تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’صحابہ کرام کا اسلوب دعوت وتبلیغ‘‘

نظریہ حیات کوئی سا بھی کیوں نہ ہو، جب تک اسے اشاعت پذیر کرنے کا شعوری اہتمام نہ کیا جائے، وہ سمٹ کر چند دماغوں تک محدود رہ جائے گا اور امتداد وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کھو بیٹھے گا۔اسلام ایک نظریہ حیات کی حیثیت سے ابتدا ہی سے اس امر کا متقاضی رہا ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اللہ کا پیغام ملکوتی واسطوں سے انبیاء ورسل تک پہنچا اور پھر انھوں نے اسے خلق خدا تک پہنچانے میں اپنی بھرپور توانائیاں کھپا دیں۔ یہ سلسلہ ایسا مہتم بالشان رہا کہ اس میں کوئی کڑی گم نہیں ہونے پائی۔ خداے عزوجل نے بات کبھی براہ راست قلب پیغمبر پر الہام کی تو کبھی ملکوتی وسیلے سے القا والہام کا سلسلہ جاری رکھا۔ اب ان رسولان برحق کی ذمہ داری ٹھہری کہ وہ بحیثیت انبیا کے عالم کو ان آسمانی خبروں سے آگاہ کریں۔ یہ نفوس قدسیہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں یہ فریضہ انجام دے کر رخصت ہوئے۔ مشیت الٰہی سے اس سلسلۃ الذہب کے روشن دل افراد کا دائرہ کار کبھی قومی سطح تک اور کبھی ملکی وجغرافیائی حدود وثغور تک محدود رہا۔ تاہم جب کار نبوت اپنے انتہائی نقطہ عروج تک پہنچ گیا تو خداے قدوس نے اسے عالمگیر اور آفاقی انداز عطا کر دیے اور جس رسول اعظم وآخر پر ختم نبوت کرنا تھی، اسے ’وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا‘ کے حسین لفظوں سے مخاطب فرما کر اس پیغام کو پوری انسانیت کے لیے عام کر دیا۔ اب یہ پیغام تمام زمانی ومکانی حدود وثغور کو پار کرتا ہوا جملہ اکناف عالم تک جا پہنچا۔ جس بالا بلند ہستی کو اس پیغام کے لیے اختصاص عالمگیریت بخشا گیا، اسے اس بات کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی کہ ’یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ‘۔

یوں تبلیغ دین فریضہ پیغمبر ٹھہرا۔ حق یہ ہے کہ پیغمبر نے ہر کڑی آزمایش جھیلی، ہر دکھ بطیب خاطر اٹھایا، ہر کٹھن مرحلہ طے کیا اور پوری دل سوزی اور جانفشانی سے اس خوشگوار فریضے کو انجام دیا۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ خود خالق اکبر نے اپنی شان رحیمی کے جوش میں رحمۃ للعالمین کی دل گدازیوں کی قدر افزائی کرتے ہوئے فرمایا: ’لعلک باخع نفسک علی آثارہم ان لم یؤمنوا بہذا الحدیث اسفا‘۔ تبلیغ ودعوت کو تو فریضہ قرار دیا گیا، مگر اس امر کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی کہ ایک ایک مدعو حلقہ بگوش اسلام ہوگا تو پیغمبر اس دنیا سے رخصت ہوگا، بلکہ اس طمانینت بخش اور دل نواز ارشاد سے نوازا گیا کہ ’انما علیک البلاغ وعلینا الحساب‘۔

سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی سرگرمیوں کی ابتدا آغاز نبوت ہی سے ہو گئی اور پھر تیئیس سال کے عرصے کا ایک ایک لمحہ انھی تبلیغی مساعی میں بیتا۔ آپ کی دعوتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کی تبلیغی کوششیں بھی برابر جاری رہیں۔ اس کار دشوار میں اس فریضے کی یاد دہانی کوئی ایک لاکھ فرزندان توحید کے سامنے ان الفاظ کے ساتھ کرا دی گئی کہ ’فلیبلغ الشاہد الغائب‘۔ اور ’بلغوا عنی ولو آیۃ‘ کے الفاظ ہر مسلمان کو اس فریضے کا بقدر استطاعت مکلف کر رہے ہیں۔ صحابہ کرام تو پہلے بھی اس فریضے سے غافل ومتساہل نہ تھے، اب اور بھی زیادہ سرگرم عمل اور حساس ہو گئے۔ ان کا یہی احساس دعوت تھا جس نے آئندہ ادوار میں اس پیغام الٰہی کو دنیا کے ہر کونے تک پھیلا دیا۔

ان کا طریق دعوت کیا تھا؟ کون سے وسائل وذرائع اختیار کر کے فرزندان آدم کے اس پاک باز گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کے اس کام کو تسلسل بخشا؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب کتاب اللہ کے مابین الدفتین اور پھر حدیث کے مبارک ذخیرے میں بکھرے موتیوں کی طرح جابجا جھلک جھمک رہا ہے۔ انھی چمکتے دمکتے موتیوں کی آب وتاب کو بعض اہل علم نے اپنی علمی کوششوں سے تدوین وترتیب کا نیا پیراہن دے کر اس میدان میں علمی وعملی دلچسپی رکھنے والے داعیان اسلام کے لیے کام آسان کر دیا ہے۔ (ان کتابوں میں سے کم از کم ۱۲ وقیع شہ پاروں کا زیر نظر کتاب کے صفحہ ۳۳، ۳۴ اور ۳۵ کے حواشی میں تفصیلی ذکر موجود ہے)۔ یہ کتابیں بالعموم صحابہ کرام کے اسلوب دعوت پر خاصی روشنی ڈالتی ہیں۔ متداول طریقوں کو ان میں سے بعض حضرات نے جزوی طور پرموثر قرار دیا ہے، تاہم بعض دوسروں نے ان طریقہ ہائے دعوت سے اختلاف کر کے ان کی کمزوریوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔ مثال کے طور پر ’’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘‘ میں مولانا امین احسن اصلاحی نے مروجہ طرق دعوت پر گرفت کر کے ان کی غلطیوں پر انگلی رکھی ہے:

’’ہمارے نزدیک مروجہ طریقہ تبلیغ میں علمی اور عملی دونوں قسم کی غلطیاں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ یہ طریقہ تبلیغ اپنے فلسفہ کے اعتبار سے بھی غلط ہے اور اپنے طریقہ کار کے پہلو سے بھی غلط ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ تبلیغ اسلام کے نام سے اب تک جتنی جدوجہد بھی کی گئی ہے، وہ بیشتر نہ صرف یہ کہ اصل مقصد کے لحاظ سے لاحاصل رہی ہے بلکہ الٹا اس سے اسلام کی دعوت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔‘‘

اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا اسلوب دعوت وتبلیغ ہے جس کو اپنا کر صحابہ کرام اس مشن میں کام یاب ہوئے اور جسے آج بھی حرز جان بنا کر مختلف خطہ ہائے ارض پر مختلف شعوب وقبائل کو قائلِ پیغام اسلام اور مائلِ دین وایمان کیا جا سکتا ہے؟ اسی ایک سوال کا جواب ہمارے سامنے کی یہ کتاب ’’صحابہ کرام کا اسلوب دعوت وتبلیغ‘‘ پیش کر رہی ہے۔ کتاب کے مصنف پروفیسر محمد اکرم ورک اسلامی علوم کے ایک نوجوان ریسرچ اسکالر ہیں۔ کتاب کمپیوٹر پر طبع شدہ ۳۵۲ صفحات پر مشتمل ہے اور مکتبہ جمال کرم لاہور نے اسے خوب صورت سرورق کے ساتھ طبع کیا ہے۔ کتاب کے مشمولات پر ایک نظر ڈالنے سے پروفیسر موصوف کی اس نوجوانی کے عالم میں گہری علمی بصیرت اور موضوع زیر نظر کے لیے ان کی عقلی اور سائنٹفک اپروچ کا پتہ چلتا ہے۔ یہ تنقیح مسائل اور احقاق حق میں خاصی شعوری کوشش ہے۔ غیر جذباتی انداز میں تحقیق کاری کے جملہ لوازم کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ کتاب کے محتویات کے سرسری جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا قلم کار عنوانات کو چابک دستی سے مرتب ومدون کرنا جانتا ہے۔ ’دعوت کی اہمیت‘، ’داعیان اسلام کے لیے رہنما اصول‘، ’صحابہ کرام کی دعوتی سرگرمیاں‘، ’مکی اور مدنی ادوار کا نازک فرق‘، ’نبوی سفرا کی سیرتوں کی شفافیت‘، ’فروغ اسلام کی عمومی وجوہات‘ جیسے عنوانات قائم کر کے بڑی علمی گہرائی اور گیرائی سے کلام کیا ہے۔ قرآن وحدیث سے استناد کر کے بنیاد داعی کے اسلوب دعوت میں علمی سے بڑھ کر عملی جہد مسلسل پر رکھی ہے۔ صحابہ کرام کی انفرادی دعوت ہو یا اجتماعی جہد وپژوہش، ان کے کردار ہی کو اولیت دے کر اس گوشے کو highlight کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ آنحضور کا دعوتی منہاج ہی ان حضرات کے لیے مشعل راہ رہا، اس لیے ان کا آپس میں بعض امور میں اختلاف بھی منشاے رسول کا غماز ہے۔ کتاب میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت عمار بن یاسر کے بلند جگہ پر امامت کرانے پر حضرت حذیفہ کا فرمان رسول یاد کرانا اور عمارؓ کا فرط اطاعت رسول سے سرتسلیم خم کر دینا اس کی روشن مثال ہے۔ الم تسمع رسول اللہ یقول اذا ام الرجل القوم فلا یقم فی مکان ارفع من مقامہم قال عمار لذالک اتبعتک حین اخذت علی یدی۔ (ص ۳۰۶)

داعی کے اوصاف جگہ جگہ باضابطہ طریقے سے بالوضاحت بیان کیے گئے ہیں اور مدعو کے میلانات، رجحانات ، ذہنی صلاحیت وصالحیت، پس منظر وپیش منظر، نفسیاتی کیفیات ومعاشرتی حیثیت کے لحاظ سے دعوت دین کے جو وسائل وطرق صحابہ کرام نے استعمال کیے، موصوف نے انھیں نہایت تحقیقی انصرام سے پیش کیا ہے۔ دور نبوی کے مراکز تبلیغ پر بڑے اچھوتے انداز سے قلم اٹھایا ہے اور مستند روایات سے ان کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ انھوں نے ایک سچے اور بے لاگ محقق کی طرح طریقہ تحقیق کی وضاحت بھی کر دی ہے۔ قرآن نے دعوت کے جو زریں اصول مجملاً بیان کیے ہیں، مولف نے انھیں آیت قرآنی ’ادع الی سبیل ربک‘ (۱۶/۱۲۵) کی روشنی میں مبلغ کی جملہ دعوتی سرگرمیوں کا محور بنایا ہے۔

یہ بھی جان لینا چاہیے کہ کوئی بھی انسانی کوشش مکمل واکمل نہیں ہوتی۔ ’خلق الانسان ضعیفا‘ کے مصداق ہر انسانی کوشش میں کوتاہیاں اور کمیاں رہ جاتی ہیں کہ اس کی فطرت کا خاصہ ہے۔ یوں بعد میں آنے والے ان کا احساس کر کے ان کے ازالے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہتی ہے۔ کبھی تو ’نقاش نقش ثانی بہتر کشد ز اول‘ اور کبھی کوئی دوسرا محقق ان خلاؤں کو پر کر دیتا ہے جو پہلے کے کام میں رہ گئی ہوں۔ 

ص ۳۷ پر الفاظ ہیں: ’’دعوت کے دو بنیادی کردار ہیں۔ ایک داعی اور دوسرا مدعو۔‘‘ یہ بات بالکل سچ ہے، مگر ان کرداروں کا رول اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جب تک مضامین دعوت کا بھی کسی قدر تفصیل سے تذکرہ نہ ہو۔ جس طرح داعی اور مدعو یا مخاطِب اور مخاطَب پر مختلف عنوانات سے تفصیلی بحث آ گئی ہے، دعوت وپیغام کے جاندار اور شاندار ہونے پر بھی کچھ کلام ہو جاتا تو شاید بہتر ہوتا۔ داعی کتنا ہی بلند فکر اور زور دار شخصیت کا مالک کیوں نہ ہو، مخاطبین اثر پذیر نہیں ہو سکتے جب تک کہ مضامین دعوت یا پیغام ہی جاندار نہ ہو۔ میری دانست میں بہتر تھا کہ ان مضامین دعوت کی اثر انگیزی پر بھی اجمالاً ہی سہی، بات ضرور ہوتی۔

کتاب اپنی ہمہ جہت خوبیوں کے باوصف ایک کمی کا شدت سے احساس دلاتی ہے اور وہ یہ کہ مسودہ خوانی کو گلدستہ طاق نسیاں کردیا گیا ہے۔ پوری کتاب پر اس زاویہ نگاہ سے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ خیال ہے کہ نقش ثانی ان معائب سے مبرا ہوگا۔ تاہم ان جزوی اور ثانوی کمیوں کے باوصف کتاب اہمیت وافادیت کے اعتبار سے تحقیق وجستجو کا عمدہ نمونہ ہے:

  • روایات میں جھول نہیں، کوئی روایت پایہ استناد سے گرنے نہیں پائی۔
  • ہر واقعے کو روایت ودرایت کی کسوٹی پر بآسانی پرکھا جا سکتا ہے۔
  • قرآنی آیات سے استدلال برمحل بھی ہے اور مناسب حال بھی۔
  • حوالے تفصیلی ہیں جن سے قاری کسی بھی آیت یا حدیث کو بآسانی قرآن مجید یا مجموعہ ہائے حدیث سے تلاش کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بات پیش نظر رہے کہ حوالہ اگر کتب متداولہ برصغیر سے ہے تو مطبع کا حوالہ ضروری ہے، ورنہ جدید کتب کا حوالہ رقم حدیث کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔
  • کتابیات میں ٹھیک ٹھیک تحقیقی مقالے کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔
  • انداز بیاں علمی ہونے کے باوجود سادہ، دل نشیں اور پرکشش ہے۔ چند صفحات کے مطالعے کے بعد مزید تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔

فی الجملہ جو لوگ دعوت وتبلیغ میں اپنی توانائیاں صرف کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب بہت بڑی رہنما کتاب کا حکم رکھتی ہے اور اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہی طریق دعوت کارآمد ومفید ثابت ہوگا جس کو اختیار کر کے صحابہ کرام نے اس دھرتی کے کونے کونے تک یہ پیغام پہنچایا، جس کا سب سے بڑا خاصہ للہیت، اخلاص، سیرت کی شفافیت اور کردار کا اجلا پن تھا۔ اسی قوت سے انھوں نے ایک عالم کو اپنا ہم نوا بنایا اور اس منہج پر چل کر آج بھی دنیا کو اپنا ہم مشرب بنایا جا سکتا ہے کہ یہ کام اب جملہ افراد امت کا ہے۔

خدمت ساقی گری با ما گزاشت
داد ما را آخریں جامے کہ داشت

(پروفیسر غلام رسول عدیم)

’’تحریک احمدیت ۔ یہودی وسامراجی گٹھ جوڑ‘‘

قادیانیت پر اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں پر سینکڑوں اہل علم ودانش نے قلم اٹھایا ہے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ قادیانی تحریک کے سیاسی اور معاشرتی رخ پر علامہ اقبالؒ ، چودھری افضل حقؒ اور آغا شورش کاشمیریؒ جیسے نامور مفکرین اور اصحاب قلم نے بحث کی ہے اور قادیانیوں کے مذہبی عقائد کو حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ ، حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ اور حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ جیسے سربرآوردہ علماء کرام نے بے نقاب کیا ہے جبکہ قادیانیت کے عمومی تعارف پر پروفیسر محمد الیاس برنی، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، علامہ احسان الٰہی ظہیر اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تصانیف امتیازی حیثیت کی حامل ہیں۔ ہمارے دور کے معروف فاضل اور محقق جناب بشیر احمد نے بھی قادیانیت کے سیاسی پس منظر اور سامراجی آلہ کار کی حیثیت سے اس گروہ کے کردار کا جائزہ لیا ہے اور اس کے آغاز سے اب تک کے تمام ادوار کا احاطہ کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی امت کی سازشوں اور سرگرمیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اصل کتاب انگریزی میں ہے جیسے جناب احمد علی ظفر نے اردو کا جامہ پہنایا ہے۔ ایک ہزار کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ معیاری اور ضخیم کتاب ادارۂ اصلاح وتبلیغ وقف بلڈنگ، آسٹریلیا مسجد ریلوے روڈ لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۳۰۰ روپے ہے۔ 

(ابو عمار زاہد راشدی)

’’گلوبلائزیشن اور اسلام ‘‘

’گلوبلائزیشن‘ معاصر سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی موضوعات سے ایک نہایت اہم موضوع ہے اور اس کے گوناگوں پہلوؤں پر مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’گلوبلائزیشن اور اسلام ‘‘ مولانا یاسر ندیم کی تصنیف ہے اور پیش لفظ ، حرفِ آغاز اور مولانا نور عالم خلیل امینی کے مقدمے کے ساتھ ساتھ اشاریہ اور مآخذ و مراجع کی فہرست سمیت یہ کتاب ۴۵۶ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ مصنف نے کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کر کے پانچ مختلف جہتوں سے گلوبلائزیشن کے اثرات ومظاہر کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابواب کے عنوانات حسب ذیل ہیں: (۱) گلوبلائزیشن کیا ہے؟ (۲) سیاسی عالمگیریت (۳) اقتصادی عالمگیریت (۴) ثقافتی عالمگیریت (۵) معاشرتی و اخلاقی عالمگیریت۔ 

یہ کاوش اس لحاظ سے سراہے جانے کے قابل ہے کہ یہ فاضل مصنف کی پہلی تصنیفی و تحقیقی کوشش ہے اور انھوں نے قلم اٹھاتے وقت مروج نظری مذہبی مباحث کے بجائے انسانی سوسائٹی کو درپیش زندہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلے کا چناؤ کیا ہے جس سے ان کی سوچ کے رخ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اردو زبان میں اس موضوع پر اتنی مبسوط کتاب غالباً ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آئی۔ کتاب میں گلوبلائزیشن کے ذیلی موضوعات کا تفصیلی تذکرہ حوالہ جات کے ساتھ کیا گیا ہے اور اسلوبِ بیان نہایت شگفتہ، رواں اور ادبی چاشنی کا حامل ہے۔ 

تاہم گلوبلائزیشن کے ذیلی موضوعات کے احاطے کے باوجود معروضی رویے کا فقدان واضح طور پر محسوس ہوتا ہے اور مسائل کے تجزیہ وتحلیل سے زیادہ مواد کے جمع کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ گلوبلائزیشن پر تنقید کے ساتھ اس سے نبرد آزما ہونے اور اس رجحان کو صحیح رخ پر ڈالنے کی بات تو ایک طرف رہی ، فاضل مصنف گلوبلائزیشن کو بطور مظہر پیش کرنے کے حوالے سے ’’امریکی و یہودی فوبیے ‘‘ کا شکار ہوکر دیگر نقطہ ہائے نظر سے بھی انصاف نہیں کر پائے۔ چونکہ کتاب کے عنوان میں اسلام کا ذکر ہے، اس لیے ’’گلوبلائزیشن اسلام کی نظر میں ‘‘ کے زیر عنوان صرف بیس (۲۰) صفحات پر مشتمل آخری باب میں مصنف نے گلوبلائزیشن کو اسلامی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے اور اس کے مقابل اسلامی پروگرام پیش کیا ہے۔ اتنی ضخیم کتاب کے مقابل میں صرف بیس صفحات میں اسلامی پروگرام کی تمام جہات کا مدلل اور جامع احاطہ یقیناًناممکن تھا ، اس لیے کتاب کا یہ باب، جسے سب سے زیادہ وقیع ہونا چاہیے تھا، سب سے کمزور صورت میں سامنے آیا ہے۔ 

ان تمام کمیوں کے باوجود راقم الحروف کی رائے میں ایسے احباب جو گلوبلائزیشن کی بابت کچھ نہیں جانتے یا پھر بہت کم جانتے ہیں، ان کے لیے یہ نہایت مفید کتاب ہے کہ اس میں خاصی معلومات اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ معلومات کے اس ذخیرے سے قارئین کرام حسبِ صلاحیت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 

پاکستان میں اس کتاب کو دارالاشاعت ( اردوبازار ، ایم اے جناح روڈ کراچی) نے شائع کیا ہے اور اس پر قیمت درج نہیں۔ 

(پروفیسر میاں انعام الرحمن)

تعارف و تبصرہ