امریکہ کے باضمیر دانش وروں کا اعلان حق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملک کے معروف صحافی جناب ثروت جمال اصمعی نے روزنامہ جنگ کی ۲۔ اگست ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں مطبوعہ اپنے ایک مضمون میں امریکہ کے ساٹھ ممتاز دانش وروں کے اس مشترکہ اعلامیہ کا خلاصہ پیش کیا ہے جو چند روز قبل سامنے آیا ہے اور لندن سے گارجین نیوز سروس کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس اعلامیہ پر دستخط کرنے والوں میں لاری اینڈرسن، ایڈورڈ ایسز، رسل بینک، نوم چومسکی، اوسی ڈیوس، موس ڈیف، ایوا نیسلر، مارٹن لوتھر کنگ سوم، بابرا کنگ سالور، ٹونی کشنر، ایڈورڈ سعید، گلوریا سٹینم، الائس واکر، جان ایڈگارر وائڈمین اور ہارورڈزن کے نام شامل ہیں۔

اس ’’مشترکہ اعلامیہ‘‘ کو انسانی ضمیر کی آواز قرار دیتے ہوئے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اسے اس ماہ کے ’’کلمہ حق‘‘ کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)


’’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام اور اقوام بڑی طاقتوں کی فوجی مداخلت اور دباؤ سے آزاد رہتے ہوئے اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ سارے لوگ جنہیں امریکی حکومت نے گرفتار کر رکھا ہے یا جن پر اس کی طرف سے مقدمے چلائے جا رہے ہیں، انہیں معروف طریقہ کار کے مطابق وہ تمام حقوق ملنے چاہییں جو دوسروں کو حاصل ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ سوال کرنے، تنقید کرنے اور اختلاف کرنے کے حق کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد ضروری ہوتی ہے اور ان کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ باضمیر لوگوں کو ان امور کے معاملے میں بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں جو ان کی اپنی حکومتوں کی غلط روی کا نتیجہ ہوں۔ ہمیں سب سے پہلے اس بے انصافی کی مخالفت کرنی چاہیے جو ہمارے اپنے نام پر کی جا رہی ہے۔ اس لیے ہم تمام امریکیوں سے کہتے ہیں کہ وہ اس جنگ اور اس ظلم وجبر کی مخالفت کریں جسے بش انتظامیہ نے دنیا پر مسلط کر دیا ہے۔ یہ سراسر غیر منصفانہ، غیر اخلاقی اور ناجائز ہے۔ ہم نے دنیا کے لوگوں کے ساتھ مشترکہ مقصد کے لیے جدوجہد کی راہ کا انتخاب کر لیا ہے۔‘‘

’’گیارہ ستمبر کے خوفناک واقعات کو ہم نے بھی انتہائی دکھ اور صدمے کے ساتھ دیکھا۔ ہم نے بھی ہزاروں بے گناہوں کی ہلاکت کا ماتم کیا .....مگر اس کے ساتھ ساتھ ہم نے بغداد، پانامہ سٹی اور ایک نسل پہلے ویت نام میں جنم لینے والے ایسے ہی مناظر کو بھی یاد رکھا۔ ہم لاکھوں امریکیوں کے ان غصہ بھرے سوالات میں بھی شامل رہے کہ یہ سب کچھ آخر ہو کس طرح گیا؟ تاہم ہمارے نزدیک ماتم کے قابل اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ قیادت نے انتقام کے جذبے کو بھڑکایا۔ اس نے اس پورے معاملے کو بڑی سادگی سے محض اچھائی اور برائی کی جنگ بنا کر پیش کیااور پھر میڈیا نے حکومت کا آلہ کار بن کر یہی ڈھول پیٹنا شروع کر دیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ پوچھناکہ آخر یہ خوف ناک واقعات کیوں پیش آئے، غداری کے مترادف ہے۔ اس پر کوئی گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔ جو کچھ کیا گیا، اس کی سیاسی اور اخلاقی حیثیت پر کوئی قابل ذکر سوالات نہیں ہوئے جب کہ ہر بات کا عملی جواب یہ تھا کہ گھر کے باہر جنگ اور گھر کے اندر جبر وظلم کے حربے۔ ہمارے نام پر بش انتظامیہ نے کانگریس کی تقریباً مکمل تائید سے نہ صرف افغانستان پر حملہ کیا بلکہ اپنے آپ کو اور اپنے اتحادیوں کو یہ حق بھی دے ڈالا کہ وہ جب اور جہاں چاہیں، اپنی افواج کی بارش کر دیں۔ اس عمل کے بھیانک نتائج فلپائن سے فلسطین تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکومت اب ایک بھرپور جنگ عراق پر تھوپنے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ اس ملک کا گیارہ ستمبر کے واقعات سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اگر امریکی حکومت کو اس امر کی کھلی چھوٹ ملی رہی کہ وہ جہاں چاہے اپنے کمانڈو، قاتل دستے اور بم برسا دے تو آخر یہ کس قسم کی دنیا ہوگی؟ 

حکومت نے ہمارے نام پر امریکہ کے اندر لوگوں کی دو قسمیں کر دی ہیں۔ ایک وہ جن سے امریکی قانون کے مطابق بنیادی حقوق کا کم از کم وعدہ برقرار ہے جبکہ دوسرے وہ ہیں جن کے لیے اب سرے سے کوئی حق نہیں ہے۔ حکومت نے ایک ہزار سے زائد تارکین وطن کو گرفتار کر کے لامحدود مدت کے لیے خفیہ تحویل میں ڈال دیا، سینکڑوں کو سمندر پار بھیج دیا جبکہ سینکڑوں آج تک جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ عشروں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امیگریشن کے قوانین کے تحت بعض قوموں کو امتیازی سلوک کے لیے باقاعدہ نامزد کر دیا گیا ہے۔ ہمارے نام پر حکومت نے جبر اور دباؤ کے مہیب سائے پورے ملک پر مسلط کر دیے ہیں ۔ صدر کے ترجمان لوگوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ یہ دیکھ لیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ حکومت سے اختلاف کرنے والے فنکاروں، دانش وروں اور پروفیسروں کے خیالات میڈیا میں حلیہ بگاڑ کر پیش کیے جا رہے ہیں۔ حب الوطنی کے نام نہاد قانون اور ایسے ہی دوسرے حربوں کے ذریعے ریاستی سطح پر پولیس کو تلاشی لینے اور ضبطیاں کرنے کے بے پناہ اختیارات دے دیے گئے ہیں خواہ یہ کارروائیاں خفیہ طور پر اور خفیہ عدالتوں ہی میں کیوں نہ انجام پائیں۔ ہمارے نام پر انتظامیہ نے حکومت کے دوسرے شعبوں کے اختیارات کو رفتہ رفتہ غصب کر لیا ہے۔ انتظامی حکم کے ذریعے ایسے ملٹری ٹربیونل قائم کر دیے گئے ہیں جہاں شہادت اور ثبوت کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں۔ ان کے فیصلوں کے خلاف باقاعدہ عدالتوں میں اپیل کا حق بھی متاثرین کو نہیں دیا گیا ہے۔ صدر کے قلم کی محض ایک جنبش سے مختلف گروپوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت جب ایک نسل تک جاری رہنے والی جنگ اور ایک نئے داخلی نظام کی بات کرے تو ہمیں پوری سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ پوری دنیا کے لیے اختیار کی گئی سامراجی پالیسی اور داخلی سطح پر ایسے اقدامات جن سے لوگوں کے حقوق چھن جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، ہمیں اس کے خلاف مزاحمت کرنی ہے۔ 

گزشتہ مہینوں کے واقعات سے واضح ہے کہ ہم تباہی کے راستے پر چل پڑے ہیں لہٰذا ہمیں اس کی روک تھام کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ لوگ انتظار کرتے رہے حتیٰ کہ بربادی سے بچنے کا وقت گزر گیا۔ بش اعلان کر چکے ہیں کہ ’’یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے مخالف‘‘۔ اس پر ہمارا جواب یہ ہے :’’ہم تمہیں تمام امریکیوں کی طرف سے بولنے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم اپنے سوال کرنے اور جاننے کے حق سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ ہم تحفظ کے کھوکھلے وعدے پر اپنے ضمیر تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔ ہم تمہیں اپنے نام پر کچھ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ان جنگوں میں پارٹی بننے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم اس بات کو نہیں مانتے کہ یہ جنگیں ہماری فلاح کے لیے شروع کی گئی ہیں۔ ہم ان لوگوں کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھاتے ہیں جو ان پالیسیوں کی بنا پر دنیا بھر میں مصائب کا شکار ہیں۔ ہم ان لوگوں کے ساتھ اپنی یک جہتی الفاظ اور عمل دونوں سے ثابت کریں گے۔‘‘ ہم جنہوں نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں، تمام امریکیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ استفسار اور احتجاج کا جو عمل جاری ہے، ہم اسے سراہتے اور اس کی تائید کرتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس بلا کو روکنے کے لیے اس سے بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے ان اسرائیلیوں کا طرز عمل حوصلہ افزائی کا سبب ہے جنہوں نے اپنی ذات کے لیے سنگین خطرات مول لے کر اعلان کیا کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور مغربی کنارے اور غزہ کی اسرائیلی مقبوضات میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔‘‘

’’مزاحمت اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی امریکہ کے ماضی میں بہت سی مثالیں موجود ہیں جن سے ہمیں حوصلہ ملتا ہے۔ ہمارے سامنے ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے غلامی کے خاتمے کے لیے جنگ کی، جنہوں نے ویت نام کی جنگ میں احکامات ماننے سے انکار کر کے احتجاج کیا، اس کے لیے بنائے گئے قوانین کی مزاحمت کی اور مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ اس لیے آج ہمیں اپنی خاموشی اور بے عملی کے مظاہرے سے دنیا کو مایوسی کی دلدل میں نہیں دھنسنے دینا چاہیے۔ اس لیے ہم دنیا سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم جنگ اور جبر کی مشینری سے لڑیں گے اور اسے روکنے کے لیے دوسروں کو بھی ہر ممکن اقدام پر تیار کریں گے۔‘‘

عالم اسلام اور مغرب