مکاتیب

ادارہ

(۱)

محترمی ومکرمی حضرت مولانا ابو عمار زاہد الراشدی زیدت معالیکم ودام مجدکم

امید ہے آپ مع متعلقین بعافیت ہوں گے۔

کرم فرمائی کا بہت بہت شکریہ۔ مولانا محمد موسیٰ بھٹو کی عنایت تھی کہ انھوں نے میرے تعاون کے لیے آپ کو متوجہ فرمایا۔ میں نے آپ کے عنایت نامہ کی اطلاع خال محترم حضرت مولانا سنبھلی کو دی، انھوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور یہ بھی خیال ظاہر کیا کہ آپ کی رہنمائی اور مشورے میرے لیے بہت مفید رہیں گے۔ اس سلسلے میں دو ایک باتیں دریافت طلب ہیں۔

۱۔ فارغین کے لیے قائم شدہ ادارے کا نظم الاوقات کیا رہتا ہے؟

۲۔ کیا ان سے بھی کچھ علمی کام کروایا جاتا ہے؟

۳۔ معاصر علمی وفکری بحثوں میں سے کیا کیا موضوعات زیر بحث آتے ہیں؟ (یعنی آپ کی نظر میں کیا چیزیں اولیت کی مستحق ہیں؟)

۴۔ میں نے اس مسئلے پر جب غور کیا تو سب سے پریشان کن مسئلہ سامنے آیا کہ مدارس کے اچھے طلبہ کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر قرآن اور حدیث کے ذخیرے پر ضروری حد تک بھی نہیں ہوتی۔ قرآن کا براہ راست اور موضوعاتی علم بالکل نہیں ہوتا۔ اسی طرح حدیث میں وہ صرف احادیث احکام پر نظر رکھتے ہیں اور اس میں بھی فقہاء متاخرین کا انداز فکر ان میں بڑا رچا بسا ہوتا ہے۔ ان کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ علمی مسائل کی تحقیق اور مطالعہ کیسے کیا جاتا ہے۔ اب اگر قرآن وسنت پر بھی اچھی نظر نہ ہو تو وہ عالم جدیدیت سے باخبر ہو کر کس کام کا ہوگا؟ اس مسئلے کی وجہ سے مجھے اس ادارے کی مدت دو سال رکھنی پڑ رہی ہے۔ پھر بھی یقین نہیں کہ یہ مدت کس حد تک کافی ہوگی۔ آپ اس سلسلے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

ابھی کل ’الشریعہ‘ کے جنوری تا جون کے شمارے ملے۔ بہت بہت شکریہ۔ امید ہے اب لگاتار آتا رہے گا۔ ہم نے جون کے الفرقان میں اجتہاد پر آپ کا مضمون (پاکستانی پس منظر سے جڑی چیزوں کے حذف کے ساتھ) شائع کیا ہے۔ یہاں احباب نے پسند کیا۔ آئندہ بھی مدارس اور ان کے نصاب ونظام سے متعلق آپ کی تحریریں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ ابھی صرف اساتذہ کے مذاکرے کی رپورٹ دیکھنی شروع کی ہے۔ الشریعہ اکیڈمی کی یہ بڑی مبارک پہل ہے۔

ڈاکٹر محمد امین صاحب کی تحریریں عموماً بڑی قیمتی ہوتی ہیں۔

ایک مرتبہ پھر آپ کی عنایت اور تعاون کا بہت بہت شکریہ۔ حضرت والد ماجد دامت برکاتہم کی خدمت میں دعاؤں کی خصوصی درخواست پیش فرما دیں۔

والسلام۔ نیاز مند

یحییٰ نعمانی


(۲)

محترم جناب مولانا عمار خا ناصر صاحب، مدیر الشریعہ

السلام علیکم

’الشریعہ‘ میں محترم ومکرم مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی اعتدال پسندانہ تحریر سے خوشی ہوئی کیونکہ موجودہ زمانہ میں علماء حق علماء دیوبند کے اعتدال سے ہٹ کر بہت سے لوگوں نے اپنے من پسند نظریات پر علماء دیوبند کا غلاف چڑھانے کی کوشش کی ہے اور اسی کو علماء حق کا صحیح مشن سمجھ کر لوگوں کو بھی اسی راہ پر لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اہل تشیع سے اختلافات اپنی جگہ، مگر اس تشدد کو کوئی بھی سنجیدہ انسان پسند نہیں کرے گا۔ ہمارے اکابر نے دلائل کے میدان میں ہر باطل کا تعاقب کیا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا عبد الشکور لکھنوی نے بھی مدح صحابہ کی تحریکیں چلائیں مگر ان تحریکوں میں اس قسم کا کوئی تشدد نہیں پایا جاتا۔ ہماری نوجوان نسل کو جس راستے پر ڈالا جا رہا ہے، یہ ہرگز علماء دیوبند کا مشن نہیں۔ جو شخص صحابہ کرام کا دفاع نہ کرے، ہمیں اس کے اسلام پر کوئی اعتبار نہیں، مگر صحابہ کرام کا دفاع گولی اور گالی سے نہیں، بلکہ دلائل اور اپنے کردار سے کیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے ان تحریروں کو بھی شیعیت نوازی سے تعبیر کیا جائے، مگر اپنے اکابر کے نقش قدم سے ہٹے ہوئے جذباتی نوجوانوں کو اپنے اکابر کے نقش قدم پر لانا ہر درد دل رکھنے والے دیوبندی کے لیے ضروری ہے۔

ہمارے ہاں یہ بیماری بہت زیادہ پھیل چکی ہے کہ اپنے ذوق کے خلاف کسی بات پر دماغ خرچ کرنے کے لیے ہم تیار ہی نہیں ہوتے، اگرچہ وہ بات حق اور سچ اور دلیل کے لحاظ سے بے غبار کیوں نہ ہو۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب اور ان جیسے درد دل رکھنے والے اہل قلم حضرات کو چاہیے کہ اس وادی پر خار میں قدم رکھ کر جذبات کی رو میں بہ جانے والے نوجوانوں کو اکابر علماء دیوبند کا صحیح راستہ دکھائیں اور اس نقصان عظیم سے نوجوان نسل کو بچائیں۔

میں شوکت بہار کا منکر نہیں ہوں دوست
دل کانپتا ہے پھول کا انجام دیکھ کر

والسلام

مومن خان عثمانی

مدرسہ مخزن العلوم۔ کٹھائی۔ تحصیل اوگی۔ ضلع مانسہرہ

مکاتیب

(جنوری ۲۰۰۵ء)

Flag Counter