مکاتیب

ادارہ

محترم ومکرم جناب مدیر الشریعہ صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج بخیر؟

ماہنامہ الشریعہ اکتوبر کے پرچے میں مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب کا سانحہ لال مسجد کے حوالے سے مضمون پڑھ کر دل کو جو صدمہ پہنچا، وہ بیان سے باہر ہے۔ پرانے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔ یہ مضمون میری طرح پتہ نہیں کتنے مسلمانوں، ماؤں اور بہنوں کی دل آزادی کا سبب بنا ہوگا۔ آخر جو مضمون ۲۳ جولائی کو تحریر کیا گیا تھا، کم وبیش دو ڈھائی مہینوں کے بعد پتہ نہیں کس مقصد اور افادیت کے پیش نظر الشریعہ میں شائع کیا گیا ہے۔ یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ مدارس کے ترجمان دینی ومذہبی نسبتاً معیاری رسائل میں اس سانحہ کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے، اس سے تو وہ غیر مذہبی رسائل ہی صحیح رہے جنھوں نے غیر جانب دارانہ اصل صورت حال بیان کی اور کھل کر مظلوموں کا ساتھ دیا۔ کاش مرنے کے بعد تو مرنے والے کو معاف کر دیا جاتا کہ اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے۔

مولانا سنبھلی صاحب غالباً پاکستان کے حالات اور یہاں کے حکمرانوں کے طرز عمل سے پورے طور پر واقف نیں، جیسا کہ انھوں نے اپنے مضمون میں اس بات کا خود بھی اعتراف کیا ہے۔ ان کی معلومات غالباً اخباری رپورٹوں تک محدود ہیں، اس لیے پہلے بھی ایک خط میں اور اب اس مضمون میں انھوں نے فرمایا کہ ’’کاش (غازی) برادران نے مسجد ہی کے تقدس اور طالبات وطلبا کی حفاظت ہی کے خیال سے گرفتاری دے دینے کو حصول شہادت کے مساوی سمجھ لیا ہوتا۔‘‘

جناب والا! حقیقت بھی یہی ہے۔ اسی خیال سے غازی صاحب آخری مذاکرات میں گرفتاری دینے کے لیے بالکل تیار ہو گئے تھے۔ اس کے گواہ مولانا فضل الرحمن خلیل صاحب موجود ہیں اور یہی بات قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے ’’الخیر‘‘ میں اپنے مضمون میں بیان فرمائی ہے۔

دوسری بات یہ کہ ڈرافٹ کی آخری اور حتمی شکل جو صحافی کے حوالے سے مضمون میں دی گئی ہے، وہ یہ تھی کہ عبد الرشید غازی کو ان کے گھرمیں رکھا جائے گا۔ یہ بات بھی مذاکرات میں شریک تمام علما کے بقول غلط ہے۔ صرف گھر کا لکھا گیا تھا نہ کہ ’’ان کے گھر میں۔‘‘ آخر مولانا صاحب کو جید علما کے بجائے ایک صحافی کے بیان پراعتماد کیسے ہو گیا جبکہ اسی صحافی نے علما کی طرف اور بھی کئی باتیں منسوب کی ہیں جن کی وضاحت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے کر دی ہے۔

باقی مولانا صاحب کو کرنل ہارون اسلام اور دیگر فوجیوں کے جاں بحق ہونے پر افسوس ہے اور یقیناًاس کا افسوس ہمیں بھی ہے، لیکن اس کا ذمہ دار کون ہے؟ مولانا صاحب! کرنل صاحب کس کی گولی سے جاں بحق ہوئے، اس کی صحیح حقیقت تو اس ذات علیم کو ہے جو دلوں کے رازوں سے بھی خوب واقف ہے۔ یہاں تو اس کے برعکس باتیں گردش کر رہی ہیں۔ دنیا میں اس کی حقیقت اگر واضح نہ بھی ہو سکی تو ان شاء اللہ قیامت کے دن کرنل صاحب خود اور غازی صاحب بتائیں گے کہ وہ کس کی گولی سے جاں بحق ہوئے۔ 

فوجی حکومت تو ہے ہی امریکی ایجنڈا پورا کرنے کے لیے۔ وہ بلا جھجھک اپنا کام پورا کر رہی ہے اور ہم آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہم سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں اور اپنے اپنے مزاج کے مطابق اسلام کی تعبیر وتشریح کر رہے ہیں اور باری باری قربانی کے بکرے بن رہے ہیں۔ عیار ومکار دشمن نے ہمیں کیسے مختلف ٹکڑیوں میں تقسیم کر دیا ہے کہ ہم اپنوں کے دکھ درد کو سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں۔ چند سال قبل مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے اپنی شہادت سے پہلے ایک مضمون میں بڑی دل سوزی کے ساتھ اس طرف توجہ دلائی تھی۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’علماے کرام، مشائخ عظام، اہل دین اور مجاہدین سمیت اہل حق دشمنان اسلام سے اتنے مرعوب ہو چکے ہیں یا بہ الفاظ دیگر اتنے تن آسان ہو چکے ہیں کہ وہ دفاع اور مقابلہ کی کیفیت سے عاری ہو چکے ہیں۔ پے درپے واقعات کے بعد انھوں نے دفاعی حکمت عملی اختیار کرلی ہے اور وہ دین کی حفاظت کا کام چھوڑ کر اپنی جان اور اپنے اداروں کے تحفظ میں لگ چکے ہیں۔ ان کی کیفیت بغداد کے زمانہ کے مسلمانوں کی ہو چکی ہے جب ایک تاتاری سپاہی سینکڑوں مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کر کے کہتا تھا کہ کھڑے ہو جاؤ، میں بندوق لے کر آ رہا ہوں جس سے تم کو قتل کروں گا۔ بزدلی کی اس کیفیت میں وہ جان بچانے کی حس سے عاری ہو چکے تھے اور سر جھکا کر مرنے کے لیے اپنے گردن آگے کر دیتے تھے۔
آج ہمارے مدارس پر پورے پاکستان میں افتاد پڑی ہوئی ہے اور ہم صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں کہ ہمیں کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ ہمارے ادارے تو جہادی سلسلے سے متعلق نہیں، ہمارے یہاں تفرقہ کی تعلیم نہیں دی جاتی، ہم تو کسی ایسے کام میں ملوث نہیں جس کی وجہ سے ہمارے اداروں کو نشانہ بنایا جائے۔ آج ہم میں سے ہر شخص اپنے تحفظ کی فکر میں ہے، اجتماعیت کا فقدان ہو چکا ہے۔ ایک ایک کر کے ہم دشمنوں کا نشانہ بن رہے ہیں، لیکن ہماری زبانیں اور قلم اپنوں کے خلاف چلنے سے نہیں رکتے۔اب تو ہماری بے حسی کی انتہا ہو چکی ہے کہ ہم ان واقعات پر احتجاج کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ حکومت کی طرف ہماری نگاہیں لگی رہتی ہیں جو خود اہل دین کو ملیامیٹ کرنے کے چکر میں ہے۔
اس وقت ضرورت ہے کہ اہل مدارس اجتماعیت اختیار کریں۔ سیاسی، مسلکی، شخصی، تنظیمی اور روحانی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر آپس کی مقابلہ آرائی سے کنارہ کشی اختیار کر کے ہر دین دار فرد کو اپنا عزیز سمجھیں، ہر مدرسہ کو اپنا مدرسہ، ہر ادارے، ہر جماعت، ہر مذہبی تنظیم کو اپنی جماعت تصور کریں، ہر غم زدہ کی امداد کے لیے فوراً پہنچ جائیں۔ اگر ہم نے اپنے اداروں اور اہل دین کو اس طرح لا وارث چھوڑ دیا تو دنیا میں تو ہم خوار ہوں گے ہی اور ہمارے ادارے ختم ہو جائیں گے، اور قیامت کے دن بھی ہم مواخذۂ خداوندی سے بچ نہیں سکیں گے۔‘‘

محمد اصغر غفرلہ

جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد

مکاتیب

(نومبر ۲۰۰۷ء)

Flag Counter