گلوبلائزیشن اور مذہب کا کردار

چندرا مظفر

متحد انسانیت کا سبق سب سے پہلے مذہب نے ہی سکھایا تھا۔ تاہم جوں جوں گلوبلائزیشن کا رجحان انسانیت کو ایک ایسی دنیا کی طرف دھکیل رہا ہے جس میں (اقوام عالم کا) باہمی انحصار ایک نمایاں خصوصیت ہوگی‘ توں توں (اتحاد انسانیت کا تصور دینے والے) مذہب کی آواز اور نقطہ نگاہ لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوتے جا رہے ہیں۔

گلوبلائزیشن کے موجودہ رجحان کے فروغ میں اتحاد انسانیت کے مذہبی تصور کا کوئی کردار نہیں۔ اس کے محرکات اور مقاصد (اصلاً معاشی ہیں ) اور ان کی جڑیں اس تدریجی عمل میں پیوست ہیں جس کے ذریعے سے سرمایہ‘ اشیا‘ خدمات اور بعض اوقات محنت (دنیا کے ممالک کی) قومی سرحدوں کے پابند ہوئے بغیر بین الاقوامی سطح پر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آتے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تصورات‘ اذواق اور اقدار کی ایک (نئی) لہر بھی دنیا کی موجودہ شکل کو تبدیل کر کے ایک ایسی دنیا کو وجود میں لانے میں مدد دے رہی ہے جس میں آخر کار ایک ہی عالمی نظام کا رواج اور ایک ہی عالمی وحدت کا وجود ہوگا۔

’گلوبلائزیشن‘ کیا ہے؟

’گلوبلائزیشن‘ کا مطلب ہے مکمل معاشی آزادی یعنی عالمی سطح پر تجارت کے لیے راستے ہموار کرنا ۔ کثیر قومی تجارتی ادارے اس رجحان کے فروغ میں پیش پیش ہیں۔ حکومتیں ایسا ماحول پیدا کررہی ہیں جو ان اداروں کے کاروبار کی ترقی میں ہر ممکن حد تک معاون ہو۔ APEC‘ GATT اور WTOجیسے علاقائی اتحاد بھی اسی مقصد کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

بڑے تجارتی اداروں‘ حکومتوں اور علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے مابین گلوبلائزیشن کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنے کے لیے اتحاد کا پیدا ہوجانا کوئی اتفاقی بات نہیں۔ اس کی تاریخی بنیادیں استعماریت میں پیوست ہیں‘ اسی لیے (گلوبلائزیشن کے عمل میں) غالب قوتوں کے مراکز مغرب میں ہیں۔تاہم گلوبلائزیشن کے موجودہ رجحان کو مغرب کے استعماری تجربے کا اعادہ قرار دینا درست نہیں ہوگا کیونکہ طاقت کے مراکز میں سے ایک جاپان بھی ہے۔ اسی طرح شمال مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں طاقت کے دوسرے مراکز بھی ابھر رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں گلوبلائزیشن کوئی ایسا نظام نہیں ہے جس کے تحت سرمایہ‘ اشیا اور اذواق کا منبع (دنیا میں) چند متعین مراکز ہوں گے جہاں سے وہ باقی دنیا کی طرف سفر کریں گے کیونکہ (عالمی صورت حال پر اثر انداز ہونے والے) فیصلوں کے چند مراکز اگر مغرب میں ہیں‘ تو باقی دنیا میں بھی ایسے مراکز موجود ہیں جو خود مغرب کی صورت حال کو نیز مختلف سطحوں پر باقی دنیا کی صورت حال کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گلوبلائزیشن کے مثبت پہلو

۱۔ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (FDI) نے روزگار پیدا کر کے اور آمدنی کو بڑھا کر غربت کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔

۲۔ تجارت اور بیرونی سرمایہ کاری کے پھیلاؤ نے سماجی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے عمل کو تیز تر کر دیا اور درمیانے طبقے کو مضبوط کیا ہے۔

۳۔ ذرائع ابلاغ اور نئی انفرمیشن ٹیکنالوجی نے علم وہنر کے مختلف دائروں میں علم پھیلانے میں مدد دی ہے۔

۴۔ ابلاغ سستا اور آسان ہو گیا ہے۔ ٹیلی فون اور سفر کے اخراجات کم سے کم تر ہو رہے ہیں۔

۵۔ اس صورت حال میں (مختلف طبقات اور معاشروں کے لیے) ایک دوسرے کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔ معاشرے اور سماجی طبقات جڑ اور بنیاد کے لحاظ سے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں‘ باہمی تفاہم کے وسائل وذرائع میں اضافے کے باعث اب پہلے کی بہ نسبت زیادہ باہمی تعاون کے ماحول میں رہ سکتے ہیں۔

۶۔ گلوبلائزیشن نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان دوسرے انسانوں پر آنے والی قدرتی یا انسان کی پیدا کردہ آفات کے مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور ترحم کا عملی اظہار کر سکیں۔

۷۔ انسانی حقوق اور عوامی احتساب کے معاملات اب بنیادی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

۸۔ عورتوں کے حقوق کا مسئلہ نمایاں ہو گیا ہے اور اکثر عورتوں کو درپیش مسائل پر اب توجہ دی جانے لگی ہے۔

۹۔ یہ تمام مظاہر مذہبی تعلیمات کے لیے سازگار اور معاون ہیں۔

گلوبلائزیشن کے منفی پہلو

۱۔ کثیر قومی تجارتی اداروں کی‘ جن کا واحد مقصد منافع کمانا ہے‘ بلا حدود وقیود سرگرمیوں نے ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

۲۔ اگرچہ غربت کسی حد تک کم ہو گئی ہے‘ لیکن نئی معاشی ناہمواریاں پیدا ہو گئی ہیں۔ غربت کے حوالے سے مختلف خطوں کے مابین پائی جانے والی عدم مساوات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے۔

۳۔ زیادہ منافع کے حصول کی خاطر زندگی کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ جنوب کے بہت سے ممالک ایسی صنعتوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں فراہم کرنے میں مصروف ہیں جو بیرونی منڈیوں کے لیے تو بہت نفع بخش ہیں لیکن ان میں (مقامی) لوگوں کی نہایت بنیادی ضروریات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

۴۔ گلوبلائزیشن سرمایہ کی بین الممالک منتقلی پر مقامی حکومتوں کا کنٹرول ختم کرنے میں معاون ہے۔ ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سرمایے کی اچانک اور ڈرامائی منتقلی (مقامی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور) بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا کی بعض کرنسیوں کو تو اس نے تباہ کر کے رکھ دیا ۔

۵۔ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی ہو رہی ہے (جس نے آغاز ہی سے انسانوں کے لیے بے روزگاری کا مسئلہ پیدا کیا ہے)۔ اس صورت حال میں مزید قباحت یوں پیدا ہوئی ہے کہ سرمایہ (بہت بڑے پیمانے پر) جنوب کے ان خطوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے جہاں پیداوار پر کم لاگت آتی ہے۔ اس چیز نے شمال کے خطوں میں بے روزگاری کو بڑھا دیا ہے جو کہ انسانی خودداری اور وقار کے خلاف ایک جرم ہے۔

۶۔ گلوبلائزیشن نے دولت کے زیادہ سے زیادہ صرف کے رجحان (Consumer culture)کو بے حد مقبول بنا دیا ہے۔ اس رجحان نے مادیت کو فروغ دیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی دل چسپی انسانیت کی بنیادی اقدار سے ہٹ کر حب دنیا کی طرف زیادہ مبذول ہو گئی ہے۔

۸۔ صرف دولت کا یہ عالمی رجحان (Global consumerism) اب ایک ایسا عالمی کلچر تشکیل دینے کی طرف مائل ہے جو ایک مخصوص تہذیب اور مخصوص خطے کی پیداوار (homogenous)ہے۔ اس صورت حال میں جنوب کی مقامی ثقافتیں غالب مغربی تہذیب کے بالمقابل اپنی بقا کے سوال سے دوچار ہیں۔

۹۔ عالمی تفریحی صنعت سطحی امریکی پاپ کلچر کو فروغ دے رہی ہے جو ظاہری حواس کے نشے کو تو پورا کر تا لیکن روح کو بالکل مردہ کر دیتا ہے۔

۱۰۔ منظم تعلیمی نظام اب مارکیٹ کی ضروریات کے پیش نظر فنی اور انتظامی مہارتوں پر زیادہ زور دے رہے ہیں اور روایتی علمی مضامین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم محض چند ہنر اور مہارتیں سیکھ لینے کا نام ہے اور اس میں اخلاقی تربیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

۱۰۔ اگرچہ انفرمیشن ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے معلومات کے پھیلاؤمیں بے حد تیزی پیدا کردی ہے‘ لیکن ان معلومات کا ایک بڑا حصہ بے فائدہ اور بے کار ہے جو لوگوں کو سطحی اور بے مقصد چیزوں میں مشغول کر رہا ہے۔

۱۱۔ موجودہ دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے دوہرے معیار پائے جاتے ہیں ۔ یہ مسئلہ مغربی حکومتوں کی خارجہ پالیسی کا ایک حصہ ہے لیکن اسی وقت اٹھایا جاتا ہے جب ان کے اپنے مفادات اس سے وابستہ ہوں۔

۱۲۔ گلوبلائزیشن نے ہر قسم کے جرائم کو عالمی سطح پر پھیلا دیا ہے۔

۱۳۔ جرائم کی طرح بیماریاں بھی پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور ان پر قابو پانا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

مقابلے کی حکمت عملی

گلوبلائزیشن کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ اس کی ساری خوبیاں محض اضافی نتائج کی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ اس کا بنیادی محرک یعنی زیادہ سے زیادہ منافع کا حصول‘ اس کی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ گلوبلائزیشن کو انسانی تہذیب کی بقا اور سالمیت کو درپیش چیلنجوں میں سب سے زیادہ تشویش ناک چیلنج کہا جا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس چیلنج کا سامنا کیسے کیا جا ئے؟

چونکہ مذہب اور کلچر اپنے اندر مثبت پہلو رکھتے ہیں‘ اس لیے ان کو مکمل طور پر مسترد نہ کرنا بہت اہم ہے۔ قصیر مدتی اور وسط مدتی حکمت عملی کے طور پر بعض معاشی سرگرمیوں میں اخلاقی معیارات کو شامل کرنا چاہیے اور مارکیٹ کو اخلاقی اصولوں کا پابند بنانا چاہیے۔ مسلمان اور دوسرے مذہب کے مفکرین کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ معاشی طور پر قابل عمل ایسی اخلاقی پالیسیاں بنائیں جو مذہبی تعلیمات کے مطابق ہوں اور جنہیں گلوبلائزیشن کے عمل کا حصہ بنایا جا سکے ۔

طویل مدتی حکمت عملی (کے حوالے سے یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ) گلوبلائزیشن کے صرف معاشی پہلو ہی ازسرنو غورکے محتاج نہیں ہیں (بلکہ اس کے لیے ایک ہمہ جہتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے)۔ ثقافت کے لیے رہنما اصولوں کا کردار ایسی کائناتی اخلاقی قدروں کو کرنا چاہیے جن کے ذریعے سے کسی ثقافت کے اندر موجود پابندئ حدود کی مضبوط اخلاقیات کو رو بہ عمل لاتے ہوئے دوسری ثقافت کے غلبہ کو روکا جا سکے۔ فرد اور سماج کے شعور میں اخلاقی اصولوں کو عالمی سطح پر مستحکم کر دینے میں ہی انسانیت کی واحد امید نجات ہے۔ انٹر نیٹ اور سیٹلائیٹ کے ذریعے سے پھیلنے والی تمام معلومات کو موثر طریقے سے سنسر کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ ایسا فرد جس کے اخلاقی نظام کا ماخذ مذہب ہو، وہی صحیح اور غلط کے صدیوں سے آزمودہ اصولوں کا پابند رہ سکتا ہے۔

الٰہی اخلاقیات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان خدا کے ساتھ اپنے تعلق کا گہرا شعور رکھتا ہو۔ ایک خدا شناس معاشرہ نا انصافی کے خلاف لازماً آواز بلند کرتا ہے اور ایسا کرنے میں (افراد معاشرہ کے ذہن میں) اس حقیقت کا گہرا شعور کارفرما ہوتا ہے کہ وہ زمین پر خدا کے نمائندے ہیں۔ اس طرح کے افراد ہی حقیقت میں گلوبلائزیشن کے تمام زہروں کا اصل تریاق ہیں۔

ایسے افراد اور معاشروں کے نمودار ہونے کے لیے ایک عظیم اور سچ مچ کی تبدیلی لازمی ہے۔ یہ ایک طویل مدتی جدوجہد ہوگی تاہم اس کا آغاز ہمارے اپنے مذہب سے ہونا چاہیے۔ (مختلف مذہبی) اشکال‘ رسوم اور علامات کے بجائے انصاف‘ محبت اور ہمدردی کے جذبات کو، جو تمام مذاہب کی تعلیمات کا حصہ ہیں‘ خیر اور اچھائی کا محرک بننا چاہیے۔

مذہب کے لیے یہ ایک بڑی سازگار بات ہے کہ گلوبلائزیشن کے متعدد عناصر نے مذہب کے جامع اور محیط پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کو آسان بنا دیا ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم تمام بنی نوع انسان تک اپنے اپنے مذہب کی کائناتی حقیقت کو پہنچا سکیں۔ تو پھر چند تنگ نظر اور تعصب زدہ لوگوں کو ذرائع ابلاغ پر قابض ہونے کا موقع دینے کے بجائے کیوں نہ سب مرد وزن ایک کائناتی زاویہ نگاہ سے عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کریں؟

یک مذہبی معاشروں کی جگہ اب کثیر مذہبی معاشرے نمو پذیر ہیں۔ گویا معاشرتی حقائق ہمیں اس پر مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اپنے محدود رویوں سے نجات حاصل کر کے ایک ایسا کائناتی رخ اختیار کریں جس میں دوسروں کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کیا جائے۔

دنیا کی اقوام کے سامنے غالباً یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر وہ متحد انسانیت پر مبنی ایک عالمی برادری کی تشکیل کی منزل تک پہنچ سکتی ہیں۔ مشہور صوفی جلال الدین رومیؒ نے جب یہ کہا کہ ’’چراغ تو مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کی روشنی ایک جیسی ہوتی ہے‘‘ تو غالباً ان کی مراد یہی تھی۔یہ منزل محض گلوبلائزیشن کے ذریعے سے، (جس کے محرکات سراسر مادی اور اقتصادی ہیں)،حاصل نہیں کی جا سکتی۔

(ترجمہ: عمار ناصر۔ ماخذ: http://www.islamonline.net)

اسلام اور عصر حاضر