’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘

ادارہ

شرکاء کے مابین مجلس مذاکرہ کی روداد

۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیاگیا جس میں مختلف دینی مدارس اور کالجوں کے اساتذہ نے شرکت کی۔ پہلی نشست کی صدارت بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی، دوسری نشست مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض سواتی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جبکہ تیسری نشست کی صدارت کے فرائض اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے انجام دیے۔ 

ورکشاپ سے خطاب کرنے والوں میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبدالرؤف فاروقی، پاکستان شریعت کونسل صوبہ پنجاب کے امیر مولانا عبدالحق خان بشیر، پروفیسر حافظ منیر احمد، پروفیسر محمد اکرم ورک، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے گزشتہ سال کی رپورٹ اور آئندہ سال کے پروگرام کی تفصیل پیش کی۔ 

ورکشاپ کی ایک نشست دینی مدارس کے اساتذہ کے درمیان باہمی مشاورت کے لیے مخصوص تھی جس میں اساتذہ نے ورکشاپ میں مختلف حضرات کی طرف سے کی جانے والی گفتگو کی روشنی میں تبادلہ خیالات کیا اور متعدد سفارشات پیش کیں۔ ان نشست کی روداد درج ذیل ہے:

مولانا زاہدالرشدی (ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! 

میں نے اپنی بات اصولی طور پر صبح کی نشست میں کہہ دی تھی۔ اس وقت میں شام کے مذاکرے کا ایجنڈا عرض کروں گا۔ یہی آخری اور اصلی نشست ہو گی اور اسی کی روشنی میں سیمینار کی رپورٹ مرتب کی جائے گی۔

ایجنڈا استاد کی تربیت کے حوالے سے ہو گا۔ اس کو ہم اس طرح سے تقسیم کریں گے:

۱۔فکری تربیت، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم جو تعلیم وتعلم کا کام کرتے ہیں، اس کا مقصد کیا ہے اور ہدف کیاہے؟ یہ ساری کھیپ ہم کیوں تیار کر رہے ہیں اور سوسائٹی میں اس کا رول کیا ہوگا؟ وہ مقصد اگر استاد کے ذہن میں ہوگا تو جو کلاس اس کے سامنے بیٹھی ہے، وہ اس مقصد کے مطابق اس کی تمام ضروریات کو پورا کرے گا کہ ان طلبہ کو اس مقصد کے لیے تیار کرنا ہے اور وہ ویسی ہی تربیت کرے گا۔ اس سلسلے میں استاد کی ذہن سازی ہونی چاہیے۔

۲۔علمی تربیت، اس سے میری مراد یہ ہے کہ جب ہم ایک سند لے کر ایک مسند پر بیٹھ جاتے ہیں تووہ سند ہمارے لیے اسٹاپ بن جاتی ہے کہ اب آگے ہم نے کچھ نہیں پڑھنا ہے۔ جو کچھ پڑھ لیا، وہ کافی ہے تو وہ سند ہمارے لیے بریک بن جاتی ہے۔ اگر استاد کے علم میں ترقی وارتقا نہیں ہوگا اور وہ یہی سوچے گاکہ جو کاپی میں نے پہلے سال پڑھائی تھی، وہی اب بھی پڑھانی ہے تو طلبہ کو اس زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر استاد کے علم میں ترقی نہیں ہو گی تو شاگرد کے علم میں بھی ترقی نہیں ہو گی اور وہ جمود کا شکار رہے گا۔ علمی تربیت سے مراد یہ ہے کہ اساتذہ میں مطالعہ کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں اور ان کے علم میں گہرائی اور گیرائی دونوں ہوں۔ میرے ایک دوست پروفیسر ہیں۔ انہوں نے بڑی دلچسپ بات سنائی کہ ایک جگہ مذاکرہ ہو رہا تھا تو میں نے ایک مولوی صاحب سے کہاکہ عربی ادب آپ پڑھاتے ہیں‘ لیکن عربی ادب کے بارے میں معلومات ہمیں زیادہ ہیں۔ مثلاً شعرا کے نام‘ اشعار کا پس منظر اور تاریخ ادب وغیرہ، تو انہوں نے جواباً کہا کہ عربی ادب کے بارے میں اگرچہ آپ زیادہ جانتے ہیں، لیکن عربی ادب (زبان) ہم زیادہ جانتے ہیں۔ تو یہ دونوں چیزیں ہونی چاہییں۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ کوئی بھی علم کبھی ایک جگہ پر نہیں رکا۔ اس میں ارتقا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر نور الانوار میں نے دس مرتبہ پڑھا ئی ہے۔ نور الانوار ملا جیون ؒ نے آج سے تین سو سال قبل لکھی ہے اور ان تین سو سالوں میں حنفی اصول فقہ نے بہت ترقی کی ہے اور بہت آگے بڑھا ہے۔ اب طالب علم کا کیا قصور ہے کہ اسے گیارھویں صدی کے علم اصول فقہ تک روک دیا جائے اور بعد میں ہونے والی ترقی کے بارے میں اس کو معلومات فراہم نہ کی جائیں؟ مثلاً جو اضافات ہوئے ہیں‘ جو نئی اصطلاحات آئی ہیں، وہ کیوں اس کو نہ بتائی جائیں؟ اس کے دو حل ہیں۔ ایک تو یہ کہ نصاب میں نئی کتابیں شامل کی جائیں۔ دوسرا یہ کہ استاد کچھ محنت کر کے وہ جدید مواد اپنے مطالعہ میں لے آئے تو وہ نور الانوار کو سامنے رکھ کر بھی ساری بات کر سکتا ہے۔

۳۔ اخلاقی اور دینی تربیت، آج کی جدید تعلیم اور دینی تعلیم میں بڑافرق ہے کہ جدید تعلیم میں استادصرف استاد ہے اور اس کا کام صرف پڑھاناہے‘ جبکہ دینی تعلیم میں استاد صرف استاد نہیں بلکہ اپنے طلبہ کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت بھی ر کھتا ہے۔ طالب علم نے استاد کے رنگ میں رنگا جانا ہے۔ استاد کو دیکھ کر طالب علم کی عادتیں بنیں گی‘ عقیدہ بنے گا۔ ہمارے ہاں تو عقیدہ استاد کو دیکھ کر بنتا ہے کہ فلاں عقیدہ کی تشریح جو میرے استاد کی ہے، وہی میری ہے۔ فلاں مسلک کے بارے میں میرے استاد کی رائے یہ ہے اور میری بھی یہ ہے۔ تو استاد کوتمام باتوں میں ماڈل بننا چاہیے۔ آج کل کے دور میں دینی استاد بننا بڑا مشکل ہے۔ استاد اگر رخصتوں پر آجائے گاتو طالب علم مباحات ومکروہات میں چلا جائے گا۔ اگر طالب علم کورخصتوں پر رکھنا ہے تو استاد کو عزیمت پر رہنا ہو گا‘ اپنی عبادات میں‘اخلاق میں‘ میل جول میں اور اس طرح کے بہت سے معاملات میں۔

۴۔فنی تربیت، اب تعلیم کے بہت سے جدید ذرائع آگئے ہیں۔ ان میں سے جو جائز ہیں اور جن سے آپ مطمئن ہیں‘ ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگرفن کے حوالے سے ہم یونانی فلاسفہ سے استفادہ کر سکتے ہیں تو آج کے فلاسفہ سے بھی ہمیں استفادہ کرنا چاہیے۔

پروفیسر میاں انعام الرحمن 

(گورنمنٹ ڈگری کالج، قلعہ دیدار سنگھ)

صبح کی پہلی نشست میں تو میں شریک نہیں ہو سکا۔ دوسری نشست سے جو باتیں میں نے سنی ہیں، ان میں ایک بات جو بار بار دہرائی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ شاید کالج سائیڈ میں اساتذہ کی تربیت کا خاطر خواہ انتظام ہے اور مدارس میں ایسا نہیں، حالانکہ بعینہ یہی صورت کالج سائیڈ میں ہے۔ ٹیسٹ، انٹرویو دیا اور آکر پڑھانا شروع کردیا۔ سوچتے ہی نہیں کہ کیسے پڑھانا ہے اور کیا پڑھانا ہے،کیا لیکچر وغیرہ دینا ہے۔ البتہ اسکول کی سطح پر تھوڑا بہت تربیت کا نظام موجود ہے۔ گورنمنٹ سی ٹی، بی ایڈ وغیرہ کچھ کورسز کرواتی ہے۔ لیکن کالج کی سطح پر اب بھی ایسا نہیں ہے۔ آپ سادہ ایم اے ہوں، آپ نے ٹیسٹ دیا ہے، بغیر کسی ٹریننگ کے آپ کالج میں جاتے ہیں اور لیکچر دینا شروع کر دیتے ہیں۔ میں نہ مدارس میں پڑھا ہوں، نہ مجھے زیادہ تجربہ ہے، لیکن میرا مشاہدہ اس کے بارے میں یہ ہے کہ کالج سائیڈ میں جو ٹیچر ہے اور مدرسہ میں جو ٹیچر ہے، دونوں میں بنیادی فرق طالب علم کے ساتھ ڈیلنگ کے حوالے سے پایا جاتا ہے ۔ جو مدرسے کا استاد ہے، وہ اپنے آپ کو زیادہ ترجیح دیتا ہے، زیادہ تقدس کا درجہ دیتا ہے جبکہ کالج سائیڈ میں یہ بات نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اب طالب علم کو ڈیل کیسے کرنا ہے، اس کی ٹریننگ وہاں بھی نہیں ہوتی اور یہاں بھی نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ٹریننگ پہلے لے کر آئے ہیں، یہ اسی کا اثر ہے۔ تو مجھے جو بنیادی فرق نظر آتا ہے، وہ یہی ہے کہ دینی مدارس کے جو طلبہ ہیں، وہ استاد کی اتنی زیادہ تعظیم کرتے ہیں، اتنا زیادہ تقدس کا درجہ دیتے ہیں کہ شاید اس کے بعد اس کو وہ ٹوک نہیں سکتے اور نہ اس کی ہمت کر سکتے ہیں کہ سوال کریں اور استاد سے سیکھنے کی کوشش کریں ۔ علم تو ہوتا ہی سوال وجواب ہے، تو جب آپ اس کو زیادہ تقدس کا درجہ دیتے ہیں تو پھر آپ اس سے سیکھ نہیں سکتے۔ پھر تو ہاں ناں ہوگا جیسے کمنٹری میں ہوتا ہے ۔

حافظ محمد سمیع اللہ فراز 

(فاسٹ نیشنل یونیورسٹی، لاہور)

سب سے پہلے تو یہ بے حد خوشی کا مقام ہے کہ اس طرح کی تربیتی ورکشاپ منعقد کرنے میں الشریعہ اکادمی نے پہل کی ہے ۔ ہمارے ضلع گوجرانوالہ میں اتنا بڑاحلقہ ہے دینی مدارس کا، شاید ہی کسی اور شہر میں اتنا زیادہ ہو۔ اس اعتبار سے یہاں ضرورت بھی زیادہ تھی۔ اس پر اللہ کا شکر ہے کہ الشریعہ اکادمی نے اس کا اہتمام کیا ہے ۔ 

استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے جو چار نکات ایجنڈے کے لیے رکھے ہیں، ان میں سے اساتذہ کی فکری اور اخلاقی تربیت یقیناًایک اہم ضرورت ہے اور انھیں اس حوالے سے راہنمائی ملنی چاہیے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک معلم کی سطح پر پہنچ جانے والے کسی شخص کو اخلاق سکھانا یا اس کی فکر کو درست کرنا نفسیاتی طور پر ایک نازک مسئلہ ہے، اور بنیادی طور معلم کو خود اس پر توجہ دینی چاہیے کہ وہ مطالعے کے ذریعے سے اپنی فکرکو کس طرح درست کرتا ہے یا اپنے اخلاق کو کس طرح سنوارتا ہے ۔ 

جہاں تک علمی اور فنی تربیت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے میری چار گزارشات ہیں: 

پہلی بات یہ کہ چونکہ میں دینی مدارس میں بھی پڑھا ہوں اور اس کے بعد یونیورسٹی میں بھی پڑھانے کا تجربہ ہے تو جب ہم یونیوسٹی کا اور مدرسے کا ایک موازنہ کرتے ہیں تو اس میں سب سے بڑا فرق ہمیں نظر آتا ہے، وہ ہے کسی فن میں اسپیشلائزیشن یا مہارت کا۔ کیونکہ یہ ایک فطری بات ہے کہ ایک ہی وقت میں صرف اور فقہ اور نحو اور منطق،چاروں میرے پسندیدہ مضمون ہوں اور میں ان کو پڑھاؤں بھی، یہ نہیں ہو سکتا بلکہ ہر طالب علم ان میں سے کسی ایک کا انتخاب زمانہ طالب علمی میں ہی کر لیتا ہے ۔ میں نے جب مدرسے میں پڑھانا شروع کیا تو استاد محترم نے پوچھا کہ ایک سبق ایسا لیں جس میں آپ کو زیادہ رغبت ہو، تو میں نے کہا کہ فقہ سے مجھے زیادہ رغبت ہے۔ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک استاد ہر فن میں ماہر ہو ، یہ ایک فطری رجحان ہوتا ہے ۔ 

ہمارے مدارس میں اس کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ مثلاً ایک استاد نے ہدایۃ النحو یا کافیہ ایک سال پڑھایا تو اگلے سال اس سے چھین لیا جاتاہے۔ طالب علم ہدایۃ النحو ایک استاد سے پڑھ کر اس استاد کا انداز سمجھتا ہے تو اگلے سال کافیہ پڑھانے والا استاد بالکل اور طریقے سے پڑھاتا ہے تو طالب علم کا جو ایک رجحان بنا تھا اور وہ ہدایۃ النحو جو ذہن میں لے کر آیا تھا، وہ یکسر آکر دوسرے استادکے انداز نے بدل دیا۔ تو یہ جو وقفے آجاتے ہیں، اس سے بڑا نقصان ہوتا ہے ۔ اس حوالے سے میں گزارش کروں گا کہ ایک استاد اگر نحو پڑھا رہا ہے تو اسے مسلسل اس کا موقع دیا جائے تاکہ وہ نحو میں ماہر ہو اور ا س کی شہرت ہو جائے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک استاد تمام فنون میں یکساں مہارت حاصل کر لے۔ یونیورسٹی میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک استاد تقابل ادیان پڑھا رہا ہے تو وہ وہی پڑھائے گا کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ تقابل ادیان کا مالہ وماعلیہ کیاہے۔ 

دوسری بات ہے طریقہ تدریس کی۔ ہمارا طریقہ تدریس یہ ہے کہ جو ہم دیکھتے چلے آرہے ہوتے ہیں اور جس طرح ہم نے استاد کو پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح ہم کوشش کریں گے کہ آگے پڑھائیں، کیونکہ ہمیں بتایا ہی نہیں گیا اور نہ ہم نے ا پنے استاد کے علاوہ کسی اور کو پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے ۔اب جدید طریقہ تدریس میں ملٹی میڈیا آگیا ہے ،بلیک بورڈ آگیا ہے، لیکن یہ تمام چیزیں ابھی تک ہمارے مدارس میں مفقود ہیں۔ ہمارے مدارس میں طریقہ یہ ہے کہ استاد بیٹھا ہوا ہے اور تلقی اور بالمشافہہ تدریس کا جو سلسلہ ہے، وہی چلتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ طریقہ اس وقت مفید تھا جب لوگوں کے حافظے بہت اچھے ہوتے تھے ۔استاد نے ایک بات کہی اور طالب علم نے اس کو محفوظ کر لیا۔ لیکن اب نہ وہ مزاج رہے ہیں، نہ وہ حافظے رہے ہیں اور نہ ہمارے مدارس میں اس قسم کے طلبہ آتے ہیں۔ اس بات کو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ جو بچہ گھر میں سب سے نکما ہو گا، اس کو مدرسے میں داخل کر ا دیں گے۔ تو جب طلبا کی ذہنی سطح یہ ہو تو اس میں پھر ہمیں ان تمام چیزوں کا سہارا لینا چاہیے جو تدریس میں اضافی معاونت کا ذریعہ بن سکتی ہوں۔ ایک استاد اگر زبان سے کچھ کہتا ہے اور طالب علم اس کو سنتا ہے، پھر اس کا تکرار ہو گیا، مطالعہ ہو گیا تو اس طرح ایک محدود وقت کے لیے وہ بات طالب علم کے ذہن میں رہتی ہے، لیکن اس میں اس کے سمجھنے کی ایک ہی حس استعمال ہوئی ہے‘ اس نے صرف سماعت کی ہے۔ لیکن اس کے بجائے اگر بلیک بورڈاستعمال کیا جائے‘ ملٹی میڈیا استعمال کیا جائے تو اس سے طالب علم کے دیگر حواس بھی کام کرتے ہیں۔ استاد نے ایک چیز لکھ کرطالب علم کو سمجھائی ہے تو اس نے سنی بھی ہے، دیکھی بھی ہے اور سمجھی بھی ہے۔ کتنے حواس سے وہ چیزوں کو اخذ کر رہا ہے۔ تو میرا خیا ل ہے کہ ہمارے طریقہ تدریس میں تبدیلی ضرور آنی چاہیے۔ کم از کم بلیک بورڈ کا استعمال تو ضرور کیا جائے‘ حتیٰ کہ اگر وہ کوئی ایسا فن پڑھا رہا ہے جس میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی تو بھی وہ اس میں ایسی چیزیں لے کر آئے کہ اس کا استعمال ہو سکے۔ طالب علم کے حواس کو جتنا آپ مصروف رکھ سکتے ہیں، رکھیں۔

تیسری بات یہ کہ ہمارا تدریس کا مواد بھی بالکل روایتی ہے کہ جس طرح پہلے پڑھایا جاتا تھا، ویسے ہی آج بھی پڑھایا جا رہا ہے۔ نصاب کی بحث اپنی جگہ لیکن اتنا تو ہم کر سکتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھا رہے، مثلاً فقہ پڑھا رہے ہیں یاجدید معیشت وتجارت پڑھا رہے ہیں تو اس کے بارے میں ہمارے معاشرے کے اندر جو عملی مثالیں ہیں، ان کا استعمال زیادہ کیا جائے۔ اس سے میں سمجھتا ہوں کہ طالب علم کے ذہن میں کتاب اور شرح سے ہٹ کر ایسی چیزیںآئیں گی جو استاد کے ذہن میں بھی نہیں آسکتیں اوروہ چیزیں طالب علم کبھی بھلا نہیں سکتا، کیونکہ وہ عملی طور پر اس کو اپنے ذہن میں لے رہا ہوتا ہے۔ تو تیسری چیز یہ ہے کہ عملی مثالیں اپنے تدریسی مواد میں شامل کریں۔

چوتھی بات زبان کا استعمال ہے۔ بدقسمتی سے میرے سمیت جو نئے معلمین ہیں‘ عربی زبان تو دور کی بات ہے، اردو زبان جس میں ہم پڑھا رہے ہوتے ہیں، وہ بھی ہماری گرفت میں نہیں ہوتی۔ اس میں ہمیں اعتماد پیدا کرنا چاہیے۔ اگر ایک استاد کی زبان عمدہ اور موثر ہے تو اس کے اپنے اثرات ہوں گے۔ اگر معلم اس میں فرق نہیں کر سکتا کہ نہر بہتا ہے یا بہتی ہے تو طالب علم بھی ساری زندگی اس پر توجہ نہیں دے گا۔ یہ چار باتیں فنی اور عملی تربیت کے حوالے سے تھیں۔

پانچویں بات جو ضمنی ہے، وہ ہمارا رہن سہن کا طریقہ ہے۔ اس کو بھی بہتر کر نے کی ضرورت ہے۔ اگرایک استاد صاف ستھرے اور اچھے کپڑے پہنتا ہے تو طلبا اس کو دیکھ کر اپنا رہن سہن بہتر کر لیں گے، اس کو کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی کیونکہ ایک حقیقی معلم کی حیثیت اپنے طلبا کے لیے ایک نمونہ کی سی ہوتی ہے۔ ایک معلم کا رہن سہن‘ اس کا کلاس میں آنا ‘ کلاس سے اٹھ کر جانا‘ اپنے طلبہ کے ساتھ ملنا جلنااگر بہتر ہے تو اس سے طلبہ کے اخلاق وکردار پر اثر پڑے گا۔ 

سب سے بڑی ضرورت جو میں محسوس کرتا ہوں، وہ یہ کہ طلبہ کو سوال کرنے اور اظہار خیال کرنے کا موقع دیا جائے اور اس میں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ میں مدرسے سے یونیورسٹی میں گیا۔ مدرسے میں ‘میں یہ سمجھتا تھاکہ اپنی کلاس میں اور اردگردکے ساتھیوں میں زیادہ باتونی ہوں۔ مدرسے میں ہم تقریریں بھی کیا کرتے تھے، زمانہ طالب علمی سے جمعہ بھی پڑھایا کرتے تھے۔ یونیورسٹی میں ایک پروگرام ہوتا ہے کہ جس چیز پر آپ نے لکھا ہے، اس کو آکر بیان کریں۔ جب وہاں ڈیسک پر کھڑے ہوئے تو آپ یقین کریں کہ جو کچھ وہ بول رہے تھے، وہ نہ ہماری سمجھ میں آرہا تھانہ ہم وہ بول سکتے تھے۔ یہ مطلب نہیں کہ ہمارے پاس مواد نہیں تھایا الفاظ نہیں تھے، کمی صرف اعتماد کی تھی۔ تو استاد کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کا اعتماد بڑھائے۔ ان کو اتنا اعتماد دلائے کہ اگر ان کو صدر کے سامنے بھی کھڑا کر دیا جائے تو وہ اپنی بات کہہ سکیں۔

اپنے طلبہ میں اعتماد کیسے پیدا کیا جائے؟ اس کے بہت سے طریقے ہیں۔ مثلاً جب آپ اس کو پڑھا رہے ہوں تو آپ خود اس کو اعتماد سے پڑھائیں اور جب آپ سبق سنیں یا ٹسٹ لیں تو اس کا اعتماد چیک کریں۔ وہ اگر غلط لکھتا ہے تو اس کو اعتماد سے بتائیں۔ آپ نے اگر اس کو دس نمبروں میں سے صفر دیا ہے کہ بس وہ جائے اور اگلے دن کے ٹسٹ کی تیاری کر کے آئے تو اس طرح نہ طالب علم کو اس ٹسٹ کا فائدہ ہو گا نہ آپ کو۔

یہ میری کچھ گزارشات تھیں ۔اﷲتعالی عمل کی توفیق دے ۔ آمین۔

مولانا محمد طارق بلالی 

(مدرسہ اشرف العلوم، گوجرانوالہ)

میری ایک گزارش ہے کہ ہمارے ہاں مدرسین بھی اور متعلمین بھی احساس کمتری کا شکا ر ہیں۔ اگر ابتدا ہی سے اس علم کی عظمت اور اس کی اہمیت طلبہ کے ذہنوں میں بٹھا دی جائے تو یہ کافی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ ہمارے طلبہ جب اسکول وکالج کے طلبا کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو وہ خود کو ان سے کم تر سمجھتے ہیں اور ان میں اتنی استعداد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے علم کی اہمیت وعظمت کو ان کے سامنے بیان کر سکیں۔ تو طلبا میں خود اعتمادی پیدا کرنی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہم نے خود پڑھا ہوتا ہے، ویسے ہی آگے پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طریقہ میں کوئی بہتری بھی آسکتی ہے، اس بارے میں ہم بالکل نہیں سوچتے۔اللہ رب العزت توفیق نصیب فرمائے ۔

مولانا حافظ محمد یوسف 

(الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ)

محترم سامعین ! آپ مختلف اصحاب فکر ودانش کی گفتگو سن رہے ہیں۔ ان کی گفتگو کی روشنی میں ایک بات تو یہ سامنے آئی کہ عصری علوم کی طرف ہمارے مدارس کو قدم بڑھاناچاہیے ۔ البتہ میرا چھ سات سال کا تجربہ یہ ہے کہ عصری علوم کے ساتھ اگرتربیت نہ ہو تو عصری علوم کے ساتھ دین ایک فتنہ بن جاتاہے۔ میں پی ایف اے میں وارنٹ آفیسر بھرتی ہو گیا۔ ایک دفعہ ایجوکیشن کا اجلاس ہو رہا تھا، میں بھی موجود تھا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آئندہ جو خطبا ہم بھرتی کریں تو دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبا کو بھرتی نہ کریں۔ میں نے ایجوکیشن آفیسر سے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہاکہ وہ ایک مخصوص زاویہ فکر کے ساتھ یہاں آتے ہیں۔ ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ ہم ان کی جگہ یونیورسٹی سے ایم ۔اے پاس طلبہ کو خطیب کی حیثیت سے بھرتی کریں۔ میں نے عرض کیاکہ ٹھیک ہے، آپ انہیں بھرتی کریں لیکن میں علیٰ وجہ البصیرۃعرض کرتا ہوں کہ سو فیصد نہیں تو ستر فیصد ایسے طلبہ ہوں گے جو مصلاے امامت پر کھڑے ہونے کے اہل نہیں۔ یہ بات میں پوری دیانت داری سے عرض کرتاہوں اورمیرااپنا تجربہ بھی ہے کہ ایم اے پاس طلبہ کی جب تک دینی تربیت نہ ہو گی، وہ اس کے اہل نہ ہوں گے کیونکہ اس میں سے اکثر تو امامت کو اپنے اسٹیٹس کے خلاف سمجھتے ہیں۔ تو بغیر تربیت کے عصری علوم کی طرف کوئی بھی قدم ایک بہت بڑے فتنے کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہو گا۔

انگلش لینگویج کی بھی بات ہوئی۔ میں انگلش زبان کا ماہرتو نہیں ہوں، لیکن انگلش پڑھاتے ہوئے کچھ عرصہ ہوگیا ہے۔ جب زبان بغیر تربیت کے آتی ہے تو لامحالہ اپنا ماحول ضرور لے کر آتی ہے۔ بڑی معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے طلبہ مدارس سے فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں‘ یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں،سب کی بات نہیں کر رہا کیونکہ سب کا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں، مدرسے سے نکلتے ہیں تو چہرے پر ڈاڑھی اور سر پر پگڑی بھی ہوتی ہے ‘ لیکن دکتورہ کی ڈگری ملنے تک ستر فیصد شیو کروا چکے ہوتے ہیں۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے۔ میں نے بہت سے ساتھیوں کو دیکھا۔ میں نے اپنے ایک طالب علم کو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بھیجا۔ جب وہ ملنے کے لیے آیاتو میں نے محسوس کیا کہ اس کی ڈاڑھی کٹی ہوئی ہے۔ میں نے افسوس کرتے ہوئے کہاکہ بھئی، تمہیں اس کام کے لیے تو وہاں نہیں بھیجا تھا۔ تو وہ کہنے لگا کہ استاد جی، یہ سنت ہی تو ہے، فرض تو نہیں ہے۔ میں نے کہاکہ ٹھیک ہے، فرض نہیں ہے لیکن سنت تو تم خود اسے تسلیم کر رہے ہو اور یہ کہ تمھارا یہ جواب مسلمانوں والا نہیں ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک چھوٹی سی بات ہے‘ لیکن میں اسے ضروری خیا ل کرتا ہوں کہ انگلش ضرور سیکھیں‘ کمپیوٹر ضرور سیکھیں، لیکن اکابر کے مزاج اور راہ کو کبھی نہ چھوڑیں۔ یہ ہمارے پاس بہت بڑا سرمایہ ہے۔

حضرت امداداﷲ مہاجر مکیؒ کے بارے میں، میں نے کہیں پڑھا کہ انہوں نے کافیہ تک کتابیں پڑھی تھیں، لیکن حضرت کا فیضان اﷲ تعالیٰ نے کتنا پھیلایا! اس وجہ سے کہ پوری امت کے علما کے ساتھ جب تعلق ہو گاتو اﷲ تعالیٰ فیض کو آگے پھیلا دیں گے۔ چودہ سو سال کے امت کے اجتماعی تعامل کو چھوڑ کر دین کو سمجھنے کی کوئی بھی کوشش ایک بہت بڑے فتنے کا باعث ہو گی اور کئی ایسے فتنے کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے بڑے بھائی ہیں۔ انہو ں نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی، پھر ایم اے کیااور نیوی میں خطیب بھرتی ہو گئے۔ بعد میں سول جج بھرتی ہو گئے۔ اب چند دن پہلے انہیں قطر کے سفارت خانے سے آفر آئی کہ آپ ہمارے پاس آئیں اور یہاں آکر خدمات سرانجام دیں تو انہوں نے کہاکہ میں اٹھارہ بیس سال ملک کے جدید تعلیمی اداروں میں پڑھا چکا ہوں، نمل اسلام آباد میں ‘میں نے پڑھایا ہے‘ الدعوۃ اکیڈمی میں بھی پڑھایا ہے‘ اب میں اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ جو فائدہ میں مدارس میں اٹھا سکتا تھا، وہ میں وہاں نہیں اٹھا سکا۔ اب میں شعبہ حفظ کی ایک کلاس پڑھا رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسی کو پڑھاتا رہوں۔ یہ بات میں نے ضمناً عرض کردی ہے۔ اﷲتعالیٰ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین ۔

مولانا مشتاق احمد 

(جامعہ اسلامیہ، کامونکی)

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ امابعد !

سب سے پہلے تو میں مخدوم گرامی حضرات مولانا زاہد الراشدی مدظلہ اور ان کے رفقا کا شکر گزار ہوں کہ وہ ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں، اور آج کی نشست میں بھی انہوں نے مجھے اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ فی البدیہہ جو باتیں میرے ذہن آئی ہیں، میں وہی بیان کر رہا ہوں۔ میری آج کی جو گزارشات ہیں، ان کے کئی پہلو ہیں۔ ایک تو دینی مدارس کا نصاب ، دوسرا اساتذہ کرام کے انتخاب کا معیا ر، تیسرا طلبا کی تعلیم و تربیت کا طریق کار، چوتھاجدید علوم کی سرگرمیاں اور اس طرح کی چند ایک باتیں۔ میں شق وار ہر جانب اشارہ کرتا ہوں۔

پہلی بات دینی مدارس کے نصاب کے حوالے سے کہ دینی مدارس کا نصاب بدلنا چاہیے یا نہیں بدلنا چاہیے؟ کس حد تک ترمیمات ہونی چاہییں؟ بیسیوں سال گزر گئے، یہ بحث چل رہی ہے اور چلتی رہے گی لیکن میں اس میں صرف اتنی بات عرض کروں گا کہ اگر ہمارے بہت سے علماے کرام، اساتذہ کرام، وفاق کے ذمہ دار حضرات موجودہ نصاب کو ہی تر جیح دیتے ہیں اور اس پر قائم ہیں کہ اس میں تبد یلی نہیں ہونی چاہیے یاجزوی طور پر کوئی تبدیلی ہو تو ہو، میں اس حوالے سے عر ض کروں گا کہ فنون میں پختگی حاصل کر نا اور چیز ہے اور ان درس نظامی کی کتابوں کو پڑھنا، ان کے قیل وقال میں مہارت پیدا کرنا، یہ اور چیز ہے۔ مثلاً ایک ہے شرح جامی کو سمجھنا اور ایک ہے علم نحو کو سمجھنا۔ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس لیے جدید طرز کی جو کتا بیں لکھی جا رہی ہیں، ان سے اساتذہ کو بھی استفادہ کرنا چاہیے اور طلبا کے لیے بھی بطور مطالعہ ایسی کتب تجویز ہونی چاہییں کیونکہ نصاب تبدیل کرنا تو ہمارے بس کی بات نہیں ہے، لیکن ایسی جدید طرز کی لکھی ہوئی کتابیں اساتذہ اپنے زیر مطالعہ رکھ سکتے ہیں، طلبا کو مطالعہ کروا سکتے ہیں۔ اس کا اہتمام ضرور ہونا چاہیے ۔

دوسری بات اساتذہ کے انتخاب کے معیار سے متعلق ہے۔ سرکاری طور پر ایک ٹیچر یا پروفیسر بھرتی ہونا ہو تو اس کی تقرری سے پہلے اس کے لیے تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے، اس کے بعد اس کو بطور ٹیچر یا بطور پرو فیسر کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ دینی مدارس میں افسوس یہ ہے کہ ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔ دینی مدارس میں ذاتی تعلقات اور سفارشیں بھی کام کرتی ہیں۔ ہم نے یہ بات چار پانچ سال قبل وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالند ھری سے بھی عرض کی تھی کہ اس طرز کے کسی پروگرام کا انعقاد وفاق کے تحت ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس سے اتفاق کیا اور فرمایا کہ یہ معاملہ زیر غور ہے، لیکن چار پانچ سال گزر گئے، اس کا کوئی پتہ نہیں چلا کہ معاملہ کہاں تک پہنچا ہے۔اس حوالے سے میں اپنے مادر علمی جامعہ اسلا میہ امدادیہ فیصل آباد کا حوالہ دوں گا کہ استاذمحترم حضرت مولانا نذیر احمد اس بات کا اہتمام کیا کرتے تھے کہ دورۂ حد یث کے طلبا کو بالخصوص اور باقی طلبا کو بالعموم تدریس کا طریقہ بتلایا کرتے تھے۔ شعبان یا رمضان میں دو تین ہفتے کا خصوصی پروگرام ہواکرتا تھا۔ اس قسم کے پرو گرام ملک کے جتنے بھی بڑے بڑے مراکز ہیں، ان کو منعقد کرنے چاہییں۔ اگر وفاق کی مجبوریاں ہیں یا وفاق والے اس کا انتظام نہیں کرسکتے تو ہر ڈویژن میں ایک بڑے مدرسے والے اس کا انتظام کر لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ کافی حد تک اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ اب تعلقات کی بنیاد پر یا بعض دوسری وجوہا ت سے جو اساتذہ بھرتی ہو جاتے ہیں، وہ کیسے کیسے لطیفے پیدا کرتے ہیں۔ میں صرف ایک بات مثال کے طور پر عرض کر نا چاہوں گا کہ ایک مدرس کو جسے فارسی پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، حکم دیا گیا کہ فارسی پڑھانی ہے۔ اس نے طلبا کو فارسی پڑھائی۔ پڑھاتے ہوئے ایک لفظ آیا ’’ترش رو‘‘، تو اس نے اس کا معنی بیان کیا ’’کھٹے منہ والا‘‘۔

ڈاکٹر محمود الحسن عارف صا حب بھی اس حوالے سے بات کر رہے تھے کہ اساتذہ کو اپنے ماحول کو، اپنے موضوع کو، منطق و فلسفہ جو بھی ہے اور مجموعی طور پر جو بھی ساری صورت حال ہے، اس کو اور طلبا کی نفسیات کو سامنے رکھ کر، طلبا کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تعلیمی نفسیات کے اصولوں کو ملحوظ رکھنا ایک استاذکے لیے بہت ضروری ہے۔ 

استاذمحترم حضرت مولانا نذیر احمد کا ایک مقولہ میں نقل کرتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ وہی آدمی استاد کہلانے کا مستحق ہے جو فن تدریس میں مجتہد ہونے کا ملکہ رکھتا ہے۔ جو استا د مجتہد فی التدریس نہیں ہے، وہ استاد کہلانے کے قابل نہیں۔ انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا اور اس میں سمجھنے والے کے لیے بہت کچھ ہے۔

ایک بات میںیہ عرض کروں گا کہ جدید علوم کس حد تک دینی مدارس میں ہونے چاہییں، اس حوالے سے تو دو آرا ہوسکتی ہیں، لیکن آیا اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بحث اب ختم ہو چکی ہے۔ ضرورت کو ہر کوئی مانتا ہے۔ دور حاضر میں انگلش ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اس میں ہمارے علماے کرام کو مہارت ہونی چاہیے، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے جید علماے کرام کو اس میں مہارت نہیں ہے۔ میں نے ایک دفعہ اپنے مخدوم ومحترم حضرت مولانا راشدی صاحب سے عرض کیا تھا کہ حضرت، آپ انگلش سیکھ لیں، آپ کی کاکردگی اور جتنی تبلیغ آپ کر رہے ہیں، اس سے کئی گنا آپ زیادہ کام کر سکیں گے، لیکن حضرت نے اپنے روایتی انداز میں ہنس کر ٹال دیا۔ اسی طرح کمپیوٹر کے ذریعے سے بھی علماے کرام کے لیے تبلیغ کا ایک بڑا میدان ہے۔ انٹر نیٹ میں جہا ں خرافات بہت ہیں، اسی طرح کمپیوٹرمیں بھی ہیں لیکن انٹر نیٹ میں تو اب بڑی بڑی لائبریریاں منتقل ہوگئی ہیں اور بڑے بڑے دینی مدارس بھی اپنی لائبریریاں انٹرنیٹ پر منتقل کر رہے ہیں۔ کراچی کے بعض مدارس کا کام اس حوالے سے شروع ہے۔ تو انٹرنیٹ کے ذریعے سے جہاں قادیانی تبلیغ کرتے ہیں، عیسائی تبلیغ کرتے ہیں، ہمیں بھی اس میدان میںآنا چاہیے اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے ہمیں بھی دین کا کام کرنا چاہیے۔

موضوع کے حوالے سے تو میری گزارشات یہی تھیں۔ آخر میں حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ایک ملفوظ سنانا چاہتا ہوں۔ اس ملفوظ میں میرے لیے بھی بڑا فائدہ ہوگا اور آپ کے لیے بھی ہوگا۔ حضرت نے فرمایا کہ علماے کرام اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ زمانہ ہماری قدر نہیں کرتا، لوگ قدر نہیں کرتے۔ فرمایا کہ یہ شکوہ اکثر وہ لوگ کرتے ہیں جن میں یا خلوص کی کمی ہوتی ہے یا صلاحیت کی۔ یا تو کام کرنے کی پوری صلاحیت نہیں ہوتی یا پورا اخلاص نہیں ہوتا۔ فرمایا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایک شخص میں اخلاص بھی کامل ہو اور کام کرنے کی صلاحیت بھی پوری ہو اور لوگ اس کی قدر نہ کریں۔ جو لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں، ان کو اپنا جائزہ لینا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔

الشریعہ اکادمی