أئمہ محدثین کے نزدیک خبر واحد ہی کی ایک قسم ہے لہذا علامہ آمدی ؒ کا یہ قول درست ہوا کہ أئمہ أربعہ‘اخبار آحاد سے قرآن کی تخصیص کے قائل ہیں۔علاوہ ازیں احناف جس خبر مشہور سے قرآن کی تخصیص کے قائل ہیں اس کی تعریف وہ یہ کرتے ہیں کہ وہ خیر القرون میں مشہور ہو۔امام ابن قیم ؒ نے ’اعلام الموقعین‘ میں ایسی بہت سی مثالیں جمع کر دی ہیں جو کہ احناف کی خبر مشہور کی تعریف پر پوری نہیں اترتی لیکن احناف پھر بھی ان کے ذریعے قرآن کے عام کی تخصیص کرتے ہیں۔لہذا عملاًیہی ہوا ہے کہ احناف نے اخبار آحاد سے قرآن کے عام کی تخصیص کی ہے لیکن انہوں نے اس کو خبر مشہور کا نام دے دیا‘حالانکہ جن اخبار آحاد سے وہ قرآن کے عام کی تخصیص کر رہے ہوتے ہیں وہ خیر القرون میں مشہور تو کیا‘بعض اوقات ضعیف اور موضوع درجے کی ہوتی ہیں۔اس لیے بات وہی صحیح ہے جو کہ علامہ آمدی ؒ نے کہی ہے کہ اخبار آحاد سے أئمہ اربعہ کے نزدیک قرآن کے عمومات کی تخصیص جائز ہے۔جبکہ اس کے برعکس غامدی صاحب‘خبر متواتر ہو یا احناف کی خبر مشہور‘خبر واحد ہو یا اجماع أمت ‘کسی سے بھی قرآن کے کسی حکم کی تخصیص کے قائل نہیں ہیں۔غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یاجلی‘یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے ‘اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا۔دین میں ہر چیز کے ردو قبول کا فیصلہ اس کی آیاتِ بینات ہی کی روشنی میں ہو گا‘‘۔(میزان:ص۲۳)

۲) غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کے عام کی تخصیص اس کے سیاق و سباق سے جائز ہے۔ لکھتے ہیں:

’’سوم یہ کہ اس کے عام و خاص میں امتیاز کیا جائے۔قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہرا لفاظ عام ہیں‘لیکن سیاق سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ ان سے مرادعام نہیں ہے۔قرآن ’الناس‘ کہتا ہے لیکن ساری دنیا کا تو کیا ذکر ‘بارہا اس سے عرب کے سب لوگ بھی اس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔و ہ ’علی الدین کلہ‘ کی تعبیر اختیار کرتا ہے ‘لیکن اس سے دنیا کے سب ادیان مراد نہیں لیتا ۔وہ’المشرکون‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے ‘لیکن انھیں سب شرک کرنے والوں کے معنی میں استعمال نہیں کرتا ‘... لہذاناگزیر ہے کہ اس معاملے میں قرآن کے عرف اور اس کے سیاق و سباق کی حکومت اس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے‘‘۔(میزان:ص۲۱‘۲۲)

غامدی صاحب جس کو قرآن کا عرف اور اس کا سیاق و سباق کہہ رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس کی حیثیت ان کے ذاتی فہم سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔جناب غامدی صاحب سورۃ احزاب کی آیت ’یأیھا النبی قل لأزواجک وبناتک و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن‘کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس آیت کا سیاق و سباق اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت میں چہرے کے پردے کاحکم ایک عارضی حکم تھا جو کہ صرف آپؐ کے زمانے کی عورتوں کے لیے تھا۔جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’ان آیتوں میں ’أن یعرفن فلا یؤذین‘کے الفاظ اور ان کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کوئی مستقل حکم نہ تھا‘بلکہ ایک وقتی تدبیر تھی جو أوباشوں کے شر سے مسلمان عورتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی‘‘۔(قانون معاشرت )

جبکہ غامدی صاحب کے استاذ امام ‘امین احسن اصلاحی ؒ صاحب اسی آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’(ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ ط)اس ٹکڑے سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ایک وقتی تدبیر تھی جو اشرار کے شر سے مسلمان خواتین کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی اور اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔اوّل تو احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں سب محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں‘ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہو جائیں۔‘‘ (تدبر قرآن‘ امین احسن اصلاحی‘ جلد۶‘ ص ۲۷۰‘ فاران فاؤنڈیشن‘ لاہور)

مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کہ جنہوں نے ‘بقول غامدی صاحب‘ اُن کو قرآن کے سیاق و سباق اور نظمِ قرآن کی تعلیم دی ‘وہ ’ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ‘ یعنی قرآن کے سیاق و سباق کو بنیاد بنا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کو عارضی اور تدبیری حکم سمجھنا غلط ہے۔اور اس کے لیے دلیل کے طور پر انہوں نے ایک اصول بیان کیا جس اصول کو نہ سمجھنے کی وجہ سے غامدی صاحب نے اپنے ایک درس کے دوران استاد امام کی شان میںیہ کلمات ارشاد فرمائے کہ ان سے بھی اس مسئلے میں غلطی ہوئی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ نے یہ اُصول بیان کیا کہ ’’احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں وہ محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں ‘لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہو جائیں گے‘‘۔ یہاں استاذ امام اپنے تلمیذ رشید جاوید احمد غامدی صاحب کو جو اصول سمجھانا چاہتے ہیں اسے اصولیّین ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ’العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص السبب‘  کہ قرآن و سنت کی تشریح و تفسیر کرتے وقت اصل اعتبار الفاظ کے عموم کا ہو گا نہ کہ سببِ نزول کا۔

اسی طرح غامدی صاحب کے امام کے امام ‘مولاناحمید الدین فراہیؒ صاحب نے بھی یہ لکھا ہے کہ قرآن کے سیاق و سباق اور نظم سے چہرے کا پردہ ثابت ہوتا ہے۔جناب فراہیؒ صاحب لکھتے ہیں:

’’حجاب کے مسئلہ میں تفاسیر اور فقہ میں پوری توضیح موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔ میری رائے میں نظمِ قرآن پر توجہ نہ کرنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے ۔ایسی قدیم غلطیوں کا کیا علاج کیا جائے۔ کون سنتا ہے کہانی میری‘ اور پھر وہ بھی زبانی میری۔ فقہاء اور مفسرین کا گروہ ہم زبان ہے مگر صحابہؓ اور تابعین زیادہ واقف تھے۔ انہوں نے ٹھیک سمجھا ہے مگر متأخرین حضرات نے ان کا کلام بھی نہیں سمجھا۔ بہرحال الحق أحق اَنْ یُتَّبع ۔ میں اس مسئلے پر مطمئن ہوں اور میرے نزدیک اجنبی سے پورا پردہ کرنا واجب ہے اور قرآن نے یہی حجاب واجب کیا ہے جو شرفاء میں مروّج ہے ‘بلکہ اس سے قدرے زائد۔ ذرا مجھے طاقت آئے تو مفصل مضمون آپ کی خدمت میں بھیجوں‘‘۔ (اشراق ‘ مئی ۱۹۹۲ء‘ ص ۶۰)

غامدی صاحب کے ہر دو استاذ امام صاحبان کے بقول عصر حاضر کی خواتین کے لیے بھی چہرے کا پردہ نص قرآنی اور نظم قرآنی سے ثابت ہے اور یہ کوئی عارضی یا تدبیری حکم نہ تھا جبکہ غامدی صاحب کے بقول قرآن کے سیاق و سباق کے مطابق چہرے کا پردے ایک عارضی و تدبیری حکم تھا۔اب یہ دو متضاد بیانات ہیں۔اگر قرآن و اقعی قطعی الدلالۃ ہے یا قرآن کا سیاق و سباق اس کے قطعی مفہوم کو متعین کرتا ہے تو ایک ہی جیسے اصول تفسیر کو ایک ہی نص پر منطبق کرنے کے نتیجے میں دو متضاد آراء کیسے حاصل ہو گئیں؟اگر تو غامدی صاحب کہیں کہ دونوں استاذ امام غلطی پر ہیں تو پھر قرآن قطعی تو ہوگا لیکن صرف غامدی صاحب کے لیے ‘نہ کہ اپنے جمیع مخاطبین کے لیے‘کیونکہ جو قرآن عصر حاضر کے دو اماموں کے لیے قطعی الدلالۃ نہ ہو سکا وہ عامۃ الناس کے لیے کیسے قطعی ہو سکتا ہے؟واقعہ یہ ہے کہ نظم قرآنی ہو یا قرآن کاسیاق و سباق ‘عرف قرآنی ہو یا عربی معلی‘یہ سب قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر کے اصول نہیں ہیں بلکہ یہ قرآن کی غیر قرآن کے ذریعے تفسیرکے اصول ہے۔قرآن کا سیاق وسباق ‘اس کا عرف ‘اس کا نظم اور عربی معلی‘ یہ سب غیر قرآن ہیں اور ان میں سے پہلے تین تو مفسر کا ذاتی فہم ہوتے ہیں۔قرآن کے کتنے ہی مقامات ایسے ہیں کہ جن کی تفسیر میں غامدی صاحب نے اپنے استاذ امام سے اختلاف کیا تو اس اختلاف کے باوجود قرآن قطعی الدلالۃ کیسے ہو گیا؟ مثال کے طور پر میں غامدی صاحب کو کہتا ہوں کہ سورۃ نور کی آیت کا سیاق و سباق اور نظم اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آیت گھر کے پردے کے پارے میں ہے جیسا کہ استاذ امام کی بھی یہی رائے ہے تو کیا غامدی صاحب میری اس رائے کو مان لیں گے ؟۔ہر گز نہیں‘تو کیا اس پر مجھے یہ کہنا چاہیے کہ غامدی صاحب نے قرآن کا انکار کر دیا ‘ہر گز نہیں ‘میں نے قرآن کے عرف یا اس کے سیاق و سباق یا نظم سے جو کچھ سمجھا ہے وہ صرف میری ایک رائے ہے وہ قرآن نہیں ہے ‘اس لیے مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اپنی رائے کو قرآن کا نام دے کر اس کو دوسروں پر مسلط کروں۔لہذاغامدی صاحب قرآن کے سیاق و سباق اور عرف کا نام لے کر اپنے ذاتی فہم سے قرآن کے عام کی تخصیص کر رہے ہوتے ہیں۔جب غامدی صاحب کے فہم سے قرآن کے کسی حکم کی تخصیص و تحدید جائز ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم سے کیوں نہیں ہو سکتی؟ ’ما لکم کیف تحکمون؟' 

۳) غامدی صاحب کے موقف’قرآن قطعی الدلالۃ ہے‘ کا بدیہی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کی تفسیر میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے ۔جب قرآن قطعی الدلالۃ ہے تو اس کی تفسیر میں اختلاف کیوں؟ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ ہو ں یا تابعین عظامؒ ‘جلیل القدر مفسرین ہوں یا أئمہ مجتہدین ‘یہ سب حضرات قرآن کی تفسیر میں اختلاف کرتے ہیں ‘اگرچہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ متأخرین کی نسبت متقدمین میں تفسیر کا یہ اختلاف بہت کم ہوا ہے اور جو کچھ ہوا بھی ہے اس میں اکثر و بیشتر اختلاف تنوع کاہے ‘لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ متقدمین اور سلف صالحین میں بھی قرآن کی تفسیر میں اختلاف تضاد بھی واقع ہوا ہے اس کی سادہ سی مثال قرآن کی آیت ’و المطلقت یتربصن بأنفسھن ثلثۃ قروء‘ ہے۔امام شافعیؒ کے نزدیک اس آیت میں ’قروء‘ سے مراد ’طھر‘ ہے جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس آیت میں ’قروء‘ سے مراد ’حیض‘ ہے ۔اور ہر دوفقہ کے حاملین کی طرف سے فقہ و اصول فقہ کی کتب اپنے موقف کے اثبات کے لیے دلائل کے انبار سے بھری پڑی ہیں۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہر بعد میں آنے والا مفسر اپنے پہلے مفسر سے اختلاف کرتا ہے‘اگر قرآن قطعی الدلالۃ ہے تو صحابہؓ و تابعینؒ ‘امام ابو حنیفہؒ وامام شافعیؒ ‘ امام رازی ؒ و علامہ زمخشریؒ ‘امام طبری ؒ و امام قرطبیؒ ‘مولاناامین احسن اصلاحی ؒ اور جاوید احمد غامدی کاقرآن کی تفسیر میںآپس میں اختلاف کیوں ہوا ؟ صحابہ کرا مؓ ‘تابعین عظامؒ ‘أئمہ أربعہ ؒ ‘طبری ؒ و زمخشریؒ ‘قرطبیؒ و رازیؒ وغیرہ کے بارے میں شاید غامدی صاحب یہ کہیں کہ وہ عربی معلی سے واقف نہیں تھے یا ان پر نظم قرآنی کے ذریعے تفسیر کے وہ نادر اصول ابھی تک منکشف نہیں ہوئے تھے کہ جن کی دریافت پرغامدی صاحب نے نولانافراہی ؒ و اصلاحیؒ کو امام کے لقب سے نواز الیکن خود مولانا فراہیؒ اور مولانا اصلاحی ؒ کے ساتھ غامدی صاحب کے تفسیر کے جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں وہ کیا کہیں گے؟

قرآن قطعی الدلالۃ کا اگر یہ مفہوم لیا جائے کہ قرآن اللہ کے نزدیک قطعی الدلالۃ ہے تو ہمیں اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ ہر کلام اپنے متکلم کے نزدیک قطعی الدلالۃ ہوتا ہے لیکن مسئلہ تو جمیع مخاطبین کا ہے ‘اپنے جمیع مخاطبین کے اعتبار سے قرآن کے بعض مقامات قطعی الدلالۃ ہیں اور بعض مقامات ظنی الدلالۃ ہیں۔ہم یہ بات پہلے کر چکے ہیں کہ قرآن میں لفظِ خاص قطعی الدلالۃ ہے اسی طرح قرآن کے وہ مقامات بھی قطعی الدلالۃ ہیں کہ جن کی تفسیر پر علماء کا اتفاق ہوسوائے اس شخص کے اختلاف کے کہ جس کا اختلاف معتبر نہ ہو۔اس حد تک تو کہا جا سکتا ہے کہ ایک ‘دو ‘تین یا چار مفسرین کو غلطی لگی ہے اور قرآن قطعی الدلالۃ ہے لیکن یہ کہنا کہ چودہ صدیوں میں کسی صحابیؓ‘تابعیؒ ‘ امام‘ مجتہد‘ فقیہ ‘ مفسر ‘محدث‘ یاعالم کو قرآن سمجھ ہی نہیں آیا اور پہلی دفعہ غامدی صاحب کو سمجھ میں آیا ہے کہ ’کلالۃ‘ کا معنی کیا ہے؟اگر قرآن قطعی الدلالۃ ہے تو اس کو سمجھنے میں ایک فرد تو غلطی کر سکتا ہے لیکن ہزاروں صحابہؓ‘تابعینؒ ‘علمااورفقہا غلطی نہیں کر سکتے۔ یا تو غامدی صاحب قرآن کو قطعی الدلالۃ نہ کہیںیا پھر فرد واحد(یعنی اپنی) کی غلطی مانیں اور علما و فقہا کے موقف کی تائید کریں۔ غامدی صاحب قانون وراثت بیان کرتے ہوئے ’کلالۃ‘ کے بارے میں عربی زبان و اسلوب کے مطابق تین مفاہیم بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’جہاں تک پہلے معنی کا تعلق ہے ‘فقہا نے اگرچہ یہاں بالاتفاق وہی مراد لیے ہیں ‘لیکن آیت ہی میں دلیل موجود ہے کہ یہ معنی یہاں مراد لینا کسی طرح ممکن نہیں ہے‘‘(میزان:ص۱۷۶)

غامدی صاحب کے بقول ایک فقہا نے بالاتفاق قرآن کے لفظ ’کلالۃ‘ کا جو معنی سمجھا ہے وہ غلط ہے اور جو غامدی صاحب کو سمجھ آیا ہے وہ درست ہے۔ سوال پھر وہی ہے کہ کیا صحابہؓ ‘ تابعین ؒ اور فقہا قرآن کی تفسیر کرتے وقت آنکھیں بند کرلیتے تھے کہ وہ کسی آیت کی ایسی تفسیر‘ جو کہ قرآن کی اسی آیت ہی کے خلاف ہو نہ صرف بیان کر دیتے تھے بلکہ اس پر سب اتفاق بھی کر لیتے تھے۔اگر سب کو غلط سمجھ آیاتو قرآن کے قطعی الدلالۃہونے کا کیا معنی ہے؟کیا صرف غامدی صاحب کے لیے قرآن قطعی ہے؟

(جاری)

قرآن / علوم قرآن

Flag Counter