اگست ۲۰۰۸ء

سزائے موت کے خاتمے کی بحث

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سزاے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان ملک بھر کے دینی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے قانونی نظام میں سزاے موت کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی مطالبہ اور دباؤ بھی موجود ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی کچھ عرصہ قبل یہ قرارداد منظور کر چکی ہے جس میں تمام ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قانونی نظاموں میں سزاے موت ختم کر دیں اور آئندہ کسی شخص کو کسی ملک میں کسی بھی جرم کے تحت...

سانحہ لال مسجد اور علماء ایکشن کمیٹی

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لال مسجد کے سانحہ کو ایک سال گزر گیا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں باقی ہیں۔ عوام نے تو اپنا فیصلہ الیکشن میں صادر کر دیا تھا کہ لال مسجد کے آپریشن کی ذمہ داری میں شریک جماعتوں اور ان کے حامیوں کو مسترد کر کے لال مسجد کے سانحہ پر غم وغصے کا اظہار کرنے والی جماعتوں اور راہ نماؤں کو اپنے اعتماد سے نوازا۔ یہ الیکشن خاتون شہدا کے نام پر جیتا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ووٹ حاصل کیے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شہداے لال مسجد کا کارڈ استعمال کیا جس کا پاکستان مسلم لیگ (ق) کے متعدد راہ نماؤں نے واضح اعتراف...

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز صفدر کی علمی و تحقیقی تصانیف

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کو اللہ تعالیٰ نے مطالعہ، تحقیق اور احقاق حق کا جو خصوصی ذوق عطا فرمایا ہے، ان کی تین درجن سے زائد علمی اور تحقیقی کتابیں اس کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ برصغیر کے معروضی حالات میں مختلف مسائل کے حوالے سے اہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی مسلک کی وضاحت اور اثبات ان کی تدریسی، تحقیقی اور تصنیفی سرگرمیوں کی جولان گاہ رہا ہے اور اس میدان میں ان کی مسلسل محنت اور خدمات کی وجہ سے بحمد اللہ تعالیٰ انھیں دیوبندی مسلک کا علمی ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ دور طالب...

دو اجنبیوں سے ملاقات

― حسن الامین

مجھے دو ’’اجنبیوں‘‘ سے ملنے اور ان کا گردوپیش دیکھنے اور جانچنے کا موقع ملا۔ ایک ’’اجنبی‘‘ کا تعلق الٹرا ماڈرن معاشرت کی ایک این جی او سے تھا، اور دوسرے اجنبی کا تعلق قدامت پسندمعاشرت کے نقیب تحریک نفاذ شریعت محمدی سے۔ دونوں جگہ شدید گھٹن کا احساس ہوا۔ شدید ذہنی کوفت سے گزرنا پڑا۔ جدت اور قدامت کی علمبردار یہ دونوں تحریکیں مختلف زاویوں سے مجھے اپنے آپ اور اپنے گردوپیش کے مسائل سے بیگانہ نظر آئیں۔ میں نے دونوں کو اپنے آپ اور اپنے گردوپیش کی حقیقتوں سے غیرمتعلق پایا۔ دونوں کو ایک اجنبی کے روپ میں دیکھا۔ (۱) ہم اسلام آباد کے ایف سیکٹر میں...

مذہبی رویے: چند اصلاح طلب امور

― ادارہ

ہمارے ملی ادارے جوکبھی عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے تھے، آہستہ آہستہ ذاتی اورموروثی اداروں میں بدلتے جارہے ہیں۔ ہر ادارے کے منتظم کی یہ خواہش چھپی نہیں رہتی کہ ادارہ اس کی اولاد اور خاندان تک محدود ہو کر رہ جائے۔ یہ ساری ریشہ دوانیاں اور اتھل پتھل، کہیں دبی دبی بے چینی اور کہیں کھلا کھلا انتشار سب اسی خواہش کانتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ اصل میں اس طرز عمل سے بہت سے حق داروں کی حق تلفی ہوتی ہے اور وہ کھلاپن باقی نہیں رہتاکہ ہرشخص کو اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے اور ترقی کرنے کے مساوی موقعے مل سکیں۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جب حق داروں کوان کاحق نہیں ملتا اور...

اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۱)

― محمد زاہد صدیق مغل

ارباب فکر و نظر پر خوب واضح ہے کہ پچھلی دو صدیوں کے دوران سر مایہ دارانہ نظام کے غلبے کے نتیجے میں اسلا می اصولوں کے مطا بق زندگی گزارنے کے مواقع کم سے کم تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ چو نکہ معاش معا شرتی زندگی کا وہ شعبہ ہے جس سے ہر خاص وعا م کو وا سطہ پڑتا ہے، لہٰذا اس کے تباہ کن اثرات سب سے زیادہ اسی شعبہ زندگی پر پڑے ہیں۔ نیز چونکہ سرمایہ داری کا اصل مقصد و محور صرف معاش ہی معاش ہے، لہٰذا موجودہ دور میں معا شی مسائل ہی نے سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے اورزندگی کے ہر مسئلے کو ’معاد‘ کے بجا ئے ’معا ش‘ کے نقطہ نگاہ سے دیکھے جانے کی روش عام ہونے...

جمعے کی امامت اور غامدی صاحب کا نقطۂ نظر

― الیاس نعمانی ندوی

ماہنامہ اشراق (بابت ماہ اپریل ۲۰۰۸ء) کے شذرات کے کالم میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی گفتگو پر مبنی ایک تحریر نظر نواز ہوئی ہے۔ عنوان ہے: ’’جمعے کی امامت‘‘۔ اسی کی بابت کچھ عرض کرنے کا اس وقت ارادہ ہے۔ غامدی صاحب کا حاصل مدعا خود انہی کے الفاظ میں یہ ہے: ’’جہاں تک جمعے کی نماز کا تعلق ہے تو اس کا قانون پنج وقتہ نماز سے کچھ مختلف ہے۔ اس کی رو سے مسلمانوں کے نظم اجتماعی، یعنی حکومت وریاست کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہفتہ میں ایک دن جمعے کے روز خصوصی نماز کا اہتمام کریں۔ ۔۔۔اس نماز کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کا اہتمام عام مسلمان نہیںِ بلکہ ان...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم۔ امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ الشریعہ جون ۲۰۰۸ء کے شمارے میں ’’ غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے عنوان سے استاذِ محترم جاوید احمد صاحب غامدی کے افکار پر آپ کی تنقید و تبصرہ دیکھنے کا موقع ملا۔ اصحاب المورد جب بھی اپنے پیش کردہ افکار پر کسی جید عالم کی طرف سے کوئی تنقید و تبصرہ دیکھتے ہیں تو تہہ دل سے اُن کے شکر گزار ہوتے اور یہ امید کرتے ہیں کہ علما کی یہ توجہ اُن کے لیے رہنمائی کی باعث ہو گی۔ چونکہ آپ نے راقم الحروف کی ایک تحریر کو غامدی صاحب کی فکر پر بحث کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، اس لیے میں آپ کی اس...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی‘‘۔ ’’ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی افکار کا تقابلی جائزہ‘‘ (برائے ایم فل اقبالیات) کی مبسوط جلدسامنے ہے۔ یہ مقالہ جناب محمد یونس میو کے رشحات قلم کا نتیجہ ہے۔ پہلے تو اتنی ضخیم کتاب کو دیکھ کر ایک مرعوب کن تاثر ابھرتا ہے۔ ساتھ ہی خیال گزرتا ہے کہ اتنی ضخامت میں رطب و یابس بھی ہو گا۔ آخور کی بھرتی ہی سے ایسی طول کلامی ہو سکتی ہے، کیونکہ ’ خیرالکلام ماقل ودل‘ کا فرمان رسول بھی اپنے ا ندر حقائق کا سمندر لیے ہوئے ہے۔ شیکسپیئر نے بھی کہا تھا اور سچ ہی کہا تھا: Brevity is the soul of will ۔ قاری...

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

― ادارہ

(شعبان المعظم ۱۴۲۸ھ تا رجب ۱۴۲۹ھ ۔ ستمبر ۲۰۰۷ء تا اگست ۲۰۰۸)۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ایک علمی، فکری اور تعلیمی ادارہ ہے جو ۱۹۸۹ء سے درج ذیل مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہے: o امت مسلمہ کو درپیش فکری وعملی مسائل کا تجزیہ وتحقیق اور ان کے حل کے لیے درست خطوط پر رہنمائی۔ o امت مسلمہ کے مختلف علمی مکاتب فکر اور نظریاتی تحریکات کے مابین مفاہمت، رواداری اور رابطہ وتعاون اور اشتراک کی فضا کا فروغ۔ o مغربی فکر وتہذیب کے پیدا کردہ نظریاتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی چیلنجوں کے مضمرات کے درست ادراک اور ان کے مقابلہ کے لیے صحیح لائحہ عمل کی وضاحت۔ o روایتی...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter