شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز صفدر کی علمی و تحقیقی تصانیف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(محمد عمار خان ناصر کے مرتب کردہ مجموعہ ’’فن حدیث کے اصول ومبادی‘‘ کے دیباچہ کے طور پر لکھا گیا۔)


نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔

والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کو اللہ تعالیٰ نے مطالعہ، تحقیق اور احقاق حق کا جو خصوصی ذوق عطا فرمایا ہے، ان کی تین درجن سے زائد علمی اور تحقیقی کتابیں اس کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ برصغیر کے معروضی حالات میں مختلف مسائل کے حوالے سے اہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی مسلک کی وضاحت اور اثبات ان کی تدریسی، تحقیقی اور تصنیفی سرگرمیوں کی جولان گاہ رہا ہے اور اس میدان میں ان کی مسلسل محنت اور خدمات کی وجہ سے بحمد اللہ تعالیٰ انھیں دیوبندی مسلک کا علمی ترجمان سمجھا جاتا ہے۔

دور طالب علمی میں میرا لکھنے پڑھنے کا ذوق دیکھ کر حضرت والد محترم مدظلہ کی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ میں اس محاذ پر ان کا معاون بنوں، چنانچہ فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ پر ان کی ضخیم تصنیف ’’احسن الکلام‘‘ کی ’’اطیب الکلام‘‘ کے نام سے تلخیص اسی کوشش کا ثمرہ تھا اور اس موقع پر میرے لیے خوشی کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس کتابچہ پر جو پیش لفظ اس وقت میں نے تحریر کیا تھا، اس میں والد محترم مدظلہ نے ایک جملہ کی تبدیلی کے علاوہ اور کسی تصحیح کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ میں نے اس میں ’’بیک بندش چشم‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی جسے انھوں نے ’’چشم زدن‘‘ کے محاورہ سے تبدیل کر دیا اور اس کے علاوہ میرے لکھے ہوئے ’’پیش لفظ‘‘ کو من وعن کتابچہ میں شامل کر لیا۔ 

اس پر مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اس واقعہ کو چار عشروں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کا نشاط ابھی تک ذہن میں موجود ہے، مگر میں اس راہ پر نہ چل سکا، اس لیے کہ جمعیۃ طلباے اسلام اور جمعیۃ علماے اسلام کے پلیٹ فارم پر سیاسی سرگرمیوں میں متحرک ہو جانے کے بعد میرے فکر ونظر کا زاویہ قدرے مختلف ہو چکا تھا اور میرے لکھنے پڑھنے کے موضوعات میں اسلامی نظام کی اہمیت وضرورت، مغربی فلسفہ وثقافت کی یلغار، اسلام پر مغرب کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات وشبہات، آج کے عالمی تناظر میں اسلامی احکام وقوانین کی تشریح، اسلامائزیشن کے علمی وفکری تقاضے، نفاذ اسلام کے حوالے سے دینی حلقوں کی ضروریات اور ذمہ داریاں، اسلام دشمن لابیوں کی نشان دہی اور تعاقب اور ان حوالوں سے طلبہ، دینی کارکنوں اور باشعور نوجوانوں کی راہ نمائی اور تیاری کو اولین ترجیح کا درجہ حاصل ہو گیا تھا، چنانچہ گزشتہ پینتالیس برس سے انھی موضوعات پر مسلسل لکھتا چلا آ رہا ہوں۔

میں بحمد اللہ تعالیٰ راسخ العقیدہ سنی، شعوری حنفی اور متصلب دیوبندی ہوں اور اپنے دائرۂ کار کو کراس کیے بغیر ان مسائل پر سنجیدہ کام کرنے والوں سے حتی الوسع تعاون اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا رہتا ہوں، مگر میرا اپنا دائرۂ کار وہی ہے جن کا اوپر ذکر کر چکا ہوں اور اسی دائرے میں آخر وقت تک محنت کرتے رہنے کو اپنے لیے باعث سعادت ونجات سمجھتا ہوں۔ میرے لیے یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ میرے چھوٹے بھائی اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث مولانا عبد القدوس قارن سلمہ نے حضرت والد محترم کی معاونت کا میدان سنبھال رکھا ہے اور وہ مسلسل اس خدمت کی پوری محنت او رذوق کے ساتھ سرانجام دیتے آ رہے ہیں مگر ا س کے باوجود اس بات کی خود مجھے شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ حضرت والد محترم دامت برکاتہم کی تحقیقات وتصنیفات میں مختلف حوالوں سے علمی ابحاث اور معلومات کا جو ذخیرہ بکھرا ہوا ہے، اسے اختلافی مسائل کے تناظر سے ہٹ کر مثبت انداز میں بھی سامنے لایا جائے تاکہ وہ لوگ جو کسی بھی وجہ سے اختلافی مسائل کے حوالے سے مطالعہ کا ذوق نہیں رکھتے، وہ بھی اس سے استفادہ کر سکیں، بلکہ میرے سامنے اس کی افادیت کا ایک اور پہلو بھی ہے جو اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ وہ یہ کہ یہ مباحث اگر مثبت انداز میں ازسرنو مرتب ہو جائیں تو نہ صرف دینی مدارس کے مدرسین بلکہ کالجوں میں اسلامیات کے اساتذہ کے لیے بھی بہت مفید ہوں گے بلکہ آج کے عمومی حالات کے تناظر میں دینی مدارس اور عصری کالجوں کے دینیات کے نصاب میں تبدیلی، اصلاح اور ترمیم واضافہ کے لیے جو آواز اٹھائی جا رہی ہے اور اس پر کسی درجے میں کام بھی ہو رہا ہے، اس میں یہ علمی ذخیرہ نئی نصاب سازی کے لیے ایک بہتر بنیاد بن سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں جب میرے بڑے بیٹے حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ وایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی) نے بتایا کہ وہ اپنے دادا محترم مدظلہ کی تصنیفات پر اس حوالے سے کام کر رہا ہے اور اس نے اس سلسلے میں چند مجموعے مرتب بھی کر لیے ہیں تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، چنانچہ ’’علم حدیث کے اصول ومبادی‘‘ کے عنوان پر ان مباحث کا مسودہ میں خود لے کر حضرت والد محترم مدظلہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے دعا کی درخواست کی تو انھوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور اس کام کی تکمیل اور کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ بعد میں عزیزم عمار خان سلمہ بھی ان کی خدمت میں اس کی باقاعدہ اجازت کی درخواست کے لیے حاضر ہوا تو انھوں نے اجازت کے ساتھ دعاؤں سے نوازا۔

میرے دل میں ایک کسک شروع سے رہی ہے کہ میں اپنی علمی وفکری تگ وتاز کا میدان مختلف ہو جانے کے باعث حضرت والد محترم مدظلہ کا ان کی جدوجہد کے میدان میں معاون نہیں بن سکا۔ اس کسک کے ایک پہلو کی کسی حد تک تسکین برادرم مولانا عبد القدوس قارن سلمہ، عزیز م مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی سلمہ، برادرم مولانا عبد الحق خان بشیر سلمہ اور برادرم مولانا قاری حماد الزہراوی سلمہ کی مسلکی سرگرمیاں دیکھ کر ہوتی رہتی ہے، جبکہ دوسرے پہلو کی تسکین کا سامان عزیزم عمار خان سلمہ نے فراہم کر دیا ہے اور میں پورے اطمینان اور خوشی کے ساتھ دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے نظر بد سے محفوظ رکھیں، اس کار خیر کی جلد از جلد تکمیل کی توفیق دیں اور اپنی صلاحیتوں کو دین حق کی خدمت کے لیے صرف کرتے رہنے کے مواقع، توفیق، اسباب اور پھر قبولیت ورضا سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

(ابو عمار زاہد الراشدی)


استاذ گرامی وجد مکرم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی زندگی دینی علوم کی تعلیم وتدریس اور قرآن، حدیث، فقہ اور تاریخ وسیرت کے ذخائر کے مطالعہ سے عبارت رہی ہے اور ان کی وسعت مطالعہ، دینی علوم کے دقائق اور اکابر اہل علم کی آرا واقوال پر ان کی گہری نظر کا اعتراف ہر اس شخص کو کرنا پڑتا ہے جسے مختلف اور متنوع موضوعات پر ان کی تصانیف دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ 

استاذ گرامی کی تحقیق وتصنیف کا موضوع زیادہ تر وہ مسائل ومباحث رہے ہیں جو اہل سنت اور اہل بدعت کے مابین اور اسی طرح احناف اور اہل حدیث وغیرہ کے مابین متنازع فیہ امور کہلاتے ہیں، تاہم اپنے ذوق اور مزاج کے لحاظ سے چونکہ وہ دینی علوم کے ایک پختہ کار ناقد اور محقق ہیں، اس لیے اس طرح کے موضوعات پر گفتگو کے دوران میں بھی انھوں نے سنجیدہ اور ٹھوس علمی بحث کا طریقہ اختیار کیا ہے اور زیر بحث نکتے سے متعلق مختلف اصولی وعلمی بحثوں کی وضاحت کے علاوہ، جن کا دائرہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، کلام اور دیگر علوم تک پھیلا ہوا ہے، انھوں نے اس بات کا بطور خاص اہتمام کیا ہے کہ متعلقہ موضوع پر سند سمجھے جانے والے ائمہ اور محققین کی زیادہ سے زیادہ آرا اور عبارات کو بھی باحوالہ جمع کر دیا جائے۔ اس طرح ان کی تصانیف اپنے علمی مواد اور افادیت کے اعتبار سے محض بعض فروعی مسائل کی وضاحت تک محدود نہیں رہیں بلکہ دینی علوم کے متنوع اصولی اور مستقل افادیت رکھنے والے مباحث کا بھی ایک گراں قدر ذخیرہ بن گئی ہیں۔

مجھے استاذ گرامی کی ان تصانیف کی طرف مراجعت کا موقع وقتاً فوقتاً ملتا رہتا ہے اور ہر موقع پر مجھے اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی تصانیف میں جگہ جگہ تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام کے جن مختلف اور متنوع مباحث پر اپنی محنت اور وسعت مطالعہ کا حاصل پیش کیا ہے، وہ بعض ضمنی اور فروعی مسائل کے تحت زیر بحث آنے کی وجہ سے دب گئے ہیں اور دینی علوم کے طلبہ اور اہل علم کے لیے ان سے ان کی مستقل حیثیت میں استفادہ کرنا آسان نہیں رہا۔ استاذ گرامی کی مبسوط اور مختصر تصانیف کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے اور ان میں زیر بحث آنے والے مسائل وموضوعات اور علمی نکات کا کوئی انڈیکس بھی ابھی تک میسر نہیں، چنانچہ یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں کہ کس علمی بحث سے متعلق کہاں اور کس نوعیت کی تفصیل مل سکے گی۔ 

میں اسی احساس کے تحت استاذ گرامی کی تصانیف کے مطالعہ کے دوران میں اس نوعیت کی علمی بحثوں کی ایک الگ فہرست اس ارادے سے مرتب کرتا رہا ہوں کہ اہل علم کی سہولت اور استفادہ کے لیے ان مباحث کو ترتیب دے کر مستقل مجموعوں کی صورت میں پیش کیا جائے۔ میں استاذ گرامی کا بے حد ممنون ہوں کہ جب ان کی تصانیف پر مبنی اس طرح کے مجموعوں کی ترتیب وتدوین کا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا گیا تو انھوں نے کمال شفقت ومحبت سے نہ صرف فی الفور اس کی اجازت دے دی بلکہ حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ اس ارادے میں کامیابی کے لیے دعا بھی فرمائی۔ 

بحمد اللہ تعالیٰ ’’فن حدیث کے اصول ومبادی‘‘ کے نام سے زیر نظر مجموعہ اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پرپیش کیا جا رہا ہے جبکہ اسی نہج پر اصول تفسیر، اصول فقہ، علم عقائد اور سیرت وغیرہ کے موضوعات پر مجموعوں کی ترتیب وتدوین کا کام جاری ہے۔ یہ مباحث استاذ گرامی کی جن تصانیف سے لیے گئے ہیں، ان کے حوالے درج کر دیے گئے ہیں تاکہ اصل سے مراجعت کرنا بآسانی ممکن ہو۔ عبارت میں ربط پیدا کرنے، اسے مناسب حال یا قاری کے لیے قابل فہم بنانے کی غرض سے استاذ گرامی کی اصل عبارات میں حسب موقع جزوی ترمیم، تقدیم وتاخیر اور تسہیل سے بھی کام لیا گیا ہے، جبکہ بہت سے مقامات پر عربی عبارات کے ترجمے شامل کیے گئے ہیں۔ متعدد مقامات پر زیر بحث نکتے سے متعلق بعض مفید اضافی معلومات یا مثالوں کا اضافہ کیا گیا اور انھیں ’’اضافہ از مرتب‘‘ کے الفاظ سے ممتاز کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اس مجموعے کی تیاری میں مرتب نے اپنی بساط کی حد تک جو کوشش اور کاوش صرف کی ہے، امید ہے کہ علم حدیث کے طلبہ اسے مفید پائیں گے۔

حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم گزشتہ کئی سال سے علیل اور صاحب فراش ہیں اور پیرانہ سالی کے علاوہ گوناگوں امراض وعوارض سے نبرد آزما ہیں۔ قارئین سے استدعا ہے کہ وہ ہمارے جلیل القدر استاذ حضرت مولانا عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی مغفرت ورفع درجات اور حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم کی صحت کے لیے خصوصی دعا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ درخواست کریں کہ وہ ان بزرگوں کی علمی ودینی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی برکات وفیوض کے سلسلے کو جاری رکھے، اور ان کے اہل خاندان، تلامذہ ومتوسلین اور ان کی سرپرستی میں قائم ہونے والے اداروں، بالخصوص مدرسہ نصرۃ العلوم اور الشریعہ اکادمی کو اپنے بزرگوں کی علمی، دینی اور اخلاقی روایت کے مطابق دین حق کی خدمت کے تسلسل کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

(محمد عمار خان ناصر)

تعارف و تبصرہ