محمد بن اسحاق المطلبیؒ ۔ شخصیت اور کردار کا علمی جائزہ

مولانا مفتی فدا محمد

محمد بن اسحاق رحمہ اللہ اسلامی لٹریچر میں اولین سیرت نگار ہونے کے لحاظ سے ایک ممتاز شخصیت کے مالک ہیں، لیکن ان کی ثقاہت کے بارے میں محدثین کے ہاں جتنا اختلاف پایا جاتا ہے، اتنا اختلاف شاید ہی کسی اور کے بارے میں پایا جاتا ہو۔ ذیل کی سطور میں اس اختلاف کے پس منظر اور ان پر کیے جانے والے اعتراضا ت کی مختصر وضاحت پیش کی جا رہی ہے:

ان کا سلسلہ نسب یوں ہے: ابو عبد اللہ محمد بن اسحاق المدنی القرشی مولیٰ قیس بن مخرمہ بن المطلب بن عبد مناف۔ ان کے جد امجد کانام ’یسار‘ ہے جو ’’عین التمر‘‘ کے قیدیوں میں سے تھے جسے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ خلافت میں ۱۲ ہجری میں مسلمانوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی زیر قیادت فتح کیا ۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے عین التمر کے گرجا میں ابن اسحاق کے دادا کو ان بچوں میں پایا جو کسریٰ کے ہاں رہائش پذیر تھے۔ وہاں سے ان کو مدینہ لایا گیا۔

محمد بن اسحاق کی ولادت ۸۵ھ میں مدینہ میں ہوئی۔ کتب تاریخ میں اسی قول کو ترجیح دی گئی ہے، اگرچہ ۱۵۰ھ اور ۱۵۳ھ کے اقوال بھی موجود ہیں۔ ابن اسحاق نے جوانی مدینہ میں گزاری۔ انتہائی حسین وجمیل تھے اور خوبصورت بالوں، چہرے اور شاندار جوانی کے مالک تھے۔

ابن اسحاق نے مدینہ سے دوسرے شہروں کا رخ کیا۔ ان کا پہلے سفر کی آخری منزل اسکندریہ تھی۔ یہ ۱۱۵ھ کی بات ہے۔ وہاں انہوں مصر کے علما کی ایک جماعت سے روایت حدیث کی جن کے نام یہ ہیں: عبید اللہ بن المغیرہ، یزید بن حبیب، ثمامہ بن شفی، عبید اللہ بن ابی جعفر، قاسم بن قزمان، السکن بن ابی کریم۔ پھر ان کا سفر کوفہ، جزیرۃ الری اور الحیرہ بغداد کی طرف ہوا۔ بغداد میں گئے تو وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ یہاں ان کی ملاقات منصور سے ہوئی اور اس کے کہنے پر انہوں نے اس کے بیٹے المہدی کے لیے اپنی مشہور زمانہ سیرت کی کتاب لکھی۔ مدینہ میں صرف ابن سعدؒ ان کے شاگرد تھے جبکہ بغداد میں ان سے بہت سے لوگوں نے روایت حدیث کی۔ یہیں ان کا انتقال ہوا اور حیزران نامی قبرستان میں مدفون ہوئے۔

ابن اسحاق کے ثقہ یا غیر ثقہ ہونے کے بارے میں محدثین کے مابین شدید اختلاف ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اور ہشام بن عروہؒ ان کے سخت مخالف ہیں اور ان کا شمار سرے سے محدثین میں ہی نہیں کرتے بلکہ انہیں کذاب اور دجال قرار دیتے ہیں۔ ان پر شیعہ اور قدری ہونے اور تدلیس کرنے کے الزامات بھی موجود ہیں۔ نیز یہ بھی کہ وہ غیر ثقہ راویوں سے روایات لیتے ہیں، انساب میں اکثر غلطی کرتے ہیں اور اپنی کتابوں میں اشعار گھسیڑتے ہیں۔ 

اس کے برخلاف ابن شہاب زہری جیسے محدث ان کی بڑی قدر کرتے تھے۔ علامہ شبلیؒ نے سیرت میں لکھا ہے کہ امام زہری کے دروازے پر دربان مقرر تھا تا کہ کوئی شخص بغیر اطلاع اندر نہ آئے لیکن محمد بن اسحاق کو عام اجازت تھی۔ (۱) اسی طرح شعبہ بن الحجاجؒ ، سفیان ثوریؒ اور زیاد البکائی ؒ ان کی توثیق کرتے ہیں۔ 

کہا جاتا ہے کہ امام مالکؒ اور محمد بن اسحاق کے درمیان ایک ذاتی رنجش تھی کیونکہ ابن اسحاق امام مالک کے نسب اور ان کے علم پر اعتراض کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے: ایتونی ببعض کتبہ حتی ابین عیوبہ انا بیطار کتبہ (۲) ’’میرے پاس ان کی کتابیں لاؤ۔ میں تمہیں ان کے عیوب سے مطلع کروں گا۔ میں ان کی کتابوں کا معالج ہوں۔‘‘ اس وجہ سے امام مالک انہیں دجال کہتے تھے۔ اسی طرح ہشام بن عبد الملک بھی ابن اسحاق سے ناراض تھے کیونکہ ابن اسحاق نے ہشام کی بیوی سے روایت نقل کی تھی اور ہشام کے ذہن میں یہ تھا کہ روایت بغیر رؤیت کے نہیں ہوتی، تو گویا ابن اسحاق نے میری بیوی کو دیکھا ہے اور اس بات کو وہ معیوب خیال کرتے تھے۔ شاید ہشام کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ روایت پردے میں بھی ہو سکتی ہے یا ممکن ہے ابن اسحاق نے ان سے بچپن میں روایت لی ہو۔

ابن اسحاق پر باقی الزامات کی بھی خطیبؒ نے اپنی کتاب ’’تاریخ بغداد‘‘ میں اور ابن سید الناسؒ نے ’’عیون الاثر‘‘ میں تردید کی ہے۔ بہت سے ائمہ حدیث نے ان کی روایت کو قبول کیا ہے جیسا کہ امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داؤد، امام نسائی، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ رحمہم اللہ ۔ لہذا حافظ شمس الدین ذہبیؒ کا قول فیصل یہ ہے کہ محمد بن اسحاق رواۃ حسان میں سے ہیں اور مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اس قول کو معتدل ترین قرار دیا ہے۔ (۳)

ابن عدی رحمہ اللہ ابن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں:

لو لم یکن لابن اسحاق من فضل الا انہ صرف الملوک عن الاشتغال بکتب لا یحصل منہا بشئی للاشتغال بمغازی رسول اللہ ﷺ ومبعثہ ومبتدا الخلق لکانت ہذہ فضیلۃ سبق بہا ابن اسحاق وقد فتشت احادیثہ الکثیرۃ فلم اجد ما تہیا ان یقطع علیہ بالضعف وربما اخطا واتہم فی الشئ بعد الشئ کما یخطئ غیرہ (۴)

’’ابن اسحاق کے لیے اگر اس کے سوا کوئی اور باعث فضیلت بات نہ ہو کہ انہوں نے بادشاہوں کی توجہ لا یعنی کتابوں سے ہٹا کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت ومغازی اور آغاز تخلیق کی روایات کی طرف لگا دی تو ان کا یہ کارنامہ ہی ان کی فضیلت کے لیے کافی ہے۔ میں نے ان کی بہت سی روایات کی چھان بین کی ہے لیکن مجھے کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس کی بنیاد پر انہیں قطعی طور پر ضعیف قرار دیا جائے۔ ہاں بعض جگہوں پر ان سے بھی دوسرے راویوں کی طرح چوک ہو جاتی ہے۔‘‘

سیرت النبی تصنیف کر کے ابن اسحاق نے آنے والے مورخین اور سیرت نگاروں کے لیے ایک راستہ ہموار کر دیا چنانچہ ابن ہشام اور سہیلی وغیرہ نے ان کے کام سے علمی استفادہ کر کے سیرت نگاری کو آگے بڑھایا۔ گویا ابن اسحاق سیرت نگاری کے امام ہیں جن کی ہم سری کا دعویٰ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ صاحب کشف الظنون لکھتے ہیں:

فابن اسحاق فی الحقیقۃ ہو عمدۃ المولفین الذین اشتغلوا بوضع السیرۃ بعدہ حتی یمکننا ان نقول ما من کتاب وضع فی السیرۃ بعد ابن اسحاق الا وہو غرفۃ من بحرہ ہذا اذا استثنینا رجلا او اثنین کالواقدی وابن سعد (۵)

’’سیرت نگاری کے فن میں ابن اسحاق ان تمام سیرت نگاروں کے لیے ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے بعد سیرت نگاری کا کام کیا۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ واقدی اور ابن سعد کے استثنا کے ساتھ ابن اسحاق کے بعد سیرت پر جو بھی کتاب لکھی گئی، وہ انہی کے خوان علم سے ریزہ چینی کر کے لکھی گئی۔‘‘

شخصیات