الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

ادارہ

(شعبان المعظم ۱۴۲۸ھ تا رجب ۱۴۲۹ھ ۔ ستمبر ۲۰۰۷ء تا اگست ۲۰۰۸)


الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ایک علمی، فکری اور تعلیمی ادارہ ہے جو ۱۹۸۹ء سے درج ذیل مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہے:

  • امت مسلمہ کو درپیش فکری وعملی مسائل کا تجزیہ وتحقیق اور ان کے حل کے لیے درست خطوط پر رہنمائی
  • امت مسلمہ کے مختلف علمی مکاتب فکر اور نظریاتی تحریکات کے مابین مفاہمت، رواداری اور رابطہ وتعاون اور اشتراک کی فضا کا فروغ
  • مغربی فکر وتہذیب کے پیدا کردہ نظریاتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی چیلنجوں کے مضمرات کے درست ادراک اور ان کے مقابلہ کے لیے صحیح لائحہ عمل کی وضاحت
  • روایتی دینی حلقوں میں جدید فکر وفلسفہ، معاصر دنیا کے احوال ووقائع اور نشر وابلاغ کے جدید ترین ذرائع، ان کے طریق کار اور اثر ونفوذ سے آگاہی اور شعور کا فروغ

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اکادمی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ حافظ محمد عمار خان ناصر (فاضل وفاق المدارس العربیہ، ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی) ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ان کی معاونت کرتے ہیں۔ 

اکادمی کی سال رواں کی رپورٹ احباب ومعاونین کی خدمت میں پیش ہے:

اکادمی کے زیر اہتمام دینی مراکز

  • ۱۹۹۹ سے جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں ہاشمی کالونی میں ایک کنال زمین پر اکادمی کی تین منزلہ عمارت زیر تعمیر ہے جو اس وقت اکادمی کی بیشتر تعلیمی اور علمی وفکری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ 
  • کینال ویو واپڈا ٹاؤن کے عقب میں کوروٹانہ کے مقام پر کھیالی کے مخیر دوست حاجی ثناء اللہ طیب نے الشریعہ اکادمی کے لیے ایک ایکڑ (آٹھ کنال) زمین وقف کی ہے جہاں چار دیواری کی بنیادیں بھرنے کے علاوہ مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن کا ایک بلاک بھی تعمیر کیا جا چکا ہے۔ 
  • کھوکھرکی گوجرانوالہ کے مخیر بزرگ حاجی مہر عبد العزیز صاحب نے جہانگیر کالونی میں ایک کنال رقبہ پر دو منزلہ جامع مسجد ابو ذر غفاریؓ تعمیر کر کے اس کا انتظام الشریعہ اکادمی کے سپرد کر دیا ہے اور اب اس کا انتظام اکادمی چلا رہی ہے۔ مولانا مجاہد اختر (فاضل درس نظامی) کو مسجد ابوذرؓ کا خطیب اور امام مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خطابت وامامت کے ساتھ محلہ کے بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں اور علاقہ کے نوجوانوں کے لیے فہم دین کورس بھی جاری ہے۔

تعلیمی سرگرمیاں

  • مقامی بچوں اور بچیوں کے لیے نا ظرہ قرآن کریم کی کلاسیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں، جبکہ کوروٹانہ میں تعمیر کیے جانے والے مرکز میں پرائمری پاس طلبہ کے لیے حفظ قرآن کریم مع مڈل کی کلاس بھی جاری ہے۔
  • گزشتہ سال میٹرک پاس طالبات کے لیے وفاق المدارس کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق درجہ ثانویہ عامہ وثانویہ خاصہ پر مشتمل دو سالہ کورس کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کورس میں شریک طالبات کو تجوید کی ضروری تعلیم دینے کے علاوہ عربی ادب وانشا کے ساتھ مناسبت پیداکرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کلاس میں شریک چار طالبات اس سال وفاق المدارس العربیہ کے تحت ثانویہ عامہ کاسالانہ امتحان دیں گی۔ تعلیم کے فرائض اکادمی کے رفیق مولانا حافظ محمد یوسف اور ان کی اہلیہ انجام دے رہے ہیں۔ 
  • موسم گرما کی تعطیلات میں میٹرک پاس طلبہ کو درس نظامی کے درجہ اولیٰ کے مضامین پر مشتمل کورس مکمل کروایا گیا۔ اس سے قبل اس نوعیت کی پانچ کلاسز مکمل ہو چکی ہیں۔
  • اسکول وکالج کے طلبہ اور طالبات کے لیے عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن مجید کی کلاسز کا سلسلہ بحمد اللہ جاری ہے۔ اب تک طلبہ کی چار کلاسز ترجمہ قرآن مجید مکمل کر چکی ہیں اور پانچویں کلاس جاری ہے، جبکہ طالبات کی دوسری کلاس اس وقت چھبیس پاروں کا ترجمہ پڑھ چکی ہے۔
  • اپریل؍مئی ۲۰۰۸ میں اکادمی کے زیر اہتمام شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں تیس روزہ عربی لینگویج کورس کا انعقاد کیا گیا جس میں تیس کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ ان کلاسز کے لیے روزانہ نماز عصر کے بعد کا وقت مقرر کیا گیا اور اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کو انگریزی زبان اور عربی بول چال کی تعلیم دی۔ کورس میں مجموعی طور پر چالیس سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ 
  • عامۃ الناس کوامور زندگی سے متعلق دینی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے مجلس مشاورت برائے تعلیمی وتربیتی کورسز اور الشریعہ اکادمی کے تعاون سے شہر کی مختلف مساجد میں تعلیمی کلاسز کاسلسلہ جاری ہے۔ 

دعوت وابلاغ

  • علمی وفکری جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ومشکلات اور جدید علمی وفکری چیلنجز کے حوالہ سے ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔
  • ۲۰۰۲ء میں اردو زبان میں اسلامی ویب سائٹ www.alsharia.org  لانچ کی گئی ہے جس پر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے علاوہ مختلف اہم عنوانات پر منتخب مقالات ومضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
  • حالات حاضرہ کے حوالے سے اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے ہفتہ وار کالم روزنامہ اسلام کراچی میں ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے اور روزنامہ پاکستان لاہور میں ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتے ہیں۔ 

نشر واشاعت

 ۲۰۰۷  میں اکادمی کے شعبہ نشر واشاعت کے زیر اہتمام اہم علمی وفکری موضوعات پر مطبوعات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اب تک اکادمی کی طرف سے حسب ذیل کتب اور کتابچے شائع کیے جا چکے ہیں:

  • ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ 
  • از ابو عمار زاہد الراشدی/معز امجد/ ڈاکٹر فاروق خان/خورشید ندیم (صفحات ۲۰۰)
  • ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۵۲)
  • ’’عصر حاضر میں اجتہاد: چند فکری وعملی مباحث‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۳۲۴)
  • ’’مذہبی جماعتیں اور قومی سیاست‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۰۴)
  • ’’متحدہ مجلس عمل: توقعات، کارکردگی اور انجام ‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۵۲)
  • ’’دینی مدارس کا نصاب ونظام: نقد ونظر کے آئینے میں‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۴۱۶)
  • ’’دینی مدارس اور عصر حاضر‘‘ (اکادمی کے زیر اہتمام فکری وتربیتی نشستوں کی روداد) (صفحات ۲۳۴)
  • ’’جامعہ حفصہ کا سانحہ: حالات وواقعات اور دینی قیادت کا لائحہ عمل‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۲۸)
  • ’’خطبہ حجۃ الوداع: اسلامی تعلیمات کا عالمی منشور ‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۲۸)
  • ’’جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار‘‘ از ابوعمار زاہد الراشدی (صفحات ۵۹۲)
  • ’’قرارداد مقاصد کا مقدمہ‘‘ از سردار شیر عالم خان ایڈووکیٹ/چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ (صفحات ۲۰۸)
  • ’’مغرب کا فکری وتہذیبی چیلنج اور علما کی ذمہ داریاں‘‘ از ڈاکٹر محمود احمد غازی (صفحات ۳۶)
  • ’’ہمارے دینی مدارس: چند اہم سوالات کا جائزہ‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۸۸)
  • ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۲۴)
  • ’’صحیح بخاری کی ثلاثی احادیث‘‘ از وقار احمد (صفحات ۳۲)

تربیتی ورکشاپس

جون ۲۰۰۸ میں اکادمی میں ’’عامۃ الناس کی تعلیم وتربیت اور ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر ایک تربیتی ورک شاپ منعقد کی گئی جس میں ڈاکٹر محمد امین (سابق سینئر ایڈیٹر دائرۂ معارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی) اور اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مولانا داؤد احمد (استاذ الحدیث مدرسہ انوار العلوم) اور مولانا محمد یوسف (رفیق الشریعہ اکادمی) نے گفتگو کی اور ائمہ وخطبا کو بتایا کہ نسل نو کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس ضمن میں انھیں کن تعلیمی، اخلاقی اور نفسیاتی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

علمی وفکری نشستیں 

  •  گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اکادمی کے زیر اہتمام ہفتہ وار فکری نشستوں کا اہتمام کیا گیا جن میں اکادمی ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنی ذاتی، خاندانی، تعلیمی اور سیاسی یادداشتیں بیان کیں۔ یہ یادداشتیں کیسٹ پر محفوظ کر لی گئی ہیں اور انھیں صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا کام جاری ہے۔ 
  • ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء کو ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ نے الشریعہ اکادمی کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی جانے والی ’’عید ملن پارٹی‘‘ میں شرکت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج کی عالمی صورت حال گزشتہ صدی سے بالکل مختلف ہے اور دنیا بھر کی اقدار وروایات تیزی سے تبدیل اور ایک دوسرے میں مدغم ہو رہی ہیں، اس لیے ہمیں اسلام کی دعوت اور نفاذ کے لیے روایتی طریق کار پر قناعت کرنے کی بجائے جدید ضروریات اور تقاضوں کا ادراک کرنا ہوگا اور جذباتیت اور سطحیت کے دائرہ سے نکل کر زمینی حقائق اور معروضی حالات کی روشنی میں اپنی حکمت عملی اور ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ 
  • ۲ نومبر ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی میں نئے تعلیمی سال کے افتتاح کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماے اسلام پنجاب کے امیر مولانا قاضی حمید اللہ خان نے کہا کہ انسان کے لیے راہنمائی کا ذریعہ اور اس کی زینت ووقار کا باعث ہے اور معاشرہ میں علمی اداروں کا وجود اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور اس سے قوم کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ علمی اداروں سے بھرپور استفادہ کریں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔
  • ۵؍ نومبر ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس کے ساتھ، جو حال ہی میں اسکاٹ لینڈ سے پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ کی تکمیل کے بعد واپس آئے ہیں، ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر شمس نے اسکاٹ لینڈ اور پاکستان کے تعلیمی نظاموں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ میں تعلیمی نظام کی بہتری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں اساتذہ کا رویہ طلبہ کے ساتھ شفقت ومحبت اور محنت کا ہے اور تدریسی اوقات کا زیادہ تر دورانیہ سوال وجواب اور تنقید وتبصرہ پر صرف کیا جاتا ہے اور اساتذہ کا ہدف طلبہ میں علمی کمی کو دور کرنا اور ان کے تصورات میں نکھار پیدا کرنا ہوتا ہے۔
  • ورلڈ اسلامک فورم کے راہ نما اور آسٹریلیا میں گولڈ کوسٹ اسلامک سنٹر کے خطیب مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی نے اکادمی میں ایک نشست سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ مغرب کے ساتھ تہذیبی جنگ اور فکری کشمکش میں مسلمانوں کے جو تعلیمی اور فکری ادارے کام کر رہے ہیں، ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی اور بالآخر وہ اپنے مشن میں کامیابی حاصل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں الشریعہ اکادمی جیسے علمی وفکری ادارے سینکڑوں کی تعداد میں اپنے اپنے دائرہ میں مصروف کار ہیں اور ان کی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے ہی آج دنیا کے ہر خطہ کے مسلم معاشرہ میں دینی بیداری اور اسلامی تشخص کے تحفظ کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ 
  • انسانی حقوق کے عالمی دن ۱۰؍ دسمبر کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک خصوصی فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام نے چودہ سو برس پہلے معاشرہ میں انسانی حقوق کا علم بلند کیا تھا اور اسلام آج بھی مغربی دنیا سے کہیں زیادہ فطری انسانی حقوق کا علمبردار ہے اور انسانی سوسائٹی کو فلاح اور کامیا بی کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پروفیسر غلام رسول عدیم نے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ مغرب نے انسانی حقوق کے زیر سایہ فلسطین، عراق، افغانستان اور دنیا کے دیگر خطوں میں عوام کے بنیادی حقو ق کو جس طرح پامال کیا ہے، اس نے انسانی حقوق کے حوالے سے مغر ب کے دوہرے معیار کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ 
  • ۱۲؍ دسمبر ۲۰۰۷ کو علماے کرام، طلبہ اور اہل دانش کی ایک بھرپور نشست سے ندوۃ العلما لکھنو کے استاذ الحدیث مولانا سید سلمان الحسینی الندوی نے خطاب کیا۔ مولانا سید سلمان الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ علماے کرام کا کام صرف لوگوں کو عبادات سکھانا اور نماز روزے کے مسائل بتانا نہیں ہے بلکہ زندگی کے دوسرے معاملات میں ان کی راہ نمائی کرنا اور انھیں شریعت کے مطابق مسائل سے آگاہ کرنا بھی علماے کرام کی ذمہ داری ہے۔ مولانا قاری سیف اللہ اختر نے اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شعبہ میں دین کا کام کرنے والوں کو دوسرے دینی شعبوں کے کام کا احترام کرناچاہیے اور باہمی تعاون واشتراک کے ساتھ دینی جدوجہد میں اجتماعیت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 
  • ۹ جنوری ۲۰۰۸ کوالشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مولانا زاہدالراشدی کے ہفتہ وارلیکچرز کے سال نو کے پروگرام کے آغاز پرایک تقریب منعقد ہوئی۔ ماہنامہ ’’نور علیٰ نور‘‘ کراچی کے چیف ایڈیٹر مولانا عبدالرشید انصاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دینی حلقے مغرب کی تہذیبی یلغاراورفکری حملے کامتحد ہو کرہی مقا بلہ کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ نوجوان علما کو بطور خاص اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ وہ آج کی عالمی فکری اورتہذیبی کشمکش کے بارے میں معلومات حاصل کریں اورصورت حال کاپوری طرح ادراک کرتے ہوئے اس عالمی تناظر میں قرآن وسنت کی صحیح ترجمانی کے لیے خود کوتیار کریں۔ 
  • ۱۸؍ فروری ۲۰۰۸ کو برطانیہ کے معروف دینی راہ نما اور دانش ورمحترم حاجی محمد بوستان صاحب آف ڈیوزبری نے مغرب الشریعہ اکادمی میں ایک خصوصی فکری نشست سے خطاب کیا اور قوموں کے عروج وزوال میں علمی وفکری کام کرنے والے افراد اور اداروں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ علمی وفکری کام کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہوتے ہیں اور پاکستانی معاشرے کو چاہیے کہ وہ اس نوعیت کے اداروں کو اپنے وسائل کا وافر حصہ مہیا کرے تاکہ اہل فکر معاشی تگ ودو سے بے نیاز ہو کر یکسوئی کے ساتھ علمی وفکری کام کر سکیں۔
  • ۲؍اپریل ۲۰۰۸ کو اکادمی کی ہفتہ وار فکری نشست میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا اللہ وسایا نے اپنے تفصیلی خطاب میں جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور اقتدار میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے اجماعی فیصلے اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور شدہ دستوری ترمیم کو ماننے سے واضح انکار کے باوجود اس دوران قادیانی گروہ پاکستان میں پوری طرح متحرک رہا اور جنرل پرویز مشرف کی انتظامیہ ان کی پشت پناہی کرتی رہی۔ مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دینی قوتوں کو بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور تمام مذہبی جماعتوں اور مکاتب فکر کو تحریک ختم نبوت کے ایک نئے راؤنڈ کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ 
  • ۲۳؍ اپریل ۲۰۰۸ کو اکادمی کی ہفتہ وار فکری نشست شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی شخصیت اور خدمات کے تذکرہ کے لیے مخصوص کی گئی اور اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے حضرت صوفی صاحبؒ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ابتدائی حالات، تعلیمی دور اور تعلیمی وتدریسی اور دینی خدمات کے حوالے سے اپنی بعض یادداشتیں حاضرین کے سامنے پیش کیں۔ 

رفاہ عامہ

الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام ہاشمی کالونی میں فری ڈسپنسری روزانہ عصر تا عشا کام کرتی ہے اور روزانہ اوسطاً ۱۰۰ مریض اس سے استفادہ کرتے ہیں۔


الشریعہ اکادمی