قورح، قارون: ایک بے محل بحث

ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

(زیر نظر مضمون کے ساتھ اس سلسلہ بحث کو ختم کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


دسمبر ۲۰۰۵ ء کے ’الشریعہ‘ میں میرا ایک دعوتی واصلاحی نوعیت کا مضمون ’’قرآن کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں‘‘ شائع ہو اتھا جس میں ضمناً قارون کو بائبل (توراۃ) کا قورح بتایا گیا تھا اور اس کے لیے کوئی حوالہ ضروری نہیں سمجھا گیا تھا، کیونکہ عصر حاضر کے متعدد مترجمین ومفسرین قرآن مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا عبدالماجد دریا بادیؒ اور عبد اللہ یوسف علی نے اپنی تفاسیر میں قارون کو بائبل کا قورح کہا ہے اور یہی عبدالوہاب النجار ازہری علما نے اپنی کتاب قصص الانبیاء میں لکھا ہے۔ (ص ۱۹۲) البتہ میں نے توراۃ کی کتاب ’’گنتی‘‘کے اصحاح ۱۶ کی نشان دہی صرف اس مقصد کے لیے کردی تھی کہ اس میں قورح کا ذکر متعدد بار آیا ہے۔ یاد رہے کہ اس اصحاح میں ۵۰ فقرے یا آیات ہیں،اور میں نے حوالے کے لیے کسی فقرے کی نشان دہی نہیں کی تھی۔ مقصود صرف یہ دکھانا تھا کہ قورح کا نام کتاب گنتی باب ۱۶ میں آیاہے۔

میرے اس مضمون کے مذکورہ بالا ضمنی نقطے (قارون بائبل کا قورح ہے) کے ردّ میں ایک صاحب (محمد یاسین عابد) کا مضمون ’’کیا بائبل کا قورح ہی قرآنی قارون ہے‘‘ الشریعہ کے فروری ۲۰۰۶ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ میں نے جواباً ایک مضمون ’’بائبل کا قورح ہی قرآن کا قارون ہے‘‘ (الشریعہ، مارچ۲۰۰۶ء) لکھنا ضروری سمجھا کیونکہ اس مضمون میں ایک طرف میر ی تشہیر تھی اور دوسری طرف مستند اور محترم علماے کرام اور مفسرین عظام کی تجہیل وتغلیط اور اپنی شہرت واظہار علم کا پہلو نمایاں تھا۔ اگر وہ یہ مضمون صرف مجھے بھیجتے تو قرآنی حکم کے مطابق ’..... قالوا سلاما‘ (الفرقان:۶۳) اور ’سلام علیکم ......‘ (القصص :۵۵) کہہ کر میں خاموش ہوجاتا یا اپنے نقطہ نظر کی توضیح ایک خط میں کردیتا۔

اگر یہ سلسلہ یہیں ختم ہوجاتاتو بہتر تھا، لیکن مذکورہ بالا مضمون نگار صاحب نے ایک اور تنقیدی وتردیدی مضمون ’’قورح ،قارون اور کتاب زبور‘‘ لکھ ڈالا جو الشریعہ کے شمارہ اپریل ۲۰۰۶ میں اشاعت پزیر ہوا جس کو پڑھ کربہت افسوس ہوا اور محسوس ہوا کہ یہ صاحب مناظرہ بازی کے شوقین اور مناظرہ بازوں کاانداز رکھتے ہیں، یعنی فریق مخالف کے الفاظ اور جملوں سے غلط استخراج معانی اور الفاظ کی غلط صورت گری کرکے اشتعال انگیزی ۔مولانا اسماعیل شہیدؒ اور بعد میں مولانا قاسم ناناتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کی عبارت کے ساتھ مناظرہ بازوں نے یہی کیاہے ۔

اس انداز بیان کی ایک جھلک موصوف کے شمارہ اپریل کے مضمون کے چند جملوں سے لگا ئی جاسکتی ہے جویہ ہیں: ’’لیکن افسوس کہ میرے اس جملے سے ڈاکٹر صاحب کے پندار کو سخت چوٹ لگی اور انہوں نے مارچ ۲۰۰۶ء کے شمارے میں اس غلطی کی نشان دہی پر میرے انداز کو جارحانہ اور علمی حیثیت سے گرا ہوا قرار دیتے ہوئے نہ صرف مجھے بائبل پر قرآن سے زیادہ اعتماد کرنے کا طعنہ دیاہے بلکہ لمبی زبان والا، یہودی، جاہل، غافل اور دھوکے باز جیسی گالیوں سے بھی نوازا ہے‘‘۔

میرا جوابی مضمون مارچ کے شمارے میں ہے۔ ہر انصاف پسند انسان اسکو پڑھ کریہی کہے گا کہ میں نے ان مضمون نگار صاحب کو کہیں بھی یہودی، جاہل، غافل اور دھوکے باز نہیں کہاہے۔ البتہ میں نے ان کے بائبل پر زیادہ اعتماد کا اشارہ ضرور دیاتھا اوران کو بائبل کا حافظ لکھا تھا ،کیونکہ ان کا پہلا تنقیدی مضمون اور پھر دوسرا بھی (اپریل ۲۰۰۶ء) بائبل کے مختلف کتابوں کے حوالوں سے بھرا ہوا تھا۔ معلوم نہیں اس میں کون سی غلط بیانی اور تنقیص یا گالی ہے! میں قارئین کی یاد دہانی کے لیے عرض کرتاہوں کہ موصوف نے قورح کے شجرہ نسب اور دیگر اوصاف پر ایک صفحہ سے زیادہ سیاہ کیا تھا۔ بھلا اس کا میرے مضمون ’’قرآن کا نظریہ مال ودولت‘‘ سے کیا تعلق؟ یہ تعالم (اظہار علمیت) نہیں تو کیاہے ؟

پھر موصوف کے بائبل پر حد سے بڑ ے ہوئے اعتماد کے سلسلے میں، میں نے اس قورح کے شجرہ نسب سے متعلق بائبل کے متضاد ومتناقض بیانات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ بائبل کی کتاب خروج میں وہ ان کے مطابق اضہار بن قہات کا بیٹا ہے، جبکہ اسی بائبل کی کتاب ۱۔ تواریخ ۶: ۲۲،۲۳ میں قورح عمینداب کا بیٹا ہے (قہات کا بیٹا عمینداب، عمینداب کا بیٹا قورح) اس موقع پر میں نے لکھاتھا کہ ’’کیا بائبل کے حافظ یاسین عابد صاحب کی نظر سے بائبل کا یہ باب اور یہ فقرہ نہیں گزرا یا انہوں نے جان بوجھ کر تغافل کیاہے‘‘۔ اب بتایا جائے کہ ان الفاظ میں کون سی گالی ہے؟ گالی تو اسے کہتے ہیں جو حضرت ابوبکرؓ نے عمرو بن سہیل کو اس کی رسول اللہ سے بدتمیزی اور گستاخانہ مطالبے پر صلح حدییبہ کے موقع پر دی تھی۔مجھے تو ایسا لگتاہے کہ مناظرہ بازی کے شوقین یہ مضمون نگار صاحب الفاظ کی نزاکت اور ان کے صحیح استعمال سے بھی واقف نہیں ۔اگر قارون وقورح سے متعلق یہ سب باتیں ’الشریعہ‘ جیسے موقر مجلے کے صفحات پر نہ آتیں تو میں ہر گز ان کی باتوں کا جواب نہ دیتا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یاسین عابد صاحب نے اپنے جوابی حالیہ مضمون ( اپریل) میں بائبل کے اس متناقض بیان کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی۔ کرتے بھی کیسے، انہوں نے تو اپنے فروری ۲۰۰۶ء کے مضمون میں بڑے دھڑلے سے قورح کا نسب نامہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک لکھتے ہوئے اس کو اضہاربن قہات کا بیٹا لکھا تھا، جبکہ اسی بائبل کی ایک دوسری کتاب ۱۔ تواریخ کے مطابق وہ عمینداب کا بیٹا تھا۔

قرآن نے کہا ہے: ان قارون کان من قوم موسیٰ (قارون ،موسیٰ کی قوم میں سے یعنی اسرائیلی تھا) ہمارے قدیم مستند ائمہ تفسیر طبری، قرطبی، زمخشری وغیرہ نے لکھا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی قورح بن یصہر بن لاوی بن یعقوب تھا۔ بات ختم ہوئی کہ یہ ائمہ تفسیر توراۃ (بائبل) سے بخوبی واقف تھے۔مزید یہ کہ ہمارے عصر حاضر کے لائق اعتنا ثقہ مفسرین نے بھی یہی لکھا ہے۔ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تو بائبل کو کھنگالنے کی کیاضرورت ہے اور اگر کھنگالتے ہیں تو ٹھیک طرح سے اور دیانت داری کے ساتھ کھنگالیے۔ ایسے ہی ایک سیاق میں، میں نے لکھا تھا کہ انہوں نے مجھے تو یہ طعنہ دیا تھا کہ میں نے کبھی بائبل کھول کر بھی نہیں دیکھی بلکہ سنی سنائی باتیں لکھ دی ہیں، ’’کیا اب میرا یہ کہنا درست ہوگا کہ موصوف نے کبھی بائبل کھول کر دیکھی ہی نہیں، یا دیکھی ہے تووہ جان بوجھ کر غلط بیانی کررہے ہیں اور قارئین کودھوکہ دے رہے ہیں۔‘‘

اب خدارا بتایا جائے کہ اس میں کون سی گالی ہے جس پر انہوں نے دہائی دی ہے؟ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اپریل کے اسی شمارے میں جس میں یاسین عابد صاحب نے گالیوں کی بے دہائی دی ہے، مولوی محمود خارانی صاحب کا ایک خط شائع ہوا ہے جس میں موصوف نے اس ناچیز کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ ان صاحب کو یہ بات بہت بری لگی ہے کہ میں نے یاسین عابد صاحب کو ’’بائبل کا حافظ ‘‘کہاہے۔ وہ یقیناًبائبل کا بہت وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔ یہ بات ان کے پہلے اور دوسرے مضمون (فروری واپریل ) اور پھر تیسرے خط نما مضمون (غیر شائع شدہ) سے آشکاراہے کہ ان مضامین میں انہوں نے بائبل کی مختلف کتابوں کے بکثرت حوالے دیے ہیں بلکہ اپنے تیسرے خط نما مضمون میں (جو انتہائی انفعالی اور مبالغانہ انداز میں لکھا گیاہے) تو آنجناب نے فارسی، عربی،بلکہ گورگھی بائبل کے حوالے بھی دیے ہیں۔ اب ایسے شخص کو اگر بائبل کاحافظ نہ کہا جائے تو کیا کہاجائے؟ اس لیے دارالعلوم کورنگی کے ان مولوی محمود خارانی صاحب (جن کو صاحب مضمون نے حضرت مولانا محمود خارانی صاحب کے نام سے یاد کیاہے) کی شکایت بیجا ہے۔ موصوف نے مجھے جو فرمان نبویﷺ یاد دلایاہے کہ ’’مومن کے ساتھ اچھا گمان رکھو ‘‘ تو کیا موصوف نے اس ناچیز کو کافر سمجھ رکھاہے کہ انہوں نے یاسین عابد صاحب کو مجھ سے بدگمانی بلکہ مجھ پر زبان طعن دراز کرنے کی اجازت دیدی۔ کیا انہوں نے یاسین عابد صاحب کا یہ جملہ نہیں پڑھا کہ’’ ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی صاحب بہادر نے کبھی بائبل کھول کر بھی نہیں دیکھی‘‘۔ کیا یہ بدگمانی جائز ہے ؟ مزید یہ کہنا کہ ’’ڈاکٹر صاحب نے شاید قرآنی قارون کو پیش نظر رکھ کر خیالات کے گھوڑے دوڑائے ہیں‘‘ کیا یہ بد گمانی نہیں؟ اور کیا یاسین عابد صاحب کے پاس وحی آگئی تھی کہ میں نے بائبل کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھی اور قورح کے بارے میں خیالات کے گھوڑے دوڑائے ہیں؟ محمود خارانی صاحب بتائیں کہ یہ سب لانبی زبان کی باتیں نہیں ہیں توکیاہیں۔ (۱)

(۱) اس مضمون کے لکھنے کے بعد ۱۷؍ مئی کو مجھے مکرر تقاضے پر الشریعہ کا فروری کا شمارہ ملا جس میں دیکھا کہ مجلہ کے ادارہ نے یہ سب جارحانہ جملے حذف کر دیے تھے اور ان کے مضمون کے زبان کے پہلو سے نوک پلک درست کر دیے تھے اور غالب کا ایک ٹوٹا پھوٹا طنزیہ مصرع بھی حذف کر دیا تھا۔ مولوی محمود خارانی مدرس دار العلوم کراچی نے چونکہ یہ جارحانہ جملے نہیں پڑھے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے مطعون کیا۔ سامحہ اللہ)

میں نے اپنے مارچ ۲۰۰۶ء کے جوابی مضمون میں بتایا تھا کہ مولانا عبد الماجد دریابادی ،مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور عبداللہ یوسف علی نے اپنی تفاسیر میں قارون کو بائبل کا قورح ہی کہاہے۔ ان مایہ ناز علمائے تفسیر ومحققین کے حوالوں کے بعد یاسین عابد صاحب کو خاموش ہوجانا چاہیے تھا مگر’’ ملّا آں باشد کہ خاموش نشود‘‘۔ اب انہوں نے اپریل کے شمارے میں میری حرف گری کرتے ہوئے ایک نیا مسئلہ زبور سے متعلق کھڑا کردیاہے اور انہوں نے قورح کی توصیف میں جو کچھ لکھا تھا اور اس بارے میں بائبل کے جو غلط حوالے دیے تھے، وہ بھول گئے ہیں ،او ر موضوع کا رخ چابک دستی سے دوسری طرف پھیر دیا ہے، لیکن میں قارئین کی توجہ اس اصلی مضمون کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے قورح پر بحث کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 

’’وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پرایمان رکھتاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ قورح نے مصر میں موجود اپنے گھر بار،اور شہری حقوق وسہولیات کوچھوڑ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سربراہی میں ہجرت کی اور جنگلوں میں مارے مارے پھرنا قبول کرلیا، تمام قوم بنی اسرائیل کی نشست وبرخاست خدا اور اس کے نبی موسیٰ علیہ السلام کے زیر فرمان ہی ہوتی تھی ‘‘( گنتی ۹:۲۳) 

میں نے اس پر گرفت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بائبل کی اس کتاب گنتی میں قورح کے مصر میں اپنے گھر بار اور شہری حقوق وسہولیات چھوڑنے کا مطلقاً ذکر نہیں اور یہ بھی عرض کیاتھا کہ اگر قورح حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا ہوتا تو مصر میں اس کے شہری حقوق وسہولیات چہ معنی دارد؟ اسرائیلی تو وہاں غلامی اور ذلت کی زندگی بسر کررہے تھے۔ پھر قورح کو حضرت موسیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے یہ حقوق کیسے مل گئے؟ جس پر مضمون نگار صاحب نے کم فہمی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ گنتی (بائبل) کے اس حوالے سے ان کا مقصد صرف آخری جملہ تھا، لیکن مضمون مذکورہ بالا میں ساری عبار ت کے بعد ہی بائبل کی کتاب گنتی کا حوالہ تھا، اس لیے عبارت کا پہلا جز یعنی قورح کا مصر کے شہری حقوق وسہولیات چھوڑنا اسی کتاب گنتی سے ماخوذ سمجھا جائے گا جس کے موصوف انکاری ہیں۔ یہی سہی ،پھر یہ بتایا جائے کہ قورح کے بارے میں ان کی یہ معلومات بائبل کی کتاب سے ماخوذ نہیں تو کہاں سے ان کو ان باتوں کا علم ہوا؟ اور پھر صحرائے سینا میں جنگل کہاں سے آگئے جہاں قورح جنگلوں میں مارا مارا پھر رہا تھا؟ اگر وہاں جنگلات ہوتے تو اللہ تعالیٰ قرآن اور بائبل دونوں کے مطابق وہاں سایہ کے لیے بادل کیوں بھیجتا؟ (وظللنا علیکم الغمام ) ایسے ہی موقع کے لیے شاعر نے کہاہے :

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ 
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

یہ تو مرے ناقد ومعترض کی بائبل فہمی ہے جس کا ان کا بہت ادعا ہے اور جس کے وہ بکثرت حوالے دیتے ہیں، خواہ ناقص ہی ہیں۔موصوف کی قرآن فہمی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنے فروری کے مضمون میں ذیلی عنوان قارون کے تحت لکھا تھا ’’ قرآن عزیز کے مطابق قارون قوم موسیٰ سے تھا۔ .... قرضوں کا لین دین کرتاتھا اور سود در سود منافع خوری کے حساب کے لیے منشیوں، خزانچیوں، مسلح پہرے داروں، سپاہیوں اور عاملوں پر مبنی ایک بڑی جماعت کا نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔‘‘ (القرآن ۲۸:۷۶)

بائبل کی کتاب گنتی کے ایک غیر متعلق مضمون میں غلط حوالے پر میری گرفت کرنے والے مضمون نگار صاحب یہ تو بتائیں کہ سورۃ القصص ۲۸: ۷۶ کی مذکورہ بالا آیت میں قارون کے ’’سود در سود منافع خوری، منشیوں، خزانچیوں، مسلح پہرے داروں، سپاہیوں اور عاملوں پر مبنی نیٹ ورک ‘‘ کا ذکر انہوں نے کہاں سے نکال لیا؟ اب بتایاجائے کہ قرآن کریم کی ایک آیت کا ذکرکرکے ’’خیالات کے گھوڑے‘‘ کون دوڑارہا ہے؟ میں یا فاضل ناقد ؟قرآن میں تو صرف اتنا ہے: واٰتینا ہ من الکنوز ماان مفاتحہ لتنوء بالعصبۃ اولی القوۃ (اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی کنجیاں ہی اٹھاتے ہوئے ایک طاقتور جماعت (بوجھ سے )جھکی جاتی تھی) ۔

عجیب لغو ولایعنی بحث شروع کردی ہے ان صاحب نے۔ قورح کا شجرہ نسب، اس کے کارنامے،اس کے ساتھ داتن بہرام اور اس کے ساتھی، ۲۵۰ آدمیوں کی موسیٰ علیہ السلام کے خلاف بغاوت، بائبل کی مختلف کتابوں کے حوالے، آخر اس سب کا میرے اصلاحی ودعوتی مضمون ’’اسلام کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں ‘‘سے کیا تعلق ہے؟

جہاں تک زبور کا مسئلہ ہے، میں اس پر اس وقت تفصیل سے بحث کرنا نہیں چاہتا، لیکن اتنا عرض کروں گا کہ قرآن کریم نے انبیائے بنی اسرائیل پر نازل کردہ صرف تین کتابوں کا ذکر کیاہے: توراۃ ،زبور ،انجیل۔ سب مسلمانوں کا ان تین کتابوں کے وجود پر ایمان ہے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ ان میں مختلف عہود میں تحریف کی گئی ہے، کچھ کم کرکے، کچھ بڑھا کر اور کچھ بدل کر۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ آخری کتاب قرآن کے بارے میں فرمایا ہے: ’مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ‘ (المائدہ :۴۸) یعنی قرآن تصدیق کرنے والا ہے سابقہ کتب آسمانی کی اور ان پر نگران ہے، جس کامقصد جمہور علما کے نزدیک یہ ہے کہ توراۃ وزبور کی جن باتوں کی قرآن تصدیق کرتاہے، وہ مان لی جائیں۔ (آیت بالا میں ’الکتاب‘ کی تفسیر علماے تفسیر نے کتب آسمانی کی ہے) زبور ایک ایسی کتاب ہے جس میں توراۃ کی پانچ کتابوں (پیدائش ،خروج ،احبار ،گنتی ،تثنیہ) کے برخلاف جن میں بیشتر باتیں تاریخ اوراحکام سے متعلق ہیں، زیادہ تر مناجا تیں ہیں ،اللہ کی حمدو ثنا کے نغمے ہیں، اس لیے یہ بڑی حد تک تحریف سے پاک ہے ،البتہ اس میں بھی چند مقامات پر تحریف ہوئی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی توراۃ کی مذکورہ بالا کتابوں میں، جن میں نوح اور لوط علیہما السلام کی طرف انتہائی گندی باتیں منسوب کی گئی ہیں اور جس کی کتاب خروج میں حضرت ہارون علیہ السلام کو گائے کے بچھڑے کا بت بنانے اور اس کی پوجا کرنے والا بتایا گیاہے۔نعوذ باللہ من ذالک۔

ہم ان تحریفات کے سبب اس پوری توراۃ کا انکار نہیں کرتے بلکہ جہاں جہاں اس کے بیانات قرآن کے مطابق ہیں، ان سے قرآن کی حقانیت کا استدلال کرتے ہیں۔ اسی طرح زبور کا جو بیان قرآن کی تصدیق کرتاہے ،یا اس سے قرآنی مجمل کی کوئی تفصیل معلوم ہوتی ہے، ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور پھر زبو رکے سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ ساری کتاب زبور جو بائبل میں شامل ہے، وہ سب داؤد علیہ السلام سے منسوب نہیں۔ بائبل کے اردو ترجمہ میں تو اس کا ذکرنہیں، نہ فارسی، عربی اور گورمکھی بائبل میں اس کا ذکرہوگا، لیکن اس مستند انگریزی بائبل میں جسے Authorised King James Version کہا جاتاہے، اس کے نیویارک کے طبع شدہ ایڈیشن میں عہد قدیم کی کتاب Pslams (زبور) کی پانچ فصول کے بارے میں ہے کہ ان میں سے صرف پہلی کتاب یا فصل کی تصنیف داؤد علیہ السلام سے منسوب کی جاتی ہے، یعنی مزمور ا تا ۴۱۔ باقی میں سے دوسری بنی قورح کی، تیسری آصف کی، چوتھی عہد قیدو بند سے قبل کی مجہول المولف اور پانچویں اس (بابلی) عہد قیدوبند سے واپس کے بعد کی تصانیف ہیں۔ (Holy Bible, New York, page viii)

جو حوالے جناب معترض نے ز بور کے دیے ہیں اس استدلال کے لیے کہ زبور عہد قید وبند کے بعد کی لکھی ہوئی ہے، وہ تو خود عیسائی اہل کتاب، جب کہ ابھی عرض کیا گیا، تسلیم کرتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک حوالہ مزمور ۱۴:۷ کا وہ ہے جوبائبل کے ماننے والوں کے نزدیک حضرت داؤد علیہ السلام کی زبان سے ہے اور جس میں بنی اسرائیل کی اسیری کا ذکر ایک سطر میں ہے۔ ہو سکتاہے کہ یہ جملہ الحاقی ہو یا اس زمانے سے متعلق ہو جب داؤد علیہ السلام کے خلاف ان کے بیٹے نے بغاوت کی تھی اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ یروشلم چھوڑ کرچلے گئے تھے اور ان کے دیگر ساتھی اسیر ہوگئے تھے۔ ابی سلوم نے یروشلم پر قبضہ کرلیاتھا۔ (۲۔سموئیل: ۱۵،۱۶) 

بہرحال ہمارا اس موضوع سے تعلق نہیں۔ موضوع یہ تھا کہ زبور میں جہاں داتن اور ابیرام کے زمین میں دھنسائے جانے کا ذکرہے ( جو خروج مصر کے بعد سینا میں پیش آیا) وہاں قورح کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے توراۃ کی کتاب استثنا (Deutronomy) ۱۱: ۶ کا حوالہ بھی دیا تھا کہ وہاں داتن اور ابیرام کے زمین میں دھنسائے جانے کا ذکرہے لیکن ان کے ساتھ قورح کا ذکر نہیں ۔اس طرح بائبل کی دوکتابوں میں جہاں بنی روبن میں سے داتن اور ابیرام کو زمین میں دھنسائے جانے کا ذکر ہے، وہاں بنی لاوی میں سے قورح کانا م نہیں۔ اس کے برخلاف کتا ب گنتی ۱۶:۳۱،۳۲ میں اس واقعہ میں قورح کا نام بھی شامل ہے۔ اس طرح بائبل کی کتابوں کے بیانات باہم متضاد ہیں اور شہادتیں یہ ہیں کہ سینا میں کچھ اسرائیلوں کے زمین میں دھنسائے جانے کے وقت قورح ان میں شامل نہ تھا جس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ مصر میں زمین میں دھنسایا جاچکاتھا اور جسے قرآن کریم نے قارون کے نام سے یادکیاہے۔ اگر یاسین عابد صاحب اپنے پیشرو محمد اسلم رانا صاحب کی تقلید میں اس کو ہٹ دھرمی کرتے ہوئے نہیں مانتے تو نہ مانیں، عہد حاضر کے انتہائی مشہور ومستند مذکورہ بالا مفسرین قرآن نے تو یہی کہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر زبور محرّف ہے تو بائبل کی کتاب گنتی کا غیر محرّف ہونا کہاں سے ثابت ہے کہ اس پر یہ مضمون نگار صاحب اتنا اعتماد کررہے ہیں؟ یہ بھی بائبل کی دیگر کتب کی طرح تحریف شدہ اور ساقط الاعتبار ہے اور اس کے حوالے سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ قورح کو مصر میں نہیں بلکہ سینا میں زمین میں دھنسایا گیا۔ 

یہ بحث بائبل کے بکثرت مطالعہ کرنے والے ایک صاحب کے اعتراضات کی بنا پر کافی طویل ہوگئی۔ بہرحال شاید اس میں قارئین کی دلچسپی کے لیے بعض مفید باتیں بھی آگئی ہیں۔ اب آخر میں عرض ہے کہ مصنفین سے بلکہ مشاہیر مصنفین سے کسی نہ کسی سبب سے ا غلاط ہو ہی جاتی ہیں۔ ایک نیک نیت اور صاحب لیاقت ناقد ایسی غلطی پر طنز وتشنیع او رمصنف کی تشہیر اختیار نہیں کرتا ہے ۔ ایسا ایک کم ظرف انسان ہی کرتاہے جس کو اپنا نام چھپوانا مقصودہوتاہے۔ سلیم الفطرت ناقد ادب ولیاقت وحسن ظن کے ساتھ مصنف کو ذاتی طور پر یا بطورتحریر مطلع کرتاہے جیسا کہ چند سال قبل ’’تجدید واحیا ے دین‘‘ کے مطالعہ کے دوران میں نے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی ایک تاریخی غلطی دیکھی تھی جو انہوں نے شاہ ولی اللہ صاحب جیسے عظیم وعبقری مصنف سے نقل کی تھی، جو یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد کسی خلیفہ نے اپنی قیادت میں حج نہیں کرایا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ ان دو عظیم مصنفین کے ناموں کے سبب لو گ اس غلط بات کا اعادہ کرتے رہیں گے، اس لیے میں نے نو دس سال قبل ایک مضمون اس موضوع پر لکھا جو اعظم گڑھ انڈیا میں دارالمصنفین کے مشہور ومعروف رسالے میں چھپا اور جس میں نے مستند کتب تاریخ طبری، یعقوبی، مسعودی، ذہبی اور سب سے بڑھ کر امام بخاری کے استاد خلیفہ بن خیاط کی تاریخ کے حوالوں سے ثابت کیا کہ شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے تتبع میں مولانا مودودیؒ کی با ت درست نہیں۔ حضرت عثمان کے بعد پانچ اموی خلفا اور تین عباسی خلفا نے اپنی قیادت میں حج کرایا جن کے نام حضرت معاویہ،عبدالملک بن مروان، ولید بن مالک، سلیمان بن عبد المالک، ہشام بن عبد الملک، ابو جعفر المنصور العباس، المہدی العباسی، ہارون الرشید۔ اور اس مشہور ترین عباسی خلیفہ نے تو نو بار مکہ مکرمہ جاکر حج کی قیادت کی۔ میرا یہ مضمون ’’بعض مشاہیر مصنفین کی ایک اہم تاریخی غلطی ‘‘ کے عنوان سے میری کتاب ’’تحقیقات وتاثرات‘‘ ص ۳۱۰،۳۱۸ میں موجود ہے۔ (مطبوعہ کراچی ۲۰۰۰ء) جہاں تفصیل دیکھی جاسکتی ہے ۔

لیکن میں نے اس فاش غلطی کی نشان دہی اور تصحیح کرتے ہوئے یہ نہیں لکھا کہ مولانا مودودی صاحب اور شاہ ولی اللہ صاحب ؒ نے کبھی تاریخ اسلام کی کوئی کتاب کھول کر نہیں دیکھی یا یہ کہ انہوں نے خیالات کے گھوڑے دوڑائے ہیں کہ یہ آداب تنقید کے خلاف ہے اور طنزوتشنیع کا پہلو رکھتی ہے ،بلکہ میں نے ان دونوں کی طرف سے عذرداری ہی کی ہے کہ ان دونوں عظیم مصنفین ومحققین کا میدان فکرو تحقیق تفسیر وحدیث وفقہ وغیرہ دینی علوم ہیں، اس لیے ان سے یہ سہو ہوا ۔

یہاں میںیہ بھی عرض کردو ں کہ معترض نے غلط کہا، میرا زندگی بھر کا مطالعہ بائبل کا نہیں بلکہ تفسیر قرآن، اسلامی تاریخ وتمدن اور عربی زبان وادب واسلامی ثقافت کا ہے۔البتہ میں نے اردو وانگریزی بائبل پر نظر ضرور ڈالی ہے ،بلکہ تنقید ی نظر ڈالی ہے اور نوٹ لکھے ہیں۔ خاص طور پر بائبل کی ا بتدائی پانچ کتابوں پر جنھیں توراۃ (Torah)کہا جاتاہے او ر کتاب سلاطین پر، اور یہ بھی صرف قر آن میں مذکور انبیا کے حالات زندگی معلوم کرنے کی غرض سے ۔میں نے اپنے آپ کو بائبل کا ایک اسٹوڈنٹ نہیں کہتاہوں، البتہ میں بائبل کی کتاب زبور میں جو مناجات ہیں یا اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے جو ترانے ہیں، ان سے بہت محظوظ ہوتاہوں اور میں سمجھتاہوں کہ یہ تنزیل الٰہی ہیں۔ صحیح حدیث نبوی میں بھی ان اثر انگیز فریادوں،دعاؤں اور مناجاتوں کا ذکرہے کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا ،ان کے جانے بغیر، خوش الحانی سے قرآن پڑھنے پر ان کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا: ’اعطیت مزمارا من مزامیر داود‘ (انہیں داؤد علیہ السلام کے ترانوں میں سے ایک ترانہ دیاگیاہے) ( صحیح بخاری)مزید یہ کہ قرآن کریم میں ’ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون‘ (ہم نے زبور میں یہ لکھ دیاہے نصیحت/ ذکر کرنے کے بعد کہ زمین کے وارث (حکمران ) میرے نیک بندے ہوں گے) (الانبیاء ۱۰۵) زبور ،۳۷:۳۶ میں ہے ’’صادق زمین کے وارث ہوں گے‘‘۔ اوراس سے قبل سطر ۱۱ میں ہے ’’لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے ۔‘‘

’الشریعہ ‘ ایک موقر علمی مجلہ ہے۔ا س کو عام لوگوں کے علاوہ اہل علم ودانش زیادہ پڑھتے ہیں، اس لیے اس قدر تفصیل سے یہ سب کچھ لکھنا پڑا ،تاکہ موضوع اور اٹھائے ہوئے اعتراضات سے متعلق تمام پہلو واضح ہوجائیں۔ وما توفیقی الا باللہ۔ 

آراء و افکار

اگست ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۸

اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ
مولانا محمد یوسف

معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اچھے استاد کے نمایاں اوصاف
پروفیسر شیخ عبد الرشید

مسئلہ رجم اور مولانا اصلاحیؒ کا تفسیری موقف
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

قورح، قارون: ایک بے محل بحث
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

لبنان کی صورت حال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

ذکر ندیم
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
محمد عمار خان ناصر

Since 1st December 2020

Flag Counter