ثقافتی امتیازات اور مذہبی مزاج

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

مسجدیں اسلامی مرکز کے طور پر پورے امریکہ میں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ کمیونٹی سنٹر ہیں جن میں لکچر ہال بھی ہے اور لائبریری بھی ہے اور ان میں عارضی اقامت گاہیں بھی ہیں۔ یہ وہ پاور ہاؤس ہے جس سے مسلمان گھروں میں ایمان کی حرارت پھیلتی ہے اور اخلاق وکردار کانور تقسیم ہوتا ہے۔ امریکہ کی یہ مسجدیں ہندوستان کی عام مسجدوں سے کسی قدر مختلف ہیں۔ ان مساجد میں خواتین بھی نماز میں شریک ہوتی ہیں۔ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ ایک بڑی مسجد میں نماز جمعہ کے ختم ہونے کے بعد میں نے نظر ڈالی تو مسجد کی پانچ چھ صفوں میں بمشکل چار پانچ آدمی سر پر ٹوپی پہنے ہوئے نظر آئے۔ ٹوپی پہننے والوں کو سر برہنہ نماز پڑھنے والوں پر کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ انھیں دین اور ثقافت کا فرق معلوم تھا۔

ان مساجد سے گہری وابستگی رکھنے والے افریقی امریکی مسلمان بھی ہیں اور برصغیر یا مڈل ایسٹ سے آنے والے مسلمان بھی ہیں، لیکن ان دونوں کے درمیان اس فرق کا احساس بھی پایا جاتا ہے کہ اول الذکر مسلمان نسلی امتیاز کو ختم کرنے اور عیسائیت اور اسلام یا یہودیت اور اسلام کے درمیان برصغیر، مشرق وسطیٰ اور بوسنیا کے حالات سے زیادہ گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ مسلمانوں کے ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک گونہ ذوقی فاصلہ پایا جاتا ہے۔ افریقی امریکی بلیک مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کے تارکین وطن مسلمان انھیں ادنیٰ درجہ کامسلمان سمجھتے ہیں، محض اس بنا پر کہ عربی زبان کی ثقافت سے ان کا رشتہ کمزور ہے اور قرآن وحدیث روانی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے۔پشتینی مسلمانوں کی اس ذہنیت کو سمجھنے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ ہندوستان کی ایک درسگاہ کے مفتی بزرگ نے سفر میں ایک ایسی مسجد میں میرے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی جو افریقی امریکی بلیک مسلمانوں کے زیر انتظام تھی۔ جمعہ کے دونوں خطبے انگریزی زبان میں ہوئے۔ نو مسلم خطیب کے لیے قرآن کی آیات اور احادیث کے تلفظ میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ وہ بزرگ خطبہ کے دوران اپنی کتاب کا مطالعہ کرتے رہے اور جمعہ کی نماز کے بعد انھوں نے اپنی نماز دہرائی۔ میرے لیے ان کا یہ طرز عمل سوہان روح تھا اور مجھے ان کے طرز عمل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا پڑا۔ بجائے اس کے کہ وہ ایک نو مسلم کے اسلام کی قدر کرتے، انھوں نے افتراق بین المسلمین کا نمونہ پیش کیا۔ 

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلام کی تاریخ میں گروہ بندی اور مسلکی اختلاف کی اصل وجہ نئی قوموں کا اسلام میں داخل ہونا ہے، کیونکہ ہر قوم اپنی خصوصیات اور ذہنی پس منظر کے ساتھ دین میں داخل ہوتی ہے۔ آئندہ بھی یورپ اور ایشیا کی بعض قومیں دین اسلام میں داخل ہو سکتی ہیں اور ان ہی سے شجر اسلام بار آور ہوگا۔ موجودہ مسلم ممالک میں وہ توانائی اور طاقت نہیں کہ نہضتِ اسلام کا بوجھ ان کے شانوں پر رکھا جا سکے۔ نئی زندہ قوموں کے دین اسلام میں استقبال کے لیے ذہن وفکر کی بے پناہ کشادگی اور قلب کی غیر معمولی وسعت درکار ہے۔ فروعی امور کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اور ہر بات میں کسی فتویٰ کی کتاب کا حوالہ دینا اور کج بحثی میں مبتلا ہونا زوال آمادہ قوموں کی خاص پہچان ہے۔ یہ اسلام کے سیلِ رواں پر بند باندھنے کے مرادف ہے۔ یہ دین کی وہ نام نہاد خدمت ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور مضرت نہیں ہو سکتی اور اسی قماش کے لوگوں کے لیے اقبال کا یہ مصرعہ ہے ’’دین ملا فی سبیل اللہ فساد‘‘۔ مثال کے طور پر امریکہ اور یورپ میں جمعہ کے دن خواتین چھوٹے بچوں کے ساتھ مسجدوں میں آتی ہیں۔ اتوار کے دن مسجدوں کے اسلامی پروگرام میں ساتر لباس میں شریک ہوتی ہیں۔ ان شریک ہونے والیوں میں بہت سی نومسلم خواتین ہوتی ہیں۔ ان ملکوں میں اسلامی تشخص کی حفاظت اور بچوں کی تربیت اور دینی ماحول سازی کے لیے یہ ایک ضروری کام ہے، لیکن کوئی روایتی قسم کا عالم اگر روکنے کی کوشش کرے تو یہ بدبختی اور نادانی کی بات ہوگی اور عقل وحکمت سے تہی دامنی کی پہچان ہوگی، اور یہ طرز عمل نومسلم خواتین کو اسلامی سوسائٹی میں ضم ہونے سے اور غیر مسلم خواتین کو اسلام میں داخلہ سے روک دے گا۔

اسی طرح سے مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کو جتنا زیادہ ظاہر کریں گے، اتنا ہی زیادہ وہ ان غیر مسلموں کو نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا کریں گے جو اسلام سے قریب ہو رہے ہیں اور اسلام قبول کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس اندیشہ فردا کاذکر زبان قلم پر اس لیے آیا ہے کہ بہت سے مسلمان جو اسلامی ملکوں سے آکر امریکہ میں بسے ہیں، وہ اختلافات کی آلائشیں اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں اور اختلافات کی آلائشوں کا انبار امریکہ میں اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم کو روک سکتا ہے۔ مستقبل میں اسلامی انقلاب کا رونما ہونا اور مسلمانوں کا پھر سے قوت حاصل کر لینا نئی قوموں کے اسلام میں داخلہ پر منحصر ہے۔ اس کے لیے خردہ گیری سے بچنے کی عادت درکار ہے۔ اس کے لیے ذہن کی آفاقیت، قلب کی وہ بے کراں وسعت مطلوب ہے جو مہمان عزیز کا خوش دلی کے ساتھ استقبال کرے اور فروعی چیزوں پر مشتعل نہ ہو۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسلام کا Modernity یعنی جدت سے کوئی اصولی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اس بارے میں سنی علما کو اپنے حلقہ میں اور شیعی عوام میں جن شخصیتوں کومرجع التقلید کی حیثیت حاصل ہے، صحیح رہنمائی کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں عورتیں نماز جمعہ میں آتی ہیں اور پردہ کے پیچھے خطبہ سنتی ہیں، لیکن چونکہ وہ خطیب کو دیکھ نہیں سکتی ہیں، اس لیے ان کایہ مطالبہ تھا کہ ان کے لیے محدود دائرہ کا ٹیلی وژن لگا دیا جائے تاکہ عورتیں نہ صرف خطبہ سن سکیں، بلکہ خطیب کو بھی دیکھ سکیں۔ بعض مجتہد علما نے اس سے اختلاف کیا، لیکن مرجع التقلید کا فتویٰ یہ تھا کہ مذہبی مقصد کے لیے محدود سرکٹ ٹیلی وژن کی اجازت ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ مطالبہ حیرت انگیز ہوگا ،لیکن امریکہ میں، جہاں بہت چھوٹے پروگراموں کے لیے محدود سرکٹ کے ٹیلی وژن کا عام رواج ہے اور جہاں جمعہ کی نماز میں عورتیں شریک ہوتی ہیں، یہ مطالبہ بہت فطری نوعیت کا ہے۔ عصر جدید میں ان عصری ایجادات کے استعمال کے لیے ذہن وفکر کو لچک دار بنانا ہوگا۔ یہ کہنا کہ اس سے خطبہ جمعہ کا تعبدی پہلو اور خشوع متاثر ہوتا ہے، صرف روایتی مزاج وعادت کا اظہار ہے۔ لاس اینجلس کی شیعہ برادری کی مسجد اہل بیت میں تو عورتیں مخلوط اجتماعات کو خطاب بھی کرتی ہیں۔ ان معاملات میں جہاں مسلمانوں کی اصلاح کی ضرورت ہو، وہاں حکمت اختیار کرنی ہوگی اور احکام دین اور مروجہ کلچر کے فرق کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا اور یہ بھی سمجھ لینا ہوگا کہ امریکی معاشرہ برصغیر کے مسلم معاشرہ کی نقل بمطابق اصل نہیں ہو سکتا ہے۔

(بشکریہ ’تعمیر حیات‘ لکھنو)


دین اور معاشرہ