ٹیپو سلطانؒ، اقبالؒ اور عصر حاضر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

تاریخ کے جدید دور میں یورپی سیاست کو عالمی سیاست کی اہمیت حاصل رہی ہے۔ برطانیہ سے امریکہ کی آزادی، انقلاب فرانس اور نپولین کے عروج نے توازن طاقت انگریزوں کے خلاف کر دیا تھا۔ زار روس سلطنت عثمانیہ پر قبضہ کر کے بحیرۂ روم تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مصر میں نپولین کی کام یابی نے برصغیر کے انگریزوں کو خطرے کا قوی احساس دلا دیا تھا۔ انہی دنوں والی کابل زمان شاہ کے ارادے بھی شمالی ہند کے لیے پریشان کن تھے۔ انگریز افسر ہر اس حکمران سے نفرت کرتے تھے جو ان کے سیاسی مستقبل اور اقتدار کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہو۔ ان کی یہ نفرت ٹیپو سلطانؒ کے بارے میں انتہائی شدید تھی۔

’’تاریخ ٹیپو سلطان‘‘ کا مصنف محب الحسن رقم طراز ہے:

’’لارڈ کارنوالس جب گورنر جنرل بن کر برصغیر آیا تو بین الاقوامی سیاست میں تجربہ کی روشنی میں اس نے انگلینڈ اور فرانس کی رقابت میں برصغیر کی اہمیت کا صحیح اندازہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر برصغیر میں برطانوی اقتدار قائم کرنا ہے تو جلد یا بدیر ’’ٹیپو‘‘ سے ضرور لڑنا ہوگا۔‘‘ (ص ۱۴۸)

کیمبرج ہسٹری آف انڈیا کے مطابق:

’’ٹیپو سلطان کے بارے میں انگریز کمپنی کی پالیسی یکساں وجامد نہیں رہی۔ ابتدا میں یہ کوشش تھی کہ ٹیپو کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ کمپنی کے لیے خطرہ نہ رہے۔ بعد میں یہی پالیسی اس کے مکمل استحصال میں تبدیل کر دی گئی۔‘‘(ج ۵ ص ۳۳۷)

انگریزوں کے ان رجحانات میں ٹیپو سلطان کی بد قسمتی کو صرف یہ دخل تھا کہ اٹھارہویں صدی میں وہ واحد ہندوستانی حکمران تھا جس نے انگریز استعماریت کو چیلنج کیا اور جذبہ آزادی کو اپنی زندگی کا واحد نصب العین بنا لیا۔ سلطان، اسلام اور آزادی کو دو الگ الگ چیزیں نہیں سمجھتا تھا۔ اس کے نزدیک اسلام کو سربلند کرنے یا آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے جہاد بالکفار لازمی شے تھا۔ اس نے ’’فتح المجاہدین‘‘ میں تفصیل سے مسائل جہاد بیان کیے ہیں۔ ۱۷۸۶ء میں اس نے جو اعلان جہاد کیا، ا س سے اس کے جذبہ ایمانی کا پوری طرح اظہار ہوتا ہے۔ یہ اعلان ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:

’’ختم پیغمبران ﷺ کے وقت مسلمانوں کو جو احکام دیے گئے تھے، انہوں نے ان احکام کو بھلا دیا جس کی وجہ سے ان پر زوا ل آ گیا۔ اس وقت خدا کے فضل وکرم سے ہم ان احکام کو اپنے دستخط اور مہر سے مسلمانوں کی آگاہی کے لیے دوبارہ جاری کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان سے ہدایت پائیں۔‘‘ 

(بحوالہ ’’صحیفہ ٹیپو سلطان‘‘ حصہ دوم، ص ۱۴۱ از محمود بنگلوری)

سلطان کی اپنی زندگی اسلامی رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ ’’تاریخ سلطنت خداداد‘‘ کا مصنف رقم طراز ہے کہ سلطان اس قدر کامل الحیا تھا کہ سوائے اس کے پیر کے ٹخنوں اور کلائیوں کے اس کے جسم کو کبھی کسی نے برہنہ نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ حمام میں بھی وہ اپنے تما م جسم کو چھپائے رکھتا۔ (ص ۵۰۵) حضرت عثمان غنیؓ کے بعد اس اعتبار سے دنیا میں سلطان کی حیرت انگیز مثال ہے۔

ٹیپو سلطان مجاہد تھا۔ وہ مجاہدکی طرح لڑا۔ اس کی جدتیں مفید تھیں لیکن محمد بن تغلق کی طرح اس کے خلاف پڑیں۔ سرجادوناتھ سرکار نے اگر یہ کہا ہے کہ ’’ٹیپو سلطان اپنے زمانے سے بہت پہلے پیدا ہو چکا تھا‘‘ تو کیا غلط کہا ہے۔ سلطان کے دوستوں اور حامیوں میں جذبہ تو موجود تھا لیکن انگریزوں کی مانند قومی تصور نہیں تھا۔ سلطان کے وکیلوں اور مشیروں کو انفرادی مفادات کا لالچ دے کر خریدا جا سکتا تھا۔ سلطان کی شہادت صرف اسلامی جاہ وجلال کی موت نہ تھی بلکہ یہ ہندوستان کی غیرت اور خود داری کی موت تھی۔ جنرل ہیرس سلطان کی لاش دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھا تھا کہ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔‘‘

’’سلطنت خداداد‘‘ کے مطابق ایک امریکی مورخ برڈز اوڈ کلف نے سلطان کی شہادت کے ۲۴ برس بعد مشہد سلطان پر بیٹھ کر کچھ ایسے تاثرات ظاہر کیے تھے:

’’اے آسمانی جہاد کے ستارے! تو غروب ہو گیا لیکن ان ذلیل انسانوں کی طرح نہیں کہ جو مغرور اور سربلند دشمنوں کے سامنے معافی اور جاں بخشی کے لیے خاک مذمت پر سربسجود ہوئے۔ ..... تو شہنشاہی کی زندگی ٹھکرا کر شیر کی طرح میدان میں کود پڑا اور سپاہی کی طرح مر گیا۔ ...... موت بہتر ہے کہ ایسی رسوا کن زندگی سے جو سالہا سال کے اندوہ وانفعال کی سرمایہ دار ہو۔‘‘ (ص ۶۳۰) 

مسلمان حکمرانوں پر یہ الزام عموماً لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ہندوؤں کے مندروں کو منہدم کیا اور غیر مسلموں کے ساتھ وحشیانہ سلوک روا رکھا۔ یہ ایک بہتان عظم ہے اور ٹیپو سطان کے بارے میں بالکل بے بنیاد ہے۔ گاندھی کے مضمون سے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے۔ گاندھی نے یہ مضمون اپنے اخبار ’’ینگ انڈیا‘‘ میں شائع کیا تھا۔ ایم عبد اللہ کی مرتب کی ہوئی کتاب ’’ٹیپو سلطان‘‘ کے صفحہ ۴۶ سے یہ اقتباس درج ذیل ہے:

’’میسور کا بادشاہ فتح علی ٹیپو شہید غیر ملکی مورخوں کی نظر میں ایک ایسا مسلمان تھا جس نے اپنے رعایا کو زبردستی مسلمان بنایا لیکن یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں سے اس کے تعلقات نہایت ہی دوستانہ تھے۔ اس کے کارنامہ زندگی کی یاد، دل کے اندر خوشی اور مسرت کی ایک لہر پیدا کر دیتی ہے۔ اس عظیم المرتبت سلطان کا وزیر اعظم ایک ہندو تھا اور ہمیں نہایت ندامت کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس نے فدائے آزادی کو دھوکہ دے کر دشمنوں کے حوالے کر دیا۔‘‘

ڈاکٹر بی اے سالیتور بھی اس سلسلے میں بیان کرتا ہے کہ:

’’ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کوئی شہنشاہ ایسا نہیں گزرا جس نے اپنے اور اپنی رعایا کے مفاد کو ایک جانا ہو جیسے ٹیپو سلطان نے سمجھا تھا اور اس کے سارے خطوط جو سرین گری گرو کے نام بھیجے گئے ہیں، وہ بھی انہی جذبات کے آئینہ دار ہیں۔‘‘ (بحوالہ میڈیول انڈیا کوارٹرلی، علی گڑھ، اکتوبر ۱۹۵۰ء)

ٹیپو سلطان نے اگرچہ مذہب کے معاملے میں اسلامی رواداری کا مظاہرہ کیا تھا لیکن انگریز مورخین نے ان امور کی ایسی توجیہ کی جس سے ان کی بد نیتی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسمتھ لکھتا ہے :

’’ٹیپو سلطان کٹڑ مسلمان ہونے کے باوجود عالم خوف وہراس میں برہمنوں کی دیوی دیوتاؤں سے بغرض استمداد رجوع کیا کرتا تھا اور ان کے مندروں اور عبادت گاہوں کے لیے تحفے تحائف بھیجتا تھا۔‘‘ 

(بحوالہ ونسنٹ اسمتھ، آکسفرڈ ہسٹری آف انڈیا، ص ۵۸۵)

لیکن جہاں مورخ اپنے فرائض کی انجام دہی سے تھک جاتا ہے، حقائق سے چشم پوشی کو حقیقت بیان قرار دینے لگتا ہے اور واقعات کی درست اور غیر جانب دارانہ ترتیب وتزئین سے عاجز آجاتا ہے، وہاں انسا ن کا ’’شاعرانہ احساس‘‘ جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ اسی دور ظلمت اور اندھیر نگری میں اپنے فکر وتخیل سے حقائق کی ایسی تصویر کھینچتا ہے جس سے ایک طرف تو حق سامنے آجاتا ہے اور دوسری طرف دنیا اور عالم انسانیت جوروستم اور مکروفریب کے مکروہ چہرے سے خوب واقف ہو جاتی ہے۔ ہاں ، اپنے ہی احساس تلے شاعر، مورخ کا کام بھی سرانجام دیتا ہے، قوم کی ہمت بڑھاتا ہے، راہنمائی کرتا ہے،آباؤ اجداد کے کارناموں سے اور کبھی عظمت ماضی کے تذکروں سے غیرت دلاتا ہے۔ اقبال ایسا ہی عظیم انسان تھا۔ وہ محض فلسفی شاعر نہیں تھا اور نہ صرف شاعر فلسفی تھا بلکہ مورخ شاعر بھی تھا۔ اقبال کی شاعری اس ’’تاریخی شعور‘‘ کا شاخسانہ ہے جس کی جڑیں مسلم تاریخ میں پیوست ہیں اور جس کے ڈانڈے اسلام کی ’’تعبیر نو‘‘ سے جا ملتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں ٹیپو شہید کی شمشیر کا نعم البدل اقبال کے قلم کی صورت میں رونما ہوا۔ ڈاکٹر اقبال نے ’’آزادی‘‘ پر نہایت شرح وبسط سے اظہار خیال فرمایا۔ اقبال کے نزدیک آزادی ہی زندگی کا دوسرا نام ہے۔ آزادی میں زندگی ’’بحر بیکراں‘‘ بن جاتی ہے اور غلامی میں متاع بے بہا سمٹ کر ’’جوئے کم آب‘‘ رہ جاتی ہے۔

برصغیر میں انگریزوں کے خلاف ٹیپو سلطان کی ناکامی کے ضمن میں ذکر ہوا تھا کہ ہندوستان میں انگریز کی مانند ’’قومی تصور‘‘ موجود نہیں تھا جس کی بنا پر ٹیپو کے رفقا کو لالچ دے کر خریدا جا سکتا تھا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد اقبال کے عہد تک ہندوستان میں ’’قومیت‘‘ ابھرنا شروع ہو گئی تھی۔ اقبال نے اپنے ابتدائی سالوں میں ’’وطنی قومیت‘‘ کا ہی پرچار کیا مگر مطالعہ اور دنیا پر تنقیدی نظر ڈالنے کے بعد وہ اس قسم کی قومیت کے خلاف ہو گئے۔ اقبال وطن سے محبت کے خلاف نہیں بلکہ وطن کی ایسی پرستش کے خلاف ہیں جو جذبہ ملت اور انسانیت کے تقاضوں سے ٹکرا جائے۔ انہوں نے وطن سے محبت کو بہت سراہا ہے۔ نہایت مقامی اور ابتدائی وطن کشمیر کو سراہا، پھر پنجاب کے ساتھ محبت کا اظہار کیا اور پھر ہندوستان کی وسیع تر مقامیت سے وابستگی بھی قائم رکھی۔ ’ساقی نامہ‘، ’کشمیر‘، ’محراب گل‘، ’افغان کے افکار‘، ’روح ہندوستان کی فریاد‘ وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ 

اگر ہم فکر اقبال کا بغور مطالعہ کریں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ ٹیپو سلطان اور اکیسویں صدی میں احیاء اسلام کی تحریکات کے مابین ’’بنیادی واسطہ‘‘ ہوں۔ ٹیپو کی شکست کی بنیادی وجہ جذبہ قومیت کی کمی تھی۔ اکیسویں صدی میں اگر مسلم دنیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ ’’جذبہ ملت‘‘ کی کمی ہوگی۔ فکر اقبال وطن سے فطری محبت کو نبھاتی ہوئی ملت کے دھارے میں گم ہوتی نظر آتی ہے۔ جدید عہد کی متوقع عالم گیریت (Globalization) کو بھانپتے ہوئے مقامیت کے اثبات کے ساتھ اقبال نہایت شدومد کے ساتھ اسلام کے تصور ملت کی بات کرتے ہیں:

اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے

اٹھارہویں صدی کی عالمی سیاست کے تناظر میں برطانیہ اور فرانس کی باہمی کشمکش کو دیکھتے ہوئے ٹیپو سلطان نے بھی نپولین سے رابطہ قائم کیا تھا کیونکہ وطنی قومیت کے سبب یہ دونوں ممالک ’’رقیب‘‘ بنے ہوئے تھے۔ یہ رقابت اکیسویں صدی میں یورپی یونین کی شکل میں ’’رفاقت‘‘ بن چکی ہے۔ اہل مغرب کا وطنی تصور قومیت بے محابا پھیلاؤ (Proliferation) کا شکار ہو چکا ہے۔ ایسے معروضی حالات میں مسلم دنیا کو بھی ’’وحدت‘‘ کا حامل ہونا پڑے گا۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر جب مسلم ممالک اکٹھے ہوتے ہیں تو ان کے انداز واطوار اس قسم کے ہوتے ہیں جیسے گول دائرے میں پچاس ساٹھ اشخاص کھڑے ہوں اور ان کی پیٹھیں دائرے کے ’’مرکز ‘‘ کی جانب ہوں اور چہرے اپنے اپنے رخ پر۔ 

خیال رہے، ریاست میسور اور طالبان کے افغانستان میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ سلطان فتح علی ٹیپو کی مانند ملاعمر نے ہی’’مزاحمت‘‘کی جرات کی ہے، باقی مسلم دنیا تماشائی بنی رہی۔ ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے اعلان کیا تھا کہ حیدر علی اور ٹیپو غاصب تھے، ان کے ’’ظلم‘‘ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ایسا ہی خاتمہ طالبان کے افغانستان میں کیا گیا ہے۔ ٹیپو اور ملا عمر دونوں کی سفارت کاری ناکام رہی۔

اکیسویں صدی میں ہماری پالیسیاں اور سوچ اٹھارہویں صدی والی ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں، تیرہویں چودھویں صدی والی تھیں۔ فکری اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے دو سو سال (۱۷۹۹ء۔۲۰۰۱ء) کے عرصے میں مسلم دنیا کا مزاحمتی گروہ اہل مغرب کو شکست نہیں دے سکا۔ 

اگر آج ہم زمانے کے ساتھ نہ چلے تو عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں گے۔ ایسے ممکنہ انجام سے بچاؤ کے لیے ہی اقبال نے ’’افکار تازہ‘‘ پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی نظام یا فکر آخر کار Point of saturation پر پہنچ کر بے بس ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی نظام اور فکر اس نقطہ پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو اسلامی نظریہ ناقص، محدود اور وقتی معلوم ہوتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلامی نظریے کی بنیاد الٰہیاتی ہے۔ اس نظریے کا دعویٰ ہے کہ یہ وقتی اور مقامی نہیں ہے بلکہ آفاقی اور ہر زمانے پر محیط ہے۔ اسلامی نظریہ اپنی حقیقی صورت میں کبھی Point of saturation سے دوچار نہیں ہو سکتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اس کی حقیقی صورت قائم نہیں رہنے دی۔ فکر اقبال ہمیں اسلامی نظریے کی حقیقی صورت سے روشناس کراتی ہے۔ اسلامی نظریے میں موجود ’’اجتہاد‘‘ کا عنصر مسلسل نمو اور تازگی کا باعث بنتا ہے جس سے Point of saturation کبھی قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ اقبال کے اشعار اور ان کا چھٹا خطبہ صراحت سے اجتہاد کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ اس عالم گیریت کے عہد میں بھی اسلام کے آفاقی اور عالمی پروگرام کے باوجود، مسلم دنیا اجتہاد سے محترز ہونے کے باعث ’’مقامیت‘‘ کے گرد گھوم رہی ہے۔ ہمیں کوئی نیا سوشل آرڈر بنانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف اتنا کرنا ہے کہ عصر حاضر اور اس کے مسائل کو جرات مندی سے address کریں۔ صرف اس عمل سے ہی اجتہاد کے شجر پر نئی کونپلیں پھوٹ نکلیں گی اور اسلامی نظریے کا یہ عنصر اپنے ثمرات سے لدا پھدا پوری دنیا اور عالم انسانیت کو دعوت عیش دے گا۔ بقول اقبال:

مشرق سے ہو بے زار نہ مغرب سے حذر کر

فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

آج صورت احوال یہ ہے کہ ہم فطرت کے اشارے سمجھنے سے قاصر ہیں اور سحر کو شب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اسلامی نظریے کی آبیاری کے بجائے اس کی ’’جڑوں‘‘ پر ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ مسلم دنیا کا مقتدر طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔ پاکستان کی مثال سامنے ہے۔ آئین کی بالادستی کے نئے طریقے ڈھونڈنے کے بجائے آئین کو گھر کی لونڈی بنا لیا گیا ہے حالانکہ اسلامی نظریے کے بنیادی، اٹل اور قطعی اصولوں میں سے ایک اصول ’’قانون کی بالادستی‘‘ ہے:

تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

’’نظریہ ضرورت‘‘ کا تسلسل سے وارد ہو کر ’’اصول‘‘ بن جانا ظاہر کرتا ہے کہ ناخوب، خوب ہو چکا ہے۔ قوم واقعتا غلام ہے، اس کا ضمیر بدل چکا ہے۔ شیر کی طرح آزاد زندگی گزارنے والا ٹیپو سلطان شہید تھا کہ آزاد ہونے کے ناطے اسلامی نظریے کو اچھی طرح جاننے کے سبب خود کو ’’شہری‘‘ کہلوانے پر فخر محسوس کرتا تھا۔ اس کے نام کے سات ’’سلطان‘‘ کوئی ایسا لقب نہیں تھا جو اس نے بعد میں اختیار کیا ہو، بلکہ یہ اس کے نام کا ایک حصہ تھا۔ محققین کے مطابق ٹیپو سلطان نے بعض دستاویزات پر ’’شہری ٹیپو‘‘ کے نام سے دستخط کیے تھے۔

ٹیپو کی حریت پسندی اور فکر اقبال کی اجتہادی جہت اپنے تسلسل کے ضمن میں ہم سے چند سوالات کرتے ہیں:

۱۔ کیا مسلمان حقیقتاً آزاد ہیں؟

۲۔ کیامسلم حکمران ’’شہری‘‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں اور قانون کے تابع ہیں؟

۳۔ کیا قومی جذبے کے ساتھ ساتھ ملی جذبہ بھی پروان چڑھ رہا ہے؟

۴۔ کیا اجتہاد کا دھارا اسلامی نظریے کی آب یاری کر رہا ہے؟

اگر نہیں تو ہمیں نہایت سرگرمی سے فکری اور عملی دونوں محاذوں پر کام شروع کر دینا چاہیے۔ اگر اب بھی ہم نے سستی، کاہلی دکھائی اور جمود کا شکار رہے تو نشان عبرت بن جائیں گے۔

شخصیات