لبنان کی صورت حال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر پورے علاقے کے لیے جنگی صورت حال پیدا کر دی ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے نئی عالم گیر جنگ کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن عالم اسلام ابھی تک خواب خرگوش میں ہے اور مسلم دار الحکومتوں پر ’’سکوت مرگ‘‘ طاری ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر چڑھ دوڑنے کے لیے اسی طرح کا بہانہ تراشا ہے جس طرح کا بہانہ افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے امریکہ نے تراشا تھا، لیکن یہ بات طے نظر آ رہی ہے کہ بہانہ کوئی بھی ہو، لبنان پر حملے کا پروگرام طے تھا۔ البتہ اس بار امریکہ نے خود کوئی کارروائی کرنے کے بجائے اپنے ’’لے پالک‘‘ اسرائیل کو آگے کر دیا ہے، جبکہ باقی سب وہی کچھ ہو رہا ہے جو اس سے قبل افغانستان اور عراق میں ہو چکا ہے اور نتیجہ بھی وہی سامنے آ رہا ہے جو وہاں برآمد ہوا تھا کہ اس بہانے نیٹو کی فوج کو لبنان میں اتارنے کی تیاریاں کی جا رہی ہے اور روزنامہ جنگ کراچی ۲۴؍ جولائی ۲۰۰۶ کی خبر کے مطابق ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے اس انداز سے یہ اطلاع دنیا تک پہنچائی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان میں نیٹو کی فوجیں تعینات کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ گویا یہ بھی امریکہ اور اسرائیل کا لبنان اور عالم عرب پر احسان ہوگا کہ وہ وہاں خود قبضہ کرنے کے بجائے نیٹو کی فوج بھیج کر اس کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔

لبنان، شام اور ایران سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ شکایت ہے کہ وہ ان فلسطینی حریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک نہیں ہو رہے بلکہ ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں جو اسرائیل کی ننگی جارحیت اور کھلی دہشت گردی کے مقابلے میں ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں، فلسطینیوں کے لیے باوقار آزادی اور خود مختاری سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہو رہے اور اپنی جانوں کا مسلسل نذرانہ دے کر دنیا کو اپنے وجود اور زندگی کا احساس دلا رہے ہیں۔ اسی بنا پر لبنان کے عوام کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسرے ممالک کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ صورت حال دنیا بھر کے ہر مسلمان کے لیے پریشان کن ہے، اضطراب انگیز ہے اور اذیت ناک حد تک تکلیف دہ ہے، لیکن مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ابھی تک اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اجتماعی طور پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کر سکیں او رمل بیٹھ کر فلسطین اور لبنان کے عوام کو کم از کم الفاظ کی صورت میں ہی یہ تسلی دے سکیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، وہ مظلوم ہیں اور ہم اگر ان کے لیے عملاً کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم دعائیں ضرور دے رہے ہیں۔

اس صورت حال میں ہم اپنے لبنانی بھائیوں کے ساتھ ہم دردی اور ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زبانی جمع خرچ اور گول مول باتیں کرنے کے بجائے اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلا کر فلسطینی عوام اور ان کے ساتھ لبنان کے عوام کو اس وحشیانہ دہشت گردی سے بچانے کے لیے جرات مندانہ موقف اختیار کریں، کیونکہ مسلم ممالک کے حکمران ہونے کے ناتے سے ان کی ملی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری یہی بنتی ہے۔

حالات و واقعات

اگست ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۸

اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ
مولانا محمد یوسف

معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اچھے استاد کے نمایاں اوصاف
پروفیسر شیخ عبد الرشید

مسئلہ رجم اور مولانا اصلاحیؒ کا تفسیری موقف
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

قورح، قارون: ایک بے محل بحث
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

لبنان کی صورت حال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

ذکر ندیم
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
محمد عمار خان ناصر