احیائے اسلام کے امکانات اور حکمت عملی

پروفیسر محمد اکرم ورک

۱۹۹۲ میں ایک کمیونسٹ ریاست کی حیثیت سے سوویت یونین کے سقوط کے فوراً بعد مغربی پالیسی سازوں نے اپنی ترجیحات کو تبدیل کر لیا، چنانچہ ۱۹۹۳ میں امریکہ کے مشہور یہودی محقق اور دانش ور سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف Clash of Civilizations لکھ کر تہذیبوں کے تصادم کا نیا تصور پیش کیا اور اسلامی تہذیب کو مغرب کا متوقع دشمن قرار دیا۔ اس خیال اور نظریہ نے بہت جلد اس وقت حقیقت کا روپ دھار لیا جب امریکی صدر بش نے ۱۱/۹ کے پس منظر میں اکتوبر ۲۰۰۱ میں پہلے افغانستان پر اور بعد ازاں اپریل ۲۰۰۳ میں عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مسلمان تو پہلے ہی اس جنگ کو تہذیبوں کا تصادم یا صلیبی جنگ تصور کرتے تھے، خود مغربی دانش وروں اور امریکی صدر نے بھی کھل کر اپنے ’خبث باطن‘ کا اظہار کر دیا۔

وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے کئی مسلمان دانش وروں اور ’’جہادیوں‘‘ نے مغرب کے حقیقی عزائم کو بھانپتے ہوئے امت مسلمہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی ، لیکن چونکہ ان لوگوں کا حلقہ اثر محدود تھا، اس لیے وہ ذہنی اور عملی جمود کی شکار امت مسلمہ کو اس عظیم سازش کے خلاف تیار نہ کر سکے۔ دوسری طرف عالم اسلام پر مسلط طفیلی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اس بلاے ناگہانی کے سامنے اپنی آنکھیں بند کر لیں، لیکن اب شاید یہ طوفان بہت جلد اس طبقے کو بھی خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جائے، کیونکہ صلیبیوں اور جہادیوں میں سے کوئی بھی ان کو اپنی کشتی میں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ اگر صلیبی کامیاب ہو گئے تو وہ یقیناًہر جگہ افغانستان اور عراق جیسی جمہوریت کا ’’کامیاب‘‘ تجربہ کریں گے اور اگر کامیابی نے جہادیوں کے قدم چومے تو وہ ان مارہاے آستین کو کبھی معاف نہیں کریں گے جو میر جعفر اور میر صادق کا کردار پورے خلوص نیت سے ادا کر رہے ہیں۔

اس وقت مجاہدین، افغانستان اور عراق میں امت مسلمہ کی آزادی اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہلال وصلیب کے اس معرکہ میں مجاہدین کی پسپائی کا مطلب مکمل تباہی ہوگا، اس لیے حالات کی نزاکتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجاہدین کی مدد کرنا امت مسلمہ کا اجتماعی فریضہ ہے تاکہ عالمی طاقتوں کو مزید پیش قدمی سے روکا جا سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جنگ اور تصادم کے اس محاذ پر ہماری مکمل کامیابی کے لیے حالات سازگار ہیں، جبکہ فریق مخالف نے اس میدان میں دنیا کی تمام طاقتوں سے اپنی برتری کا سکہ منوا لیا ہے؟ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت مستقبل بعید میں بھی شاید کوئی ملک ان کو چیلنج نہ کر سکے۔

تہذیبی کشمکش کے اس دور میں بدقسمتی سے مغرب اپنی کامیاب حکمت عملی کے ذریعے سے مسلمانوں کو تصادم کے اس میدان میں کھینچ لایا ہے جہاں ان کی کامیابی کے امکانات محدود ہیں جبکہ امت مسلمہ بھی جذبات کی رو میں بہہ کر دشمن کے دام فریب میں پھنستی چلی جا رہی ہے، حالانکہ جدید ٹیکنالوجی سے محرومی کی وجہ سے جنگ کے میدان میں ہماری کمزوری اظہر من الشمس ہے۔ دشمن کے بالمقابل اس میدان میں ہمارے وسائل اور جانوں کے اتلاف کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔ جب حقیقت یہی ہے تو کیا یہ کہنا مناسب نہ ہوگا کہ ایک جہاں دیدہ، زیرک اور ذہین کماندار کی طرح مد مقابل کو اس میدان میں جنگ آزمائی پر مجبور کر دیا جائے جہاں اس کو شکست دینا آسان ہے اور جہاں اس کی کمزوریوں سے پورا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ یقیناًمغرب کی کمزوریوں کا میدان عقیدے اور قابل عمل نظریات کامیدان ہے۔ مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن اور نری مادیت سے اس وقت خود مغربی معاشرہ بھی شدید گھبراہٹ اور بے چینی محسوس کر رہا ہے۔ مناسب یہی ہے کہ جہادی سرگرمیوں کو عالمگیر جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور مدمقابل پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سرخ لائن کو عبور نہ کیا جائے کیونکہ اس محاذ پر دشمن طاقت ور اور ہم کمزور ہیں۔ دشمن ہمیں اسی محاذ پر مصروف رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس طریقہ سے مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کر لیا جائے اور ان کی طاقت کو مکمل طور پر کچل دیا جائے۔ ہماری حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ ہم اسے اس میدان میں اترنے پر مجبور کر دیں جس میں ہم مضبوط اور مدمقابل فریق کمزور ہے۔

اسلامی تہذیب کے احیا اور عروج کی امید وہ عقائد ونظریات اور عالم گیر اصول ہیں جو مسلم نفسیات کے اجتماعی لاشعور کا جزو لاینفک ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام نظریات اور آئیڈیالوجی کے میدان میں کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوا۔ اس کی واضح مثال ۱۲۵۸ میں بغداد کا سقوط ہے جب تاتاریوں نے مسلم تہذیب وثقافت کا نام ونشان مٹا دیا تھا، لیکن سیاست اور جنگ کے میدا ن میں شکست وہزیمت سے دوچار ہونے کے باوجود نظریات کی جنگ میں اسلام نے مد مقابل کو چاروں شانے چت کر دیا اور فاتح قوم نے مفتوح قوم کا ہی دین اختیار کر لیا۔ بقول اقبال ’پاسباں مل کعبے کو صنم خانے سے‘۔

سلطان محمد فاتح نے ۱۴۵۳ میں قسطنطنیہ کو فتح کر کے اسلامی تہذیب وثقافت کے غلبے کو قائم رکھنے کی ایک بھرپور کوشش کی، لیکن اس کے بعد مغربی اقوام میں جدیدیت کا آغاز ہوا جبکہ اسلامی دنیا جمود کا شکار ہوتی گئی اور بالآخر پہلی جنگ عظیم میں عثمانی ترکوں کی شکست کے بعد اسلامی تہذیب مکمل مغلوبیت کا شکار ہو گئی۔ تاہم تھوڑی ہی مدت کے بعد مفتوح اسلامی ممالک میں علمی، فکری اور جہادی تحریکوں کا آغاز ہو گیا اور احیاے اسلام کے امکانات دوبارہ روشن ہو گئے۔ تہذیبوں کے تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی تہذیب کے زندہ اور قائم رہنے کے لیے دو چیزیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں:

۱۔ دائمی اصولوں کا وجود،

۲۔ اصول وضوابط میں حالات اور زمانہ کی رعایت سے لچک اور حرکت پذیری کی خوبی۔

اس وقت دائمی اصولوں کا عدم وجود یورپی تہذیب کی سب سے بڑی کمزوری ہے جو بالآخر اس تہذیب کے زوال کا باعث بنے گی۔ 

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

اس کے برعکس، دائمی اصولوں کی موجودگی کے باوجود اسلامی تہذیب کے زوال کی بڑی وجہ جمود اور غیر حرکت پذیری ہے، حالانکہ اسلام کی ساخت میں حرکت کا اصول کارفرما ہے جس کا دوسرا نام ’’اجتہاد‘‘ ہے۔ اسلام ایک ثقافتی تحریک کے طور پر کائنات کے جامد نقطہ نظر کو رد کرتا ہے اور اندھی تقلید کے بجائے اجتہاد کا قائل ہے جس کی روشنی میں حالات وزمانہ کی رعایت کرتے ہوئے پیش آمدہ نئے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس اصول کی اساس خود قرآن کریم میں موجود ہے:

والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا (العنکبوت)
’’اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کریں گے، ہم ان کو اپنے راستوں کی طرف رہنمائی کریں گے۔‘‘

حضرت معاذ بن جبلؓ کی مشہور حدیث سے یہ اصول مزید واضح ہو جاتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو ان سے پوچھا کہ وہ اپنے سامنے پیش ہونے والے مسائل کا حل کیسے تلاش کریں گے۔ حضرت معاذ نے عرض کیا: میں معاملات کو قرآن کے مطابق طے کروں گا۔ اگر کتاب اللہ میں اس کا حل نہ پاؤں گا تو سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ اور اگر سنت میں بھی اس کی کوئی مثال نہ ہوئی تو پھر میں اپنی رائے اور سمجھ سے فیصلہ کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا۔

اسلامی تہذیب میں اساسی اور دائمی اصولوں کے ساتھ اجتہاد اور حرکت پزیری کے جواز نے اس کو تمام ادوار کے لیے قابل قبول بنا دیا ہے، اس لیے یہ بات محض خوش اعتقادی اور عقیدت کی بنا پر نہیں، بلکہ اسلامی تہذیب کے دوبارہ احیا اور عروج کے واضح دلائل اور قرائن کی بنیاد پر کہی جا رہی ہے۔

کمیونزم کی ناکامی کے بعد مغربی دنیا سمجھنے لگی ہے کہ اب دنیا کے لیے مغربی فکر وفلسفہ اور نظام زندگی اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، جبکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں آج بھی اتنی کشش اور افادیت ہے کہ وہ دنیا کے تمام نظریات اور افکار پر حاوی ہو جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے اصولوں کو نئے سرے سے دریافت کیا جائے اور حالات اور زمانے کی رعایت سے اس ڈھنگ میں اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جائے کہ اسلام کے فکر وفلسفہ کی اصل روح ان پر آشکارا ہو جائے۔

اسلام کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کی اصل قوت دعوت واصلاح میں ہے۔ سسکتی ہوئی انسانیت کے لیے اسلام آج بھی تریاق کا کام کر سکتا ہے۔ اگر اسلام کو اس کے اصل اور فطری اسلوب میں پیش کیا جائے تو وہ سیدھا دلوں میں اتر جاتا ہے۔ اسلام اپنی ذات میں زبردست تسخیری قوت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے سیاسی ناکامیوں کے تاریک ترین دور میں بھی نظریاتی محاذ پر شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون‘ (اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے سارے ادیان پر غالب کر دے، اگرچہ مشرک اسے ناپسند ہی کریں) میں دین کے غلبہ سے مراد سیاسی وعسکری غلبہ نہیں، بلکہ فکری ونظریاتی غلبہ ہے جو اسلام کو ہمیشہ اور ہر جگہ حاصل رہا ہے اور کبھی منقطع نہیں ہوا۔

سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کی حکمت کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر عسکری میدان میں پسپائی اختیار فرمائی تاکہ مکمل نظریاتی غلبہ اور فتح یابی کی راہ ہموار ہو سکے، چنانچہ رسول اللہ اپنی حکمت عملی سے مد مقابل کو فکری اور نظریاتی میدان میں لے آئے جہاں مسلمانوں کو مکمل برتری حاصل تھی۔ صلح حدیبیہ میں یہی حکمت عملی آپ کے پیش نظر تھی جس کو قرآن نے ’’فتح مبین‘‘ قرار دیا۔ چنانچہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی دو سالہ عرصے میں لوگ باہم ملے جلے اور دو ’’تہذیبوں‘‘ کے درمیان مکالمہ ہوا تو بے شمار سلیم الفطرت لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں:

’’صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام میں اتنی بڑی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ لوگ جہاں بھی ملتے، جنگ ہو کر رہتی تھی، لیکن جب صلح ہو گئی تو جنگ موقوف ہو گئی اور لوگ ایک دوسرے سے بے خوف ہو گئے۔ باہم ملے جلے، باتیں ہوئیں تو کوئی عقل مند ایسا نہ تھا جس سے اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی ہو اور اس نے اسلام قبول نہ کر لیا ہو۔ چنانچہ جتنے لوگ ابتدا سے اب تک مسلمان ہوئے تھے، صرف ان دو برسوں میں ان کے برابر بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں مسلمان ہو گئے۔‘‘ (ابن ہشام، ۳/۳۵۱)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی عمدہ حکمت عملی سے قریش کو نظریاتی محاذ پر ہزیمت پر مجبور کر دیا۔ عالمی حالات کی صورت حال آج بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے۔ ایک میدان سیاست اور عسکریت کا ہے جہاں مغرب کو عالم اسلام پر مکمل برتری حاصل ہے اور وہ مسلمانوں سے اسی میدان میں لڑنا چاہتا ہے جہاں اس کو لامحدود وسائل کے ساتھ عظیم بالادستی حاصل ہے، جبکہ دوسرا میدان عقائد اور قابل عمل نظریات کا ہے جہاں اسلام کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حکمت عملی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدمقابل کو اس میدان میں پنجہ آزمائی پر مجبور کر دیں جہاں وہ ناموافق پوزیشن میں ہے، اور ہماری تگ وتاز کے سامنے ٹھہرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے گھوڑے تیار رکھنے کے ساتھ ساتھ امن عالم کا اسلامی تصور اجاگر کرنا ضروری ہے، تاکہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کے بجائے مکالمے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔ مسلمان اہل علم اور دانش وروں کا فرض ہے کہ وہ مغربی فکر وفلسفہ کا پوری گہرائی سے تنقیدی مطالعہ کریں اور اسلام کو اقوام عالم کے سامنے پوری انسانیت کے دین کے طور پر پیش کریں۔ اگر اسلام کے عالمگیر وژن کو حکمت کے ساتھ مغربی اقوام کے سامنے پیش کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس کی فطری تعلیمات سے متاثر نہ ہوں۔

عالم اسلام اور مغرب