عید کا تہوار اور شوال کے روزے

عید الفطر، انعام کا دن

رمضان المبارک کا برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ایک عظیم مہمان تھا جس نے روزہ داروں کا بھی اکرام کیا اور انہیں مختلف قسم کی خوشیوں سے سرفراز فرمایا، اب یہ رونقیں سال بعد کسی کی زندگی ہوئی تو نظر آئیں گی۔ رمضان المبارک کے ختم ہوتے ہی عید کی رات شروع ہو جاتی ہے جسے عرفِ عام میں چاند رات کہا جاتا ہے، اس رات کو عبادات میں ہم مسلمانوں نے گزارنا تھا لیکن مختلف قسم کی خرافات اس چاند رات میں کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

’’جو عیدین کی راتوں میں شب بیداری کر کے قیام کرے اس کا دل نہیں مرے گا جس دن کہ سب لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے۔‘‘ (ابن ماجہ)

ہمیں اس رات کو اللہ کے آگے گڑگڑانا چاہیے اور اپنی مزدوری مانگنے کے لئے بے قرار ہونا چاہیے، زیادہ سے زیادہ استغفار و نوافل پڑھنے چاہئیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے روزوں اور عبادات کو قبول فرمائے۔ چاند رات کو ایک خرابی یہ بھی کی جاتی ہے کہ ماہِ مبارک کے وہ تمام انوار و برکات جو مسلمانوں نے حاصل کی ہوتی ہیں اس رات میں لہو و لعب میں مشغول ہو کر ضائع کر دی جاتی ہیں، وہ تمام خرافات جن سے عام مسلمان بچے رہتے تھے اس رات میں وہ سب خرابیاں پھر سے نمودار ہو جاتی ہیں۔

حدیث شریف میں اس رات کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص عید کی رات میں ثواب کی نیت سے جاگ کر عبادت کرے، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوں گے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ فضیلت کے اعتبار سے فطر کی رات رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں کی طرح ہے، اس رات کو لیل الجائز یعنی انعام کی رات بھی کہا جاتا ہے۔ (قیام رمضان لمحمد بن نصر المروزی، ص: 262)

یکم شوال مسلمانوں کی عید کا دن ہوتا ہے اس دن روزہ داروں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ عید کا لفظ عود سے بنا ہے جس کا معنی ہے لوٹنا۔ عید ہر سال لوٹتی ہے اور اس کے لوٹ کر آنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ فطر کا معنی ہے روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔ عید الفطر کے روز روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اس روز اللہ تعالیٰ بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، لہٰذا اس دن کو عید الفطر قرار دیا گیا ہے۔

عید، انبیاءؑ ماسبق کی مستقل روایت

اگر تاریخِ امم سابقہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ اسلام سے قبل ہر قوم اور ہر مذہب میں عید منانے کا تصور موجود تھا۔ ان میں سے بعض کا ذکر یوں ملتا ہے:

ابوالبشر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کو جس دن اللہ رب العزت نے قبول فرمایا، بعد میں آنے والے اس دن عید منایا کرتے تھے۔

جد الانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن حضرت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ سے نجات ملی تھی۔

اسی طرح حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی تھی۔

حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت اس روز عید مناتی تھی جس روز آسمان سے ان کے لئے مائدہ نازل ہوا تھا۔

الغرض عید کا تصور ہر قوم، ملت اور مذہب میں ہر دور میں موجود رہا ہے لیکن عید سعید کا جتنا عمدہ اور پاکیزہ تصور ہمارے دینِ اسلام میں موجود ہے ایسا کسی اور دین میں نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو ملائکہ راستے کے کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آواز دیتے ہیں، اے مسلمانو! اس رب کریم کی طرف چلو جو بہت خیر کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔ اے بندو! تمھیں قیام اللیل کا حکم دیا گیا، لہٰذا تم نے اسے بجا لایا، تمھیں دن میں روزے کا حکم دیا گیا، تم نے روزے رکھے اور تم نے اپنے رب کی اطاعت کی؛ لہٰذا آج تم اپنے انعامات لے لو۔ پھر جب لوگ نماز سے فارغ ہو جاتے ہیں تو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمھارے رب نے تمھاری مغفرت کر دی، اپنے گھروں کی طرف ہدایت لے کر لوٹ جاؤ، یہ یومِ جائزہ (انعام کا دن) ہے۔ (الترغیب والترہیب، حدیث نمبر 1659)

عید کے دن کی سنتیں اور مستحبات

عید کے دن مندرجہ ذیل اعمال مستحب ہیں: غسل کرنا، مسواک کرنا، مباح عمدہ کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، شریعت کے مطابق اپنی آرائش کرنا، صبح سویرے بیدار ہونا تاکہ ضروریات سے فارغ ہو کر جلدی عید گاہ پہنچ سکے، نماز عید الفطر کے لیے جانے سے پہلے کچھ میٹھی چیز کھانا (جیسے طاق عدد کھجور وغیرہ)، عید کی نماز کے لیے جانے سے قبل صدقہ فطر ادا کرنا، فجر کی نماز محلہ کی مسجد میں ادا کرنا، پیدل عید گاہ جانا، عید کی نماز کے لیے عید گاہ ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، عید الاضحیٰ میں بھی عید الفطر کی طرح ان اعمال کو کیا جائے مگر عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے۔

راستے میں عید الفطر میں آہستہ اور عید الاضحیٰ میں بلند آواز سے تکبیر ’’اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد‘‘ پڑھتے جانا۔

صدقہ فطر

جو مسلمان اتنا مالدار ہے کہ ضروریات سے زائد اس کے پاس اتنی قیمت کا مال و اسباب موجود ہے جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر عید الفطر کے دن صدقہ فطر واجب ہے، چاہے وہ مال و اسباب تجارت کے لئے ہو یا نہ ہو، چاہے اس پر سال گزرے یا نہیں۔ غرضیکہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے زکوٰۃ کے فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جانی ضروری نہیں ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک صدقہ فطر کے وجوب کے لئے نصابِ زکوٰۃ کا مالک ہونا بھی شرط نہیں ہے، یعنی جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیر کفالت لوگوں کے لئے ہو تو وہ اپنی طرف سے اور اپنے اہل و اعیال کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے۔

عید الفطر کے دن صبح صادق ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے ہی انتقال کر گیا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے اور جو بچہ صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا ہے اس کی طرف سے ادا کیا جائے گا۔ صدقہ فطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نماز عید سے پہلے ہے، البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لئے جانے سے قبل ادا کر دیا جائے۔ (بخاری ، مسلم)

حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن رضی اللہ عنہ گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتیٰ کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور ابن عمر ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتے اور عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کرتے تھے۔ (بخاری)

نماز عید الفطر کی ادائیگی تک صدقہ فطر ادا نہ کرنے کی صورت میں نمازِ عید کے بعد بھی قضا کے طور پر دے سکتے ہیں، لیکن زیادہ تاخیر کرنا بالکل مناسب نہیں کیونکہ اس سے صدقہ فطر کا مقصود اور مطلوب ہی فوت ہو جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ قابلِ قبول زکوٰۃ ہو گی اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے۔ (ابو داؤد)

کھجور اور کشمش کو صدقہ فطر میں دینے کی صورت میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ اس میں ایک صاع، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک پیمانہ ہے، صدقہ فطر ادا کرنا ہے۔ البتہ گیہوں کو صدقہ فطر میں دینے کی صورت میں اس کی مقدار کے متعلق علماء امت میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ گیہوں میں بھی ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنا ہو گا، جبکہ علماء امت کی دوسری رائے ہے کہ گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر میں ادا کیا جائے۔ حضرت عثمان، حضرت ابو ہریرہ، حضرت جابر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن زبیر، اور اسماء رضی اللہ عنہم سے صحیح سندوں کے ساتھ گیہوں میں آدھا صاع مروی ہے۔ ہندوستان و پاکستان کے بیشتر علماء بھی مندرجہ ذیل احادیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر میں گیہوں آدھا صاع ہے، یہی رائے مشہور و معروف تابعی حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی تحریر کیا ہے کہ صدقہ فطر میں آدھا صاع گیہوں نکالنا کافی ہے۔ (الاختیارات الفقیہ)

عید کی نماز کا طریقہ

نماز عیدالفطر کی نیت کے عربی الفاظ یہ ہیں:

نویت ان اصلِی رکعتی الواجِبِ صلوۃ عِیدِ الفطرِ مع سِت تکبِیرات واجِبۃ۔
اردو میں یوں کہے: ’’میں نے نیت کی کہ دو رکعت واجب نماز عید الفطر چھ واجب تکبیروں کے ساتھ پڑھوں۔‘‘

عید الاضحیٰ کی نیت میں صلوۃ عید الفطر کی بجائے صلوٰۃ عید الاضحیٰ کہے، باقی الفاظ دوسری نیتوں کی طرح کہے، واجب کا لفظ کہنا شرط نہیں لیکن بہتر ہے۔ امام اور مقتدی یہ نیت کر کے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر بدستور ہاتھ باندھ لیں اور ثنا (سبحانک اللھم) پڑھیں۔ پھر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہیں اور ہاتھ لٹکتے ہوئے چھوڑ دیں۔ اسی طرح تین مرتبہ کہیں، لیکن تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسبِ دستور باندھ لیں۔ امام ان تینوں تکبیروں میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار یا حسبِ ضرورت زیادہ وقفہ کرے۔ پھر امام تعوذ و تسمیہ آہستہ پڑھ کر سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ جہر سے پڑھے۔ مستحب یہ ہے کہ سورت الاعلٰی پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں۔ پھر رکوع و سجود کریں اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو امام پہلے سورۃ فاتحہ اور ساتھ کوئی سورۃ کی قرأت جہر سے کرے۔ بہتر یہ ہے کہ سورت الغاشیہ پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں۔ قراٗت ختم کرنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین مرتبہ زائد تکبیریں پہلی رکعت کی طرح کہے، اب تیسری تکبیر پر بھی ہاتھ چھوڑ دیں، پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائیں اور دستور کے موافق نماز پوری کر لیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں چھ تکبیریں کہنا واجب ہے، تین تکبیریں پہلی رکعت میں تحریمہ و ثنا کے بعد اور تعوذ و بسم اللہ و الحمد سے پہلے۔ اور تین تکبیریں دوسری رکعت میں الحمد و قراٗتِ سورۃ کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے کہے۔ یہی افضل و اولیٰ ہے۔ واضح رہے کہ عید الاضحیٰ کی نماز بھی دو رکعتیں ہیں جو اسی طریقے سے ادا کی جاتی ہے۔ ان دونوں نمازوں کے بعد خطبہ واجب ہے، لہٰذا امام دو خطبے پڑھے گا اور مقتدی کو خاموشی کے ساتھ ان خطبوں کو سننا چاہیے۔

یہ مختصراً عیدین کے مسائل بھی ذکر کر دیے گئے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے اور خوشیوں کے یہ لمحات بار بار نصیب فرمائے، آمین یارب العالمین۔

شوال المکرم کے چھ روزے

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا کہ انہیں رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ عطا کیا، اس میں نیکی کی توفیق بھی دی، اللہ کے نیک بندوں نے صدقہ خیرات کیا، قرآن پاک کی تلاوت کی، نماز تراویح کا اہتمام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے رزق میں بھی وسعت و برکت عطا فرمائی جس کے سبب مسلمانوں کے اندر انسانی ہمدردی اور غم خواری کے جذبات بیدار ہوئے۔ یہ سب رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کی برکات تھیں، اس مبارک مہینے کے بعد آنے والے مہینے کو بھی خاص مقام اور فضیلت حاصل ہے۔

شوال المکرم ہجری سال کا دسواں مہینہ ہے، اس کی پہلی تاریخ کو نماز دوگانہ (عید الفطر) ادا کی جاتی ہے، بہتر سے بہتر بدلے کی اللہ رب العالمین سے توقع ہوتی ہے، تشکر و امتنان سے نگاہیں جھکی ہوتی ہیں، بس ایک عجیب سماں ہوتا ہے جس سے روح تازہ ہوتی ہے۔ رمضان کے ساتھ شوال کے چھ روزوں کا اہتمام سال بھر کے روزوں کے ثواب کو آسان کر دیتا ہے۔ غور کرنے پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے متعینہ روزوں میں سے روزہ اجر و ثواب کے اعتبار سے رمضان کے روزوں کی برابری رکھتا ہے۔ اس ابہام کی تھوڑی سی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ رمضان کا ہر روزہ دوسرے دس روزوں کے برابر ہے، اس طرح تیس روزے تین سو دنوں یعنی پورے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہوئے، اور پھر شوال کے چھ روزوں کو ملا لیا جائے تو پورے تین سو ساٹھ دنوں (ایک سال) کے روزوں کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔

شوال کے چھ روزوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔ اہلِ اسلام کو چاہیے کہ وہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے شوال کے چھ روزے رکھیں جس میں فضلِ عظیم اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے، کیونکہ جو شخص بھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال المکرم میں بھی چھ روزے رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزے کا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شوال کے چھ روزے رمضان المبا رک کے روزوں کے ساتھ مشروط ہیں، یعنی رمضان کے ساتھ زوال کے بھی چھ روزے رکھے جائیں تب پورے زمانے کا ثواب ملے گا، ایسا نہیں کہ رمضان کے روزے نہیں رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھ لیے تو پورے زمانے کا ثواب ملے گا، بلکہ رمضان کے بھی روزے رکھے پھر شوال کے رکھے تب یہ سعادت حاصل ہوگی۔

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من صام رمضان، ثم اتبعہ سِتا مِن شوالِ کان کصِیامِ الدھرِ۔ (صحیح مسلم)
’’جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔’’

ایک دوسری حدیث پاک میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے:

سمِعت رسول اللہِ صلی اللہ علیہِ وسلم یقول من صام رمضان وسِتا مِن شوالِ فکانما صام السن کلھا۔
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس نے رمضان المبارک کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو شوال کے چھ ایام میں پیدا فرمایا، تو جس نے شوال کے چھ روزے رکھے تو اللہ تعالی اپنی مخلوق میں سے ہر ایک کے بدلے اسے ایک حسنہ عطا فرمائے گا اور اس سے اس کے گناہ مٹا دے گا اور اس کے درجات کو بلند فرمائے گا۔‘‘ (در الناصحین)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد روایت کرتے ہیں کہ

’’جس نے شوال المکرم کے چھ روزے رکھے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس طرح بچہ اپنی ماہ کے بطن سے پیدا ہوتے وقت گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔‘‘ (الترغیب والترہیب)

اب یہ چھ روزے متواتر رکھ لئے جائیں یا ناغہ کر کے، دونوں طرح جائز ہیں، تاہم شوال کے مہینے میں رکھنے ضروری ہیں۔ اسی طرح جن کے فرض روزے بیماری یا سفر وغیرہ یا کسی اور شرعی عذر کی وجہ سے رہ گئے ہوں ان کے لئے اہم یہ ہے کہ پہلے وہ فرض روزوں کی قضا کریں۔ اس بارے میں رائج موقف یہی ہے کہ بہتر تو یہی ہے کہ پہلے رمضان کے روزوں کی قضا دی جائے کیونکہ یہ فرض ہیں، البتہ دلائل کی بنیاد پر یہ گنجائش موجود ہے کہ رمضان کی قضا سے پہلے شوال کے روزے رکھے جا سکتے ہیں۔ رمضان کے روزوں کی قضا فوری طور پر واجب نہیں ہے بلکہ کسی بھی ماہ میں رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضا کی جا سکتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں حتیٰ کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اپنے رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضا عموماً‌ گیارہ ماہ بعد ماہِ شعبان میں کیا کرتی تھیں جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے۔

شوال المکرم کے چھ روزے رکھنے کے فوائد

  • رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لینے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پورے سال فرض روزہ رکھنے کا اجر ملتا ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔
  • رمضان سے قبل و بعد شعبان و شوال کے روزے فرض نماز سے قبل و بعد والی موکدہ سنتوں کے مشابہ ہیں، جن کا فائدہ یہ ہے کہ فرض عبادتوں میں جو کمی واقع ہوئی ہے قیامت کے دن سنتوں سے اس کمی کو پورا کیا جائے گا، جیسا کہ بہت سی حدیثوں میں اس کا ذکر وارد ہے۔ (سنن الترمذی)
  • رمضان کے روزے رکھ لینے کے بعد شوال کے روزوں کا اہتمام کرنا رمضان کے روزوں کی قبولیت کی ایک اہم علامت ہے، کیونکہ جب اللہ تعالی بندے کی کسی نیکی کو قبول فرماتا ہے تو اسے مزید نیکی کی توفیق بخشتا ہے۔ جس طرح اگر کوئی شخص کسی کے یہاں مہمان ہو، پھر اگر رخصتی کے وقت میزبان دوبارہ آنے کی دعوت دے اور اس پر اصرار کرے تو اس کا مطلب ہے کہ مہمان کی آمد پر اسے خوشی ہے اور اس کی آمد قبول ہے۔ اسی طرح اگر ایک نیکی کے بعد بندے کو اسی قسم کی یا کسی اور قسم کی نیکی کی توفیق مل جائے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی یہ نیکی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی ہے، جس طرح کہ اگر کوئی شخص نیک عمل کرنے کے بعد پھر گناہ کے کام کرنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کا یہ نیک عمل اللہ تعالی کے نزدیک مردود ہے۔

قارئین کرام! شوال کے چھ روزوں کی فضیلت بہت زیادہ ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔‘‘ (المعجم الاوسط)

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ماہِ شوال المکرم کے یہ چھ روزے رکھا کریں، اللہ تعالیٰ ہم پر یقیناً‌ رحمتیں نازل فرمائے گا۔ آخر میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے اور ہماری تمام عبادات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آمین یارب العالمین بحرمۃ سید الانبیاء والمرسلین۔

دین اور معاشرہ

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۵ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۵ء

جلد ۳۶ ، شمارہ ۴

انبیاء کی اہانت کا جرم اور عالمی برادری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ خلافِ شریعت ہے
ڈاکٹر محمد امین

تحکیم سے متعلق حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کے مواقف کا مطالعہ اور خوارج کا قصہ
علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھیؒ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مذہبی شناختیں: تاریخی صورتحال اور درپیش چیلنجز
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

اقبال: پاکستانی جوہری توانائی منصوبے کا معمارِ اوّل
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

عید کا تہوار اور شوال کے روزے
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

موجودہ عرف و حالات کے تناظر میں نمازِ جمعہ کیلئے شہر کی شرط
مفتی سید انور شاہ

وطن کا ہر جواں فولاد کی دیوار ہو جائے
سید سلمان گیلانی

بین الاقوامی معیارات اور توہینِ مذہب کے قوانین پر رپورٹ
انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن ہیومن رائٹس انسٹیٹیوٹ

Blasphemy Against Prophets and the International Community
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

ماہانہ بلاگ

’’نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے‘‘
مولانا طارق جمیل

اتحادِ مذاہب کی دعوت اور سعودی علماء کا فتویٰ
سنہ آن لائن

امام ترمذیؒ، ایک منفرد محدث و محقق
ایم ایم ادیب

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

فقہی منہاج میں استدلال کے سقم اور اہلِ فلسطین کے لیے استطاعت کی شرط
ڈاکٹر عرفان شہزاد

تراث، وراثت اور غامدی صاحب
حسان بن علی

غزہ کے لیے عرب منصوبہ: رکاوٹیں اور امکانات
عرب سینٹر ڈی سی

غزہ کی خاموش وبا
الجزیرہ
حدیل عواد

حافظ حسین احمد بھی چل بسے
سید علی محی الدین شاہ

حافظ حسین احمد، صدیوں تجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
مولانا حافظ خرم شہزاد

دارالعلوم جامعہ حقانیہ کا دورہ / یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان
پاکستان شریعت کونسل

ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا مولانا عبد القیوم حقانی نمبر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا خصوصی نمبر دو جلدوں میں
ڈاکٹر محمد امین

ماہنامہ نصرۃ العلوم کا فکرِ شاہ ولی اللہؒ نمبر
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

مولانا عبد القیوم حقانی کی تصانیف
ادارہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter