سانحہ لال مسجد اور علماء ایکشن کمیٹی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لال مسجد کے سانحہ کو ایک سال گزر گیا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں باقی ہیں۔ عوام نے تو اپنا فیصلہ الیکشن میں صادر کر دیا تھا کہ لال مسجد کے آپریشن کی ذمہ داری میں شریک جماعتوں اور ان کے حامیوں کو مسترد کر کے لال مسجد کے سانحہ پر غم وغصے کا اظہار کرنے والی جماعتوں اور راہ نماؤں کو اپنے اعتماد سے نوازا۔ یہ الیکشن خاتون شہدا کے نام پر جیتا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ووٹ حاصل کیے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شہداے لال مسجد کا کارڈ استعمال کیا جس کا پاکستان مسلم لیگ (ق) کے متعدد راہ نماؤں نے واضح اعتراف کیا کہ ان کی شکست کا باعث لال مسجد کا آپریشن ہے، جبکہ راول پنڈی کی فضاؤں میں انتخابی مہم کے دوران بلند کیے جانے والے اس نعرے کی گونج اب تک سنائی دے رہی ہے کہ ’’ووٹ کس کا؟ لال مسجد کا یا لال حویلی کا؟‘‘ مگر الیکشن گزر جانے کے بعد لال مسجد کسی کو یاد نہ رہی اور جامعہ حفصہ کی طالبات ابھی تک قومی راہ نماؤں کا منہ تک رہی ہیں کہ الیکشن جیت جانے کے بعد بھی کسی کی زبان پر لال مسجد کا نام آ رہا ہے یا نہیں؟

لال مسجد کے حوالے سے توجہ طلب مسائل واضح ہیں کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف اس وحشیا نہ آپریشن کی ذمہ داری کس پر ہے جس میں سینکڑوں معصوم بچیوں کو آگ اور خون میں تڑپا دیا گیا؟ سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی رٹ زیر سماعت ہے، مگر عدالت عظمیٰ کا اپنا بحران کسی طرف لگے تو لال مسجد جیسے مسائل کو اس کی توجہ حاصل ہو۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر اور جامعہ فریدیہ کی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا حکم دے رکھا ہے، مگر دونوں فیصلوں پر عمل درآمد کی طرف کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ مولانا عبد العزیز کی بیشتر مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے، مگر جو ایک دو باقی ہیں، ان میں تاریخ دی جا رہی ہے۔ اس طرح ان کی رہائی کا بظاہر مستقبل قریب میں کوئی امکان نظر نہیں آ تا، حالانکہ اسی نوعیت کے مقدمات اور سرگرمیوں کے الزام میں مولانا صوفی محمد صوبہ سرحد کی حکومت کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کے تحت رہا ہو چکے ہیں، بلکہ انھیں پرامن رہنے کے وعدے پر نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے سرگرمیوں کی اجازت بھی دے دی گئی ہے جو ایک خوش آیند بات ہے۔ اسی قسم کا معاہدہ مولانا عبد العزیز کے ساتھ بھی ہو سکتا تھا جو اس بحران کے پرامن خاتمے کی طرف پیش رفت ہوتا، مگر ارباب حل وعقد اس رخ پر سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کچھ پس پردہ قوتیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معاملات کو بدستور جوں کا توں رکھنا چاہتی ہیں تاکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر وہ مقاصد حاصل ہوتے رہیں جن کے لیے اس سب کچھ کا اہتمام کیا گیا تھا۔

اس پس منظر میں راول پنڈی اور اسلام آباد کے علماے کرام نے ’’لال مسجد علما ایکشن کمیٹی‘‘ قائم کر کے اس مسئلے پر رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے احتجاجی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ۶ جولائی کو لال مسجد اسلام آباد میں پہلا احتجاجی جلسہ منعقد کر کے اپنی جدوجہد کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا جلسہ ۱۰ جولائی کو کوئٹہ میں ہو چکا ہے اور تیسرا جلسہ ۱۰؍اگست کو لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ۶ جولائی کے جلسے میں جمعیۃ علماے اسلام، وفاق المدارس، کالعدم سپاہ صحابہ اور دیگر دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا اور ان مطالبات کو دہرایا جن کا ہم سطور بالا میں تذکرہ کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مسمار شدہ جامعہ حفصہ کی زمین پر خیموں میں طالبات کی تعلیم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اخباری اطلاعات اور تصویروں کے مطابق علامتی طور پر اس جگہ خیمے میں طالبات کی کلاس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لال مسجد کے قائم مقام خطیب مولانا عبد الغفار اور ان کے نائب مولانا عامر صدیق بھی اس جدوجہد میں ’’لال مسجد علما ایکشن کمیٹی‘‘ کے ساتھ شریک ہیں اور سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ مولانا عبد العزیز کی اہلیہ محترمہ ام حسان صاحبہ نے، جو اپنی رہائی کے بعد سے مسلسل ملک کے مختلف حصوں میں خواتین کے اجتماعات سے خطاب کر رہی ہیں، دو روز بعد لال مسجد میں ہی خواتین کا اجتماع منعقد کر کے ۶ جولائی کی ’’شہداے لال مسجد کانفرنس‘‘ کے اعلانات اور مطالبات کی تائید کر دی ہے جو اس حوالے سے یقیناًقابل اطمینان بات ہے کہ لال مسجد کی تحریک اور اس کے خلاف آپریشن کے دوران غازی عبد الرشید شہید کے خاندان اور ملک کی معروف دینی جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا قائم کرنے اور پھر اسے برقرار رکھنے کی بطور خاص کوشش کی گئی تھی اور ایک مخصوص حلقے نے مسلسل اس پرمحنت کی تھی کہ غازی عبد الرشید شہید کے خاندان کے معروف دینی قیادت بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اسی طرح اسلام آباد اور راول پنڈی کے علماے کرام کے ساتھ اس قسم کے روابط اور باہمی اعتماد کی وہ کیفیت نہ رہے کہ دونوں ایک دوسرے کے کام آ سکیں۔

بعض اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوشش اب تک جاری ہے اور اس کے لیے فرضی شکوک وشبہات کے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں، لیکن اسلام آباد اور راول پنڈی کے علماے کرام پر مشتمل لا ل مسجد علما ایکشن کمیٹی کی ۶ جولائی کی کانفرنس میں وفاق المدارس کی قیادت اور دیگر دینی جماعتوں کے قائدین کی شرکت وخطاب اور اس کے بعد محترمہ ام حسان کی طرف سے خواتین کے اجتماع میں اس کانفرنس کے فیصلوں پر اعتماد اور اطمینان کا اظہار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ باہمی غلط فہمیوں کے بادل چھٹ رہے ہیں اور مطلع بتدریج صاف ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ’’لال مسجد علما ایکشن کمیٹی‘‘ کے فورم پر جمعیت علماے اسلام، وفاق المدارس، کالعدم سپاہ صحابہ اور دوسری جماعتوں کے ساتھ غازی عبد الرشید شہید کا خاندان اور مولانا عبد العزیز کا مشاورتی حلقہ بھی شریک کار ہو جائیں اور پالیسی ترجیحات باہمی مشاورت واعتماد کے ساتھ طے کر لیں تو لال مسجد کے حوالے سے مطالبات کی جدوجہد کو موثر طریقے سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور نفاذ شریعت کی تحریک کے لیے بھی ایک اچھی بنیاد فراہم ہو سکتی ہے، بلکہ ہم تو اس سے بھی آگے جدوجہد کے دائرے کو مزید وسعت دیے جانے کے خواہش مند ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے مذہبی مکاتب فکر اور طبقات بالخصوص سیاسی جماعتوں اور وکلا کو بھی اعتماد میں لینے اور شریک کار بنانے کی ضرورت ہے اور لال مسجد علما ایکشن کمیٹی کو اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائز لینا چاہیے۔



انا للہ وانا الیہ راجعون

گزشتہ ماہ کے دوران ہمارے احباب ومخلصین میں سے 

o کھیالی کے جناب حاجی ثناء اللہ طیب کے والد محترم بشیر احمد صاحبؒ 

o جناب محمد فاروق شیخ (شارجہ) اور مولانا فضل القادر کے والد محترم حاجی محمد شیخ صاحبؒ 

o اور ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے ناظم ترسیل حافظ محمد طاہر صاحب کی والدہ محترمہ

قضاے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ادارے کے رفقا پس ماندگان کے 

ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت ورفع درجات کے لیے دعا گو ہیں۔ 

حالات و واقعات

(اگست ۲۰۰۸ء)

Flag Counter