ندوہ کا ایک دن

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

(ہمارے محترم اور فاضل دوست ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے اپنی کتاب ’’ندوہ کا ایک دن‘‘ میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک دن کی سرگزشت قلم بند کی ہے۔ اس کتاب کے چند منتخب حصے ذیل میں شائع کیے جا رہے ہیں جن سے ندوہ کی علمی وتعلیمی فضا کی ایک جھلک بھی قارئین کے سامنے آ سکے گی اور ہمارے ارباب مدارس کو اپنے یہاں کے اساتذہ وطلبہ کی ذہنی اور فکری سطح کا جائزہ لینے کا موقع بھی ملے گا۔ مدیر)


ابراہیم صاحب کو نحو سے خاص دلچسپی ہے۔ محال ہے کہ ابراہیم صاحب ساتھ ہوں اور گفتگو نحو کے کسی مسئلہ کی طرف نہ مڑ جائے۔ ابراہیم صاحب کو نحو سے جتنی دلچسپی ہے، بابر بھائی کو اس سے اتنی ہی بیر۔ بابر بھائی ہم لوگوں کی صحبت سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن ابراہیم صاحب کی نحویانہ سنجیدگی ان کی برداشت سے باہر ہے۔ بابر بھائی نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ سیبویہ، ابن جنی یا ابن ہشام کا نام درمیان میں آئے اور نحو کے مدارس کوفہ وبصرہ وبغداد کے متعلق گفتگو ہو، کوئی اور موضوع شروع کرنا چاہیے۔ چنانچہ بابر بھائی نے مدینہ منورہ میں اپنے قیام کے واقعات سنانا شروع کیے۔ وہاں کے اساتذہ اور شیوخ کے انداز تدریس پر گفتگو کی۔ بابر بھائی نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں مولانا سعید احمد خان صاحب کی ذات گرامی ہندوستانیوں کا بڑا سہارا ہے۔ مسجد النور کی مجالس روحانی اور علمی غذا فراہم کرتی ہیں۔ مولانا کے علمی مقام کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگ بھی تبلیغ ودعوت کے کام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ .....

بابر بھائی نے مولانا کے علمی تحقیقات کی متعدد مثالیں دیں۔ مجھے بھی یاد آ گیا کہ ایک بار نظام الدین کے تبلیغی مرکز میں ہم لوگ مولانا کے پاس بیٹھے تھے کہ مولانا نے طلبہ کی مناسبت سے سوال کیا کہ ’غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘ کا ترجمہ کیا ہے؟ ایک طالب علم نے اس کا مشہور ترجمہ سنایا ’’نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو گمراہ ہوئے‘‘۔ مولانا نے فرمایا یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ ندوہ کے ایک طالب علم نے مولانا کی منشا سمجھ کر عرض کیا کہ ’غیر المغضوب علیہم‘، ’الذین انعمت علیہم‘ کی صفت ہے۔ ترجمہ ہوگا ’’اے اللہ ہمیں سیدھے راستہ پر چلا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوا ہے، جن پر تیرا غضب نہیں نازل ہوا اور نہ وہ گمراہ ہیں‘‘۔ مولانا نے اس کی تائید فرمائی۔

ابراہیم صاحب موقع کی تاک میں تھے ہی، فوراً بول اٹھے کہ واقعتا نحو کے مسائل سے واقفیت دقائق قرآنی تک رسائی اور اسرار حدیث کی گرہ کشائی کی کلید ہے۔ ابن ہشام ہی کو دیکھے کہ شرح قطر الندیٰ اور شرح شذور الذہب بلکہ اپنی تمام تصانیف میں نحو کے مسائل کی تشریح کرتے ہوئے قرآن وحدیث کی مثالیں بیان کرتے ہیں جن سے مشکل مقامات کے حل میں مدد ملتی ہے۔ مثلاً سورۃ الشعراء کی آیت ’’وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون‘‘ کو لیجیے۔ بابر بتائیں کہ ’’ای منقلب‘‘ کیوں منصوب ہے؟ بابر بھائی نے کہا کہ ابراہیم، یہ کون سی مشکل ترکیب ہے۔ اول ودوم کے طلبہ بھی اسے جانتے ہیں۔ ای، سیعلم کا مفعول ہے۔ ابراہیم صاحب نے کہا کہ جب علما اس طرح کی غلطیاں کرتے ہیں تو نحو کی افادیت پر مزید یقین مستحکم ہو جاتا ہے۔ ای، ینقلبون کا مفعول مطلق ہے۔ اس طرح کی ترکیبوں میں یعلم لفظاً عمل کرتا ہی نہیں ہے، اس لیے اسے اہل نحو تعلیق سے تعبیر کرتے ہیں۔

حشمت اللہ نے تبصرہ کیا کہ ابراہیم صاحب، آپ سے ابن ہشام، شرح قطر الندیٰ، شرح شذور الذہب کے نام سنتے سنتے کان تھک گئے۔ اس میں شک نہیں کہ متاخرین میں ابن ہشام کے پایہ کا کوئی نحوی نہیں اور فلسفہ تاریخ کے امام ابن خلدون نے بجا کہا ہے کہ ’ما زلنا ونحن بالمغرب نسمع انہ ظہر بمصر عالم بالعربیۃ یقال لہ ابن ہشام انحیٰ من سیبویہ‘ اور ندوہ کے نصاب تعلیم کے ذمہ داروں نے ابن ہشام کی تصنیفات نصاب میں داخل کر کے ندوہ کے نصاب تعلیم کو ایک انقلابی رخ عطا کیا ہے، ورنہ ابن حاجب کی کافیہ اور اس کی شرح ملا جامی یہاں کی عربیت کی معراج رہی ہے۔ شرح جامی پر علامہ شبلی کا تبصرہ کتنا معنی خیز ہے، ’فیہ کل شئ الا النحو‘، لیکن ابن ہشام کی پرستش سے ہم وہی غلطی کر رہے ہیں جو اب تک ابن حاجب اور ملا جامی کے نام سے چلی آ رہی ہے۔

مجھے حشمت اللہ صاحب کا تبصرہ کچھ سخت لگا۔ میں نے کہا، نصاب میں سارے نحویوں کی کتابیں داخل کرنا کیوں کر ممکن ہے۔ ندوہ نے شرح قطر الندیٰ اور شرح شذور الذہب داخل کی ہیں، بعض مراحل میں الفیہ ابن مالک پر ابن عقیل کی شرح اور مرحلہ تخصص میں ’المفصل‘ داخل کی ہے۔ آخر اس سے زیادہ کس توسع کی توقع کرتے ہیں۔ نصاب کو نحو سے گراں بار تو کرنا نہیں ہے۔ بابر بھائی کے لیے نحو کا موضوع صبر آزما تھا ہی، موقع ملتے ہی انھوں نے کہا کہ اگر ندوہ کے نصاب کی اصلاح کرنی ہے تو نصاب کو نحو سے آزاد کرنا ہوگا۔ .... حشمت اللہ نے حسب معمول بابر صاحب کی دخل اندازی پر توجہ نہیں دی اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد نصاب سے نہیں ہے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں ابراہیم صاحب اور نحو کے دیگر اساتذہ کو دیکھتا ہوں کہ ابن ہشام کے بغیر لقمہ نہیں توڑ سکتے۔ آخر جب دوسرے مضامین میں ہم، نصابی کتابوں سے ہٹ کر اپنے دائرہ مطالعہ کو وسیع کر سکتے ہیں اور درسی کتابوں پر قناعت نہیں کرتے تو آخر نحو کے ساتھ یہ زیادتی کیوں ہے؟ عربیت میں مہارت اور علم نحو سے گہری واقفیت پیدا کرنے کے لیے سیبویہ کی الکتاب، مبرد کی الکامل، ابن قتیبہ کی الکاتب، ابن عبد ربہ کی العقد الفرید، جاحظ کی البیان والتبیین اور ابن جنی کی تصنیفات کا مطالعہ کیو ں نہیں کیا جاتا؟ ابن ہشام کی ہم کتنی ہی تعریف کیوں نہ کریں، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ابن ہشام نے بھی دوسرے متاخرین نحویوں کی طرح نحو کے قواعد کو منطق کی حد بندیوں میں مقید کر دیا ہے۔ نحو کی روح وہاں نہیں۔ مختصرات وشروح فن سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے ہیں، ان سے کسی فن پر عبور نہیں ہوتا۔ میں نے حشمت اللہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہی غلطی اصول فقہ میں بھی ہے۔ عام طور سے لوگ اصول الشاشی اور حسامی پر قناعت کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انھیں فقہ کے اصول کا علم ہے، حالانکہ ان مختصرات کے بعد علم سے اصل مناسبت کی ابتدا ہوتی ہے۔ ان کے بعد اصول السرخسی، اصول البزدوی، امام شافعی کا الرسالہ، آمدی کی الاحکام، شاطبی کی الموافقات اور ابن حزم کی تصنیفات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔(ص ۲۶۔۲۹)

ہمارا درس تین روز سے کتاب الجمعۃ کے باب الاذان کی درج ذیل حدیث کے متعلق ہے: امام بخاری نے اپنی سند سے حضرت سائب بن یزید سے نقل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکرؓ وعمرؓ کے عہد میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا۔ جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے اور آبادی میں اضافہ ہو گیا تو آ پ نے زوراء کے مقام پر تیسری اذان کا اضافہ کیا۔ مولانا ضیاء الحسن صاحب اس حدیث کی تشریح محدثین اور فقہا کی اس رائے کے مطابق فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے عہد مبارک میں جمعہ کی نماز کے لیے خطبہ کی اذان کے علاوہ کوئی اذان نہیں تھی اور قرآن کریم میں سعی الی الجمعۃ کا حکم جس اذان کے بعد ہے، وہ یہی خطبہ کی اذان ہے۔ جمعہ کی پہلی اذان کا اضافہ حضرت عثمان کے عہد میں ہوا اور اس وقت سے جمعہ میں دو اذانیں جاری ہیں۔ اس تشریح پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس حدیث میں حضرت عثمان کے عہد کی اذان کو تیسری اذان کہا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کے عہد سے پہلے جمعہ کے لیے دو اذانیں تھیں۔ اس اشکال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اقامت بھی ایک قسم کی اذان ہے، اقامت کو شامل کر کے کل تین اذانیں ہو گئیں۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں حضرت عثمان کی اضافہ کردہ اذان کو دوسری اذان کہا گیا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کی اضافہ کردہ اذان کو پہلی اذان کہنا چاہیے تھا، تیسری اذان کیوں کہا گیا؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ چونکہ اس اذان کا اضافہ بعد میں ہوا تھا، اس لیے اس کو تیسری اذان کہا گیا۔

ہم میں سے بعض طلبہ اس تشریح سے مطمئن نہیں تھے اور کئی روز سے بحث جاری تھی۔ ہم نے اس کی ایک تشریح مولانا شہباز صاحب کی تشریحِ دلائل کے ساتھ بھی سنی تھی۔ ہم لوگوں نے مولانا شہباز صاحب کی تشریح دلائل کے ساتھ دہرائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ کے لیے دو اذانیں حضور ﷺ کے دور سے ہی تھیں، سورہ جمعہ میں جس اذان کا تذکرہ ہے، وہ پہلی اذان ہے۔ حضرت عثمان نے ایک وقتی ضرورت کے تحت تیسری اذان کا اضافہ کیا تھا، وہ کوئی مستقل اضافہ نہیں تھا، وہ وقتی ضرورت تھی، جیسا کہ حدیث میں خود صراحت ہے کہ مدینہ کی آبادی کی کثرت تھی، اس لیے یہ اذان مدینہ کے دوسرے علاقہ مقام زوراء میں ہوتی تھی۔ زوراء، مدینہ منورہ میں بازار کے پاس ایک جگہ تھی۔ مولانا اپنی اس رائے پر متعدد دلائل دیتے تھے جن کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

قرآن کریم میں جمعہ کی اذان کے متعلق ہے: ’اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع‘۔ ترجمہ: ’’جب جمعہ کے دن کے لیے نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کے لیے چل نکلو اور کاروبار کو چھوڑ دو۔‘‘ اللہ کے ذکر سے خطبہ اور نماز دونوں مراد ہیں، بلکہ علما کی ایک بڑی جماعت اس سے صرف خطبہ ہی مراد لیتی ہے۔ اب اگر خطبہ والی اذان کے بعد سعی فرض ہو تو مدینہ کے عوالی میں رہنے والوں کی نماز بھی چھوٹ جائے گی، یا کم سے کم خطبہ کا کچھ حصہ ضرور چھوٹ جائے گا، اس لیے قرآن کی آیت سے وہ اذان مراد لینا ضروری ہے جس کے بعد انسان جمعہ کے لیے سعی کرے اور خطبہ اور نماز دونوں میں شرکت کر سکے اور یہ پہلی اذان مراد لینے کی شکل ہی میں ممکن ہے، اس لیے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرآن شریف میں جمعہ کی اذان سے مراد پہلی اذان ہے۔

اذان اور اقامت میں فرق ہے۔ اقامت، جماعت سے متصل ہوتی ہے اور اس کا مقصد جماعت کھڑی ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ اذان کا مقصد نماز کے وقت کے دخول کی اطلاع ہے تاکہ لوگ گھروں یا اپنے کام سے فارغ ہو کر نماز کے لیے نکلیں۔ شریعت مطہرہ، جس کا ہر حکم مصالح وحکم پر مبنی ہے، اس میں یہ کس طرح ممکن ہے کہ ساری نمازوں میں تو یہ اطلاع والی اذان ہو اور جمعہ جو ساری نمازوں سے زیادہ اہم ہے، اس کی اطلاع کا کوئی انتظام نہ ہو؟

یہاں ایک نکتہ پر غور کرنا ضروری ہے کہ دخول وقت کی اطلاع کے لیے نماز سے پہلے اذان اور جماعت کے لیے اقامت مشروع ہے۔ آخر خطبہ کی اذان کا کیا مقصد ہے؟ خطبہ کی اذان سے متصل ہی خطبہ کا شروع کیا جانا دلیل ہے کہ یہ اذان وقت کے دخول کی اطلاع نہیں ہے، بلکہ اس کامقصد کچھ اور ہے۔ یہ لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہے کہ سنن ونوافل جلدی مکمل کر کے اور دوسری مشغولیات چھوڑ کر امام کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو کر بیٹھ جائیں، اب خطبہ شروع ہونے والا ہے۔ خطبہ کی اذان خطبہ کے لیے ایسی ہی ہے جیسے جماعت کے لیے اقامت۔ 

خطبہ کی اذان امام کے سامنے ہوتی ہے۔ اس کا مقصد، جیسا کہ اوپر گزرا، مسجد میں ہونے والوں کو متنبہ کرنا ہے۔ مدینہ کی آبادی کے بڑھنے یا گھٹنے کا خطبہ کی اذان پر کیا اثر؟ حضرت عثمان کے اضافہ والی حدیث دلیل ہے کہ انھوں نے خطبہ کی اذان کو ناکافی سمجھ کر یہ اضافہ نہیں کیا تھا، بلکہ جمعہ کی پہلی اذان جو اطلاع عام کے لیے ہوتی ہے، آبادی کے اضافہ کی وجہ سے کافی نہیں ہو رہی تھی، اس لیے عارضی طور پر ایک اذان کا اضافہ کر دیا تھا۔ بخاری شریف وغیرہ کی روایت میں حضرت عثمان کی اذان کو تیسری اذان کہنا بھی اسی کا قرینہ ہے کہ جمعہ کی دو اذانیں پہلے سے مشروع تھیں۔ بعض روایتو ں میں حضرت عثمان کی اذان کو دوسری اذان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ میں ایک زائد اذان پہلے سے تھی، یہ دوسری زائد اذان تھی، اس لیے اسے دوسری اذان کہا گیا۔

استاد محترم مولانا ضیاء الحسن صاحب اس تشریح سے مطمئن نہیں تھے، لیکن انھوں نے دونوں طرف کے دلائل کو دیکھتے ہوئے فرمایاکہ اس تشریح کی گنجایش نکلتی ہے۔ ( ص ۵۰۔۵۳)

رضوان صاحب نے مدینہ منورہ یونیورسٹی سے تفسیر اور علوم قرآن کے موضوع پر اختصاص کیا ہے۔ اسی سال فارغ ہو کر آئے ہیں اور ندوہ میں تفسیر کے استاد کی حیثیت سے ان کی تقرری ہوئی ہے۔ وہ کئی روز سے میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ ان کے ساتھ مولانا فراہیؒ کے نظریہ ’’نظام القرآن‘‘ پر تبادلہ خیال کروں۔ بابر صاحب خاموش ہوئے تو رضوان صاحب نے موقع غنیمت جانتے ہوئے نظام القرآن کا موضوع چھیڑ دیا۔ میں نے عرض کیا کہ وقت تھوڑا ہے، اس وقت اچھی طرح سے گفتگو مشکل ہے۔ اگر ہم مولانا شہباز سے رجوع کریں تو شاید فکر فراہی کو زیادہ بہتر انداز سے سمجھ سکیں۔ مولانا فراہیؒ ایک متقی، پرہیزگار اور دقیقہ رس عالم تھے۔ قرآن کریم کے مطالعہ پر اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ انھوں نے اپنے اس مطالعہ کا نچوڑ اپنی مکمل اور غیر مکمل تصنیفات ’’اسالیب القرآن‘‘، ’’دلائل النظام‘‘، ’’مقدمہ تفسیر نظام القرآن‘‘ اور ’’مفردات القرآن‘‘ وغیرہ میں پیش کیا ہے۔ ان کی کتاب ’’جمہرۃ البلاغۃ‘‘ اپنے موضوع پر نادر کتاب ہے۔ اس کتاب میں عربی زبان کی بلاغت کے اصول جس مجتہدانہ انداز میں پیش کیے گئے ہیں، اس کی نظیر نہیں۔ مولانا شبلی نے اپنے مقالات میں اس پر اچھا تعارف پیش کیا ہے۔ اسی طرح مولانا فراہیؒ کی تصنیفات ’’الرای الصحیح فی من ہو الذبیح‘‘، ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ وغیرہ محققانہ ومجتہدانہ معلومات پر مشتمل ہیں۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے مولانا فراہی کی فکر کی حقیقت واضح ہوگی۔

میں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کے منظم اور مرتب کتاب ہونے کا تصور متقدمین کے یہاں موجود ہے اور تقریباً ہر معتبر تفسیر میں ربط آیات کی کوششوں کے نمونے ملیں گے۔ مولانا فراہیؒ نے اس موضوع کی اہمیت کو سمجھا اور اس پر پوری محنت کی، یہاں تک کہ اس زمین کو آسمان بنا دیا۔ مولانا فراہیؒ نے واضح کیا ہے کہ ہر سورہ کا ماقبل ومابعد کی سورتوں سے اور ہر آیت کا ماقبل ومابعد کی آیتوں سے ربط ہے۔ قرآن کا ترتیب نزولی پر نہ ہونا اس نظم کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مولانا فراہیؒ نے جس طرح نظم کی تشریح کی ہے، اس سے ان کے نظریہ پر شرح صدر ہو جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ ہر آیت کا نظام بتانے میں وہ یکساں طور پر کامیاب ہیں، نہ ان کو اس کا دعویٰ ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔ ان سے اختلاف کی گنجایش موجود ہے۔

میری گفتگو جاری ہی تھی کہ ابراہیم صاحب نے کہا کہ اکرم، اس نظم کی کوئی اچھی سی مثال دو جس سے بات ذرا واضح ہو۔ میں نے عرض کیا کہ مولانا شہباز صاحب کے حوالہ سے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ مولانا کا کہنا ہے کہ نظم کے ذریعہ قرآن کریم کی معنوی تحریفات اور بہت سی تفسیری غلطیوں کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثال مولانا سورۃ الاحزاب کی آیت ’ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘  پیش کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے پاس مہر نبوت تھی۔ آپ کے بعد جو بھی نبی آئے گا، آپ کی مہر نبوت کی تصدیق سے آئے گا، کوئی مستقل نبی نہیں آ سکتا۔ قادیانیوں کا یہ استدلال آیت کے سیاق سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ نظم قرآنی کی روشنی میں آیت کی تفسیر یہ ہے کہ عربوں کے رسم ورواج میں متبنیٰ کو حقیقی بیٹے کا مقام حاصل تھا۔ قرآن نے اس رسم کو ختم کرنا چاہا اور حکم دیا کہ لوگوں کو ان کے حقیقی باپ کی طرف منسوب کیا جائے۔ حضرت زید جو کہ حضور ﷺ کے متبنیٰ تھے، ان کو زید بن محمد کہا کرتے تھے۔ سورۃ الاحزاب کے نزول کے بعد زید بن حارثہ کہنا شروع کیا۔ زید بن حارثہ کی شادی نبی اکرم ﷺ کے مشورہ سے حضرت زینب سے ہوئی، لیکن یہ رشتا نبھا نہیں۔ حضرت زید نے طلا ق دے دی جس سے حضرت زینب کو مزید شکستگی ہوئی۔ آپ ﷺ کے دل میں آیا کہ آپ خود حضرت زینب سے نکاح کر لیں تو ان کے دل کی شکستگی دور ہو جائے گی، لیکن اس میں اندیشہ تھا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ نے اپنی بہو سے شادی کر لی۔ قرآن کریم نے اس موقع پر یہ رسم ختم کرنا چاہی، اس لیے واضح فرما دیا کہ ’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘  چونکہ محمد ﷺ حضرت زید کے باپ نہیں ہیں، اس لیے زینب سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس پر یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ اگرچہ آپ زید کے باپ نہیں ہیں، پھر بھی کیا ضروری ہے کہ آپ زینب سے شادی کریں۔ اس لیے فرمایا کہ ’ولکن رسول اللہ‘، چونکہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے ذریعہ یہ جاہلانہ رسم توڑ دی جائے۔ آپ کی رسالت کی ذمہ داری ہے کہ آپ جاہلیت کی تمام رسموں کا خاتمہ کریں۔ اس پر یہ بات ذہنوں میں آ سکتی تھی کہ کیا ضروری ہے کہ اتنے بڑے پیغمبر اس کام کو کریں۔ ان کے بعد جو نبی آئیں گے، وہ اس رسم کو ختم کر سکتے ہیں۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ ’وخاتم النبیین‘، آ پ نبیوں کی مہر ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ہے، اس لیے اس رسم کو توڑنا آپ ہی کے ذمہ ہے۔ اس مثال سے سبھی لوگ محظوظ ہوئے۔ (ص ۳۴۔۳۶)

رضی الاسلام نے کھانے کے دوران ذکر کیا کہ وہ آج کل سورۃ الفیل پر مولانا فراہیؒ کی تفسیر کی تردید لکھ رہے ہیں اور انہوں نے اس پر اچھا خاصا مواد اکٹھا کر لیا ہے۔ عبد الحی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فراہیؒ علم وفضل کے اتنے عظیم مقام پر فائز تھے اور تقویٰ وپرہیز گاری میں بھی معاصرین سے ممتاز تھے، انھوں نے اس سورہ کی تفسیر میں جمہور کی رائے کی مخالفت کیسے کی۔ اس پر طارق نے کہا کہ مولانا فراہیؒ بھی انسان تھے اور غلطی کس سے نہیں ہوتی۔ آفتاب صاحب نے مولانا فراہی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے جس طرح مخالفین نے پیش کی ہے۔ جاہلی شاعری پر مولانا فراہی کی گہری نظر ہے۔ عربوں نے اپنے اشعار میں اس پر فخر کیا ہے کہ انہوں نے ابرہہ کے لشکر پر حملہ کیا اور اسے شکست دے دی، اور یہ کہ پرندے مردہ لاشوں کی وجہ سے اکٹھا ہوئے تھے۔ رضی الاسلام نے اس پر اعتراض کیا کہ ایک طرف تو مولانا فراہی احادیث کی روایت کے بارے میں سخت محتاط ہیں، ان کے یہاں صحیح روایات سے کھلا ہوا اعراض موجود ہے۔ اشعار عرب کی سندیں ضعیف احادیث سے بھی کمزور ہیں اور حماد الراویۃ اور خلف الاحیر وغیرہ پر کثرت سے اشعار وضع کرنے کے الزامات ہیں۔ یہاں ایک اہم نکتہ کی نشان دہی ضروری ہے کہ شعرا کی مفاخرت کا صحیح مفہوم سمجھنا چاہیے۔ شعراے عرب کا یہ کہنا کہ ہم نے ابرہہ کے لشکر کو شکست دی ہے، اس مفہوم میں نہیں ہے کہ انہوں نے مقابلہ کر کے شکست دی ہے، بلکہ انہوں نے ابرہہ پر آنے والے عذاب الٰہی کو اپنے دین وموقف کی حقانیت کی تائید کے لیے استعمال کیا ہے۔ (ص ۶۷)

آج کل صبح کے وقت ابن حزمؒ کی ’’المحلیٰ‘‘ کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ یہ سوچ کر کہ ناغہ نہ ہو، کتاب کے ایک حصہ کا مطالعہ کیا۔ میں ابن حزمؒ کے دلائل کی قوت سے اتنا متاثر نہیں ہوں جتنا مجھ پر اس کا اثر ہے کہ جب اسلام کی تہذیب کو غلبہ تھا، لوگ کتنی آزادی سے سوچتے تھے۔ ان کے اجتہادات معاشرے کی صحت مند تعمیر میں حصہ لیتے تھے۔ نہ کہیں کوئی انتشار اور بد مزگی وافتراق۔ یونس صدقی کا قول یاد آتا ہے کہ میں نے امام شافعی سے زیادہ عقل مند کسی کو نہیں دیکھا۔ کسی مسئلہ پر ان سے ایک روز میں نے مناظرہ کیا۔ مناظرہ کے بعد ہم نے اپنی اپنی راہ لی۔ کچھ دنوں کے بعد ان سے میری ملاقات ہوئی۔ میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا، ابوموسیٰ، (یونس کی کنیت) کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہمارا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو، تب بھی ہم بھائی بھائی بن کر رہیں؟ میرے ذہن میں آیا کہ ندوہ کے نصاب اور اس کے نظام تعلیم کی یہی دعوت ہے کہ عہد ماضی کا یہ زریں دور دوبارہ آ جائے۔ ندوہ کی فکر کا اہم پہلو یہ ہے کہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کے باوجود ہمارے دل اتنے وسیع ہوں کہ فروعی اختلافات ہمیں فرقہ بندی اور گروہ بندی کی دلدل میں نہ پھنسا سکیں۔ (ص ۳۶، ۳۷)

عبد المبین نے بتایا کہ وہ اورنگ آباد کسی کام سے گئے ہوئے تھے، وہاں کسی نے ’تعمیر حیات‘ میں شائع ہونے والے طارق کے فقہی سوال وجواب کی بڑی تعریف کی اور کہنے لگے کہ ان فتووں کو کتابی شکل میں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ مسائل تو پہلے ہی سے کتابوں میں موجود ہیں۔ عبد الحی نے کہا کہ طارق، تمہارا طریقہ فتویٰ نویسی ندوہ کے مسلک اور طرز زندگی کی نمائندگی نہیں کر رہا ہے۔ بار بار ’’صورت مسؤلہ‘‘ وغیرہ جیسی ثقیل ترکیبیں بانیان ندوہ مولانا شبلی، مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی وغیرہ جیسے صاحب طرز ادیبوں کی ارواح کے لیے تکلیف کا باعث ہیں۔ آخر دیکھو، مصر میں مفتی محمد عبدہ، رشید رضا اور آج کل شیخ قرضاوی نے فتویٰ کی زبان کو کتنی ترقی دی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ طارق، ان سے تمہیں صرف فتویٰ کی زبان ہی نہیں، بلکہ منہج بھی اخذ کرنا چاہیے۔ فتویٰ نویسی کا ایک زمانہ میں معیار یہ تھا کہ اس میں الفاظ کم سے کم مستعمل ہوں، لیکن یہ طریقہ صحیح نہیں۔ فتویٰ نویسی میں قرآن وسنت کے دلائل اور عقلی حکمتوں کا بھی حوالہ ہونا چاہیے۔ اس سے سوال کرنے والوں کو اطمینان حاصل ہوگا اور ان کے علم میں اضافہ بھی ہوگا۔ قرآن کریم کو دیکھو کہ سوالوں کے جواب میں کتنی رعایتیں ملحوظ ہیں اور حدیث شریف تو اس طرح کی مثالوں سے پُر ہے۔ اسی طرح حدیث کے حوالوں میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ایک حدیث میں آیا ہے، بلکہ کتاب اور باب کے حوالہ سے پوری حدیث نقل کرنی چاہیے اور حدیث موطا اور صحیحین میں نہیں ہے تو ائمہ حدیث کے حوالہ سے اس کا درجہ بھی متعین کرنا چاہیے۔ (ص ۶۸)

وزیر کو جدید اردو ادب اور تنقید سے بڑی دلچسپی ہے۔ نیاز فتح پوری، مجنوں گورکھ پوری، مہدی افادی، کلیم الدین احمد، رشید احمد صدیقی، آل احمد سرور وغیرہ کی تحریریں ساتھیوں نے وزیر ہی کی دیکھا دیکھی پڑھی ہیں۔ آج کل ’نکات مجنوں‘ وزیر کے مطالعہ میں ہے۔ زاہد صاحب اور فٹ بال میچ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے وزیر نے مجنوں کی سخن فہمی اور تنقید نگاری پر تبصرہ کرنا شروع کردیا۔ دوران گفتگو وزیر نے میر حسن کی مثنوی ’سحر البیان‘ کے یہ اشعار پڑھے:

وہ گانے کا عالم وہ حسن بتاں
وہ گلشن کی خوبی وہ دن کا سماں
گھڑی چار دن باقی اس وقت تھا
سہانا ہر اک طرف سایہ ڈھلا
درختوں کی کچھ چھاؤں اور کچھ وہ دھوپ
وہ دھانوں کی سبزی وہ سرسوں کا روپ

وزیر نے آخری شعر کے بارے میں میری رائے معلوم کرنا چاہی۔ میں نے مولانا حالی کا اعتراض دہرایا جسے انھوں نے ’’مقدمہ شعر وشاعری‘‘ میں فن مثنوی سے بحث کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ قصہ کے ضمن میں کوئی ایسی بات بیان نہ کی جائے جو تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہو اور مثنوی کے اس آخری شعر کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ آخری مصرع سے صاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ ایک طرف دھان کھڑے تھے اور ایک طرف سرسوں پھول رہی تھی، مگر یہ بات واقعہ کے خلاف ہے، کیونکہ دھان خریف میں ہوتے ہیں اور سرسوں ربیع میں گیہوں کے ساتھ بوئی جاتی ہے۔

وزیر نے کہا کہ خواجہ الطاف حسین حالی کی پیروی میں تمام تنقید نگاروں نے اس امر پر یہی اعتراض کیا ہے۔ اندھی تقلید نے جس طرح فقہی مسالک کو نقصان پہنچایا ہے، اسی طرح ادب وتنقید بھی اس سے محفوظ نہ رہے۔ مجنوں پہلا نقاد ہے جس نے اس روش عام کی پیروی نہیں کی۔ اسے تشبیہات واستعارات کی دنیا میں میر حسن کے مقام کی عظمت کا احساس ہے اور اس نے شعر کی ایسی تشریح کی ہے کہ کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔

وزیر نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجنوں نے اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے سیدھے سادھے شعر کو سمجھنے میں ایسا شدید اور متواتر مغالطہ کیوں ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ میر حسن کا مقصد یہ ہے کہ باغ میں واقعی ایک طرف دھان بوئے تھے اور دوسری طرف سرسوں۔ دوسرا مصرع تو استعارہ ہے ۔ ’’دھانوں کی سبزی‘‘ اور ’’سرسوں کے روپ‘‘ سے ’’درختوں کی کچھ چھاؤں‘‘ اور ’’کچھ دھوپ‘‘ کو تشبیہ دی گئی ہے اور اس طرح کہ تشبیہ، تشبیہ نہیں معلوم ہوتی۔ میر حسن کے تشبیہات واستعارات ان کے کمال تخیل کی بین دلیل ہیں۔ مجنوں کی تشریح پر ہم لوگ جھوم اٹھے اور مجنوں کی خوش فہمی اور ذوق کی بلندی کی داد دینی پڑی۔ اور جب مثنوی کے اس شعر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو سخت استعجاب ہوتا ہے کہ اس سیدھے سادھے شعر کو سمجھنے میں حالی جیسے سخن فہم اور نقاد کو کیسے مغالطہ ہو گیا۔ (ص ۷۵۔۷۶)

مطیع الرحمن صاحب نے دیکھا کہ ہم لوگ ننگے سر کھانا کھا رہے ہیں تو بڑے حیرت زدہ ہوئے۔ کہنے لگے کہ آپ لوگ سنت کے خلاف کر رہے ہیں۔ عمر لداخی نے کہا کہ میں نے حدیث کی کتابوں میں کھانے کے آداب کے ابواب کی کئی بار مراجعت کی ہے اور اہل علم سے پوچھا بھی ہے کہ کیا کھانے کے وقت سر چھپانے کے متعلق کوئی قولی یا فعلی حدیث ہے یا آثار صحابہ سے اس سلسلے میں کوئی روشنی پڑتی ہے۔ مجھے اس تحقیق اور تلاش وجستجو کے دوران کہیں کوئی دلیل نہیں ملی۔ اگر آپ کے پاس کوئی دلیل ہو تو بتائیں۔ مطیع الرحمن صاحب نے کہا کہ میں نے ہمیشہ تبلیغی جماعت والوں کو ٹوپی لگا کر کھانا کھاتے دیکھا ہے اور تبلیغ والے ہر کام میں سنت کی پیروی کرتے ہیں۔ اس پرمولانا نے ان کو سمجھایا کہ تبلیغی جماعت یا کسی جماعت یا فرد کا عمل حجت نہیں، بلکہ تبلیغ والوں کو اپنے اس عمل کی دلیل پیش کرنی چاہیے۔ اس پر مجھے عبد الحکم کا واقعہ یاد آ گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میری ملاقات عبد الملک بن الماجشون سے ہوئی۔ ان سے میں نے ایک مسئلہ پوچھا جس کا انھوں نے جواب دیا۔ میں نے دلیل پوچھی تو انھوں نے امام مالک کے کسی قول کا حوالہ دیا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے دلیل مانگتا ہوں تو آپ کہتے ہیں کہ میرے استاد کا یہ قول ہے، حالانکہ آپ اور آپ کے استاد دونوں دلیل کے محتاج ہیں۔ (ص ۹۲)

حیدر صاحب نے اس پر افسوس کا اظہار کیاکہ بعض حنفی لوگ سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے ہیں جو کسی طرح مناسب نہیں۔ میں نے کہا کہ جمع بین الصلاتین کے مسئلہ پر اتنی سختی صحیح نہیں، خاص طور سے جب اس کے جواز کی حدیثیں موجود ہیں اور علما کی بڑی جماعت اس کی موید ہے۔ کہنے لگے کہ لیکن احناف کی فقہ کی رو سے اس کی کوئی گنجایش نہیں۔ مجھے اس سے اختلاف تھا۔ میں نے اپنا موقف واضح کیا کہ حنفی اصول فقہ کی رو سے بھی سفر وغیرہ میں جمع بین الصلاتین کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔ حیدر بھائی نے قرآن کریم کی آیت ’ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا‘  کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات دہرائی کہ یہ آیت قطعی ہے کہ نمازوں کی ادائیگی وقت پر ہونی چاہیے۔ خبر واحد یا قیاس سے اس کی تخصیص کی گنجایش نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یہ بات بار بار کہی جا رہی ہے کہ یہ آیت اپنے عموم میں نص قطعی ہے، حالانکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے۔ کیا عرفات اور مزدلفہ میں حاجیوں کے لیے جمع بین الصلاتین پر اجماع نہیں ہے؟ کیا یہ اجماع واضح نہیں کر رہا ہے کہ یہ آیت اپنے عموم پر نہیں اور جب آیت اپنے عموم پر نہیں رہی اور مخصوص منہ البعض ہو گئی تو کیا خود احناف کے قواعد کی رو سے خبر واحد اور قیاس دونوں سے اس کی مزید تخصیص نہیں ہو سکتی ہے؟ اس لیے حالت سفر اور مرض میں جمع بین الصلاتین تو احناف کے یہاں بھی صحیح ہونا چاہیے۔

حیدر بھائی نے اس پر امام ترمذی کی حدیث کا حوالہ دیا کہ حضور ﷺ نے ایک بار سفر، مرض یا بارش کے عذر کے بغیر جمع بین الصلاتین کی تھی، مگر امام ترمذی نے اس حدیث کو اپنی سنن کی ان دو حدیثوں میں شمار کیا ہے جن پر اہل علم میں سے کسی کا عمل نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ امام ترمذی کا قول صحیح ہے اور ائمہ کا عمل اصول فقہ کے قواعد کی روشنی میں بجا ہے، کیونکہ عام مخصوص منہ البعض کی تخصیص خبر واحد یا قیاس سے اس وقت تک صحیح ہے جب تک کہ اس عام کے تحت کم سے کم تین فرد باقی رہیں۔ مذکورہ بالا حدیث پر عمل کرنے کے بعد آیت کا کوئی محمل باقی نہیں رہے گا۔ آفتاب نے کہا کہ لیکن اس موقع پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ جمع بین الصلاتین کی احادیث کی تاویل کی جائے اور جمع سے مراد جمع صوری لی جائے تو قرآن وحدیث میں تطبیق کی ایک شکل نکل آئے گی۔ میں نے عرض کیا کہ جمع صوری مراد لینے میں دو رکاوٹیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ جمع کی جو نظیر موجود ہے، وہ جمع حقیقی کی ہے، جمع صوری کی کوئی نظیر نہیں۔ عرفہ ومزدلفہ میں جمع کا ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ جمع سے جمع حقیقی ہی مراد ہوگی۔ فقہا نظیر کو نظیر پر قیاس کرنے کے قائل ہیں۔ دوسری دشواری یہ ہے کہ سفر کے مسائل آسانی پر مبنی ہیں۔ جمع صوری سے وقت اور تنگ ہو جاتا ہے، اس لیے مسافر کو بجاے آسانی کے اور زحمت ہوگی۔ (ص ۹۳۔۹۵)

مفتی اشتیاق صاحب کوئی کتاب دبائے ہوئے دوبارہ آئے۔ میں نے پوچھا کہ یہ آپ کے ہاتھ میں کون سی کتاب ہے؟ کہنے لگے کہ مولانا مودودیؒ کی ’خلافت وملوکیت‘ ہے۔ وزیر سے پڑھنے کے لیے لی تھی۔ اب پڑھ لی ہے، اس لیے واپس کرنے آیا ہوں۔ عمر لداخی نے کہا کہ وزیر کا کام لوگوں کا ذہن خراب کرنا ہے۔ مفتی اشتیاق عالم اور مفتی ہیں، یہاں ادب کی تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں، ان کو خلافت وملوکیت دے دی۔ وزیر نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میری اور مفتی صاحب کی بات ہو رہی تھی۔ مفتی صاحب مولانا مودودی کی تحریروں، خاص طور سے ’خلافت وملوکیت‘ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ مفتی صاحب، کیا آپ نے ’خلافت وملوکیت‘ پڑھی ہے؟ کہنے لگے کہ اس پر بعض لوگوں کی تنقید پڑھی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ مجھ سے کتاب لے کر پڑھیں۔ اس کے بعد جو رائے چاہیں، قائم کریں۔ عبد الحی نے استفسار کیا کہ مفتی صاحب، کیا رائے ہے؟ کہنے لگے کہ مجھے کوئی قابل اعتراض چیز نظر نہیںآئی۔ ابراہیم صاحب نے تبصرہ کیا کہ مولانا مودودی ذہین انسان ہیں، انھوں نے مقدمہ میں اس کتاب کی وجہ تالیف اور کتاب کے مراجع کے بارے میں اتنی معصومیت سے لکھا ہے کہ ایک عام قاری ان کے خلوص سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، حالانکہ اگر مولانا مودودی اتنے مخلص تھے تو ان کو چاہیے تھا کہ تاریخ اسلام کے مشکل مسائل میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اہل علم سے مراجعت کرتے، ہو سکتا ہے کہ بعض غلطیوں سے بچ جاتے۔ آفتاب نے کہا کہ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ مودودی صاحب نے حدیث کی کتابیں باقاعدہ کسی استاد سے نہیں پڑھی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ان کو محدثین کی اصطلاحات سے واقفیت نہیں۔

وزیر نے اس تبصرہ سے تنگ آ کر کہا کہ ان جزئیات کو چھوڑیے۔ عصر حاضر میں مولانا مودودیؒ پہلے شخص ہیں جنھوں نے خالص اسلامی ریاست کے قیام کی بات کی ہے اور اپنی مختلف تحریروں میں اس کو واضح کیا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، یہ خدا کی طرف سے نازل کردہ نظام ہے، اس لیے نہیں آیا تھا کہ مدرسوں میں اس پر بحثیں ہوں، کتابوں میں اس کے متعلق لکھا جائے اور عملاً اس کے نفاذ کی کوشش نہ کی جائے۔ جس خدا کی غلامی کی ہم بات کرتے ہیں، کیا اسی نے نماز اور روزہ کے علاوہ وہ احکام نہیں دیے جن کا نفاذ حکومت الٰہیہ کے قیام کے بغیر ناممکن ہے؟

حشمت اللہ نے اس موضوع پر فیصلہ کن انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی تہذیب پر حملہ کرنے میں مولانا مودودی کی مثال امام غزالی کی ہے۔ امام غزالیؒ نے یونانی فلسفہ کے ہتھیار سے یونانی فلسفہ پر حملہ کیا اور ’تہافت الفلاسفہ‘ لکھ کر ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ مولانا مودودیؒ ، سید قطب شہیدؒ ، مالک بن نبیؒ اور محمد مبارکؒ نے مغربی تہذیب کے مقابلہ میں یہی روش اختیار کی۔ ان حضرات نے مغرب کے اسلحہ سے مغرب پر حملہ کیا۔ یونانی عقلیت پسندی کا ایک جواب وہ تھا جو مولانا رومؒ نے اپنی تحریروں سے فراہم کیا۔ انھوں نے روحانیت کے طاقت ور ہتھیار سے یونان کی عقل پسندی اور مادہ پرستی کا جواب دیا۔ اس میں عطار وغیرہ ان کے شریک رہے ہیں۔ ان کا پیغام تھا:

چند خوانی حکمت یونانیاں
حکمت ایمانیاں را ہم بخواں

عصر حاضر میں مغرب کی عقلیت پسندی کے خلاف لسان العصر اکبر الٰہ آبادیؒ اور شاعر اسلام علامہ اقبالؒ نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا اور اس میں ان کو بڑی کامیابی ملی۔ ان حضرات کے کردار کی نمائندگی درج ذیل شعر سے ہوتی ہے:

تاریخ جنوں یہ ہے کہ ہر دور خرد میں
اک سلسلہ دار ورسن ہم نے بنایا

حشمت اللہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ غزالی کا طریقہ ان کے عصر کے لیے مفید تھا، مگر ضرورت تھی ایک ایسے شخص کی جو اپنے ہتھیار سے فلسفہ یونان پر حملہ کرے۔ امام ابن تیمیہ علوم نبوت سے لیس تھے، یونانی علوم فلسفہ سے گہری واقفیت کے باوجود اس کے اثرات سے ہر طرح محفوظ تھے، انھوں نے اس فلسفہ کی چولیں ہلا دیں، اس کی جڑیں اکھیڑ دیں، اسے بے دست وپا کر دیا۔ ان کے اندر مرعوبیت نہیں تھی۔ غزالی کے طریقہ کار کی خامی یہ ہے کہ ’تہافت‘ کا جواب ’تہافت التہافت‘ کی شکل میں دے دیا گیا، مگر امام ابن تیمیہ کی ’الرد علی المنطقیین‘ آج تک لاجواب ہے، بلکہ جدید منطق کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی نے ابن تیمیہؒ کے اعتراضات کی روشنی میں اسے مرتب کیا ہے۔ عصر حاضر کو ایک ابن تیمیہ کی ضرورت ہے۔ مولانا شبلی کو ابن تیمیہ کی عظمت کا احساس بہت بعد میں ہوا اور جب ہوا تو انھوں نے مکتوبات میں صراحت کی کہ ابن تیمیہ کی لائف فرض اولین ہے۔ مجھے اس شخص کے سامنے رازی وغزالی سب ہیچ نظر آتے ہیں۔ مولانا آزاد کی ترجمان القرآن اور تاریخ دعوت وعزیمت کے مطالعہ سے لگتا ہے کہ ان پر ابن تیمیہ کا کچھ رنگ ہے، لیکن سیاست میں لگ کر وہ اس کام کو آگے نہ بڑھا سکے، چنانچہ ابھی تک ابن تیمیہ کی جگہ خالی ہے۔

ہم لوگ حشمت اللہ کی اس تشریح سے اس قدر متاثر ہوئے کہ کسی نے بھی اس سے نااتفاقی ظاہر نہیں کی۔ سب لوگ اس سے مکمل متفق نظر آ رہے تھے۔ صرف آفتاب کا چہرہ کسی تاثر سے خالی تھا۔ ہم لوگوں نے آفتاب صاحب سے کہا کہ آپ کی یہ گم صم ہونے کی عادت اچھی نہیں ہے۔ حشمت اللہ نے اتنا زبردست نکتہ بیان کیا ہے، کیا آپ اس کی داد بھی نہیں دے سکتے؟ آفتاب کہنے لگے کہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ ابن تیمیہ کا طریقہ کار فکر اسلامی کی آخری منزل ہے، بلکہ امام غزالی کی طرح امام ابن تیمیہ کا انداز بھی فکر اسلامی کا ایک ناگزیر اور وقتی مرحلہ ہے۔ منزل اس سے بھی آگے ہے۔ عبد الحی کہنے لگے کہ اب اس سے آگے کون سی منزل ہوگی؟ کہیں منزل کی تلاش میں دور نہ نکل جائیں۔ آفتاب نے کہا کہ ملحدانہ فکر وفلسفہ کی تردید سے کمزور لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے، ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ امام غزالی نے غیروں کے ہتھیار سے یہ کام کیا ہے، ابن تیمیہ نے اپنے ہی ہتھیار استعمال کیے۔ لیکن پیغمبر اپنوں اور غیروں، سب پر ہمدردی کی نگاہ ڈالتے ہیں۔ پوری انسانیت ان کی امتِ دعوت ہے اور شیطان ان کا دشمن۔ ایک پیغمبر کی کوشش ہوتی ہے کہ تردید میں الجھے بغیر اخلاص وہمدردی کے ساتھ دعوت دے۔ جدل اس کی دعوت میں ہوتا ہے، لیکن نہایت حکمت کے ساتھ اور بہت ناگزیر حالات میں۔ پیغمبر کی دعوت مثبت ہوتی ہے۔ عصر حاضر میں پیغمبرانہ اسلوب کی جھلکیاں حسن البناء شہید، مولانا الیاس کاندھلوی، اور مولانا ابو الحسن علی الندوی کے یہاں ملتی ہیں۔ اس طریقہ کی اہم اساس افراد اور معاشرہ کی اصلاح اور انسانیت پر ہمدردانہ نگاہ ہے۔

بدلنا ہے تو رندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں
فقط ساقی بدل دینے سے میخانہ نہ بدلے گا 

(ص ۱۰۸۔۱۱۲)


مشاہدات و تاثرات