دانش کا بحران

خورشید احمد ندیم

(’الشریعہ‘ کے گزشتہ شمارے میں عہد حاضر میں اسلامی فکر کو درپیش سوالات اور چیلنجوں کے حوالے سے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، ارشاد احمد حقانی اور مدیر ’الشریعہ‘ کی نگارشات شامل اشاعت کی گئی تھیں۔ اس شمارہ میں خورشید احمد صاحب ندیم اور جناب منظور الحسن کی تحریریں یہاں پیش کی جا رہی ہیں جن میں انہوں نے اس موضوع سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس اہم بحث کی تنقید وتمحیص کے سلسلے میں ہم اہل علم کو مزید اظہار خیال کی دعوت دیتے ہیں۔ مدیر)


فکری انتشار کا موسم ہم پر کچھ اس طرح سے اترا ہے کہ جانے کا نام نہیں لیتا۔ اس کا بڑا سبب تو یہ ہوا کہ اقبالؒ اور پھر مودودیؒ جیسے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے اور ہم ان کے جانشین پیدا نہ کر سکے۔ فکری قیادت کا منصب اس وقت سے خالی چلا آ رہا ہے۔ بعض صاحبان نظر نے ان حضرات کی زندگی ہی میں جان لیا تھا کہ ان کے بعد کیا ہوگا۔ روایت ہے کہ مولانا داؤد غزنویؒ ایک مرتبہ مولانا مودودیؒ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ دوران گفتگو کہا: ’’مولانا! آپ بھی کوئی ابن قیمؒ پیدا کرتے جو آنے والے دنوں میں آپ کا جانشین ہوتا۔‘‘ مولانا نے اس کا جو جواب دیا، اس سے حظ اٹھانے کے لیے دو باتیں پیش نظر رکھیے۔ ایک تو یہ کہ ابن قیمؒ امام ابن تیمیہؒ کے جلیل القدر شاگرد تھے جنہوں نے اپنے استاد کے علمی ورثہ کو پوری شان کے ساتھ آگے بڑھایا۔ دوسری یہ کہ جماعت اسلامی میں سیکرٹری جنرل کو قیم کہتے ہیں۔ سید مودودیؒ ، مولانا داؤد غزنویؒ کی بات پر مسکرائے اور فرمایا: ’’آج کل تو میں قیم ہی پیدا کر رہا ہوں۔‘‘ مولانا نے جو بات ازراہ تفنن کہی، وہ بعد میں ایک امر واقعہ ثابت ہوئی۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدینؒ ، برہان احمد فاروقی یا پروفیسر خورشید احمد جیسے لوگ اس فکری تسلسل کو برقرار رکھ سکتے تھے لیکن انہوں نے خود کو بڑی حد تک اقبال اور مودودی کی شرح تک محدود رکھا۔ اس کام کی بہرحال اپنی ایک اہمیت ہے۔

ہمارے ساتھ ایک المیہ یہ ہوا کہ اقبال اور مودودی کے منصب خالی رہ گئے اور اس پر مزید قیامت ٹوٹی کہ عہد حاضر میں دانش وری محض ایک بال پوائنٹ کی مرہون منت ہو گئی۔ اس عالم میں اگر فکری انتشار ہمارا مقدر ہے تو اس کا گلہ کس سے کیا جائے؟

آج بہت سے سوالات ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں، لیکن ان کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ فکری تطہیر کے بغیر عمل کی طرف قدم کیسے اٹھ سکتا ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر خامہ فرسائی کرتے ہیں لیکن بڑے مسائل ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ سیدنا مسیح ؑ کے الفاظ میں ہم مچھر چھانتے ہیں اور اونٹ نگلتے ہیں اور اگر کبھی انہیں موضوع بناتے بھی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم سطح سے نیچے جھانکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر عالمی تناظر میں اٹھنے والے چند سوالات دیکھیے:

۱۔ اس وقت عالمی سطح پر جس قوت کا غلبہ ہے، وہ ہمارے ساتھ زیادہ دوستانہ رویہ نہیں رکھتی۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ہماری دشمن ہے۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اقتصادی اور دفاعی دونوں طرح کے معاملات میں اس کی تائید اور نصرت سے نیاز نہیں ہو سکتے۔ ایسی قوت سے مقابلہ کرنے کا کیا یہی طریقہ ہے کہ ہر روز اس پر تبرا کیا جائے، اس کی مذمت کی جائے اور اسے شیطان کبیر ثابت کیا جائے؟

۲۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس نے ہر مشکل کے ساتھ آسانی رکھ دی ہے۔ کیا ہم نے اس نوعیت کا کوئی فکری کام کیا ہے جو عہد حاضر میں ہمارے لیے ان آسانیوں کی نشان دہی کر سکے جن سے قوم میں امید پیدا ہو؟

۳۔ اگر ہمارا سامنا کسی ایسے دشمن سے ہو جو قوت، اثر ورسوخ ااور وسائل کے اعتبار سے ہم سے ہزار گنا طاقت ور ہو تو کیا اس سے ٹکرانا دانش مندی ہے جبکہ تصادم سے بچنے کی صورت بھی موجود ہو؟

۴۔ جو اقوام ہماری مخالف ہیں یا جنہیں ہم اپنا دشمن شمار کرتے ہیں، انہوں نے ہمارے جغرافیے، تاریخ، علمی ورثے، مسائل ووسائل، تہذیب وتمدن اور حالات کا گہرا تحقیقی مطالعہ کیا ہے جس کی گواہی دنیا کی لائبریریاں دے رہی ہیں۔ مجھے پچھلے دنوں ایک کتاب ’’اسلام کی یہودی دریافت‘‘ (The Jewish discovery of Islam) کی محض ورق گردانی کا موقع ملا۔ صرف یہی کتاب ہمیں حیرت زدہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے کے لیے کیا علمی کام کیا ہے۔ کیا ہمارے ہاں دیگر اقوام کے بارے میں اس نوعیت کا کوئی تحقیقی مطالعہ ہوا ہے؟

۵۔ کیا اس طرح کے کسی علمی اور فکری کام کے بغیر محض نعرہ بازی یا بندوق اٹھانے سے اسلام کے کسی غلبے کا خواب دیکھا جا سکتا ہے؟

۶۔ ایک نظام فکر کے طور پر اسلام کو جو چیلنج درپیش ہیں، کیا ہم نے ان کا سامنا کیا ہے؟ معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا تیس برس قبل لکھا گیا ایک مقالہ حال ہی میں ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ انہوں نے اسلامی تحریکوں کو درپیش علمی اور فکری سوالات کو نمایاں کیا ہے۔ میرا تاثر ہے کہ تیس برس بعد بھی یہ سوالات اسی طرح تشنہ جواب ہیں۔ جو قومیں اس رفتار سے چلتی ہیں، ان کے روشن مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی کی جا سکتی ہے؟

۷۔ اس وقت عالمی حالات کا ایک فکری اور سماجی پس منظر ہے۔ کیا اس کی رعایت ملحوظ رکھے بغیر دنیا میں زندہ رہنے کی کوئی صورت ہے؟

اب آئیے چند ایسے سوالات کی طرف جن کا تعلق ہمارے داخلی حالات سے ہے:

۱۔ جس قوم کے مقتدر طبقات قومی وحدت کی اہمیت سے واقف نہ ہوں ا ور گروہی مفادات کے اسیر ہوں، وہاں تعمیر وطن کی طرف پیش قدمی کیسے ہو سکتی ہے؟

۲۔ اگر ہمارے ملک میں ایسی جماعتوں یا افراد کو سیاسی عصبیت حاصل ہوئی ہے جو بعض لوگوں کے نزدیک اخلاقی کمزوریاں رکھتے ہیں تو کیا اس بنیاد پر انہیں سیاست سے باہر رکھ کر کسی قومی وحدت کا خواب دیکھا جا سکتا ہے؟

۳۔ جہاں کرپشن کا خاتمہ کرنے سے معاشی عمل رک جائے اور جس جگہ سیاست کو اخلاقی برائیوں سے پاک کرنے سے ملک میں انتشار پیدا ہو، وہاں ترجیحات کا تعین کیسے کیا جائے؟

۴۔ کیچڑ کے تالاب میں کھڑا شخص اگر کنارے پر موجود کسی سفید پوش کے لباس پر پڑی چھینٹوں پر اعتراض کرے اور اس سے دامن کی صفائی کا مطالبہ کرے تو کیا اس مطالبے کی کوئی اخلاقی حیثیت ہوگی؟

۵۔ اگر ایک قوم کے بعض راہنما ایک طرف پورے آئین کی پامالی کو نہ صرف گوارا کریں بلکہ اس کی تائید کریں اور دوسری طرف بعض لوگوں کی قانون شکنی پر انگلی اٹھائیں تو کیا انہیں معاشرے میں اعتبار حاصل ہو سکتا ہے؟

میں نہیں جانتا کہ ہماری قوم کو ان سوالات کے جوابات ملتے ہیں یا نہیں، لیکن مجھے اس بات کی خبر ہے کہ جس معاشرے میں اہل فکر ونظر کی جانشینی کا اہتمام نہ ہو اور جہاں دانش ایک بال پوائنٹ کی کرشمہ سازی کا نام ہو، وہاں ایسے سوالات اکثر جواب طلب ہی رہتے ہیں۔ 

(روزنامہ جنگ، ۲۴ جون، ۲۰۰۲ء)


اسلام اور عصر حاضر

(اگست ۲۰۰۲ء)

Flag Counter