اقبال: پاکستانی جوہری توانائی منصوبے کا معمارِ اوّل

تعارف

کہا جاتا ہے کہ پاکستان بنانے کا خواب علامہ اقبال رحمہ اللہ نے دیکھا تھا۔ یہ بات کچھ اس شدّومدّ سے بیان گئی ہے کہ گویا علامہ موصوف نے شاید یہی ایک خواب دیکھا تھا، پھر ان کی آنکھ کھل گئی، اور وہ روزمرہ معمولات میں مشغول ہوگئے۔ پھر پاکستان بن گیا۔ اس ایک مثال پر اپنی تاریخ کی ایسی متعدد مثالیں قیاس کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً کیا یہی کافی نہیں ہے کہ اسلام، اسلامی تعلیمات اور اسلامی قانون سے متعلق قائد اعظم علیہ رحمہ کی تمام تقاریر کو عہدِ حاضر کے متنوّرین و متجدّدین چھوڑ کر ان کی 11 اگست 1947ء والی ایک ہی تقریر کو مصرع طرح بنا کر اس سے سیکولرازم پر مبنی تصورات کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ تقریر بدعنوانی اور اقربا پروری کی بیخ کنی پر تھی کوئی نظریاتی موضوع اس میں پیشِ نظر نہیں تھا۔

علامہ اقبال مرحوم نے امتِ مسلمہ کے لیے کوئی ایک خواب دیکھا ہو تو ہم کسی تعبیر والے کی تلاش کریں کہ وہ ہمیں تعبیر بتائے۔ علامہ مرحوم کی دیدہ بینا تو زندگی بھر مسلمانوں کے مآل و استقبال سے جڑی رہی۔ مسلمانوں کی زندگی کا وہ کون سا بند باب تھا جس پر آنجناب نے دستک نہ دی ہو۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تصورِ پاکستان کے بانی و موسس تو تھے لیکن وہاں پاکستان میں بستے مسلمانوں کے ریاستی امور سے لاتعلق تھے؟ یہ بات کہنے کے لیے شاید ہمیں ایک شخص بھی نہ ملے۔ حیاتِ اقبال کے گوشے جمع کرنے کی نسبت سے اہلِ علم کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ انھوں نے علامہ مرحوم کی زندگی کے کم و بیش ہر گوشے پر وہ وہ گوہرِ نایاب اور نازک آبگینے بحرِ اقبال کی غواصی کے بعد پیش کیے ہیں کہ علامہ کی روح شاید ہم سے کوئی شکوہ نہ کر سکے۔

علامہ اقبال، ایک ہمہ رخ مفکر

لیکن اقبالیات کا بڑے سے بڑے ماہر بھی شاید یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ علامہ مرحوم کی فکری زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ مکمل کر لیا گیا ہے اور اب مزید کسی تحقیق کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ علامہ علیہ رحمہ دراصل ایک فکری بجلی گھر کا نام ہے جس سے قلب و جگر کی تاریں جوڑ کر ہر برقی آلہ چلایا جا سکتا ہے۔ اور یہ عمل صرف پاکستان کے مسلمانوں کے برقی آلات چلانے کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ کبھی وہ ترکی کے مولانا رومی کے حلقۂ ارادت میں شریک ہو کر خود کو مریدِ ہندی قرار دیتے ہیں تو کبھی تہران کو عالمِ مشرق کا جنیوا قرار دینے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ 2007ء میں راقم ایران میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مقالہ پڑھنے قزوین، ایران گیا تو وہاں ایک ترک پروفیسر سے بھی خوب نشست و برخاست رہی۔ ایک دفعہ دورانِ گفتگو میں راقم کے منہ سے بے دھیانی میں ایک جملہ یوں پھسل گیا: ’’ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اس بارے میں یوں کہا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی ترک پروفیسر نے قدرے خفگی اور محبت آمیز خفگی سے بھرے مجمع میں گفتگو رکوا کر پوچھا: ’’اس آفاقی شخصیت اور فیلسوفِ عہدِ حاضر کو تم لوگوں نے کب قومیا لیا ہے اور اگر قومیا ہی لیا ہے تو اس کمپنی کے کچھ حصص بیرونِ پاکستان باقی مسلمانوں کے پاس بھی ہیں، ان کا کیا ہوا؟‘‘ راقم کو معذرت کرنا پڑی۔

اکابر کے مطبوعہ ملفوظات

اکابر کے ملفوظات اور احوال و آثار اصاغر تک پہنچانے کے متعدد اسالیب میں سے ایک اسلوب ان کی بزم آرائیوں کی تحریری شکل بھی رہا ہے۔ بہت پیچھے جائیں تو ہمیں اس کا سراغ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی تحریری اناجیل کی صورت میں ملتا ہے۔ محرمِ راز خالقِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احوال و ملفوظات ہمیں ان کے اصحاب ہی کے توسط سے ملے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے جملہ افکار ہم تک ان کے مصاحبین اور شاگردوں کے توسط سے پہنچے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں اس کی ایک مثال عالی مقام مولانا انور شاہ کشمیری ہیں جن کا تعارف ان کے شاگردوں اور مصاحبین کے توسط ہی سے جاوداں رہے گا۔ ایک مثال سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی ہے۔ تحریروں، تقریروں، انٹرویو اور خطوط کی شکل میں ان کے ملفوظات بڑی حد تک احاطہ تحریر میں لائے جا چکے ہیں۔ ان کے گھر پر منعقدہ عصری مجالس کی ایک تحریری مثال ہمارے سامنے ’’5 اے ذیلدار پارک‘‘ کی صورت میں موجود ہے1۔ علامہ اقبال بھی انہی بڑے لوگوں میں سے ہیں جن کے الفاظ ممکنہ حد تک محفوظ ہو چکے ہیں۔ ان کی بزم آرائی کی ایک تحریری مثال دو جلدوں میں ’’روزگارِ فقیر‘‘ ہے۔ مؤلفِ کتاب علامہ مرحوم کے متعدد مصاحبین میں سے ایک تھے2۔

مسلمانوں کے امور سے متعلق محققین کی قابلِ قدر کوششوں کے باوجود بہت کم لوگوں کی توجہ اس طرف گئی ہے کہ مسلمانوں کے لیے جوہری توانائی کے حصول کا سب سے پہلا خواب بھی علامہ اقبال ہی نے دیکھا تھا۔ اس داعیے کی بنیاد پر اگر راقم کچھ کہتا ہے تو یقینی بات ہے، اسے لائقِ التفات نہ سمجھنے والے اہلِ علم حق بجانب ہوں گے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے نہ صرف مسلمانوں کے لیے جوہری توانائی کا خواب دیکھا تھا بلکہ ان کے اپنے الفاظ میں ’’(اس کے حصول کے) اس کام میں جو اخراجات ہوں گے ان کو پورا کرنے کے لیے اگر مجھے گھر گھر جا کر مانگنا پڑا تو میں ضرور مانگوں گا‘‘3۔

ایٹمی انشقاق میں علامہ کی دلچسپی

علامہ اقبال کے متعدد مصاحبین میں سے ایک وہی مذکورہ بالا صاحب ’’روزگارِ فقیر‘‘ ہیں۔ جوہری توانائی میں علامہ اقبال کی دلچسپی کو وہ ایک واقعے سے کشید کرتے ہیں:

’’ایٹمی توانائی کا راز 
ڈاکٹر رحمت اللہ قریشی نے اس حیرت انگیز واقعے کا انکشاف کیا کہ علامہ اقبال جن دنوں لندن میں تھے تو میں ایک دن دوپہر کو گیارہ بجے ان سے ملنے کے لیے گیا۔ وہاں مجھ سے پہلے ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ یہ نوجوان غالباً امرتسر کے کسی مسلمان کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور 1932ء میں اس نے انگلستان کی کسی یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس نوجوان نے عرض کیا: ’میرے والد نے مجھے خط لکھا ہے کہ تم نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ہے، ڈاکٹر اقبال حسنِ اتفاق سے لندن میں تشریف رکھتے ہیں، اپنے مستقبل کے بارے میں ان سے مشورہ کرو‘  (دراصل یہ نوجوان علامہ کے اثرورسوخ کے ذریعے کسی موزوں کام اور ملازمت کی تلاش میں تھا.) 
علامہ نے اس نوجوان کو سر سے پاؤں تک بغور دیکھا بلکہ جائزہ لیا اور فرمایا ’تم بڑے صحیح وقت پر آئے ہو۔ تم جیسے نوجوان کی سخت ضرورت تھی۔ اس کے بعد کہا میں جب ہندوستان سے روانہ ہو رہا تھا تو اس وقت استنبول سے استنبول لائبریری کے لائبریرین کا میرے پاس خط آیا تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ میرے پاس ایٹم توڑنے (Atom Breaking) کا جو نسخہ موجود ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے جرمن مجھ پر بہت دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس لیے میں تمھیں مشورہ دیتا ہوں کہ میرا خط لے کر استنبول چلے جاؤ اور وہاں اس مقصد کے لیے اپنی زندگی کے کم از کم پانچ سال وقف کر دو۔ اس کام میں جو اخراجات ہوں گے ان کو پورا کرنے کے لیے اگر مجھے گھر گھر جا کر مانگنا پڑا تو میں ضرور مانگوں گا۔ 
وہ نوجوان علامہ کے اس مشورے کو سن کر بولا ’میرے والدین نے بڑی تکلیفیں اٹھا کر مجھے لکھایا پڑھایا ہے، اس لیے مجھے آپ کے مشورے پر اچھی طرح سوچنا پڑے گا۔‘ 
افسوس ہے، بات جہاں تھی، وہیں کی وہیں رہ گئی نہ تو یہ نوجوان طالب علم استنبول جانے کی ہمت کرسکا اور نہ علامہ اقبال کسی دوسرے پر اس اہم کام کے لیے اعتماد کر سکے۔ اس طرح سائنس کا یہ عظیم کارنامہ مسلمانوں کی بجائے یورپی اقوام کے مستقبل میں لکھا گیا‘‘4۔

اس واقعے کی روایت اور درایت

اس واقعے کے راوی اور مولف کتاب کے دوست، ڈاکٹر رحمت اللہ قریشی میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ مولف ’’روزگارِ فقیر‘‘ کے مطابق وہ ایبٹ آباد کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے 1918ء میں گلاسکو یونیورسٹی سے طب میں امتیازی شان سے سند حاصل کی۔ رائل انڈین میڈیکل سروس میں کمیشن حاصل کرنے والے وہ پہلے ہندوستانی اور مسلمان تھے۔ آگرہ اور کاکول کے فوجی اسپتالوں کے سربراہ رہے۔ 1921ء میں ملازمت ترک کر کے انگلستان جا کر وہاں پریکٹس کرنے لگے۔ مولف کے بقول 

’’نہایت صحیح العقیدہ اور درد مند مسلمان ہیں۔ علامہ اقبال کا فیضِ صحبت، ان کی گفتگو اور خیالات میں صاف جھلکتا ہے اور ’’جمال ہم نشیں‘‘ ان میں خاصا اثر کر گیا ہے۔‘‘

مولف روزگارِ فقیر ڈاکٹر قریشی کے بارے میں مزید فرماتے ہیں:

’’انھوں نے بڑی خوشی کے ساتھ اس کا اظہار کیا کہ میں علامہ سے متعلق واقعات اور یادداشتوں کو محفوظ کرنے کا کام سرانجام دوں گا۔ لیکن کہاں کراچی اور کہاں لندن؟ یہ بُعدِ مسافت اس کام میں حائل اور مانع رہا۔ اوائل مارچ میں انھوں نے یہ اطلاع دی، بلکہ نوید ِ جانفزا سنائی کہ میں کراچی پہنچ رہا ہوں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ نہ جانے کب بلاوا آجائے۔ اس لیے چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر اقبال مرحوم سے متعلق جو یادداشتیں میرے ذہن و حافظے میں محفوظ رہ گئی ہیں، انھیں آپ کو منتقل کروں تاکہ آپ ان کو قوم تک پہنچا سکیں‘‘5۔

حدیثِ اقبال کے اس مخلص راوی کے احوال زیادہ معلوم نہیں ہو سکے۔ اصولِ روایت کی روشنی میں اگر علامہ اقبال کا درد مند مصاحب فقیر وحید الدین کسی شخص کے حق میں نہایت صحیح العقیدہ اور درد مند مسلمان کی تراکیب کا سہارا لے تو سلسلہ سند متصل اور درست ہونے کے باعث اس باب میں مزید کسی کلام کی حاجت نہیں رہتی کیونکہ یہ واقعہ خبر آحاد ہوتے ہوئے بھی ضعف سے خالی ہے۔

اس واقعے کا تجزیہ اصولِ درایت کی روشنی میں کیا جائے تو علامہ اقبال کی قدرومنزلت ہمارے دلوں میں دو چند ہو جاتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور علامہ مرحوم نے الہ آباد کے مقام پر 1930ء میں دیا تھا۔ پھر ایک طویل خاموشی کے بعد 1937ء کے انتخابات کے بعد کانگریسی حکومتوں کے کارہائے ابلیسی کے ردِعمل میں 1940ء میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی۔ اسے ہندو ذرائع ابلاغ نے طنزاً قراردادِ پاکستان کہا جو نوشتۂ دیوار بن گئی۔ 1932ء میں انگلستان کی کسی یونیورسٹی سے انجنئیرنگ کی اعزازی سند حاصل کرنے والا مذکورہ نوجوان 1932ء ہی میں، غالباً تیسری گول میز کانفرنس کے موقع پر علامہ اقبال سے ملا۔ اندازہ کیجیے، یہ وہ عہد تھا جس میں مسلمانوں کے علیٰحدہ وطن کے آثار کم و بیش نہ ہونے کے برابر تھے۔ ادھر مسلمانوں کے علیٰحدہ وطن کے تصور کا مصنف خود اپنے بارے میں خطبۂ الہ آباد شروع ہونے سے قبل یوں کہتا ہے6: I lead no party, I follow no leader  بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بے خانماں مسلمانوں کے لیے وطن کا خواب دیکھنے والا علامہ سیاسی بصیرت ہی سے مالا مال نہیں تھا، وہ مسلمانوں کی آسودہ حالی کی خاطر ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے سر سید احمد خان کی طرح گھر گھر جا کر مانگنے کو بھی تیار تھا۔

صاحبِ ’روزگارِ فقیر‘ کی تحقیق

ملفوظاتِ اقبال کے کسی اور گوشے میں راقم کے علم کے مطابق اس واقعے کے متعلق کچھ نہیں ملتا۔ البتہ خود مولف ’’روزگارِ فقیر‘‘ کو جستجو لاحق ہوئی۔ گمان غالب ہے کہ انھوں نے کیا تو بہت کچھ ہوگا لیکن ہمیں اس کا زیادہ علم نہیں ہو سکا۔ تاہم جو کچھ انہوں نے لکھا، وہ ان الفاظ میں ہے:

’’یہ نسخہ کب تک ترکی میں محفوظ رہا؟ جرمن اسے لے جانے میں کامیاب ہوئے تو کب؟ اگر اس کا مصنف کوئی مسلمان سائنس دان تھا تو کون؟ اسے اسپین میں لکھا گیا یا عرب میں؟ وہ مسلمان نوجوان جسے علامہ نے اس مقصد کے لیے دعوت دی تھی، آج کل کہاں ہے اور علامہ نے اسے مزید کیا بتایا تھا؟ یہ اور بعض ایسے ہی سوالات تحقیق طلب ہیں۔ راقم الحروف نے اس نوجوان کا نام معلوم ہوئے بغیر کیمبرج یونیورسٹی سے رابطہ قائم کیا۔ لیکن خاطر خواہ معلومات نہ مل سکیں۔ اس کے ساتھ ہی ترکی سفارت خانہ برائے پاکستان سے اس ترکی لائبریرین یا عالم کا پتہ لگانے میں تعاون کی درخواست کی گئی۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کے ذریعے پاکستانی سفارت خانہ برائے ترکی سے مراسلت شروع کی گئی۔ چنانچہ 10 مئی 1964ء کو وزارتِ خارجہ پاکستان کی طرف سے مصنف ’’روزگارِ فقیر‘‘ کو ایک خط موصول ہوا، جس میں ڈائریکٹر وزارتِ خارجہ پاکستان کے نام سفارت خانۂ پاکستان برائے ترکی کا ایک خط اور مطلوبہ معلومات کی ایک نقل ملفوف تھی۔ ان معلومات میں کہا گیا ہے کہ:
’’ترکی میں علامہ اقبال کے ایک بڑے اچھے دوست پروفیسر خلیل خالد گزرے ہیں۔ خلیل خالد ایک معروف ترک خاندان کے فرد تھے۔ آکسفورڈ میں تعلیم مکمل کی۔ استنبول یونیورسٹی میں پروفیسر رہے۔ علامہ سے ان کی خط و کتابت کا ذکر مکاتیبِ اقبال کے مجموعوں میں آچکا ہے۔ ایک خط میں علامہ پروفیسر خلیل خالد کو بعض کتابیں تجویز کر کے ان کے ناموں کی فہرست بھیجتے ہیں اور انھیں Prof. A Fischer of Lipzig سے رابطہ قائم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘
خیالِ غالب ہے کہ علامہ نے مندرجہ بالا واقعے میں جس ایٹمی نسخے کا حوالہ دیا تھا، اس کا تعلق کسی لائبریرین سے نہیں، پروفیسر خلیل خالد سے ہو سکتا ہے۔ پروفیسر خلیل خالد بقیدِ حیات ہوتے تو شاید یہ مسئلہ، مسئلہ نہ رہتا بلکہ ساری دنیا اس پوشیدہ حقیقت سے باخبر ہو کر حیران رہ جاتی۔ کیا عجب تھا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیق کے نتیجے میں مسلمانوں کی علمی عظمت کا کوئی شاندار پہلو سامنے آسکتا۔ مگر کیا کیا جائے کہ قدرت کو شاید یہی منظور تھا کہ اس حقیقت پر گم نامی کا پردہ پڑا رہے۔ بہرحال یہ مسئلہ اقبالیات، سائنس اور خصوصاً ایٹمی توانائی کے استعمال کی دریافت پر تحقیق کرنے والوں کے لیے دعوتِ غور و فکر کی حیثیت رکھتا ہے‘‘7۔

خلاصہ کلام اور راقم کی رائے

کتاب روزگارِ فقیر پہلی دفعہ 1964ء میں چھپی۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مولف کو  ملنے والے پاکستانی دفتر خارجہ کے خط محررہ 10 مئی 1964ء کی خط و کتابت کی شروعات سال چھ ماہ قبل ہوئی ہوں گی۔ یہ وہ عہد ہے جس میں ہر طرف علمی ہی نہیں عوامی سطح پر بھی علامہ اقبال کا جادو سر پر چڑھ کر بول رہا تھا۔ یہ خط ڈائریکٹر وزارتِ خارجہ برائے ترکی کے دستخطوں سے تھا۔ اس زمانے میں ریاستی ڈھانچہ آج کل کی طرح بوجھل اور فیلِ بے زنجیر کے مثل نہیں تھا۔ اور ذرا دل تھام کے غور کریں، 1964ء میں پاکستان کا وزیر خارجہ کون تھا، ذوالفقار علی بھٹو! اب اس کے آگے سرکاری فائلوں تک رسائی کا معاملہ ہے جو قاعدے کے مطابق تیس سال بعد نیشنل آرکائیوز میں رکھ کر مؤرخین اور محققین کے لیے عام کر دی جاتی ہیں۔ راقم کو وہاں جانے کا صرف دو دفعہ موقع مل سکا، جس ناگفتہ بے حالت میں اور الل ٹپ طریقے پر کاغذات اور فائلیں وہاں پر  ملتے ہیں، وہ کچھ دیکھ کر تیسری دفعہ وہاں جانے کی ہمت نہیں ہو سکی۔ امید کی جاتی ہے کہ 1964ء کے آس پاس اس بارے میں ہونے والی اس خط و کتابت پر محققین تحقیق کریں گے۔

تاہم پوری زندگی اسلام آباد ہی میں گزارنے کے باعث ملکی اربابِ حل و عقد سے گاہے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق اس وقت کی اعلیٰ بیوروکریسی کی متفق علیہ روایت ہے کہ پاکستان کے موجودہ جوہری پروگرام سے کہیں قبل (جس کی داغ بیل 1974ء کے ہندوستانی ایٹمی دھماکے کے جواب میں خود بھٹو صاحب نے رکھی تھی) جبکہ وہ وزیر تجارت تھے۔ تب سے وہ جوہری تحقیق کے متعلق کابینہ کے اجلاسوں اور نجی محفلوں میں اس کے داعی اور مؤبد رہے۔ کیوں؟ کیا اس کا سبب یہ تھا کہ علامہ اقبال سے متعلق فقیر وحید الدین کے خطوط بالخصوص جوہری توانائی کی بابت لکھے گئے مذکورہ خطوط ان کی نظروں سے گزرے تھے۔ یا یہ محض توارد ہے؟ وجہ کچھ بھی ہو اس کی دریافت محققین کے ذمہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بیسویں صدی میں جب سے جوہری توانائی کا ذکر عام ہوا، علامہ اقبال وہ پہلے مسلمان تھے جنھوں نے اس علم کے حصول کا خواب دیکھا اور اس خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے گھر گھر جا کر مانگنے پر بھی وہ رضامند تھے۔ تعجب اس پر ہے کہ اس علم کے حصول کے لیے مصور پاکستان گھر گھر جا کر مانگنے کا عہد کرتے ہیں تو عملاً اس پروگرام کی داغ بیل ڈالنے والا قائد عوام کہتا ہے: ’’گھاس کھالیں گے، مگر ایٹمی توانائی ضرور حاصل کریں گے۔‘‘

علمِ انشقاقِ جوہر کے حصول کی علامہ کی خواہش دیگر ضمنی شواہد سے یکسر بیگانہ یا تہی دامن نہیں ہے۔ تشکیلِ الہٰیاتِ جدید جیسے مباحث سے لے کر علامہ کے شاعرانہ کلام تک ہمیں جگہ جگہ یہ شواہد  ملتے ہیں کہ علامہ اقبال طبعی سائنس اور جوہری توانائی کا بخوبی علم رکھتے تھے۔ ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کے خیال میں اقبال طبعی سائنس اور کائنات کے متعلق تحقیق و تجسس کو عبادت کی قسم قرار دیتے تھے8۔ اسی طرح فکرِ اقبال سے واجبی سی دلچسپی رکھنے والوں نے بھی علامہ کا وہ شعر یقیناً‌ پڑھا سنا ہو گا جو خالصتاً‌ ان کے علمِ انشقاقِ جوہر کا بین ثبوت ہے9:

حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں

زیرِ نظر تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے محققین جامعات خصوصاً‌ اور دیگر اہلِ علم میں سے کوئی صاحبِ دل محقق بالعموم اس موضوع کو اپنی تحقیق کا مدار بنائے اور پتا ماری کر کے حقیقت کا سراغ لگائے۔ تاریخِ پاکستان، تحریکِ پاکستان اور اکابر پاکستان کے مخفی گوشوں کا سراغ لگانا آخر محققین ہی کے ذمہ تو ہے۔


حوالہ جات

  1. مظفر بیگ، ’’5 اے ذیلدار پارک روداد مجالس سید ابوالاعلی مودودی‘‘، البدر پبلی کیشنز، لاہور، 1979ء
  2. فقیر سید وحید الدین، ’’روزگار فقیر (شاعر مشرق کے واقعات، نادر اشعار اور تصاویر کا مجموعہ)‘‘، لائن آرٹ پریس (کراچی) لمیٹڈ، کراچی 1965ء۔ دو مجلدات میں سے جلد دوم کا تعلق زیر نظر موضوع سے ہے۔ تمام حوالہ جات اسی دوسری جلد ہی ہیں۔
  3. روزگارِ فقیر، ج 2، ص 81
  4. ایضاً، ص 82-80
  5. ایضاً، ص 79-78
  6. علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد 1930ء کثرت سے شائع ہو چکا ہے کہیں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
  7. روزگارِ فقیر، ایضاً، ص 85-84
  8. رضی الدین صدیقی، ’’اقبال کا تصورِ زمان و مکان‘‘، اقبال اکیڈمی پاکستان، لاہور، ص 4
  9. علامہ اقبال کا یہ مشہورِ زمانہ شعر بانگِ درا کی نظم ’’طلوعِ اسلام‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۵ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۵ء

جلد ۳۶ ، شمارہ ۴

انبیاء کی اہانت کا جرم اور عالمی برادری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ خلافِ شریعت ہے
ڈاکٹر محمد امین

تحکیم سے متعلق حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کے مواقف کا مطالعہ اور خوارج کا قصہ
علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھیؒ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مذہبی شناختیں: تاریخی صورتحال اور درپیش چیلنجز
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

اقبال: پاکستانی جوہری توانائی منصوبے کا معمارِ اوّل
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

عید کا تہوار اور شوال کے روزے
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

موجودہ عرف و حالات کے تناظر میں نمازِ جمعہ کیلئے شہر کی شرط
مفتی سید انور شاہ

وطن کا ہر جواں فولاد کی دیوار ہو جائے
سید سلمان گیلانی

بین الاقوامی معیارات اور توہینِ مذہب کے قوانین پر رپورٹ
انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن ہیومن رائٹس انسٹیٹیوٹ

Blasphemy Against Prophets and the International Community
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

ماہانہ بلاگ

’’نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے‘‘
مولانا طارق جمیل

اتحادِ مذاہب کی دعوت اور سعودی علماء کا فتویٰ
سنہ آن لائن

امام ترمذیؒ، ایک منفرد محدث و محقق
ایم ایم ادیب

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

فقہی منہاج میں استدلال کے سقم اور اہلِ فلسطین کے لیے استطاعت کی شرط
ڈاکٹر عرفان شہزاد

تراث، وراثت اور غامدی صاحب
حسان بن علی

غزہ کے لیے عرب منصوبہ: رکاوٹیں اور امکانات
عرب سینٹر ڈی سی

غزہ کی خاموش وبا
الجزیرہ
حدیل عواد

حافظ حسین احمد بھی چل بسے
سید علی محی الدین شاہ

حافظ حسین احمد، صدیوں تجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
مولانا حافظ خرم شہزاد

دارالعلوم جامعہ حقانیہ کا دورہ / یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان
پاکستان شریعت کونسل

ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا مولانا عبد القیوم حقانی نمبر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ماہنامہ ’’الحق‘‘ کا خصوصی نمبر دو جلدوں میں
ڈاکٹر محمد امین

ماہنامہ نصرۃ العلوم کا فکرِ شاہ ولی اللہؒ نمبر
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

مولانا عبد القیوم حقانی کی تصانیف
ادارہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter