دو اجنبیوں سے ملاقات

حسن الامین

مجھے دو ’’اجنبیوں‘‘ سے ملنے اور ان کا گردوپیش دیکھنے اور جانچنے کا موقع ملا۔ ایک ’’اجنبی‘‘ کا تعلق الٹرا ماڈرن معاشرت کی ایک این جی او سے تھا، اور دوسرے اجنبی کا تعلق قدامت پسندمعاشرت کے نقیب تحریک نفاذ شریعت محمدی سے۔ دونوں جگہ شدید گھٹن کا احساس ہوا۔ شدید ذہنی کوفت سے گزرنا پڑا۔ جدت اور قدامت کی علمبردار یہ دونوں تحریکیں مختلف زاویوں سے مجھے اپنے آپ اور اپنے گردوپیش کے مسائل سے بیگانہ نظر آئیں۔ میں نے دونوں کو اپنے آپ اور اپنے گردوپیش کی حقیقتوں سے غیرمتعلق پایا۔ دونوں کو ایک اجنبی کے روپ میں دیکھا۔

(۱) ہم اسلام آباد کے ایف سیکٹر میں واقع ایک ایسے عالی شان بنگلہ میں داخل ہوئے جہاں ملک کے تاریک ترین مشرف و شوکت عزیز دور کے دو سابق وزرا (محمد علی درانی اور بیرسٹر سیف ) ایک این جی او کا آفس کھول چکے ہیں، جہاں سول سوسائٹی الائنس کے نام سے ایک این جی او کا دفتر بنا دیا گیا ہے۔ اس بنگلے کے باہر نہایت کڑی سیکورٹی کا پہرہ تھا، اس کو قیمتی قالینوں اور فرنیچر سے مزین کیا گیا ہے، اس دفتر میں جہاں این جی او کے مالکان کا ذوق جمالیات جھلکتا ہے، وہاں یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اس دفتر میں جو بھی پروجیکٹ آئے گا، اس کا بیشتر حصہ کس بے رحمی سے اس دفتر کی تزئین و آرائش اور اس میں کام کرنے والے ملازمین کے لمبے چوڑے اخراجات پر خرچ کیا جائے گا۔ اس محل کا کرایہ اور اس کے یوٹیلیٹی چارجز اس کے علاوہ ہوں گے۔ میں تھوڑی دیر اس دفتر میں بیٹھ کر در ودیوار کا جائزہ لیتا رہا، کچھ ہی دیر میں اپنے آپ کو پس زنداں محسوس کیا، گھٹن اور حبس کا احساس ہوا، پریشانی اور ڈیپرشن میں اضافہ ہوا۔ اس دفتر کے "مالکان"اور ان سے ملنے والے مہمانوں کے درمیان اتنی ہی بڑی بڑی باتیں ہو رہی تھیں جتنی اسلامی انقلاب کے لیڈروں اور امت مسلمہ کے عروج کا خواب دیکھنے والے شاعروں اور ادیبوں کے درمیان ہوا کرتی ہیں۔ ان کی اصطلاحات، ان کی تشبیہات اور ان کے خیالات مغربی تھے، ترقی پسندانہ تھے، لبرل اور پروگریسیو تھے۔ الفاظ کی جنگ میں ان کا کوئی مقابل نہیں تھا، سماجی تبدیلی سے وابستہ خیالات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ میں ان کی اصطلاحات سنتا، ان کے جملوں کے دروبست کا جائزہ لیتا، پھر ان چہروں کی طرف دیکھتا جو گزشتہ حکومتوں میں موجود رہے اور کوئی تبدیلی نہیں لاسکے، وہی چہرے، وہی لوگ، وہ شخصیات لیکن اب ایک اور نام سے۔ ان دونوں شخصیات کے ماضی میں اور سماجی تبدیلی کے اس نئے ایجنڈے کے درمیان کیا ربط اور علاقہ ہے؟ ان دونوں میں تو ہزاروں کائناتوں کی خلیج حائل ہے۔ اتنے پرتعیش طرززندگی کے عادی لوگ کوئی بڑی سماجی تبدیلی کیسے لاسکتے ہیں؟ ان کے بطن سے کسی بڑے سماجی خیر کا چشمہ کیسے پھوٹ سکتا ہے؟ یہ تو سیاسی نظام کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد اب سماجی تبدیلی کے عمل کو سبوتاژ کرنے نکلے ہیں۔ پہلے ہم نے سنا کہ دنیا کی اکثر ترقی پذیر ریاستیں لوگوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ناکام ہوئیں اور ان کے اوپر اپنے شہریوں کا اعتماد نہیں رہا تو ناکام ریاستیں اور ناکام حکومتیں کہلائیں اور پھر یہ عالمی بیداری وجود میں آئی کہ ان کرپٹ بااثر سیاسی و فوجی اشرافیہ کو پیسے دینے کی بجائے یہی رقم سول سوسائٹی کی تنظیموں کو دی جائے اور ان کے ذریعے سے عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کی تگ ودو کی جائے۔ افسوس کہ بااثر اور بالادست طبقے صرف سیاسی پوزیشنز پر ہی نہیں بلکہ دوسرے تمام عہدوں پر بھی فائز ہوتے ہیں۔ ریاست کی ناکامی کے بعد اب سماجی شعبے کی ناکامی۔ وہ دن دور نہیں۔ اب جو سرمایہ سول سوسائٹی کے نام سے اس ملک میں آئے گا، اس کو بھی وہ روایتی سیاسی اشرافیہ اور ان کے عزیز واقارب مختلف ناموں سے ہڑپ کر جائیں گے۔ میں مسلسل اس کوشش میں رہا کہ پوری وسعت نظری سے خود کو ایک عام اور غریب پاکستانی مسلمان شہری کی حیثیت سے اس این جی او سے متعلق کرسکوں، مگر میں اس کوشش میں ناکام رہا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی رہے۔

(۲) دوسرا اجنبی مالاکنڈ کے مولانا صوفی محمد اور ان کی تحریک نفاذ شریعت محمدی (TNSM) ہے۔ امان درہ کے مقام پر واقع ان کے مرکزی مدرسے میں ہم داخل ہوئے۔ مولانا صوفی محمد مسجد کے ایک کونے میں واقع کمرے میں تشریف فرما تھے۔ بزرگ، سفید ریش، سادہ اوراپنے مقصد سے اخلاص ان کے چہرے سے جھلکتا۔ دین کو جیسا سمجھتے ہیں، ویسا ہی اپنے اوپرنافذ کرتے ہیں۔ کسی سے معانقہ نہیں کرتے، صرف ہاتھ ملاتے ہیں کیونکہ کسی حدیث سے انہوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔ چھوٹا سا سفری بیگ ان کے قریب پڑا ہے جس میں ایک جوڑا کپڑوں کا، ایک مسواک اور چند دیگر مسنون چیزیں نظر آئیں۔ لگتا ہے کسی لمبی چوڑی تیاری کے بغیر مسلسل حالت سفر میں اور شاید جیل جانے کے لیے بھی ہروقت تیار رہتے ہیں۔ مولانا کے لباس سے غربت جھلکتی ہے، ان کے چہرے کی جھریوں سے متوازن غذا کی کمی کا احساس ہوتا ہے، وہ بالکل عام پاکستانی سے بھی زیادہ فقیر اور خستہ حال دکھائی دیتے ہیں، عام آدمی ان کواپنا جیسا محسوس کرتا ہے، اس لیے لوگ ان کے اشارے پر جان دینے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اپنے جیسے غریبوں کی حالت بدلنے کے لیے اس مرد درویش کے ایشوز کیا ہیں اور ان کے سامنے اپنے جیسے خستہ حال کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدلنے کا ایجنڈا کیا ہے؟ افسوس کہ اپنے ایشوز اور ایجنڈے کی بنیاد پر مولانا بھی اپنے گردوپیش کے مسائل سے اتنے ہی اجنبی اور غیرمتعلق نظر آئے جتنے کہ درانی صاحب اور بیرسٹر سیف صاحب کی عالی شان این جی او اپنے شاہانہ اخراجات کے حساب سے نظر آئی تھی۔ 

مولانا صوفی محمد صاحب خواتین کی تعلیم کو ناجائز سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ان کو کسی اسلامی مدرسے میں بھیجنے کے بھی قائل نہیں۔ ان کا ایجنڈا ہے باطل کی تردید اور اس سے انکار، جمہوریت اسلام میں کفر ہے اور اس کفر میں قاضی حسین احمد، نوازشریف اور زرداری سب برابر ہیں۔ کوئی صالح نظام صرف علما ہی قائم کرسکتے ہیں اور انہی کے ذریعے سے عام آدمی کی زندگی بدل سکتی ہے۔ افسوس کہ مولانا صوفی محمد کو اپنے گرودوپیش میں ہونے والی علمی اور تمدنی تبدیلی، سماجی و معاشرتی علم میں ہونے والے ارتقا کا ذرہ برابر علم نہیں۔ دنیا کے مختلف مسلم ممالک اور مسلم معاشروں میں اسلامی نظام برپا کرنے کے نام لیوا کیوں ناکام ہوئے؟ وہ کوئی بڑا انقلاب کیوں برپا نہیں کرسکے؟ دنیا کے سماجی اورمعاشرتی علم میں کیا تبدیلیاں آچکی ہیں؟ انسانی علم اور تمدنی علم نے کیا کیا منزلیں طے کی ہیں؟ مولانا کی سادگی دیکھ کر رونا آیا اور ان کا اخلاص دیکھ کر رشک آیا۔ مولانا تصویر کو ناجائز سمجھتے ہیں مگر اسی کیمرے میں اپنی آواز کو ریکارڈ کرانے کو جائز سمجھتے ہیں، آخر کیوں اور کس اصول کی بنیاد پر؟ مولانا میوزک کو حرام سمجھتے ہیں مگر موبائل فون پر میوزیکل رنگ ٹون سن لینے کو مائنڈ ہی نہیں کرتے، آخر کیوں اور یہ استثنا کس اصول کی بنیاد پر؟ مولانا مغرب و امریکہ و اسرائیل کو کوستے ہیں مگر مہمانوں کو کوکا کولا اور پیپسی سے نوازتے ہیں۔ مولانا نے جو گھڑی اپنی کلائی پر پہن رکھی ہے، وہ چین کی بنی ہے جو ایک غیرمسلم ملک ہے۔ انہوں نے جو کپڑے پہنے ہیں، اس کی ٹیکنالوجی کسی مغربی ملک سے آئی ہے۔ میں مسلسل اس کوشش میں تھا کہ خود کو ایک عام گناہ گار پاکستانی مسلمان کی حیثیت سے مولانا صوفی محمد سے متعلق کرسکوں مگر میں اس کوشش میں ناکام رہا۔ میں ان کے لیے اور وہ میرے لیے اجنبی رہے۔

مولانا کی محفل سے رخصت ہونے لگے تو ان کی شوریٰ کا اجلاس شروع ہونے کو تھا جس میں کالی پگڑیوں میں ملبوس ان کی شوریٰ کے سینکڑوں بزرگ تشریف لاچکے تھے، مخلص، سادہ اور پرانی روایت کے امین بزرگ۔ مگر ایک ایسے سفر کے مسافر جس کی نہ طوالت کا علم، نہ پڑا و کا پتہ اور نہ منزل کی خبر۔ 

مشاہدات و تاثرات